تازہ ترین

تانیثیت اور حقوق نسواں

 زمانہ جدید میں تانیثیت (Feminism) کے علمبرداروں نے خاتون کو یہ بات باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ قرنوں سے مرد کے پنجہ استبداد میں جکڑی ہوئی ہے۔ بات خواتین کے حقوق کی بازیابی اور ان کی عزت کی بحالی کی خاطر کی جاتی تو معاملہ بڑا ہی حوصلہ افزا ہوتا کیوں کہ معاشرے کے نصف حصے کو کسی بھی صورت میں دیوار سے لگائے رکھنا کوئی خوش کن بات نہیں ہے۔ لیکن سارے معاملے کو ایک باضابطہ نظریے اور فلسفے کی شکل دی گئی اور ایک ایسا نعرہ بلند کیا گیا کہ مرد، جو مدت دراز سے خاتون پر اپنا تحکم اور اقتدار جمائے بیٹھا ہے، کو اپنی حیثیت سے دستبردار ہوجانا چاہئے۔ ساتھ ساتھ خاتون کو یہ ترغیب دی گئی کہ مرد سے دو دو ہاتھ کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ مسئلے کو جوں ہی ایک فلسفے کا رنگ دیا گیا تو جس طرح اشتراکیت نے انسانیت کو دو برسر پیکار گروہوں (بورڑوا، Bourgeois اور پرولتاریہ، Proletariat) میں بٹا ہوا ہونے کا اعلا

ہر بہو، بہن،ماں،بیٹی عزت کی طلبگار

اللہ تعالی نے اس کائنات کی بقا اور اس کے تحفظ کے لئے مرد و عورت کے نام سے دو جنسوں کے ذریعہ اس کائنات کا سلسلہ جاری فرمایا۔ ہر صنف میں دوسری صنف کی طلب اور جذبات ایک دوسرے میں پنہاں رکھے تاکہ عورت مرد کی رفیق حیات بن کر زندگی کے نشیب وفراز میں ہر قدم پر اس کا ساتھ دے سکے اور اس کی مونس وغم خوار بن کر زندگی کی گاڑی کھینچ سکے۔ امر واقع یہ ہے کہ ہر ایک کی زندگی دوسرے کے بغیر نا مکمل اور ادھوری بن کر رہ جاتی ہے ۔ مرد کامل مرد رہتے ہوئے عورت سے بے نیاز نہیں ہوسکتا ،اسی طرح عورت عورت کے لباس میں رہتے ہوئے مرد کے بغیر مطمئن زندگی نہیں گزار سکتی، لہٰذا اس کار خانہ حیات کے تسلسل اور انسان کی تمدنی سرگرمیوں کی بقا کے لئے مرد اور عورت دونوں کا وجود نہایت ضروری ہے۔ازل سے ہی اس کائنات میں مرد و عورت دونوں کی برابر کی شرکت حاصل ہے۔ دنیاوی زندگی کے آغاز کے وقت بھی حضرت آدمؑ کے ساتھ حضرت حوا ؑبرابر

عورت

عورت ہو، مرد نہیں ! اپنی اوقات میں رہا کرو ۔ آئے دن اپنے شوہر، شمیم کے طعنے سنتے سنتے اب حنا کا صبر جواب دینے لگا تھا۔ شادی سے پہلے ہی وہ دہلی کے جمنا پار علاقہ میں ایک سرکاری سکول میں اردو ٹیچر ہو گئی تھی۔لیکن شمیم کے پاس کوئی مستقل نوکری نہیں تھی۔وہ ایک چھوٹے سے اردو اخبار میں سب ایڈیٹر تھا۔تنخواہ بہت کم تھی لیکن حنا کی بھی عمر ہو رہی تھی ۔اس نے سوچا کہ چلو ہم دونوں مل کر گھر چلا لیں گے۔لیکن شمیم نے کبھی اس کے اس جذ بہ کی عزت نہ کی۔ وہ ہمیشہ اس احساس کے ساتھ جیتا کہ وہ مرد ہے ۔وہ شوہر ہے ۔اس نے اپنے بڑوں کو ہمیشہ اپنی بیوی کو کم تر سمجھتے دیکھاتھا۔ وہ دلی آکر بھی اپنی ذہنیت نہ بدل سکا۔افسوس کی بات یہ تھی کہ باہر وہ خواتین کو اپنی لچھے دار باتوں سے الجھائے رکھتا لیکن گھر میں وہ اپنے اجداد کی طرح ہی شوہر نظر آتا۔ وہ بیوی کو صرف اپنی عورت سمجھتا۔   جب بھی وہ کہت

