مردو زن کے مابین صنفی تصادم آرائی

عالمی سطح پر انسانی معاشرے کو جن مسائل نے آگھیرا ہے، اُن میں مردو زن کے مابین صنفی جنگ بھی ایک حساس مسئلہ ہے جس نے انسانی سماج کو ایک غیر ضروری چپقلش میں مبتلا کررکھا ہے۔اس چپقلش کے مضرت رساں اثرات کو توضیحاً بیان کیا جائے تو مضمون در مضمون والا معاملہ در پیش ہوگا لہٰذا کنایتاً چند ایک نکتوں پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ صنفی اعتبار سے مردو ں کو عورتوں پر تفوق حاصل ہے لیکن اس صنفی فوقیت کا غلط استعمال کرکے طول تاریخ میں صنف نازک پر مردوں نے گوناگوں مظالم ڈھائے ہیں۔ ہر خطہ زمین اور ہرگذشتہ تہذیب کے ساتھ داستانہائے ظلم وابستہ ہیں کہ جن سے کتابوں کی کتابیں بھریں پڑیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب آزادیٔ نسواں کی تحریک بڑی شدومد کے ساتھ سرزمین یورپ سے اٹھی۔ تو ایک عورت کیلئے اس کا بنیادی منشور'' پیکار با مرد''ہی قرار پایا۔ اس قسم کی تحریکوں سے حقیقی معنوں میں

عورت سے ہی دنیا شیرین ہے

اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو بلندمقام عطاکیاہے اورایک بہترین شریک حیات کی شکل میں مردوں کو بیش بہااوربیش قیمت تحفہ پیش کیاہے۔اللہ تعالیٰ نے جہاں سورہ بقرہ،سورہ آل عمران اورسور الانعام جیسی سورتوں کونازل فرمایا،وہیں اللہ تعالیٰ نے سورہ النساء نازل فرماکر عورتوں کی اہمیت وفضیلت کو اجاگرکیا۔ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کواپنے دست قدرت سے پیدافرماکرجنت میں رہنے کاحکم فرمایاتوباوجودیکہ جنت میں انہیں ہرطرح کی آسائشیں،راحت وآرام اورعیش وعشرت کے تمام سامان مہیاتھے لیکن ان آسائشوں اورراحت وسکون میسرہونے کے باوجودبھی حضرت آدم علیہ السلام کی زندگی اداس تھی،ان کے دل کوسکون وقرارحاصل نہ تھا،سب کچھ حاصل ہونے کے باوجودانہیں اپنی زندگی میں بڑی کمی کا احساس ہورہاتھا اورتمام آرام وآسائشوں کے باوجودانہیں کسی ایسے ساتھی اورہمدم کی تلاش تھی جوان کے دل کوسکون مہیاکرے،ان کی تنہ

حسن وجمال دائمی نہ جوانی

آج کل مرد اور عورت ہمیشہ نوجوان رہنے کی فکر میں ہی لگے رہتے ہیں اوریہ سوچے بغیر دونوں اس کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں کہ جوانی نے ہمیشہ کس کا ساتھ دیا ہے ؟ جوانی اور خوبصورتی قائم رکھنے کے لئے بے شمار کریمیں استعمال کرنے کے علاوہ دیگر مصنوعات بھی اپنے چہرے پر استعمال کرتے ہیں اور مصنوعی حسن و جوانی کے لئے سیلون و بیوٹی پارلر بھی جاتے ہیں۔ہر دوسرے دن وزن پر نظر رکھنے کے لئے مشین پر چڑھتے ہیں اور جو غذا لیتے ہیں اس پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ سمارٹ رہنے کے لئے ورزش بھی کرتے ہیں اور خود کو جوان رکھنے کے لئے کاسمیٹک سر جری بھی کرواتے ہیںاور اب ان سب چیزوں کو ذرا مختلف انداز میں دیکھیں اور ایک نئے تناظر میں ان کا جائزہ لیں تاکہ ہمیں حقیقت سے آگاہی ہو سکے۔ کیا ہمیشہ خوبصورت اور جوان نظر آنا ہی سب سے اہم ہے ؟کیا ہماری زندگی کا صرف یہی مقصد ہے ؟آج پریس میڈیا اور الیکٹرونک م

