عورتیں ہی حقیقتاً صنف ِ قوی ہیں

 اللہ رب العزت نے جہاں اشرف المخلوقات کو پیدا کر کے بے حد احسان فرمایا ہے وہاں مرد اور عورت کی زندگی کو ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم بنا دیا ہے۔ انہیں ایک دوسرے کی خوشگوار زندگی کا ہمسفر بنایا ہے۔ عورت جیسی صنف نازک کو دنیا میں لاکر ایک منفرد مقام عطا کیا ہے۔ اس کے بغیر دنیا میں زندگی کے پہیہ کا آگے چلنا ناممکن ہے۔ اس سے بازار کے بجائے گھر کی ملکہ قرار دیا گیا ہے۔ قوت، ہمت، حوصلہ، بہادری سے دیکھا جائے تو یہ مردوں کے مقابلے میں کمزور مانی جاتی ہے۔ لیکن برداشت کے وصف سے دیکھا جائے تو صنف نازک قوت برداشت میں کئی گنا مردوں سے آگے ہے۔ اس کے اندر محبت و شفقت، نرمی، سخاوت، برداشت، رحم، عدل و انصاف جیسے اوصاف کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں۔ کسی نے کیا خوب تعریفیں کی ہے  ؎ میں بیٹی ہوں تو اک رحمت ہوں میں بہن ہوں تو اک دعا ہوں میں بیوی ہوں تو اک سکون ہوں میں ماں ہوں تو اک

کورونا وائرس اور شادی کی تقاریب

کورونا وبائی مرض کے باعث زندگی کے تمام تر شعبے حد درجہ متاثر ہوئے ہیں۔ اس وبائی مرض نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر پریشانی کی زنجیروں میں کَس کر جھکڑ لیا ہے۔کورونا وائیرس جیسے وبائی مرض کے چلتے سال رواں میں ہونے والی شادی کی تقریبات منسوخ کروائی گئیں۔وہی بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے شادی کی تقاریب نہایت ہی سادگی اور خوشی کے ساتھ انجام دیں۔عام لوگوں کی زبان سے یہی سننے کو ملا کہ جنہیں بہو کے روپ میں بیٹی چاہیے تھی، انہوں نے بناء کسی دکھاوے ،بے جا رسم و رواجوں کو اپنائے بغیر نکاح کی تقریب انجام دی۔اب جن کو بہو کے روپ میں نوٹ چھاپنے والی مشین چاہیے تھی ،انہوں نے تقاریب منسوخ ہی کر دیں۔ ہمارا سماج ہزاروں ایسے بے جا رسم و رواجوں سے بھرا پڑاہے جنہوں نے ایک فرد سے سماج کا ایک حساس باشندہ ہونے کا حق کہیں نہ کہیں چھین لیا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس نے ان رواجوں کی تکمیل نہیں کی تو شای

’مِس مینجمنٹ ‘کے بَل پر خاندان چلتے ہیں

خاندان کئی افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ مگر ہر خاندان کسی نہ کسی مِس مینجمنٹ کے بَل بوتے پہ ہی چلتا ہے۔ یہ مِس مینجمنٹ ماں، بہن، بھابی یا بیوی کی صورت میں ہوتی ہے۔ اس کے بغیر خوشحال اور منظم فیملی کا تصور نہ ہے۔ اس تمہید کا مقصد عورت کا معاشرے میں کردار و اہمیت بیان کرنا ہے۔ اگر ہم غیر جانبداری سے انسانی رشتوں کا تجزیہ کریں تو عورت کو ہی روحِ رواں دیکھیں گے۔ اقبال نے ایسے ہی نہیں ’’وجودِ زن سے تصویر ِ کائنات میں رنگ‘‘ کی بات کی ہے۔ حفیظ جالندھری نے تو قوموں کی عزت عورت کی مرہون منت قرار دی جبکہ مجاز آنچل سے پرچم بنانے کی کہانی بھی سناتے ہیں۔۔کیوں نہ ہو کہ اشرف المخلوقات کا دل جنت میں نہ بہل پایا جہاں عورت کے سوا ہر نعمت تھی مگر با با ، اماّں کے بغیر اداس تھا اور جنت سونی نظر آتی تھی۔ لہٰذا اس خواہش کے بدلے اللہ نے مرد کو عورت کا دائمی ساتھ سونپ دیا اور تھوڑ