دلنشین نعرے میں شہزادی سے اسیرزادی ہوگئی

مارچ 8 عالمی یومِ حقوقِ نسواں کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں تحریکِ آزادی نسواں بڑی زور پکڑتی جارہی ہے ،لیکن خواتین کی آزادی کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ در حقیقت عورت کے احترام کی نفی اور اس کی روح و جسم کا استحصال ہورہا ہے۔ جس پر آزادی نسواں کا رنگین ، خوشنما پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ عورت کو ' میرا جسم میری مرضی ' کے دلنشین نعروں سے دھوکا دے کر ورگلایا جارہا ہے۔ عورت کو سرعام بازاروں میں " عورت مارچ " کے بینر تلے جدید دور کے انسان کو ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہو رہی ہے بلکہ اپنی بے غیرتی کا ثبوت دیتے ہوئے فخریہ انداز میں اس کی عکس بندی کرتا ہوا نظر آرہا ہے ۔ حقوقِ نسواں سے مراد وہ حقوق ہیں جو عورتوں کو بھی مردوں کی طرح سماجی و قانونی مقام دے سکے ۔ آج مغربی نظریہ فکر رکھنے والے لوگ یہ وکالت کرتے ہیں کہ اسلام میں عورت کو پردے میں رکھ کر چہار دیوا

! کہاں سنتا ہے وہ کہانی میری

اکیسویں صدی کی تیسری دہائی اکیسویں سال میں ہم داخل ہوچکے ہیں۔اتفاق سے یہ مارچ کا مہینہ ہے۔آج 8مارچ کو عالمی پیمانے پر "یوم خواتین "منانے کی تیاریاں زور و شور سے  ہورہی ہیںجو عموما" 1 مارچ سے شروع ہوجاتی ہیں۔سیاسی ، ثقافتی، معاشرتی، ادبی غرض کے ہر سطح پر جوش و خروش سے یوم نسواں منایا جاتا ہے۔ یوں تو 8مارچ عورتوں کی جد وجہد آزادی نسواں کے طور پر علامتی شکل میں منایا جاتا ہے لیکن آزادی تو کیا برابری کا بھی حق ملا کیاخواتین کو؟یہ غور و فکر کا مقام ہے ۔اگر یہ حق ملا ہوتا تو1 مارچ کو میڈیاسوشل سائٹ پر عائشہ نامی خاتون کی ویڈیو وائرل نہیں ہورہی ہوتی !2مارچ کی خبر کہ افغانستان کے شہر جلال آباد میں تین خاتون صحافیوںشہنازرؤفی ، سعدیہ سادات، مرسل کونامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک  نہ کردیاہوتا۔ اسی رات ایک ٹی وی چینل پر ایک لڑکی چھیڑ ے جانے کی مخالفت میں اپ

عائشہ کی موت… خود کشی یا قتل؟

کیا دنیا میں انسانیت بالکل ختم ہو چکی ہے؟کیا اخلاقی قدروں کا جنازہ بھی پوری طرح نکل چکا ہے؟ کیا رشتو ں میں محبت کے بجائے دولت نے اہمیت حا صل کی ہے؟کیا آج کے اس نام نہاد تر قی یافتہ دور میں بھی بیٹیاں اپنے والدین پر بوجھ ہیں؟ایسے بے شمار ’’کیا ‘‘ہیں جو میرے ذہن میں گذشتہ تین دنوں سے گردش کر رہے ہیں ۔احمد آباد گجرات کی وہ معصوم دوشیزہ جس نے ابھی فقط زندگی۲۳ تیس بہاریں دیکھی تھیں اپنی جان کا خاتمہ کربیٹھی۔عائشہ کی خود کشی کی خبر نے دنیا کو بالعموم اور امت مسلمہ کو بالخصوص متزلزل کر دیا۔ہر ذی حس  فرد کی روح کانپ اٹھی ہے۔ عورت خلوص محبت اور وفاداری کا پیکر ہے۔عا ئشہ نے یہ منحوس قدم اٹھانے سے قبل بھی اپنی وفاداری کا ثبوت دیا ہے ۔مراد یہ کی خودکشی کرنے سے پہلے اس بچی نے اپنی ویڈیو بنا ئی جو اس کے بے غیرت شوہر نے اس کو کہا تھا ۔ویڈیو کے علاوہ اپنے والدین سے ا