جہیز اور معصوم بے بس بیٹیاں

ماں باپ کا گھر بِکا تو بیٹی کا گھر بَسا  کتنی نامراد ہے یہ بدرسم جہیز بھی!! روئے زمین پر سب سے مقدس رشتہ والدین اوراولاد کا ہوتاہے۔رب العالمین نے جہاں بیٹے کو نعمت بنایا ہے وہیں بیٹی کو رحمت بنا کر بھیجا ہے۔مگرافسوس! آج بھی وادیٔ کشمیر کے کئی علاقوں میں مسلم معاشرے میں کچھ روایتی اور دقیانوسی رواج برقرار ہیں،جن کی و جہ سے ہماری بیٹیاں بہت سی مشکلات کا شکار ہیں۔ظاہر ہے کہ بیٹوںکو ہمیشہ والدین کی سرپرستی حاصل رہتی ہے جبکہ دستور دنیا کے لئے بیٹیوںکے مقدر میں  اپنے والدین سے جدائی لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ہر بیٹی کو بالآخراپنے والدین کے گھرسے رخصت ہونا پڑتا ہےاور ایک نیا گھر بسانا ہوتاہے۔اس لئے ہر والدین پر یہ ذمہ داری لازم ہوتی ہے کہ مقررہ وقت پر سنت ِ نبویؐ کے مطابق اپنی بیٹیوں کا نکاح کروائیں۔چنانچہ ہر والدین کی ہمیشہ یہی کوشش رہتی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی جلد از جلد کروا

عورت ہر رنگ میں احترام کے قابل ہے

کون بدن سے آگے دیکھے عورت کو  سب کی آنکھیں گروی ہیں اس نگری میں  لفظ عورت سنتے ہی دل و دماغ میں محبت ایثار، ہمدردی ،وفا، اور شرم وحیا کی تصویر ابھر کر آتی ہے۔ یہ دنیا اگر خوبصورت اور حسین ہے تو یہ عورت کے دم سے ہے۔ عورت کے بغیر اس دنیا کا تصور کرنا بھی بے معنی ہے ۔عورت محض بچے جننے کی مشین نہیں ہے بلکہ دنیا میں جس قدر رعنائیاں ہیں سب عورتوں کے دم سے ہیں۔ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ "دنیا ساری متاح ہے مگر اس کی سب سے بہتر متاع صالح عورت ہے "۔عورت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک نعمت ہے ،جب یہ نعمت بیٹی کی شکل میں ملتی ہے تو باپ کی خدمتگار ہوتی اور باپ اس کی پرورش بڑے نازو نعیم سے کرتا ہے اور بیٹیوں کی پرورش کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے باپ سے جنت کا وعدہ کیا ہے ،یہی نعمت جب ماں کی صورت میں ملتی ہے تو عزت و احترام کے انتہائی اعلیٰ درجے تک پہنچ جاتی ہے

بنت ِ حوا ، لعنت ِ جہیز

اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس میں چرند پرند ،انسان ،حیوان ہر مخلوق کو حقوق دیئے گئے ہیں بے زبان جانور بھی دین کامل میں اپنے حقوق رکھتے ہیں۔کسی بے زبان جانور کو ضررپہنچانے سے بھی دین حق نے جہاں منع کیا ہے وہاں اپنے اردگرد سماج میں انسانی حقوق بارے واضح بتلایا گیا ہے مگر اس سماج نے انسان سے زیادہ مال و دولت کی حوس میں اپنے آپ کو پوجاری بنا لیا ہے ہر کوئی دولت کا گرویدہ بنا بیٹھا ہے اور انسانی حقوق کی حق تلفی کی جا رہی ہے ۔میرے چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ کا موضوع  ہیکہ بنت حوا بارے جو قبیح رسم ہمارے سماج میں پروان چڑھ چکی ہے اس کا خاتمہ کیا جائے بجائے یہ رسم دن بدن مضبوط ہو تی جا رہی ہے جہاں اہل شعور انسان دنیا بھر میں موجود ہیں وہاں مخبوط الحواس ،کم ظرف انسانیت پر مال دولت کو ترجیح دینے والے بے شمار جاہل لوگ بھی موجود ہیں جو جہہز جیسی قبیح بے ہودہ رسومات کے ذریعے اللہ کی بنائی ہوئی خو

