تازہ ترین

بچیاں قدرت کا انمول تحفہ

26سال قبل دنیا کے تقریباً 200 ممالک سے تعلق رکھنے والے 30ہزارکے قریب نمائندے خواتین کے حقوق کو انسانی حقوق میں شامل کرنے کا عزم لیے چوتھی عالمی خواتین کانفرنس میں شرکت کی غرض سے چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچے۔ کانفرنس کا اختتام (جو کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے تھا) بیجنگ کو بطور پلیٹ فارم استعمال کرنے پر ہوا، پھر اگلے چند برسوں کے دوران دنیا نے دیکھا کہ خواتین کے جنسی وتولیدی صحت کے حقوق سے لے کر مردوں کے مساوی تنخواہوں تک جیسی بے شمار تحریکیں زور پکڑتی چلی گئیں۔  آج ان تحریکوں کا دائرہ کار مزید وسیع ہوچکا ہے، جن میںکم عمری میں بچیوں کی شادی ، تعلیم میں عدم مساوات، صنفی تشدد،خود اعتمادی کی کمی جیسے مسائل بھی شامل ہیں۔ دنیا کے بہت سے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بچیوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں سے ایک بڑ مسئلہ کم عمری میں شادی ہے۔ دور جدید کا موازنہ م

کجرا محبت والا

اربازبچپن سے ہی پڑھائی میں بہت ذہین تھااور بچپن سے ہی میتھ میں اسکی خا ص دلچسپی دیکھنے کو ملتی تھی۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ B.com اول درجے میں پاس کر گیا۔پھر جلد ہی اسے بینک میں نوکری بھی مل گئی۔ ارباز پوری کی پوری تنخواہ اپنی اماں سائرہ خاتون کے ہاتھ میں رکھ دیتا تھا۔اماں اسے صرف جیب خرچ دیتی تھیں۔ارباز اب لون سیکشن میں آگیا تھا۔بقایا قرضہ اور نئے نئے قرضے کے معاملے وہی سنبھالتا تھا۔ایک دن ارباز اپنے کام میں بہت مصروف تھا کہ تبھی السلام علیکم ! کی نہا یت شیریں آواز کی باز گشت ہوئی۔ ارباز نے چونک کر دیکھا ،سامنے برقع پوش ایک خاتون کھڑی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارباز کے دیکھنے پر اس نے اپنے رخ روشن سے پردہ ہٹا دیا۔چہرے پر ہلکا سا میک اپ تھا۔کانوں میںڈائمنڈ کی چھوٹی سی بالی تھی۔گلے میں ڈایمنڈ کی نفیس سی چین چمک رہی تھی۔چہرہ ایک دم صاف و شفا ف بالکل چاند کا ٹکڑا تھا۔ اس لڑکی کو دیک

بے پردگی برائیوں کی جڑ

پردہ یا حجاب اذیت نہیں بلکہ ایک زینت ہے ۔پردے سے ایک عورت کی عزت وناموس محفوظ رہتی ہے۔ تاریخی بیانات اور مذہبی تعلیمات سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ ظہور ِاسلام سے پہلے بھی عورتوں میں حجاب کا رواج پایا جاتا تھا اور عورتیں پردے کی پابند تھیں مگر آج کل مغربی ذہانت نے بے پردگی کو عام کیا ہے ۔ہماری بہنیں بے پردگی سے اپنے مذہب سے بغاوت اور معاشرتی اقدار سے لا تعلقی کا اظہار کرتی ہیں۔ ہماری بہنیں مغربی تمدن کو اپنا کر بے پردگی سے اپنے کو آزاد سمجھتی ہیں مگر یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ ایک بے پردہ عورت کی مثال اس گڑیا کی سی ہے جو دکاندار اپنے دکان کو سجانے کیلئے اپنے دکان کے باہر رکھتا ہے اور اس گڈیا پر تمام قسم کی گندگی اور آلودگی لگ جاتی ہے۔بے حجابی سے بے حیائی عام ہورہی ہے، پردے میں رہ کر بھی ایک عورت آسمان کی بلندیوں کو چھو سکتی ہے ۔پردے سے ایک عورت کی قدر وقیمت بڑھ جاتی ہے اور وہ ہمیشہ

تازہ ترین