بیٹیوں کی صحت نظر انداز کیوں؟

آنسوں بھری آنکھوں سے اپنا درد بیان کرتے ہوئے ضلع پونچھ ساکنہ اڑائی سے تعلق رکھنے والے محمد اکرم کہتے ہیں کہ'' 17 فروری کے دن اپنے چھوٹے بھائی کی حاملہ بیوی نسیم اختر کو منڈی ہسپتال لے کر گئے، وہاں سے ڈاکٹروں نے ایمبولینس دے کر ہمیں پونچھ ہسپتال کے لئے روانہ کر دیا،ہسپتال پہنچنے کے بعد اس وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے نسیم کی جانچ کی اور بنا دوائی دئے اپنے گھر چلی گئی۔ نسیم کو جب لیبر پین ہونے لگی تو ہم نے نرس کو بلایا اس نے انجکشن اور ایک گلو کوز کی بوتل لگادی۔ اس کے بعد کسی نے مڑ کے بھی نہیں دیکھا ۔دوسرا دن بھی گزر گیا، ہم نے پھر نرس سے بات کی۔ اس نے ہم سے بچے کے لئے کپڑے منگوائے اور کہا کہ تھوڑی دیر میں ٹھیک ہو جائے گی۔ کافی حالت خراب ہونے کے بعد نسیم کو آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا۔ لیکن آپریشن کے دوران ماں بچہ دونوں کی موت ہوگئی۔ محمد اکرم کے مطابق پونچھ ہسپتال کے ڈاکٹروں

ڈاکٹر عقیلہ کا افسانوی کینواس

بقول ڈاکٹر ترنم ریاض:’’اردو زبان و ادب میں ادیبائوں کے کارنامے ایک پوری صدی پر محیط ہیں۔اردو ادب کے ان سارے منظر نامے پر ایک طائرانہ نظر ڈال کر یہ بھی انداز ہوتا ہے کہ ادیبائوں نے اس منظر نامے کو اور بھی دلکش اور جاندار بنانے میں خاصا رول ادا کیا ہے۔گزشتہ صدی میں خاتون ناول و افسانہ گار ،شاعرات ،انشائیہ نگار،مزاح نگار ،حتی کہ خاتون تنقید نگاروں نے اردو ادب کی بقا میں ایک اہم کر دار کیا ہے۔’’(اردو کی ادیبائیں،منظر پس منظر۔ص۔32 ) اس اقتباس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرد حضرات کے ساتھ ساتھ خواتین بھی تخلیقی دنیا میں سر گرم نظر آتی ہیں جن میں ایک محترم نام ڈاکٹر عقیلہ کا بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ڈاکٹر عقیلہ بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میںشعبہ عربی میں  بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔انھوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز جموں و کشمیر میں ہی کیا ج

عائشہ کا گنہگار کون ؟

احمد آباد کی ایک بیٹی عائشہ کا ایک ویڈیوچندروز قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ۔اس ویڈیو کو رکارڈ کرنے کے بعد اسکی والدین سے بات ہوئی انکی منتوں کے باوجود اس نے سابر متی ندی میں کو د کر خود کشی کر لی ۔ ویڈیو دیکھ کر سنگدل سے سنگدل شخص بھی اپنی آنکھوں میں آنسو آنے سے روک نہیں سکتا۔  عائشہ کی ویڈیو سے اسکی پل پل بدلتی ذہنی کیفیات اور اسکے کرب کا اندازہ ہوتا ہے۔چہرہ کبھی مسکراتا ہوا لگتا ہے اور کبھی غم میں ڈوبا ہوا لگتا ہے۔ الفاظ ہیںجو ا ن مظالم کے گواہ ہیں جو ہمارے مکر کی وجہ سے صدیوں سے جاری ہیں اور صدیوں تک جاری رہیں گے۔’’  ہیلو اسلام علیکم میرا نام عائشہ عارف خان ہے میں جو کچھ بھی کرنے جارہی ہوںاپنی مرضی سے کرنا چاہتی ہوںاس میں کسی کا دبائو نہیں ہے اب بس کیا کہیں سمجھ لیجئے اس میں خدا کی دی زندگی اتنی ہی تھی اور مجھے اتنی زندگی بہت سکون والی ملی اور ڈیر ڈیڈ ،

