تازہ ترین

یہ لاچار خستہ حال غریب عوام !

خطرناک اور مہلک کرونا وائرس کی دوسری لہر نے ہندوستان کو جھنجوڑ کررکھ دیا ہے۔ شاید ہی تاریخ میں ایسی کسی غیر محسوس طرح کی وباء نے اتنے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہوگی۔ ہر طرف یہی زور اور شور تھااور آج بھی ہے کہ سرکاری ہدایات پر عمل پیرا ہوں۔چوک چوراہوں اور گلی بازاروں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کا پہرہ دیکھ کریوں لگتاہے کہ بظاہر کوئی جانی دشمن حملہ آور ہونے والا ہے۔ اکیلے یا اجتماع، پیدل ہوں یاسوار، غریب ہو یا امیر، عورت ہویامرد سب کو ایک ہی دہائی تھی کہ ماسک پہنیں، سماجی دوری رکھیں،بار بار ہاتھ دھوئیں،سینیٹائیزر کا استعمال کریں۔ اب جس وبا کو روکنے کے لئے یہ سب کچھ کیاجارہا ہے، کیازمین پر وہ سب کچھ ڈھنگ سے ہورہاہے؟آخر کیوں لوگ ویکسینیشن اور اپنا کرونا ٹیسٹ کروانے سے بھاگ رہے ہیں؟ کیاانتظامیہ اور طبی محکمہ نے عوام کی جانکاری کے لئے کوئی جانکاری کیمپ لگاکرانہیں بیدار کیا؟ یاپھر طاقت ک

خواتین خود پر اعتماد کرنا سیکھیں

خواتین کا دائرہ عمل ان کے گھر کی چار دیواری تک ہی محدود نہیں۔آج کی عورت اور باہر دونوں جگہ کامیابی سے آگے بڑھتی نظر آتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کی عورت خود اعتماد ہے ،وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ گھر ہو یا باہر آگے بڑھنے کیلئے خود اعتمادی کی ضرورت ہے۔آج کی غیر یقینی اور ہنگامہ بھری زندگی میں کوئی بھی غیر متوقع صورتحال سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے۔ زندگی داؤ پیچ سے نبرد آزما ہونے کیلئے خود اعتمادی معاون و مددگار ثابت ہوتی ہے۔گھر میں رہنے والی عورتوں میں جب تک خود اعتمادی نہیں ہو گی تب تک اس گھر کے افراد خاص کر بچے خود کو بھی غیر محفوظ محسوس کریں گے۔کیونکہ بچوں کی تربیت میں ایک پُراعتماد ماں کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے اس کے علاوہ آج کل گھریلو زندگی کے ساتھ خواتین ملازمت بھی کر رہی ہیں۔اسے اپنے افسروں کے ساتھ پُراعتماد انداز میں کام کرنا اور اپنے شوہر،بچوں سے متعلق ذمہ داریاں خوش اسلوب

کہاں گئے وہ لوگ؟

ایک زمانہ وہ بھی تھا جب کوئی محترم شخص کچھ بولتا تھا تواُس کی بات میں ایسی تاثیرہوتی کہ سننے والا اس کی باتوں کو اپنی شخصیت میں اُتارنے کی بھر پور کوشش کرتا تھا، وہ محترم اشخاص چاہے کسی کے والدین ہوتے یا خاندان کا کوئی بزرگ۔اُستاد ہوتا ، مذہبی رہنما ہوتایا کوئی سیاسی شخصیت۔سُننے والا اس کی بات کو اپنے پلو میں باندھ کے رکھتااور بعد میں اس پر عمل بھی کرتا تھا۔ہمیں خود اپنا بچپن یاد ہے کہ جب ہمیں اسکول کا کوئی اُستاد کوئی بات بتاتے تھے ،کوئی نصیحت کرتے تھے یا کسی کام سے روکتے تھے تو ہم ہر ممکن اُن کی باتوں پر عمل کرتے تھے کیونکہ جب ہم نہ صرف استاد بلکہ اپنے خاندان کے بزرگوں پر نظر ڈالتے تو اساتذہ اور اُن کے گفتار و عمل میں کوئی تضاد نہیں ملتا تھا ،مگر آج کے حالات بالکل بدلے بدلے نظر آرہے ہیںبلکہ یوں کہیں کہ حالات بالکل بدل چکے ہیں اور ہر معاملہ اُلٹ پلٹ ہوچکا ہے۔جس کے نتیجے میں ہر سطح پ