۔21ویں صدی میں اَزدواجی تعلقات

شوہر کی عزت کرنا بیوی کا فرض ہے۔شوہر اور سسرال والوں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات اور صحت کا خیال رکھنا بیوی کی ذمہ داری ہے۔ لڑکی کو یہی باور کرایا جاتا ہے کہ ڈولی میکے سے اٹھے گی اور جنازہ سسرال سے۔ یہ اور اس طرح کی بہت سی باتیں شادی کے بندھن میں بندھتے وقت لڑکیوں کی اکثریت نے سن رکھی ہوتی ہیں۔ لیکن ایسی تمام باتوں میں جو سوال نئی نویلی دلہن کے ذہن میں آتا تھا وہ یہ کہ شادی کے بعدجہاں بیوی کی بے شمار ذمہ داریا ں اور فرائض ہیں، وہیںایک بیوی کی عزت، اس کا خیال اور اس کے ساتھ تعاون کرناکس کی ذمہ داری ہے؟ کیا ایک عورت سے شادی صرف اس لیے کی جاتی ہے کہ وہ شوہر، اس کے والدین، اہل وعیال، بچوں اور گھر کی ذمہ داریاں بخوبی نبھاسکے؟ ایک عورت ہونے کی حیثیت سے بیوی کو مرد کی برتری پر نہیں بلکہ اس کی بے جا حاکمیت پر اعتراض ہوتا تھا۔ تاہم اکیسویں صدی نے تمام تر اعتراضات اور حاکمیت سے متعلق گلے شکوے کافی ح

خشک اور چکنی جلد

جِلد اگر کہیں سے خشک اور کہیں سے چکنی ہو یعنی پیشانی اور ناک والا حصہ چکنا جبکہ بقیہ حصہ خشک ہو تو ایسی جِلد کو کامبی نیشن یا ملی جلی کیفیت والی جِلد کہاجاتا ہے، جس کا سب سے بڑا مسئلہ بلیک ہیڈز ہوتا ہے۔ بعض خواتین ہی نہیں بلکہ مرد حضرات کو بھی بلیک ہیڈز کی شکایت ہوتی ہے۔ خواہ یہ ناک پر ہوں یا ہونٹوں کے اطراف میں، یہ چہرے کی خوبصورتی کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ ان بلیک ہیڈز سے چہرے کی چمک ختم ہو جاتی ہے، خصوصاً سورج کی روشنی میں یہ چہرے پر نمایاں ہو جاتے ہیں۔ ویسے بھی یہ ایک طرح کی دھول ہوتے ہیں، جو مسام کو بند کر دیتے ہیں۔ ان سے نجات حاصل کرنے کے چند آزمودہ طریقے ہیں۔ تھوڑا سا وقت نکال کر ان پر عمل کر کے بلیک ہیڈز سے نجات پائی جا سکتی ہے اور نرم و ملائم جِلد کا خواب پورا کیا جا سکتا ہے۔ ملی جلی جِلد کی نگہداشت یقیناایک مسئلہ ہے کیونکہ ایسی جِلد میں خشک اورچکنی جِلد کے بدترین خدوخال