اے بنت حوا تیری زنیت ہے حیاء

دین اسلام کا بنیادی وصف" حیا" ہے ۔ہمارے دین میں تصور حیا کو اس قدر اہمیت حاصل ہے کہ اسے ایمان کے برابر قرار دیا گیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ" جس میں "حیا" نہیں،اس میں ایمان نہیں‘‘۔ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا ہے" حیا جس چیز میں بھی شامل ہو ،اسے زینت دیتی ہے "۔ اس کے ساتھ ہی حیا کو وسیع تصور کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا" حیا یہ ہے کہ جو کچھ تیرے دماغ میں گزرے،اس کے بارے میں تو اپنے رب سے حیا کر اور جو کچھ تیرے پیٹ میں جائے، اس کے بارے میں اپنے رب سے حیا کر"۔ یہ حدیث اس تصور کو واضح کرتی ہے کہ مومن حیا کا پیکر ہے اور اس کی حیا کا سب سے پہلا حق دار اس کا خالق ہے کہ وہ اپنی کل زندگی میں اسے اپنا نگران سمجھے اور اسے حیا کرے کہ اس کی زندگی کا کوئی دائرہ ایسے اعمال پر مشتمل نہ ہو، جو اس کے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہوں۔ 

گھر پر وائٹننگ فیشل کریں

خوبصورت،بے داغ اور چمکدار جِلد ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے لیکن یہ خوابوں جیسی جِلدموسم کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لئے اضافی توجہ اور اضافی وقت چاہتی ہے۔ دن بھر کی دھول مٹی اور دیگر کثافتیں جِلد پر گندگی کی ایک تہہ جما دیتی ہیں۔ اگر اس تہہ کو وقتاًفوقتاً صاف نہ کیا جائے تو چہرہ کئی جِلدی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے جیسا کہ داغ دھبے،کیل مہاسے،رنگت کا سیاہ ہو نا وغیرہ۔ ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لییبیوٹی پارلر کا رْخ کیا جاتا ہے تو وہاں چہرے کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لیے درجنوں مہنگے فیشل دستیاب ہوتے ہیں۔ ان فیشل کو کروانے کے لئے نہ صرف آپ کی جیب کا بھاری ہونا ضروری ہے بلکہ اس کے لیے اچھا خاصا وقت بھی درکار ہوتا ہے، خاص طور پر اس وقت ،جب آپ کی فیشل ایکسپرٹ کسی دوسرے کلائنٹ کے ساتھ مصروف ہو اور آپ کو اس کا انتظار کرنا پڑے۔ اگر آپ یہ سب افورڈ نہیں کرسکتیں توگھر پر ہی اسکن ٹون کی مناسبت سے کس