مرد کی دنیا عورت سے آباد

یہ ایک نمایاں حقیقت ہے کہ انسان کا وجود دو پہیوں پر قائم ہے۔مرد اور عورت۔نہ اکیلا مرد دنیا میں جی سکتا ہے اور نہ انسانی نسل کو آگے بڑھا سکتا ہے۔اسی طرح عورت کا معاملہ بھی ہے۔اس بات سے قدرت کے اس قانون کی وضاحت ہوتی ہے کہ جنسی اعتبار سے دونوں کی اہمیت یکساں ہے نہ کوئی بہتر ہے اور نہ ہی کوئی کمتر۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے تو دنیا میں جنسی بنیاد پر امتیاز کیوں،؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک ذہنی فتور ہے جس کو مرد حضرات نے خود ہی تخلیق کیا اور خواتین حضرات پر مسلط کیا۔قدرت نے انسان کو سماعت،بصارت ،شعور اور ادراک سے مالامال کر کے یہ اختیار دیا کہ وہ اپنا معاشرہ خود تشکیل دے اور خود ہی فیصلے بھی کرے اس ضمن میں الہامی احکامات بھی نازل فرمائے گئے تاکہ انسان ان احکامات کو ملحوظِ نظر رکھ کر اپنی ذندگی گزار سکے۔لیکن انسان نے اپنی من مانی سے نئے قوانین وضع کیے اور جنسی امتیاز کو فروغ بخشا۔یوں مرد

مہ لقاء بائی چندہ

 دکن کی مشہور مہ لقاء بائی چندہ کا شمارآصف جاہی دور سلطنت میں بااثر خواتین میں ہوتا تھا۔ سنہ 1802 میں حیدرآباد کے دوسرے آصف جاہی سلطان میر نظام علی خان کے دربار میں فارس کے نئے برس کی تقریب کے دوران فوجیوں اور درباریوں کو تحائف، القاب اور گرانٹ کے ساتھ اعزاز سے نوازنے کے لئے ایک خاص پروگرام منعقد کیا گیا۔ جس میں متعدد مردوں کے علاوہ ایک 34 سالہ خاتون چندہ بی بی المخاطب مہ لقا بائی کو ان کی نمایاں خصوصیات اور صلاحیتوں کی بنا پر ’مہ لقا‘ کے شاہی خطاب سے نواز کیا گیا۔ مہ لقاء بائی دکن کی سب سے زیادہ بااثر خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین شاعرہ، سیاسی مشیر، کامیاب سپاہی، گھوڑ سوار اور تعلیم نسواں کی علم بردار تھی۔ ان خیالات کا اظہار دکن آرکائیو کے بلاگر و مورخ جناب صبغت خان نے کیا۔   دکن آرکائیو کی جانب سے ’ہیریٹیج واک‘ کے دوران انڈین نیشنل ٹرسٹ

اسلامی نظام اور اقلیت نوازی

   اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے عالمی رجحان نے جہاں دنیا بھر کے مسلمانوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے، وہی اسلام دشمن عناصر کی سازشوں کے زیر اثر بعض غیر مسلم بھائی بہن بھی مسلمانوں سے خوفزدہ نظر آتے ہیں۔اسلام اور اسلامی تاریخ کی لاعلمی کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک مسلمان کو دہشت گرد کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اسلامی نظام کو لوگوں خاص طور پر غیر مسلموں کے لئے ایک خطرہ گردانا جاتا ہے۔حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔دنیا کے کسی بھی نضام حکومت کا جائزہ لیجیے تو آپ اس نتیجے پر پہنچ جائے گیں کہ اسلامی نظام ہی وہ واحد نظام ہے جہاں ہر ایک انسان کو تحفظ حاصل ہے پھر چاہے وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔یہ وہ واحد نظام  ہے جس کے تحت ایک حکمران خود کو بادشاہ تصور کرنے کے بجائے اللہ کا غلام اور انسانوں کا خادم تصور کرنے کا پابند ہے۔   "مسلمانو! میں بادشاہ نہیںہوں کہ تم