جانئے اسلام کو ،جگایئے ایمان کو | حُسن ،سِنگار کے بغیر دل موہ لیتا ہے

چند سال قبل میں اپنے علاج و معالجے کی خاطر آل انڈیا بترا انسٹی چیوٹ کی طرف جارہی تھی ،میں نے حوض رانی گاندھی پارک کے متصل لوگوں کے جمگٹے میں اُردو زبان میں شائع کئے گئے چند پمفلٹ کی مُفت میں تقسیم کاری دیکھی۔میرا بھی جی للچایا اور آگے بڑھنے سے قبل آٹو ڈرائیور کو رُکنے کے لئے کہا ۔میری سیمابی کیفیت تاڑ کر چند بچے آگے آکر دوچار پمفلٹ (Pamflet)میرے ہاتھوں میں تھماکر مجھے رخصت کیا اور میں نے بھی ممنون نگاہوں سے اُن کا شکریہ ادا کرکے یہ مسودہ کھولا ۔اسلامِک ریسرچ سینٹر نئی دہلی سے اس کی دلپذیر اشاعت ہوگئی تھی ۔صفحہ ٔ قرطاس پر ’’جانیے اسلام کو ،جگایئے ایمان کو‘‘ان کا موضوع ِ خاص مشتہر کیا گیا تھا ۔اس عنوان کو دیکھ کر میں نے بھی دل ہی دل میں یہ ارادہ کرلیا کہ میں گھر آکر اس پمفلٹ کی ہزار دو ہزار کاپیاں بناکر قوم کی معصوم بچیوں کے نام وقف کردوں،تاکہ میں بھی کماحقہ

کورونا کی تیسری لہر اورمنکی بی وائرس | نادانوں کی کوششیں روایت پر تمام ہیں

ایک طرف کرونا وبا ء کی تیسری لہر کی آہٹ ہے تو دوسری طرف بےخوف عوام، جسے زندگی کی کشمکش سے اتنی فرصت ہی نہیں کہ وہ یہ سوچےکہ کرونا وبا ء ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ اس لئے کرونا پر و ٹو کول کی پیر وی کی جائے ۔نہ تو منہ پر ماسک نہ سماجی دوری کا احساس۔ حکومت کے بار بار اعلان کے باوجود اور سماجی تنظیموں اور مذہبی رہنماؤں کی لاکھ کوشش کے باوجود زیادہ تر آبادی اپنے حال میں مگن نظر آتی ہے۔ شہر وں اور بازاروں کا حال دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ جیسے وبا ئی مرض اب ختم ہو گیا ہے اور لوگ دوسری لہر کے خوفناک مناظرتک کو بھول گئے، جب موت سر پر ناچتی نظر آرہی تھی اور ہر شخص موت کے سائے میں جی رہا تھا ۔یہ ہے ہندوستان کی اصل تصویر ۔ حقیقت یہ ہے کہ جس سماج میں معاشی تنگی رہے گی اور تعلیمی بیداری نہیں ہوپائے گی ،وہاں کی صورت حال کچھ ایسی ہی ہوگی ۔کیونکہ بھوکے ننگے لوگوں کو اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی ہے کہ کو