باغیچہ بنانے کے بنیادی عناصر

فطرت سے لگائورکھنے والے افراد اپنے گھر کو ہرا بھرا رکھنے کے لیے کچھ نہ کچھ اقدامات کرتے رہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ گھر کے اندرونی حصوں، بالکنی، چھت، عقبی حصے اور باغیچے میں پودے اور دیگر آرائشی سامان لگاکر انھیں خوبصورت بنانے کے جتن کرتے ہیں۔ بہت کم لوگ باغیچہ بنانے کے حوالے سے وسیع معلومات رکھتے ہیں جبکہ کچھ کو معمولی معلومات ہی ہوتی ہیں۔  تاہم بعض افراد ایسے بھی ہیں جو اپنے گھر میں باغیچہ بنانا چاہتے ہیں لیکن علم نہ ہونے کی وجہ سے اپنے اس شوق کی تکمیل نہیں کرپاتے۔ باغیچہ بنانے کی خواہش رکھنا تو بہت اچھی بات ہے لیکن یہ ایک مشکل کام ہے کیونکہ اکثر سمجھ ہی نہیں آتا کہ اس کا ڈیزائن کیسا بنایا جائے یا تعمیرکا آغاز کیسے کیا جائے۔ تاہم اگر آپ نے اپنے گھر کے بیرونی یا عقبی حصے میں باغیچہ بنانے کی ٹھان لی ہے تو آپ کو چند بنیادی باتوں پر عمل کرنا پڑے گا۔ ہم اپنے مضمون میں باغیچہ

مائیں کیسے ٹائم مینجمنٹ کریں

گھر میں بچے ہوں تو مائوں کے لیے چیزیں ترتیب دینا کوئی آسان کام نہیں ہوتا ہے۔ بچوں کو دیکھنا، ان کے کھانے پینے اور ضروریات کا خیال رکھنا مائوں کے ذہن پر سوار رہتا ہے۔ بچوں کی موجودگی میں ہر آئے دن افراتفری کا سامنا رہتا ہے، تاہم چند باتوں پر عمل پیرا ہوکر مائیں اپنے وقت کا زیادہ بہتر اور زیادہ مؤثر استعمال یقینی بناسکتی ہیں۔ اپنے وقت کا جائزہ لیں اس بات کا بغور جائزہ لیں کہ آپ اپنا وقت کس طرح گزارتی ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کے اس دور میں ہم اپنا کم از کم ایک گھنٹہ روزانہ ایسے کاموں پر خرچ کرتے ہیں، جنھیں یا تو بعد میں کیا جاسکتا ہے یا پھر انھیں اپنے شیڈول سے خارج کیا جاسکتا ہے۔ اسمارٹ فونز نے ہماری کسی ایک کام پر توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت کو بْری طرح متاثر کیا ہے اور ہم بمشکل 20منٹ تک ایک کام تسلسل کے ساتھ کرپاتے ہیں اور ہم اپنی توجہ غیرپیداواری کاموں

جہیز کی فرسودہ رسم

عام طور پر بیٹی کے پیا دیس سدھارنے کا خواب والدین اسی دن دیکھنا شروع کردیتے ہیں، جس دن وہ پیدا ہوتی ہے۔ شادی والے دن والدین کے لیے بیٹی کی جدائی سے زیادہ اس کا گھر بس جانے کی خوشی اہم ہوتی ہے لیکن اس خوشی کے حصول کے لیے انھیں جہیز جیسی فرسودہ رسم کو پورا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ شادی کے انتظار میں کتنی ہی لڑکیوں کی عمر بڑھتی جارہی ہے، وہ بھی صرف اس وجہ سے کہ ان کے والدین جہیز کے نام پر مہنگے تحائف دینے یا لڑکے کے گھروالوں کی شرائط پوری کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ کتنی ہی لڑکیاں ایسی ہیں،جنھیں جہیز کے مطالبات پورے نہ کئے جانے پر شادی کے بعد تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم بچپن سے ہی درسی کتابوں میں جہیز کی رسم کو ایک لعنت پڑھتے آئے ہیں لیکن اس کے باوجود معاشرے میں یہ رسم دن بدن کسی ناسور کی طرح پنپ رہی ہے۔ برصغیر میںبیٹی کی شادی میں والدین کی طرف سے دیا جانے والا سامان (مثلاً فرنیچ