صاف ستھرائی اور سلیقہ مندی

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ خواتین دن بھر کے کام کاج کو انجام دے کر اس قدر تھک جاتی ہیں کہ شام ہوتے ہوتے ذہنی اور جسمانی تھکن سے چور ہوجاتی ہیں ۔ صبح سویرے اٹھنا، بچوں اور شوہر کے لئے ناشتہ بنانا ، بچوں کو کھلانا پلانا ، نہادھو کر انہیں تیار کر کے سکول بھیجنا ، پھر پورے گھر کی صفائی کرنا ، دوسرے کام نمٹانا ، دوپہر سے پہلے پہلے ان کاموں کو نمٹا کر دوپہر کا کھانا بنا نا تاکہ بچوں کو سکول سے لوٹتے ہی کھانا تیار ملے، چائے وغیرہ بھی بنا کے رکھنا۔ غرضیکہ گھریلو کاموں کی ایک طویل فہرست ہوتی ہے۔کپڑوں کی دُھلائی تو آج کل بہت اہم کام ہے۔ بچوں کی آمد کے بعد بھی کئی کام ہوتے ہیں جو خواتین کو انجام دینے ہوتے ہیں ۔ اگر وقت دوپہر سے سہ پہر کے بیچ مل گیا تو آرام نصیب ہوگاورنہ پھر شام کے کام ، شوہر کے گھر لوٹنے کا وقت آپہنچتا ہے اور کام ہے کہ پھر بھی تکمیل کو نہیں پہنچتا۔ ایسے میں شوہر گھر تشریف ل

عورت مارچ کی حمایت ضروری کیوں؟

۔08 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کیوجہ سے شہرت حاصل ہے۔ دنیا بھر میں یہ دن جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔عورت مارچ کسی مخصوص علاقے، رنگ و نسل، مذہب اور کلچر تک محدود نہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں سیلیبریٹ کیا جاتا ہے اور کیا بھی جانا چاہئے۔ خواتین کے عالمی دن کو ہفتہ گذرنے کے بعد آج یہ کالم لکھنے کی نوبت اس لئے آ رہی ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر اس کے حوالے سے بحث و مباحثے کا سلسلہ اب بھی گرم ہے ۔ اس ایشو کو حد سے زیادہ الجھا دیا گیا ہے۔ مرد حضرات کی ایک ایسی تعداد بھی موجود ہے جنہیں اس دن پر کافی تحفظات ہیں۔مردوں کی اسی قبیل سے ایسے دانشور بھی ہیں جو اس دن کے حوالے سے طرح طرح کی من گھڑت تھیوریاں پیش کرتے ہیں ۔ان کے بقول یہ دن بے حیائی پھیلاتا ہے، یہ امریکہ یا ویسٹ کی سازش ہے تاکہ مذہب کو کاری ضرب لگائی جا سکے وغیرہ۔ اس دن کی اہمیت و افادیت سمجھنے کے لئے تاریخ کے اوراق پلٹنا ضروری ہیں۔ تا

عورت مارچ… آخر اب اور کیا چاہئے ؟

عورت اس دنیا کی سب سے زیادہ مظلوم مخلوق تھی جسے سماج نے ٹھکرادیا تھا ، تاریخ نے گمنام بنایا، تھا ،ہوس پرستوں نے نشانہ بنایا تھا ، مذاہب کے ٹھیکیداروں نے اس کو فطری حقوق سے محروم رکھا تھا لیکن اسلام نے عورت کو دنیا کی سب سے خوبصورت اور حسین چیز بتایا۔ اْس کو ایک اعلیٰ مقام عطا کیا ،دکھ اور تکلیف کے گہرے گھڑے سے نکال کر سرپرستی کا تاج پہنا دیا۔ اْس کو مرد کے برابر حقوق عطا کئے۔ اْس کو مرد کی غیرت قرار دیا، اْس کو جنت کی دلیل بتایا۔ اسلام نے عورت کو اْس کا صحیح مقام عطا کیا اور اْس کی شرم و حیا کو ہی اْس کی سب سے بڑی زینت قرار دیا۔ آج کل جگہ جگہ عورت مارچ نکالا جاتا ہے، عورتیں آزادی کے نعرے لگاتی پھر رہی ہے، اپنے حقوق مانگ رہی ہیں۔ میرا جسم میری مرضی کے گیت گا رہی ہیں اور سر ِ راہ ناچتی پھر رہی ہیں۔ میرا جسم میری مرضی کے نام پر بیہودگی کو فروغ دینا چاہتی ہیں۔ یہ عورت ہے یقین نہیں آ