عورت مرد کی مستقل اور وفادار ساتھی

 ہمارے معاشرے میں ایک تنہا عورت کا کردار ہمیشہ مشکوک ہی سمجھا جاتا ہے، یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اسے تنہا کرنے والے بھی ہم ہی لوگ ہیں،پھراگر شادی شدہ عورت کسی مرد سے کوئی بات کر لے تو اس کے دل میں اس خاتون کے لئے خراب خیال پیدا ہو جاتے ہیں۔یہ ہمارے معاشرے کا غلاظتوں بھرا رویہ اور سوچ ہے۔کیا صرف رشتے جسم کے ہوتے ہیں، روح سے محبت نہیں ہو سکتی ہے۔ہو سکتا ہے کہ وہ اس میں اپنے والد بھائی،یا کسی اور رشتے داروں کو تلاش کر رہی ہو، اس نا سمجھ کو تو مردوں کی گندی سوچ کا پتہ ہی نہیں ہوتا ہے،اور ایسے غلیظ مرد کچھ دیر کی ہوس کی تسلی کیلئے عورتوں کو گناہ کے راستے پر ڈالنے کے لئے طرح طرح کا حربہ استعمال کرتے ہیں،اور باقی کام فلمی نغمے اور رومانٹک واقعات کرتے ہیں۔عورت ایک لتا کی طرح ہوتی ہے، اسے ایک سہارے کی ضرورت ہوتی ہے،وہ بھیڑ کی شکل میں چھپے ہوئے بھیڑئے کو نہیں پہچان پاتی، اور اس گناہ کے لئے سارا

خواتین کیخلاف تشدد

گذشتہ سال دسمبر میں65 سالہ نور محمد(نام تبدیل) کے اہل خانہ اپنی 21 سالہ بیٹی کی موت پر سوگوار تھے جسے اکتوبر میں دو لوگوں نے شادی کی ایک تقریب سے اغوا کرنے کے بعد اپنی ہوس کا شکار بنا ڈالا تھا۔ واقعے کے بعد اسے سرینگر کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں وہ کئی اعضاء کے زخموں کی تاب نہ لاکر تقریباً مہینے زندگی اور موت کی جدوجہد میں مبتلا رہنے کے بعد اس دنیا سے چل بسی تھی۔یہ واقعہ اکتوبر کے آخری ہفتہ کاتھاجب فائنل ایئر میں زیر تعلیم نورمحمد کی بیٹی اسی ضلع کے اکہال گاؤں میں اپنے ایک کزن کی شادی میں شرکت کے لئے آئی تھی۔ 31 اکتوبر کو تقریبا ًصبح دس بجے وہ دلہن کی شادی کا جوڑا لینے گھر سے نکلی تھی۔ لوٹتے وقت دو لوگوں نے اسے اغوا کرلیا۔ اس کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ وہ لوگ لڑکی کو اغوا کرکے ایک گھنے باغ میں لے گئے، جہاں اس کی عصمت دری کی اور وحشیوں کی طرح اس کے جسم کو نوچ ڈالا۔ &nbs

کم عمر شادی کا عذاب جھیلتی سرحد کی بیٹیاں

جذبات کا قتل ہوتے اورخوا بوں کو ٹوٹتے دیکھا جب 16 سال کی عمر میں ماں بابا نے کہا ـ’’بیٹی کل سے تم پرائی ہو جاؤگی ‘‘یہ لفظ نیا تو تھا،مگر آہستہ آہستہ سمجھ میں آنے لگا تھا۔سہمی ہوئی میں ایک ہی لفظ بول پائی ’’دسو یں کے امتحانات چل رہے ہیں، میں آگے بھی پڑھنا چاہتی ہوں‘‘ ان کا کہنا تھا کہ بیٹی سسرال والوں نے کہا ہے کہ آگے پڑھائیں گے، تم وہاں جاکر اپنی پڑھائی جاری رکھ سکتی ہو۔ 2013 میں میری رخصتی ہوگئی ۔آج جب لڑکیوں کو سکول جاتے دیکھتی ہوں تو مجھے بہت اذیت پہنچتی ہے کیونکہ میری زندگی سے سکول کا نام توسات سال پہلے ہی مٹ چکا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں جس شادی کے لیے میرا سکول چھڑایا گیا تھا، میرے خواب مجھ سے چھین لے گئے تھے، آج وہ رشتہ بھی پیچیدہ ہے ۔شادی کے بعد اذیت شروع ہوگئی تھی۔ بات بات پر شدید تکلیف پہنچانا روز کا معمول بن گیا ۔یہاں تک کہ م

صنفِ نازک اور خاموشی!