خُودکشی ہمارے مسائل کا واحد حل ہے؟ | ایسے کام نہ کروکہ رُسوائی لازم ہوجائے

 یہ زندگی اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا عظیم ترین تحفہ ہے جس کا شکر ہم جتنی بار ادا کریں کم ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا پھر اس دنیائے فانی میں لایا۔ ہر انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا۔ اب کسی کو کم دولت دی تو کسی کو زیادہ ، کسی کو زیادہ خوبصورتی بخشی تو کسی کو کم لیکن ہر چیزمیں کچھ خامیاں میں رکھیںاوربہت ساری خوبیاں بھی۔ کسی میں ایک خوبی رکھی تو کسی میں دوسری۔ حالانکہ یہ دنیا بالکل فانی ہے اور انسان کی دنیاوی زندگی عارضی ہےتاہم اس زندگی کی حفاظت کرنا اسکو صحیح طریقے سے گزارنا ہمارا فرض ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پیارا وہی ہے، جو اس کےبتائے ہوئے طریقے پر چلے اور اُس کی آزمائشوں پر صبر سے کام لے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتے ہیں، اس لیے انکو اپنی آزمائشوں سے بھی گزارتا ہے۔ آزمائشوں کا سلسلہ آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا علیہ السلام سے چلا آ رہا ہے

بیٹیاں پھولوں کی مانند ہیں

آج سے تقریباًچودہ سو سال پہلے زمانہ جاہلیت میں عرب قبائل میں بعض ایسے لوگ بھی تھے جو لڑکیوں کی پیدائش کو عار سمجھتے تھے اور اِن لڑکیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے ، ایسی انسانیت سوز حرکت کرتے وقت وہ کسی طرح کا خوف نہیں رکھتے تھے ، اُنہیں اپنی اِس بے رحیمانہ قدم پر کوئی احساس، تردد و افسوس ہوتا تھا اور نہ ترس آتا تھا ۔ اُنہیں ہر صورت میں لڑکی کی پیدائش باعثِ عار نظر آتی تھی ۔ اُسے انسانی وجود کا کمزور، حقیر اور ناکارہ حصّہ سمجھ کر ذِلت و رسوائی محسوس کی جاتی تھی ۔اس سب وحشیانہ تشّدد کے پیچھے جاہلیت چھپی تھی جس کے سبب یہ سب کار فرما دیا جاتا تھا ۔ زمانہ جاہلیت میں عورت کا کوئی مقام و مرتبہ نہیں تھا، عیسائیت اور یہودیت کے مذہب میں بھی اس سے بڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا تھا ۔ اگر برصغیر ہند کی بات کی جائے تو اس کو شوہر کے موت واقع ہونے پر زندہ جلایا (ستی ہونا) جاتا تھا - دینِ اسلام نے عورت ک

محبت ایک خوب صورت آفاقی جذبہ

محبت دنیا کا خوب صورت ترین جذبہ ہے، جس کو ہر دور کے معلم و مفکر،دین دارو دنیا دار ،ادنیٰ و اعلیٰ ،شیخ و سالک ،صوفی و قلندر، شاعرو مصوراورہر دور کے ہر مکتبہ فکر نے اپنے اپنے انداز میں بیان کیا ہے، لیکن یہ وہ آفاقی جذبہ ہے، اسے جتنا بھی بیان کیا جائے اس کی تشنگی باقی رہتی ہے۔میں سمجھتی ہوں کہ عزت اور محبت کا بہت گہرا تعلق ہے ۔جس محبت میں عزت نہیں وہ کچھ بھی ہو سکتی ہےلیکن محبت نہیں ۔کائنات میں جس نے جس سے محبت کی ہے، اسے عزت دی ہے۔ گفتگو کو طوالت سے بچانے کے لیے صرف ایک مثال کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان سے محبت کی، اسے اشرف المخلوقات بنا دیا،بنی آدم کو عزت بخشی اور جس ہستی کو اپنا محبوب بنایا، اُنہیں کائنات میں سب سے زیادہ عزت سے نوازا۔ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام عالمین کے لئے رحمت بنا دیا، عزت والا بنا دیا۔ آپؐ سے پہلے بھی جو انبیاء تشریف لائے، اُن سب میں آپؐ کو بلند مقا