سیرت پر صورت کو ہی ترجیح کیوں؟

مہمانوں کے آنے میں بہت کم وقت رہ گیا تھا اور وہ آج بھی ہمیشہ کی طرح دیوار پر لگے شیشے میں خود کو ہر زاویے سے دیکھ رہی تھی، وہ کبھی آئینے کے قریب جاتی ہے تو کبھی دور، کبھی بال کھولتی ہے تو کبھی باندھتی ہے کبھی مسکراتی ہے تو کبھی ایک دم سنجیدہ ہوجاتی ہے۔یہ سب کرتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی کہ وہ واقعی بہت عام سی ہے،کاش اللہ تعالی نے مجھے بھی تھوڑا خوبصورت بنایا ہوتا ! یہ سوچتے ہوئے نہ جانے کتنے آنسو اس کی آنکھوں سے نکل کر زمیں میں جذب ہوگئے تھے۔ آج بھی تیار ہوتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی کہ آخر کب تک !اماں کے چہرے پر آج بھی ہمیشہ کی طرح پریشانی اور غصے کے ملے جھلے تاثرات تھے، اماں کا بھی کیا قصور ہے۔ قصور تو میرا ہے ،اگر میں بھی خوبصورت ہوتی تو آج یہ سب نہ ہوتا! مہمانوں کے سامنے چائے کی ٹرے رکھتے ہی اس کے آگے اْن سوالات کی برسات کردی جاتی ہے جن کے جوابات وہ ہمیشہ سے ہی بڑی روانی کے سات

بچوں کو موٹاپے سے بچائیں

بعض مائیں بچوں کو صحت مند بنانے کے لیے ضرورت سے زیادہ اور وقت بے وقت کھلاتی رہتی ہیں۔ بڑے ہوکر کھانے پینے کی یہ روٹین بچوں میں موٹاپے کا سبب بھی بن جاتی ہیں۔ بچپن کا موٹا پا اکثر اوقات بیماریوں کا پیش خیمہ بھی بن جاتا ہے۔والدین کو چاہیے کہ بچپن سے ہی بچوں کی متوازن غذا پر تو جہ دیں۔چھوٹی عمر سے ہی انہیں پھل اور سبزیاں کھانے کا عادی بنائیں ،تا کہ ان چیزوں کو کھانیکی عادت بچپن سے ہی پختہ ہو جائے۔والدین کو پہلے ایک سال کے دوران بچے کے وزن کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک شیر خوار فربہ ارو صحت مند بچے میں فرق ہوتا ہے۔ اگر آپ کے بچے میں چار سال کی عمر میں موٹاپے کے اثرات ظاہر ہو ں اور اس کاوزن اس کے قد کی مناسبت سے زیادہ ہو توبہتر ہے کہ معالج سے رجوع کریں۔ بچے کی پسند کے پیش نظر اسے روغنی غذائیں یا جنک فوڈ کا عادی نہ بنائیں۔ اگر یہ عادت پختہ

جِلد کی صحت

غذائیت سے بھرپور خوراک صحت کے لیے اہم ہے کیونکہ غیر صحت بخش خوراک آپ کے میٹابولزم کو نقصان پہنچا کر موٹاپے، دل، جگر اور جِلد کے امراض میں مبتلا کرسکتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ماہرین غذائیت کو نشاستہ آور غذائوں کی اہمیت اور ان کے طبی فوائد کا ادراک ہو چکا ہے۔ معالجین مختلف عارضوں میں مبتلا مریضوں کوہیلتھ اینڈ فٹنس ڈائٹ چارٹ مہیا کرتے ہیں کہ کون سی غذائیں مفید ہیں اور کون سی مضر۔ فائدہ مند غذائیں ماہرین غذائیت کا اتفاق ہے کہ چہرے اور جِلد کی صحت و توانائی کے لیے جہاں موئسچرائزر اور فیس واش جیسی مصنوعات خواتین کے جِلد کی حفاظت کرتی ہیں، وہیں خوراک کے معاملے میں غفلت کسی بڑے عارضے میں جکڑ سکتی ہے۔ ذیل میں وہ غذائیں بتائی جارہی ہیں،جن کے اجزا جِلد کیلئے فائدہ مند ہیں۔ روغنی مچھلی:سامن، سر مئی اور خار ماہی مچھلی صحت مند جِلد کے لیے بہترین خوراک ہیں۔ یہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے ما