صنف ِ نازک یعنی عورت ذات ،جو ماں کے روپ میںمحبت اور شفقت کا ایک وسیع و عریض سمندر ہے،بہن کی شکل میں اپنی جان تک لُٹانے والی شٔے ہے اور بیوی کی صورت میں حیا داری اور وفاشعاری کی ایک مثال بھی ہے۔اُسی کے کوکھ سے جنم لیا ہے انسانیت کی کایا پلٹنے والے اولولعزم پیغمبروں نے،زمین پر حق و صداقت پھیلانے والے صالح بندوں نے،انصاف پرور اور رحمدل شہنشاہوں نے،اُسی کی کوکھ میں پرورش پائی چنگیز خان،ہلاکواور ہٹلرجیسے انسانیت کے قاتلوں نے،اُسی کے کوکھ سے صلاح الدین ایوبی ،نورالدین زنگی اور محمد بن قاسم جیسے وطن پرست بھی پیدا ہوئے اور اُسی کی کوکھ میں پروان چڑھے جعفر و صادق جیسے وطن فروش بھی۔اُسی کوکھ نے پیدا کیا قدرت کے سر بستہ رازوں سے پردہ اٹھانے والے سائنسدانوں کو ،اُسی کوکھ نے جنم دیا تسلیمہ نصرین اور سلمان رُشدی جیسے شیطان صفت انسانوں کو۔اگرچہ دو متضاد طبیعتیں اور دو مختلف ذہن اِسی کوکھ کی پیدا وار

گرما گرم سُوپ سے سردی کا مزا دوبالاکیجئے

ویسے تو سوپ پینے کے شوقین افراد سارا سال ہی سوپ پیتے رہتے ہیں لیکن موسم سرما آتے ہی ہر کوئی مختلف اقسام کے لذیذ سوپ پینا پسند کرتا ہے۔ بچے ،بوڑھے اور نوجوان سبھی شوق سے سوپ پیتے ہیں۔ ریستوران اور بازاروں میں جگہ جگہ سوپ کی فروخت ہوتی ہے جبکہ گھروں پر بھی اسے بنانے کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ سرد راتوں میں گرما گرم سوپ ٹھنڈ کی شدت سے بھی بچاتے ہیں۔ سوپ کی مختلف اقسام میں سب سے زیادہ چکن کارن سوپ کھایا جاتا ہے۔  یہ جلد ہضم ہونے والی غذا ہے۔ سوپ افادیت کے لحاظ سے لاجواب ہے، جسے جسمانی کمزوری اور بیماری میں توانا غذا کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے۔ سوپ نظامِ ہضم کی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے بھی کار آمد ہے۔ ویسے تو مرغی اور بکرے کا سوپ بے حد مفید ہے لیکن سبزیوں سے تیار کردہ سوپ بھی انتہائی لذیذ اور قوت بخش ہوتا ہے۔ اسی لیے سوپ میں وٹامنز، معدنیات ، ریشہ اور پروٹین وافر مقدار میں مو

عورت کیلئے ایک شادی کا حکم کیوں؟

عورت کیلئے ایک شادی کا حکم کیوں دیا گیا، سائنس بھی اسلام کے احکامات کی تائید پر مجبور ہو گئی۔ ایک ماہرِ جنین یہودی(جو دینی عالم بھی تھا) کھلے طور پر کہتا ہے کہ روئے زمین پر مسلم خاتون سے زیادہ پاک باز اور صاف ستھری کسی بھی مذھب کی خاتون نہیں ہےپورا واقعہ یوں ہے کہ البرٹ آئینسٹاین انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ایک ماہرِ جنین یہودی پیشوارابرٹ نے اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا جس کا واحد سبب بنا قرآن میں مذکور مطلقہ کی عدت کے حکم سے واقفیت اور عدت کیلئے تین مہینے کی تحدید کے پیچھے کارفرما حکمت سے شناسائی اللہ کا فرمان ہے[البقرہ:228]”مطلقات اپنے آپکو تین حیض تک روکے رکھیں”‘‘ اس آیت نے ایک حیرت انگیز جدید علم ڈی این اے کے انکشاف کی راہ ہموار کی اور یہ پتا چلا کہ مرد کی منی میں پروٹین دوسرے مرد کے بالمقابل 62 فیصد مختلف ہوا کرتی ہےاور عورت کا جسم ایک کمپیوٹر کی مانند