دین میں عورت کا اعلیٰ مرتبہ ہے

اسلام میں عورت کا مقام ومرتبہ ہے لیکن یہ مظلوم کیوں؟اسلام دین رحمت وامن ہے اس عظیم دین نےہر حق والے کو اپنا حق دیا۔ اسی طرح اس نے عورت کو اپنے تمام حقوق واضح کئے اور اس مبارک دین میں عورت کا عظیم اور اعلی مقام ومرتبہ ہے۔ اسلام کی مقدس تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ ایک خاتون ہر لحاظ س معزز اور محترم ہے چاہے وہ ماں ہو، بہن ہو، بیٹی ہو یا کسی کی بیوی ہو۔ اسلام نے ماں کے ساتھ اچھا اوربہترین سلوک اور برتاؤ کو واجب قرار دیا اور ماں کو ایک عظیم ہستی اور بچے کی بے مثال محسنہ قرار دیا اور بار بار اسکے ساتھ احسان اور اکرام حکم فرمایا، اسلام واحد دین ہے جس نے ماں کے قدموں تلے جنت قرار دیا یعنی ماں کی خدمت اور اطاعت کو باعث داخلہ جنت قرار دیا اتنا ہی نہیںبلکہ ماں کو تین مرتبہ انسانیت میں سب سے زیادہ حسن سلوک کا حقدار قرار دیا۔ اسلام دین رحمت نے بیٹی اور بہن کی پرورش، تعلیم وتربیت ، ادب وعزت ، انکی ش

جنسی نشہ ایک نفسیاتی عارضہ!

میرا ؔ،ویناؔ اور منی شنیؔ کی مشتبہ ویڈیو لیکس ہو نے تک ہی بات رہتی مگر ایسا ممکن نہیں تھا کیونکہ جب ایسی بات چل نکلتی ہے تو اس کے راستے تو بہت ہو تے ہیں مگر منزل کوئی نہیں ہو تی ہے ۔ پاکستان میں ویڈیو لیکس کا راستہ اہم سرکاری عہدے داروں ، ججوں اور صحافیوں کے گھر سے بھی گزرا اور آج کل ویڈیو لیکس کا ہر راستہ مولوی حضرات سے گزر رہا ہے ۔ ہر دوسرے دن ایک انتہائی متلی کی کیفیت میں مبتلا کر نے والی کوئی غلیظ سی ویڈیو جگہ جگہ منہ مارتی نظر آتی ہے۔ سوشل میڈیا کو استعمال کر نے والا کوئی ذی روح یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ اب تک اس کا فون اس تیزابی بارش سے پاک رہا ہو ۔ نہ دیکھنا یا فوراً ہی ڈیلیٹ کر دینا اپنی اپنی یہ آپشنز بہر حال ہر ایک کے پاس موجود ہیں ۔ ایسی تیزابی بارش کا ایک آدھ قطرہ مجھ تک پہنچا تو کھولتے ہی بند کر دینے کے باوجود متلی کی کیفیت نے مجھے فوراہی دبوچ لیا ۔ اس غلیظ عمل پر رون

تم کیا ہو، تم جانو؟

پچھلے دو تین ہفتوں سےرام مندرپھر سے سرخیوں میں ہے، اس بار سرخی کی وجہ عام دنوں سے بالکل مختلف ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ رام مندر کا مقدر تنازعہ بن کر رہ گیا ہے ؟ بہرحال !آج کا موضوع رام مندر سے بالواسطہ نہیں بلکہ بلا واسطہ تنازعہ کی طرف آتی ہوں رام جنم بھومی کے آس پاس ایک زمین کی خریدو فروخت کا معاملہ سیاسی خیمے اور میذیا گلیاروں میں ہنگامہ برپا کرنے کاباعث بنا ہے ۔ اس ہنگامے کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سماج وادی پارٹی کے راہنما اور عام آدمی پارٹی کے راہنما سنجے سنگھ نے انکشاف کیا، اور وہ  اس زمین کے حاصل شدہ دستاویز لے کر میڈیا کے سامنے روبرو ہوئے کہ 2 کروڑ کی زمین صرف پانچ منٹ میں 16 کروڑ پچاس لاکھ روپئے میں کس طرح  فروخت کی گئی؟آگے کی کہانی آپ سب کو معلوم ہے - یہ خبر ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ کیونکہ رام کا نام لے کر اقتدار حاصل کرنے والوں کی کارکردگی ' ہم ہی

