بے قید شادیاں…یرغمال نکاح خواں

جموںوکشمیرمیں شادی بیاہ کا سلسلہ اپنے جوبن پر ہے اور جب تک اس کائنات ہست و بود میں سانس باقی ہے یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔کیونکہ اس کے ساتھ نسل انسانی کی بقا ء اور نئے خاندانوں کا وجود وابستہ ہے ،غور سے دیکھا جائے تو آدم ؑو حوا  ؑکی تخلیق کے ساتھ ہی نظام تزویج عمل میں آیا تھا اور جنت کی مبارک زمین پر انہیں رشتہ ازدواج کی ڈوری میں باندھ کر نسل انسانی کے پھیلائو کا آغاز ہوا تھا۔گو جنت میں یہ مبارک عمل عملایا گیا لیکن ذریت زمین پر آکر پیدا ہوئی۔اسلام نے نکاح کی اہمیت کو جابجا اجاگر کیا ہے اور یہ سارے انبیا ء کی سنت بھی رہی ہے ،یہی بات قرآن نے یہ کہہ کر بیان کی ہے کہ (اے محمد ؐ)ہم نے آپ سے پہلے بھی یقیناً رسول ؑبھیجے اور اْنہیں بیویوں اور اولاد سے بھی نوازا (الرعد۔38)اور نبی رحمتؐ نے اپنے مقدس ارشادات میںاس اہم معاملہ کی افادیت اور ضرورت کو خاص انداز میں واضح فرمایا کہ اے نوجو

اُستاد کا رشتہ محترم اور مکّرم

انسان دنیا میںکبھی بھی تنہا وقت نہیں گزارتا،وہ کئی رشتے ناطوںکے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ان میں سے کچھ رشتوں کاتعلق خون سے ہوتا ہے جبکہ بہت سے رشتے ناطوں کا تعلق روحانی ،اخلاقی اور معاشراتی طور پر قائم رہتا ہے۔انہی میں سے ایک رشتہ اْستاد کا بھی ہے۔اْستاد کو معاشرے میں روحانی والدین کا درجہ حاصل ہے۔اسلام میں ہی نہیں بلکہ باقی مذاہب میں بھی اْستاد کا رْتبہ والدین کے رْتبے کے برابر قرار دیا گیا ہے،کیونکہ دنیامیں والدین کے بعد اگر کسی بچے کی تربیت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو وہ معلم یعنی اْستادپر ہوتی ہے۔سچ تو یہ بھی ہے کہ انسان تو وہ ہے جو صاحبِ علم یا طالبِ علم ہے اوریہ تو اْستاد ہی ہے جو ہمیں دنیا میں جینے اور زندگی گزارنے کی تربیت ،اہمیت اور افادیت سے واقف کراتا ہے گویا اْستاد ہی کسی بھی قوم کے نونہالوں کو تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنے کے ضامن ہیں۔ایک بچے کی پہلی کتاب اْستاد اور پہلا سیلیبس اْ

کوروناکا رونا نہ روئیں

کہ ہاں زندہ ہوں میں، زندہ لاش بن کے تو جیتا بھی، تو میں بھی ہارا ہوں خاک بن کے  حضرات! کورونا(آگے سے کرونا) سے آج کون واقف نہیں۔ شاید ہی کوئی ہوگاجسے اس بارے میںپتہ نہ ہو۔ حیرت اس بات سے ہے کہ اس لفظ کا مطلب کروُن (Crown) ہے۔ جسے اردو میں تاج اور ہندی میں مُکٹ کہتے ہیں۔ مجھے اس سے پریشانی نہیں کہ اسے اتنا اعزازی نام کیوں دیا گیا۔ تاج یا کروُن نام سنتے ہی انسانی دماغ میںبادشاہ، حکومت، سلطنت جیسے نام ضرور گھومتے ہیں۔ مگر یہاں میں بتاتی چلوںکہ جہاں تاج و حکومت پانے کے لئے ماضی میں خون کی ندیاں بہائی گئی وہیں اس تاج (کرونا) کو آج کی تاریخ میں پانے کی کسی کونہ حسرت ہے نا کوئی تمنا۔ جب کوئی بھی امید وار سامنے نہ آیا تو وائرس کے ایک خاندان نے اس نازک موڑ پہ دنیا کی باگ ڈورسنبھالی جو بعد میں کرونا نام کی حکومت کہلائی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں ان کے آپسی اتحاد کی وجہ

تازہ ترین