بچیاں قدرت کا انمول تحفہ

26سال قبل دنیا کے تقریباً 200 ممالک سے تعلق رکھنے والے 30ہزارکے قریب نمائندے خواتین کے حقوق کو انسانی حقوق میں شامل کرنے کا عزم لیے چوتھی عالمی خواتین کانفرنس میں شرکت کی غرض سے چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچے۔ کانفرنس کا اختتام (جو کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے تھا) بیجنگ کو بطور پلیٹ فارم استعمال کرنے پر ہوا، پھر اگلے چند برسوں کے دوران دنیا نے دیکھا کہ خواتین کے جنسی وتولیدی صحت کے حقوق سے لے کر مردوں کے مساوی تنخواہوں تک جیسی بے شمار تحریکیں زور پکڑتی چلی گئیں۔  آج ان تحریکوں کا دائرہ کار مزید وسیع ہوچکا ہے، جن میںکم عمری میں بچیوں کی شادی ، تعلیم میں عدم مساوات، صنفی تشدد،خود اعتمادی کی کمی جیسے مسائل بھی شامل ہیں۔ دنیا کے بہت سے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بچیوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں سے ایک بڑ مسئلہ کم عمری میں شادی ہے۔ دور جدید کا موازنہ م

کجرا محبت والا

اربازبچپن سے ہی پڑھائی میں بہت ذہین تھااور بچپن سے ہی میتھ میں اسکی خا ص دلچسپی دیکھنے کو ملتی تھی۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ B.com اول درجے میں پاس کر گیا۔پھر جلد ہی اسے بینک میں نوکری بھی مل گئی۔ ارباز پوری کی پوری تنخواہ اپنی اماں سائرہ خاتون کے ہاتھ میں رکھ دیتا تھا۔اماں اسے صرف جیب خرچ دیتی تھیں۔ارباز اب لون سیکشن میں آگیا تھا۔بقایا قرضہ اور نئے نئے قرضے کے معاملے وہی سنبھالتا تھا۔ایک دن ارباز اپنے کام میں بہت مصروف تھا کہ تبھی السلام علیکم ! کی نہا یت شیریں آواز کی باز گشت ہوئی۔ ارباز نے چونک کر دیکھا ،سامنے برقع پوش ایک خاتون کھڑی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارباز کے دیکھنے پر اس نے اپنے رخ روشن سے پردہ ہٹا دیا۔چہرے پر ہلکا سا میک اپ تھا۔کانوں میںڈائمنڈ کی چھوٹی سی بالی تھی۔گلے میں ڈایمنڈ کی نفیس سی چین چمک رہی تھی۔چہرہ ایک دم صاف و شفا ف بالکل چاند کا ٹکڑا تھا۔ اس لڑکی کو دیک

بے پردگی برائیوں کی جڑ

پردہ یا حجاب اذیت نہیں بلکہ ایک زینت ہے ۔پردے سے ایک عورت کی عزت وناموس محفوظ رہتی ہے۔ تاریخی بیانات اور مذہبی تعلیمات سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ ظہور ِاسلام سے پہلے بھی عورتوں میں حجاب کا رواج پایا جاتا تھا اور عورتیں پردے کی پابند تھیں مگر آج کل مغربی ذہانت نے بے پردگی کو عام کیا ہے ۔ہماری بہنیں بے پردگی سے اپنے مذہب سے بغاوت اور معاشرتی اقدار سے لا تعلقی کا اظہار کرتی ہیں۔ ہماری بہنیں مغربی تمدن کو اپنا کر بے پردگی سے اپنے کو آزاد سمجھتی ہیں مگر یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ ایک بے پردہ عورت کی مثال اس گڑیا کی سی ہے جو دکاندار اپنے دکان کو سجانے کیلئے اپنے دکان کے باہر رکھتا ہے اور اس گڈیا پر تمام قسم کی گندگی اور آلودگی لگ جاتی ہے۔بے حجابی سے بے حیائی عام ہورہی ہے، پردے میں رہ کر بھی ایک عورت آسمان کی بلندیوں کو چھو سکتی ہے ۔پردے سے ایک عورت کی قدر وقیمت بڑھ جاتی ہے اور وہ ہمیشہ