عصمت و نامو س کی حفاظت

زمانہ جاہلیت میں عورت پوری دنیا میں اور عرب معاشرہ میں کس آزمائش سے گزر رہی تھی، بر صغیر ہند میں عورتوں کی کیا حالت تھی، مذہب عیسائیت میں عورت کے حقوق کیا تھے ، یہودیت میں عورت کا کیا حال تھا؟ اس کی تفصیل نیٹ پر اور کتابوں میں موجود ہے، اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے آکر عورت کو بے وقعتی و ناقدری اور زبوں حالی وکسمپرسی ، ذلت ورسوائی کی پستیوں سے اٹھایا اور وہ عزت و تکریم اور مقام و مرتبہ دیا جس کی مثال نہ کسی اور مذہب میں اور نہ ہی کسی قانون میں مل سکتی ہے۔اس موضوع پر پوری ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے، ہم فی الحال اسکا تذکرہ نہیں کرتے، اسکی چند مثالیں پیش کرتے ہیں کہ اسلام نے عورتوں کو جو آزادی اس سے انہوں نے کیسے فائدہ اٹھایا: اسلام کے زیر سایہ اور’’حیا اور پردے کے ساتھ‘‘ صنف نازک نے ہر وہ کارنامہ انجام دیا جو صرف اسی کا حصہ تھا۔ اسلام نے عورت کو میدان جہاد میں

مــاں۔ زمیں پہ خدا کی محبت کا روپ

ماں کے بارے میں لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے برابر ہے۔ایک ایسا سمندر جسکی اتھاہ گہرائیوں کا اندازہ بھی کرنا انسانی عقل سے بالاتر ہے۔ہر رشتے کی محبت کو الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے مگر ماں کی محبت ناقابلِ بیاں ہے۔ماں کہنے کو تو تین حروف کا مجموعہ ہے لیکن اپنے اندر کل کائنات سموئے ہوئے ہے۔ماں کی عظمت اور بڑائی کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا کہ خداوندکریم جب انسان سے اپنی محبت کا دعوی کرتا ہے تو اس کیلئے ماں کو مثال بناتا ہے۔ماں وہ ہستی ہے جسکی پیشانی پہ نور،آنکھوں میں ٹھنڈک، الفاظ میں محبت ،آغوش میں دنیا بھر کا سکون ،ہاتھوں میں شفقت اورپیروں تلے جنت ہے۔ماں وہ ہے جسکو اک نظر پیار سے دیکھ لینے سے ہی ایک حج کا ثواب مل جاتا ہے۔ "جب میں دنیا کے ہنگاموں سے تھک جاتی ہوں ،اپنے اندر کے شور سے ڈر جاتی ہوں تو پھر میں اللہ کے آگے جھک جاتی ہوںیا پھر اپنی ماں کی گود میں سر رکھ

اولاد کی تربیت میں والدین کا کردار

الله کی بے شمار نعمتوں سے ایک بڑی نعمت اولاد ہے۔سننے میں یہ معمولی سا لفظ لگتا ہے مگر اس لفظ اور نعمت کی قدر ان سے معلوم کریں جو اس نعمت سے محروم ہے۔جس طرح باقی نعمتوں کے متعلق آخرت کے دن الله تعالی سوال کرے گا،اسی طرح اولاد کے متعلق بھی الله تعالی پوچھے گا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آگاہ ہو جاؤ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ پس امام ( امیرالمؤمنین ) لوگوں پر نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔ مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا اور عورت اپنے شوہر کے گھر والوں اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہو گا اور کسی شخص کا غلام اپنے سردار کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کے بارے میں سوال

عورت کی تکریم معدوم کیوں؟

قبل از اسلام عورت کی کوئی عزت و تکریم نہ تھی۔نبی اکرم ؐ نے اس معاشرے میں عورت کو عزت سے نوازجو معاشرہ ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گر چکا تھا۔جس معاشرے میں عورت کی خریدو فروخت کی جاتی تھی اُس معاشرے میںعورت کا پیدا ہونا ہی گناہ تصور کیا جاتا تھا،بیٹی کے پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جاتا تھامگردرود و سلام ہو نبی رحمتؐ پر، جس نے عورت کو اعلیٰ رُتبہ دیا وہ مقام دیا جو کسی دین نے ،کسی مذہب نے نہ دیا۔عورت کو جائیداد میں وارث مقرر کیا ،عورتوں کے حقوق متعین کیے۔جس معاشرے میں عورت کو ایک غلام ایک باندی کی حیثیت دی جاتی ،اُس بے حس معاشرے میں عورت کو عزت کا مقام دیا۔نکاح مقرر کیا عورتوں پر تشدد سے روکا گیا۔بیٹی کی پیدائش پر شرمندگی کے بجائے رحمت کے لقب سے نوازا گیا۔نبی پاکؐ نے اپنے آخری خطبہ میں فرمایا: عورتوں پر ظلم نہ کرو، عورتوں کی حقوق بتائے گئے ،عورت کو شرمندگی کے بجائے پاکیزگی سے تشبیہ دی گئ

