تازہ ترین

عورتوں کے ساتھ انصاف کیجئے!

کسی بزرگ،کسی جہاں دیدہ انسان کا قول ہے:''معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے،لیکن نا انصافی کی بنیاد پرنہیں''۔ آیا معاشرہ کفر پر بھی قائم رہ سکتا ہے،یہ بات میرے لیے باعث صد حیرت ہے، لیکن فی الوقت میں اس پر کسی طرح کی حیرت کا اظہار کرنے یا کسی طرح کی بحث وہث کرنے سے سراسر گریز کرتے ہوئے اس امر پر اپنا پورا زور صرف کرنے کی کوشس کررہا ہوں کہ ''معاشرہ عدمِ انصاف کی صورت میں پوری توانائی یا سات صحت مندی کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا ہے''۔ انصاف بہرصورت ناگزیر ہے،خواہ معاملہ تولنے اور ناپنے کا ہو، تقسیم وراثت کا ہو یا انسانی حقوق و مساوات کا ہو۔ بات جب عورتوں کے حق حقوق اور ان کے ساتھ جملہ معاملے میں انصاف کی ہوتی ہے،توصحیح معنوں میں انصاف کی بات یہ ہے کہ سب سے پہلے انہیں آدم و حوا کی اولاد سمجھا جائے۔یعنی انہیں بھی ''انسان'' سمجھا جائے۔بے ش

دوشیزہ ٔ ابر ۔۔۔۔ …قسط دوم

کینیڈا کے قدرتی حسن سے ہمیں اپنی وادی کے قدرتی حسن سے مشابہت نظر آنا فطری تھا۔  خزاں کی آمدآمد تھی۔ باغوں کے اندر قطاروں میں لگے، چناروں سے مشابہ، (Maple) درخت اور آڑی چھتیں، جاتی ہوئی خزاں میں رنگ بدلتے ہوئے پتے اور زردی مائل سی ہری گھاس تھی۔ چالیس پچاس برس اُدھر، کشمیر میں مٹی کی چھتیں بھی ہوا کرتی تھیں۔ ان کے اندر بھوج پتر بچھائے جاتے تاکہ پانی نہ رسے۔ ان پر پھول بوئے جاتے تھے جن میں زیادہ تر گل لالہ ہوتا، سرخ رنگ لالہ اور کبھی زرد بھی۔ دیہات میں کہیں کہیں دھان کی خشک گھاس کو اب بھی چھتوں میں استعمال کیا جاتا ۔گاہے گاہے گھاس بدلی جاتی۔چمکیلی سنہری گھاس پر سے برف کے تودے پھسل پھسل کر زمین پر آگرتے ہیں ۔ کمروں میں کہیں نمی ر سنے کا کوئی ایسا خدشہ بھی نہیں ہوتا اور یہ ٹین کی چھتوں کی ہی طرح محفوظ معلوم ہوتی ہیں ۔کس قدر آسان اور صحت مند طریقہ تھا۔ فطرت کا اس میں کوئی نقصان نہ

اسلام میں عورت کا مقام

 مغربی تہذیب نے عورت کی آزادی کے نام پر عورت کو بے وقعت و بے وقار بناکر رکھ دیا ہے، آج مغربی خواتین جسم و خیال کی آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی بے حیثیت اور مردوں کے لیے استعمال کا سامان بن کر رہ گئی ہیں، جو مغربی خواتین کل تک اسلام کے عورتوں کے متعلق احکام پر اعتراض اٹھایا کرتی تھیں، آج وہی اسلام کے اصول و قوانین سے اتفاق کرنے پر مجبور ہیں، مغربی دنیا میں عورتوں کے برہنہ پن، آزاد خیالی اور ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کے نعروں نے باعزت خواتین کو نہ گھر کا چھوڑا ہے نہ گھاٹ کا، آپ ان کے کلچر کو قریب سے دیکھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ آزاد جسموں کی دنیا میں روحیں کس قدر پریشان ہیں، ماں اور بیٹے کی تمیز، باپ اور بیٹی کی تمیز، بہن اور بھائی کی تمیز، بھتیجے اور پھوپھی کی تمیز، خالہ اور بھانجے کی تمیز اکثر گھرانوں سے مفقود ہوچکی ہے، وہ آزاد عورت ہر کسی کی جائز محبت او

تازہ ترین