حمل اور زچگی کی طبی پیچیدگیاں

عورتوں میں حمل ٹھہرنے کا پتہ چلنا ایک لاثانی احساس ہے، باہرچلتے پھرتے ہوئے آپ کو یوں لگ رہا ہوتا ہے، جیسے آپ اپنے اندر ایک شاندار راز چھپائے جارہے ہوں۔جدید سماج  میں ایک طرف اگر سماجی علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کی کاوشوں نے عورتوں اور بچوں کی شرح اموات میں خاطر خواہ کمی لائی ہے تو دوسری طرف بہت سے معاشی اور معاشرتی مسائل نے ان شرح اموات کی شرح میں کمی کے بجائے زیادہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔گزشتہ پچیس برسوں کے دوران دنیا بھر میں زچگی کے دوران اور زچگی سے متعلق طبی پیچیدگیوں کے نتیجے میں خواتین میں شرح اموات تقریباً نصف رہ گئی ہے۔یہ ایک اچھی خبر ہے اور خواتین کیلئے حیات بخش بھی ہے۔ اقوام متحدہ کے مختلف اداروں اور عالمی بینک کی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق 1990ء اور 2015ء کے درمیان تک کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا جائے تو عالمی سطح پر زچگی کے باعث پیدا ہونے والی طبی پیچ

اللہ کے وجود پر کامل یقین ہی کامرانی

دورِ جدیدکے بڑے فتنوں میں سے ایک فتنہ ’’الحاد ‘‘یعنی خدا کے وجودسے انکار ہے۔آج کے سائنسی دور میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اللہ تعالیٰ کے وجود سے مکمل طور پر انکار کرتے ہیں اور اپنی دانست میں ہر بات کو عقلی دلایل پر پرکھ کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس دنیا کو تخلیق کرنے والا کوئی نہیںہے لیکن دیکھا جائے تو یہ کوئی نیا نظریہ نہیں بلکہ ہر دور میں ایسے منکر ین پیدا ہوتے رہے ہیں اور اْن کو مات دینے کے لئے اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندے بھی ہر زمانے میں سامنے آتے رہے ہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت محمد ؐنے فرمایا۔’’ہمیشہ ہی لوگ ایک دوسرے سے سوال کرتے رہیں گے ،حتیٰ کہ یہ کہا جائے گا کہ فلاں چیز کو اللہ نے پیدا کیا تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟‘‘ایسا ہی کچھ منظر (واقعہ) برسوں پہلے بغداد کے ایک شہر میں پیش آیا تھا ،جہاں ایک شخ

کچن کی دنیا

اجزاء: دودھ تین لیٹر،بادام پستہ1/2 کپ، چھوہار ے ایک کپ(چھوہاروں کو رات بھر بھگو کر آدھا لیٹر دودھ اور ایک چائے کا چمچ چینی میں اتنا پکا لیں کہ اچھی طرح گل جائیں) ، سویاں ایک کپ،چینی1/4کپ،الائچی پائوڈر ایک چائے کا چمچ،کنڈینسڈ ملک ایک ٹِن،زعفران ایک چْٹکی،گھی دو کھانے کے چمچ ترکیب: ایک پین میں گھی ڈال کر گرم کریں اور الائچی پائوڈڑ ڈال دیں۔جب الائچی کی خوشبو آنے لگے تو سویاں ڈال کر ہلکا سا بھو ن لیں اور چولہے سے اْتار لیں۔اب دوسر ے پین میں دودھ ڈال کر پکنے کے لیے رکھیں،جب دیکھیں کہ دودھ آدھا رہ گیا ہے تو فرائی کی ہوئی سویاں ڈال کر ایک منٹ پکائیں،پھر چینی،کنڈینسڈ ملک،آدھا بادام ،پستہ اور زعفران ڈال کر مکس کریں اور اتنا پکائیں کہ آمیزہ تھوڑا سا گاڑھا ہو جائے۔ڈش میں ڈال کر پکے ہوئے چھوہارے بھی ڈال دیں اور اوپر باقی کٹے ہوئے بادام،پستہ کے ساتھ سجا کر کھانے کے لیے پیش کریں۔چاہیں تو ٹھ

کورونا وائرس !