ماں باپ کا رشتہ عظیم نعمتِ خداوندی

زندگی سے اگر رشتے نکل جائیں تو ہم کس قدر نامکمل اور ادھورے ہو جائیں اسی طرح ان رشتوں سے جڑے لفظ زندگی سے نکل جائیں تو زندگی کتنی بدمزہ کھوکھلی اور سنسان سی ہو جائے۔ کیونکہ لفظوں کا ذائقہ بھی ہوتا ہے اور احساس بھی۔ کچھ لفظ میٹھے ہوتے ہیں۔ کچھ کڑوے اور کچھ پُرتاثیر … کچھ الفاظ ایسے بھی ہوتے ہیں جو آپ کو اپنے حصار میں لے لیتے ہیں۔ ایسے ہی پرتاثیر لفظوں میں ایک لفظ ہے ’’ماں’’ جسے سنتے ہی ہم محبت کے حصار میں بندھ جاتے ہیں… اور ایک لفظ ہے ’’باپ‘‘ اعتبار، اعتماد اور تحفظ کے حصار میں لے لینے والا جاندار لفظ۔ ابا جان، والد صاحب ،بابا جانی، ابو جان، ڈیڈی جان کیسے خوبصورت لفظ ہیں کہ خودبخود ہماری آنکھوں کے سامنے ایک تصویر سی بن جاتی ہے۔ باپ کی رہنمائی، شفقت اور محبت کےبغیر ہماری ذات تو ذرۂ بے نشان کی مانند ہوتی ہے۔ باپ کا رشتہ ع

پردہ عورت کا حُسن

لفظ حجاب(عربی)اور لفظ پردہ(فارسی) زبان سے تعلق رکھتے ہیں اور تقریباََ ہم معنی ہیں ان جیسے کئی اور الفاظ بھی مثلاََبرقع ،گھونگٹ،پردہ،آڑ،حیا،شرم ،نقاب اور حجاب لغت میں ملتے ہیں۔خواتین کے لئے لفظ پردہ غیرمحرم مردوں سے اپنے جسم کو چھپانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تا کہ وہ مردشیطانی اوہام سے محفوظ رہیں اور ان عورتوں کی عزت و عصمت محفوظ رہے۔حجاب ایک وسیع المعنٰی لفظ ہے اور اس کی ضِد کشف ہے۔لفظ حجاب قرآنِ کریم میں سات بار استعمال ہوا اور (سورہ احزاب،59)کا مفہوم ہے کہ اے نبیؐ!اپنی بیویوں ،صاحب زادی اور مسلمان عورتوں سے فرما دو کہ اپنی چادر کا ایک حصہ اپنے چہروں پر ڈالے رہیں۔یہ آیت اس بات پر دلیل ہے کہ عورت کے لئے اپنے سر اور چہرہ کو چادر میں چھپانا لازم ہے۔ آج کے جدید دور میں پردہ کی بہت سی اقسام مثلاََ برقع، اسکارف، موزے ،دستانے اور دیگر لباس پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ ان تمام صور