عورت کا مقامِ حیات رنگ و بو میں

وجودِ زن سے ہے کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں  ایسی ہستی جو کبھی ماں بنکر جنت اپنے قدموں میں سجاتی ہے ،توکبھی بیٹی بن کر اپنے باپ کی عزت بن جاتی ہے ،کبھی بہن بن کے اپنے بھائ کی رازدار کا فرض نبھاتی ہےتو کبھی ہمسفر بن کے مرد کے ہر دُکھ سُکھ میں اُس کا ساتھ دیتی ہے ۔مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ذی عزت افراد خواتین کے کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہیں ۔اور کیوں نہیں روےٰ زمین پر نوعِ انسانی کی بقا کا سفر تنہا کسی ایک صنف کے دائرہ اختیار سے باہر ہے ۔لہٰزا خواتین کی اہمیت سے انکار کا تو کوئ جواز ہی نہیں۔عورت ہر روپ اور سررشتہ عزت ،وقار کی علامت ،وفاداری اور ایثار کا پیکر سمجھی جاتی ہے۔  مگر لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ اکیسوی صدی میں بھی ہم اس  صنف نازُک کا صحیح مقام اور رتبہ عام لوگوں کو سمجھانے کے لیے بہت سارے سیمناروں اور اسکیموں کا افتتاح کرتے ہیں

کامیاب معاشرے کی تشکیل میں عورت کا کردار

عورت کو مادرِ کائنات کہا گیا، جس نے انسان کو خانہ بدوشی کی زندگی ترک کرکے مکانات میں رہنے کا ڈھنگ دیا، جس نے بیج اُگاکر زراعت کی بنیاد رکھی۔ تعلیم یافتہ ماں ہونے کے ناطے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کا فریضہ نبھاتے ہوئے جدید دنیا کو باصلاحیت، تعلیم یافتہ و ہنر مند افرادی قوت فراہم کی۔ جاب مارکیٹ میں اپنی قابلیت کے جوہر دکھا کر کمپنیوں کو صف ِ اول کی پوزیشن پر لاکھڑا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی کامیاب معاشرے میں عورتوں کے بڑھتے ہوئے کردار کو تسلیم کیا گیا ہے۔ تعلیم میں سب سے آگے بین الاقوامی سطح پر اس وقت لڑکیوں کی تعلیم پر سب سے زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ پہلے خواتین کی عالمی منظر نامے میں اتنی زیادہ نمائندگی نہیں تھی لیکن اب صورت حال تبدیل ہوچکی ہے۔ پاکستان کے دیہات اور شہروں میں ابتدائی تعلیم سے لیکر اعلیٰ تعلیم تک کے اعداد و شمار ملاحظہ کریں تو تعداد میں خواہ لڑکے زیادہ ہوں لیکن

نازک نہیں ...مضبوط ہے عورت !

ایک وقت تھا جب عورت کو نازک سمجھا جاتا تھالیکن آج کی عورت کو دیکھیں تو ایسا بالکل بھی نہیں لگتا۔ عورت کو صنف نازک کہنا ایک ایسا مغالطہ ہے، جس میں مشرق اور مغرب دونوں ہی مبتلا ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت جسمانی، معاشی اور معاشرتی سمیت کسی بھی لحاظ سے صنف ِ نازک کہلانے کی مستحق نہیں ہے، اس کے برعکس وہ ایک مضبوط شخصیت کی مالک ہوتی ہے۔ کسی زمانے میں خواتین کا گاڑی چلانا حیرت کی بات سمجھی جاتی تھی مگر آج آپ کسی بھی سڑک پر جائیںتو آپ کو کئی خواتین گاڑی چلاتی ہوئی نظر آئیں گی۔ خواتین کا اپنی ذاتی گاڑی چلانا تو اب عام بات ہوگئی ہے جبکہ کئی خواتین نے اب ڈرائیونگ کو اپنا پیشہ بناکر ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ خواتین ٹرک، گھر ، کمپنیاں ،ادارے اورملک چلارہی ہیں اور ان کو چلانا ٹینشن سے کم نہیں ہوتا۔ صرف یہی، نہیں مہم جوئی میں بھی خواتین مردوں سے کم نہیں ہیں۔  مضبوط اعصاب ماہرین

تازہ ترین