سطح پر پھوٹنے والی کووڈ-19نامی وبا کے باعث صرف ترقی پذیر ہی نہیں، ترقی یافتہ ممالک کو بھی صحت عامہ کے نئے چیلنجز کا سامنا ے۔چوں کہ کوروناوائرس کا فوری علاج یا ویکسین کی فوری طور پردریافت ممکن نہیں تھی ، اِسی لیے دنیا بھر میں اس وبا سے محفوظ رہنے کے لیے لاک ڈائون کی حکمتِ عملی متعارف کروائی گئی، جس کے نتیجے میں جہاں عوام النّاس میں اشیائے خورونوش کی زائد خریداری اور ذخیرہ اندوزی جیسے رجحانات دیکھنے میں آئے،وہیں سماجی فاصلے یاسماجی علیحدگی کے تصور نے عمومی طور پرکئی ذہنی الجھنوں کو بھی جنم دیا۔نیز، کورونا وائرس کے کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر کئی ممالک میں،تعلیمی اداروں کو بھی قبل از وقت بند کر دیا گیا، جس کی وجہ سے تعلیمی معمولات متاثر ہوئے۔ اس صورتِ حال میں والدین اپنی ذاتی ذہنی الجھنوں سے نبردآزما ہونے کے ساتھ اپنے بچّوں کے لیے اس وقت کو تعمیری بنانے کی کوششیں بھی کر رہے ہیں

کورونا کے ساتھ ڈپریشن کی وبا

 ہی کوئی اس بات سے اختلاف کرے کہ اس وقت ہم اپنے عہد کے سب سے مشکل دَورسے گزر رہے ہیں۔اس عالمی وبا کے ابتدائی دِنوں میںعالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ،ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسئیس نے کہا تھا،’’یہ محض عوامی صحت کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک ایسا بحران ہے، جو ہر شعبہ زندگی کو متاثر کرے گا۔‘‘ اور اب ہم سب ہی اس پیش گوئی کو سچ ہوتادیکھ رہے ہیں۔ دیگر عالمی وبائوںکی طرح یہ صْورتِ حال بھی شدید ذہنی تنائو اور الجھن کا باعث بن رہی ہے، خصوصاً بچوں،بوڑھوں اور اْن افرادکے لیے،جو پہلے ہی سے کسی مرض میں مبتلا ہیں۔اور اْن افراد کے لیے بھی جو صحتِ عامہ یا مفادِ عامہ کے شعبوں وغیرہ سے متعلق ہیں۔عموماً ایسے کسی بحران سے دوچار ہونے کی صْورت میں مختلف ردِّعمل سامنے آتے ہیں۔ مثلاً حد سے زیادہ ذہنی دبائو یا بے بسی ، خوف زدہ رہنا اورمزاج میں اْداسی یا غصّے کا عْنصر شامل ہوجانا وغ

گھر میں سبزیاں اُگانے کے فوائد

 کے دور میں لوگ اپنی صحت کے بارے میں زیادہ فکرمند نظرآتے ہیں اور اپنی صحت کا خیال پہلے سے زیادہ رکھنے لگے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں آرگینک یا خود سبزیاں اگانے کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اگر آرگینک غذائوں کی بات کی جائے تو اس بات کا یقین نہیں کیا جاسکتا کہ آپ کے قریبی سپراسٹور پر دستیاب آرگینک غذائیں (جیسا کہ ان سے متعلق دعویٰ کیا جارہا ہے) واقعی آرگینک ہیں بھی یا نہیں؟ ایسے میں ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ کم از کم اپنے استعمال کے لیے خود سبزیاں اگانے کا سلسلہ شروع کردیں، ان کے بارے میں آپ کو یقین ہوگا کہ انھیںاْگانے کے کسی بھی مرحلے میں آپ نے کیمیائی کھاد یا آلودہ پانی وغیرہ کا استعمال نہیں کیا۔ اپنا ہوم ورک پورا کریں سب سے پہلے یہ معلوم کریں کہ آپ اپنے ماحول اور جغرافیہ کی مناسبت سے کس قسم کی سبزیاں اگانا چاہتی ہیں۔ اس کے لیے آپ کو اپنی جگہ کو بھی مدنظر رکھن

تازہ ترین