حوا کی بیٹیوں کے ساتھ بُرا سلوک؟

انسان بھی عجیب ہے، اپنے غلط فیصلوں اوررویوں پر فطرت کا ٹیگ لگاتا ہے اور خودبری الزمہ ہوجاتا ہے کہ اس نے جو کچھ بھی کیا وہ تو عین فطرت ہے اور اس میں اس کا کوئی قصور نہیں۔ اپنے غلط فیصلوں کو خدا کی مرضی کہہ دیا جاتا ہے۔ لیکن ایک لمحے کے لیے خدا کی بنائی ہوئی اس خوب صورت کائنات پر نظر دوڑائی جائے تو اس خدا کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے جو انسان سے ایک ماں کے مقابلے میں بھی ستر گنا زیادہ محبت کرتا ہے اور یہ حقیقت روشن ہوکر سامنے آتی ہے کہ اتنی خوب صورت کائنات کا بنانے والا بدصورت فطرت کا خالق کیسے ہوسکتا ہے؟ فطرت کا ٹیگ لگانے کے جس عمل کی میں نے بات کی اس کا سب سے زیادہ شکار ہمارے معاشرے میں عورت ہوتی ہے۔ عورت جسے دین اسلام نے عزت دی، حقوق دیے، وہ اپنوں سے ہی آج حوا کی بیٹی کی عزت کو پیروں تلے روندا جا رہا ہے۔ کبھی اس کے دوپٹے کو تار تار کیا جاتا ہے۔ تو کبھی اس کی روح کو معاشرے کے طعنے چ

معذورہیں مگر بے بس نہیں یہ لڑکیاں

میں آج بھی اس اذیت کوجب یاد کرتی ہوں تو میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ہر بیٹی یہ جانتی ہے کہ ایک دن ماں باپ کا گھر چھوڑ کر ہمیں سسرال جانا ہے لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ وہاں اس کے ساتھ کیسا سلوک ہوگا۔مگر پھر بھی ہر بیٹی کی یہ خواہش ہوتی ہے اور وہ یہ خواب دیکھتی ہے کہ اس کا سسرال بالکل ویسا ہو جیسے اس کے ماں باپ کا گھر ہوتا ہے۔ جموں و کشمیر کے ضلع راجوری سے تعلق رکھنے والی تعظیم اختر کہتی ہیں کہ میں بہت غریب گھر کی بیٹی ہوں۔ اس لیے جیسے ہی میرے گھر ایک رشتہ آیا میرے ماں باپ نے ہاں کہہ دیا۔ میری شادی کے فوراً بعد میرے سسرال والے مجھ سے برا سلوک کرنے لگے لیکن میں نے اپنے ماں باپ کو نہیں بتایا کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ میری وجہ سے پریشان ہوں۔ وقت گزرتا گیا میں ظلم سہتی گئی، مجھے لگ رہا تھاکہ وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن حالات بدتر ہوتے گئے۔جب میں ماں بننے والی تھی تو زچگی کے

میں خاتون ہوں

وکشمیر کے ضلع پونچھ میں گزشتہ دنوں ضلع ترقیاتی کمشنر نے عوام کو ایک موبائل ایپ متعارف کروایا۔ جس کے ذریعہ ہر گاوں سے کوئی بھی پانی کے متعلق شکایت حکام تک پہنچاسکتاہے۔ شکایات تو اس موبائل ایپ کے ذریعہ پہنچ پائیں گی مگر پانی کیسے عوام تک رسائی حاصل کرے گا؟ پہلے تو اس محکمہ کا نام محکمہ صحت عامہ تھا لیکن اب یہ نام تبدیل کرکے جل شکتی کے روپ میں سامنے آیاہے۔ ایک ایسا علاقہ جہاں کروڑوں کی اسکیمیں سرکار کی جانب سے منظور ہوکر زمینی سطح پر صرف چمک رہی ہیں۔ گھر گھر کے ساتھ نل ہے پر جل نہیں! ہر گھر اور ہر جگہ پائیپوں کے جھال بچھے ہوئے ہیں۔جہاں دیکھاوہیں پائپیں نظر آئیں لیکن پائپپیں پیاس بھجانے کا کام نہیں کرتیں۔پائیپیں خود پیاس سے پھٹی جارہی ہیں۔ پانی کے خالی ٹینک دیکھ کر پانی کی ضرورت کم نہیں ہوتی جس کا ثبوت پونچھ کی تینوں تحصیلوں منڈی، حویلی اور سرنکوٹ کی سرحد پر پڑنے والا گاؤں سیڑھی چوہانہ ہ

تازہ ترین