یوم خواتین پر خواتین مارچ اورتقاریب | باڑ نہ ہواور منہ مارنے والے ہوں تو فصل بچے گی کیسے؟

 مارچ کو عالمی سطح پر یوم خواتین بڑی دھوم دھام سے اور زور و شور کے ساتھ منایا گیا ۔ پورا دن خواتین کے لئے وقف تھا اور دنیا کے سارے بڑے اداروں اور شخصیات نے خواتین کی عظمتوں کو جہاں سلام کیا وہاں اس کی رفعتوں کو بھی اجاگر کرنے کی کوششیں ہوئیں لیکن اسی روز دنیا کے مختلف ممالک، شہروں ، قصبوں اور دیہاتوں میں ’’ عظیم عورت ‘‘کا جسم حسب معمول تار تار ہو تا رہا اور معمول کے مطابق ہی لاکھوں عورتیں بے آبرو ہوتی رہیں۔ عورت کی عزت ، عصمت اور آ بر و کے تحفظ کی باتیں ،انہیں مساویانہ حقوق اور برابری کے درجے دینے کے وعدے حسب روائت الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی زینت بنتے رہے ، انصاف کے مندروں میں و ہ عورت کے پجاری بڑے بڑے بھاشن عورت کی عصمت اور بڑھائی پر دیتے رہے جن پر آبرو ریزی کے درجنوں مقدمات بھی درج ہیں اور زمینی سطح پر اس دن بھی جنسی تشدد، عصمت دری ، آبرو ریزی

اسلام میں عورت کا مقام و مرتبہ

اسلام نے عالم انسانیت کے لئے ایک ایسا جامع، ارفع و اعلیٰ مقام و نظام عفت پیش کیا جس نے ایک طرف صدیوں کی ماری ہوئی عورت کو ذلت کی پستیوں سے نکال کر عظمت و تقدس کی چوٹی پر لابٹھایاتو دوسری طرف انسانیت کی فطری حدود کو اعتدال کی راہوں پربھی گامزن کیاجس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج اسلام کا نظام عفت بلا شک و شبہ اپنے اندر بیش بہا دولت، لازوال رحمت اور بے انتہاء برکت لئے ہوئے ہے۔ اور وہ عورت جس کے ساتھ ظہور اسلام سے قبل زمانہ جہالت میں انسانیت کے درجہ میں لانا عار سمجھا جاتا تھا اس کو اسلام نے سربلندی اور وقار عطاء فرمایا۔ یہ اسلام ہی کا فیضان تھا جس نے عورت کو نہ صرف اعلیٰ مقام و مرتبہ دیا بلکہ ترقی کے اعلیٰ مدارج بھی عورت نے اسلام ہی کے جھنڈے تلے طے کئے۔ اسلام نے ہر قسم کی سماجی اور فحاشی برائیوں کا بڑے حکیمانہ انداز سے خاتمہ بھی کر دیا اور ایک صالح اور پاکیزہ اسلامی معاشرے کی بنیاد بھی رکھی۔

سڑکوں پہ اُڑتے جہاز

قارئین! اسلام علیکم …ہاں مجھے پتا ہے آپ نے کبھی بھی اپنی زندگی میں جہازوں کو سڑک پہ اُڑتے ہوئے نہیں دیکھا ہوگا لیکن میں نے دیکھا ہے ۔آپ نے بھی دیکھا ہوگا ۔ایک بار نہیں، دوبار نہیں ،بلکہ ہزاروں بار دیکھا ہوگا۔ جی ہاں سچ کہہ رہی ہوں ۔اب آپ پوچھیں گے کہ ہم نے تو کبھی بھی نہیں دیکھا اور تُم نے کب،کہاں اور کیسے دیکھا ؟اُف …اُف ایک ہی سانس میں اتنے سوال! میں تو نہیں بتاؤں گی کیونکہ میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ آپ نے بھی ضرور دیکھا ہوگا ۔ذرا اپنی عقل کے گھوڑے تو دوڑایئے …دوڑایئے…دوڑایئے۔آہا …آپ سے نہ ہوپائے گا ۔چلو میں ہی بتادیتی ہوں ۔تو سنئے!!میری بات آپ کو عجیب ضرور لگے گی مگر یہی حقیقت ہے ۔یہ جہاز کچھ اور نہیںبلکہ ہماری کالی سی ،لمبی سی ،کھڈوں والی کچھ بھی ہوہے تو ہماری اپنی مصیبت میں کام آنے والی سڑک پہ چلنے والی گاڑیاں ۔بس فرق اتنا ساہے کہ

تانیثیت اور حقوق نسواں

 زمانہ جدید میں تانیثیت (Feminism) کے علمبرداروں نے خاتون کو یہ بات باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ قرنوں سے مرد کے پنجہ استبداد میں جکڑی ہوئی ہے۔ بات خواتین کے حقوق کی بازیابی اور ان کی عزت کی بحالی کی خاطر کی جاتی تو معاملہ بڑا ہی حوصلہ افزا ہوتا کیوں کہ معاشرے کے نصف حصے کو کسی بھی صورت میں دیوار سے لگائے رکھنا کوئی خوش کن بات نہیں ہے۔ لیکن سارے معاملے کو ایک باضابطہ نظریے اور فلسفے کی شکل دی گئی اور ایک ایسا نعرہ بلند کیا گیا کہ مرد، جو مدت دراز سے خاتون پر اپنا تحکم اور اقتدار جمائے بیٹھا ہے، کو اپنی حیثیت سے دستبردار ہوجانا چاہئے۔ ساتھ ساتھ خاتون کو یہ ترغیب دی گئی کہ مرد سے دو دو ہاتھ کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ مسئلے کو جوں ہی ایک فلسفے کا رنگ دیا گیا تو جس طرح اشتراکیت نے انسانیت کو دو برسر پیکار گروہوں (بورڑوا، Bourgeois اور پرولتاریہ، Proletariat) میں بٹا ہوا ہونے کا اعلا

ہر بہو، بہن،ماں،بیٹی عزت کی طلبگار

اللہ تعالی نے اس کائنات کی بقا اور اس کے تحفظ کے لئے مرد و عورت کے نام سے دو جنسوں کے ذریعہ اس کائنات کا سلسلہ جاری فرمایا۔ ہر صنف میں دوسری صنف کی طلب اور جذبات ایک دوسرے میں پنہاں رکھے تاکہ عورت مرد کی رفیق حیات بن کر زندگی کے نشیب وفراز میں ہر قدم پر اس کا ساتھ دے سکے اور اس کی مونس وغم خوار بن کر زندگی کی گاڑی کھینچ سکے۔ امر واقع یہ ہے کہ ہر ایک کی زندگی دوسرے کے بغیر نا مکمل اور ادھوری بن کر رہ جاتی ہے ۔ مرد کامل مرد رہتے ہوئے عورت سے بے نیاز نہیں ہوسکتا ،اسی طرح عورت عورت کے لباس میں رہتے ہوئے مرد کے بغیر مطمئن زندگی نہیں گزار سکتی، لہٰذا اس کار خانہ حیات کے تسلسل اور انسان کی تمدنی سرگرمیوں کی بقا کے لئے مرد اور عورت دونوں کا وجود نہایت ضروری ہے۔ازل سے ہی اس کائنات میں مرد و عورت دونوں کی برابر کی شرکت حاصل ہے۔ دنیاوی زندگی کے آغاز کے وقت بھی حضرت آدمؑ کے ساتھ حضرت حوا ؑبرابر

عورت

عورت ہو، مرد نہیں ! اپنی اوقات میں رہا کرو ۔ آئے دن اپنے شوہر، شمیم کے طعنے سنتے سنتے اب حنا کا صبر جواب دینے لگا تھا۔ شادی سے پہلے ہی وہ دہلی کے جمنا پار علاقہ میں ایک سرکاری سکول میں اردو ٹیچر ہو گئی تھی۔لیکن شمیم کے پاس کوئی مستقل نوکری نہیں تھی۔وہ ایک چھوٹے سے اردو اخبار میں سب ایڈیٹر تھا۔تنخواہ بہت کم تھی لیکن حنا کی بھی عمر ہو رہی تھی ۔اس نے سوچا کہ چلو ہم دونوں مل کر گھر چلا لیں گے۔لیکن شمیم نے کبھی اس کے اس جذ بہ کی عزت نہ کی۔ وہ ہمیشہ اس احساس کے ساتھ جیتا کہ وہ مرد ہے ۔وہ شوہر ہے ۔اس نے اپنے بڑوں کو ہمیشہ اپنی بیوی کو کم تر سمجھتے دیکھاتھا۔ وہ دلی آکر بھی اپنی ذہنیت نہ بدل سکا۔افسوس کی بات یہ تھی کہ باہر وہ خواتین کو اپنی لچھے دار باتوں سے الجھائے رکھتا لیکن گھر میں وہ اپنے اجداد کی طرح ہی شوہر نظر آتا۔ وہ بیوی کو صرف اپنی عورت سمجھتا۔   جب بھی وہ کہت

دلنشین نعرے میں شہزادی سے اسیرزادی ہوگئی

مارچ 8 عالمی یومِ حقوقِ نسواں کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں تحریکِ آزادی نسواں بڑی زور پکڑتی جارہی ہے ،لیکن خواتین کی آزادی کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ در حقیقت عورت کے احترام کی نفی اور اس کی روح و جسم کا استحصال ہورہا ہے۔ جس پر آزادی نسواں کا رنگین ، خوشنما پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ عورت کو ' میرا جسم میری مرضی ' کے دلنشین نعروں سے دھوکا دے کر ورگلایا جارہا ہے۔ عورت کو سرعام بازاروں میں " عورت مارچ " کے بینر تلے جدید دور کے انسان کو ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہو رہی ہے بلکہ اپنی بے غیرتی کا ثبوت دیتے ہوئے فخریہ انداز میں اس کی عکس بندی کرتا ہوا نظر آرہا ہے ۔ حقوقِ نسواں سے مراد وہ حقوق ہیں جو عورتوں کو بھی مردوں کی طرح سماجی و قانونی مقام دے سکے ۔ آج مغربی نظریہ فکر رکھنے والے لوگ یہ وکالت کرتے ہیں کہ اسلام میں عورت کو پردے میں رکھ کر چہار دیوا

! کہاں سنتا ہے وہ کہانی میری

اکیسویں صدی کی تیسری دہائی اکیسویں سال میں ہم داخل ہوچکے ہیں۔اتفاق سے یہ مارچ کا مہینہ ہے۔آج 8مارچ کو عالمی پیمانے پر "یوم خواتین "منانے کی تیاریاں زور و شور سے  ہورہی ہیںجو عموما" 1 مارچ سے شروع ہوجاتی ہیں۔سیاسی ، ثقافتی، معاشرتی، ادبی غرض کے ہر سطح پر جوش و خروش سے یوم نسواں منایا جاتا ہے۔ یوں تو 8مارچ عورتوں کی جد وجہد آزادی نسواں کے طور پر علامتی شکل میں منایا جاتا ہے لیکن آزادی تو کیا برابری کا بھی حق ملا کیاخواتین کو؟یہ غور و فکر کا مقام ہے ۔اگر یہ حق ملا ہوتا تو1 مارچ کو میڈیاسوشل سائٹ پر عائشہ نامی خاتون کی ویڈیو وائرل نہیں ہورہی ہوتی !2مارچ کی خبر کہ افغانستان کے شہر جلال آباد میں تین خاتون صحافیوںشہنازرؤفی ، سعدیہ سادات، مرسل کونامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک  نہ کردیاہوتا۔ اسی رات ایک ٹی وی چینل پر ایک لڑکی چھیڑ ے جانے کی مخالفت میں اپ

تازہ ترین