تازہ ترین

صنف نازک پہ اپنی مغلوبیت کیوں ؟ | گھریلو تشدد کے دلدوز واقعات لمحۂ فکریہ

بنت ِ حوا کو گھریلو تشدد کا نشانہ بنا کر موت کی نیند سلانے کے واقعات آئے روز بڑھتے چلے جا رہے ہیں جو سماج کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ایسی متاثرہ صنف نازک کی اس خاموش آواز کو کوئی نہیں سنتا۔ محکمہ پولیس و عدلیہ میں کوئی ان کا حامی نہیں، سماج میں ان کا کوئی ہمدرد نہیں ۔درد دل کے واسطے ان کا کوئی یار و مددگار نہیں۔محکمہ طِب میں ان کے لیے مفت علاج میسر نہیں ۔ آئین ہند کے تحت سال 1983 میں دفعہ 498-A کو اسی لیے ضم کیا گیا کہ اس بے بس و لاچار بیٹی کو سْسرال والوں کی طرف سے ہو رہے گھریلو تشدد اور دیگر ظلم و جبر کے قہر سے بچایا جائے جس میں تین سال تک کی جیل اور جرمانہ بھی مشخص رکھا گیا ہے۔ یہ تشدد اس عورت کے ساتھ چاہیے جسمانی، ذہنی یا طبعی طور پر ہو، اْس سے تنگ و طلب کر کے شوہر و دیگر رشتہ داروں کی طرف سے غیر قانونی طور پر مال و دولت جیسی پیدا شدہ ضرورت پوری کرانا مطلوب ہو،جہیز کے نام پر مال

! مخلوط تعلیمی نظام سے طالبات کی تعلیم پر مضر اـثرات

مرکزی حکومت کی جانب سے بیٹیوں کی بہتر تعلیم کے لئے ’’ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ ‘‘سکیم شروع کی گئی تھی۔ اس سے ملک کی بیٹیوں کو محفوظ تعلیمی نظام کی راہ ہمور ہوئے اور ایک روشن کرن نظر آئی تھی۔ طالبات یہ تصور کرنے لگی تھیں کہ اب ماضی کے ناقص تعلیمی نظام سے چھٹکارا ملے گا اور نئے انداز میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔یوں تو جہاں تعلیم مردوں کے لئے ضـروری ہے وہیں خواتین کو بھی تعلیم حاصل کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ جمہوری ملک ہندوستان کا آئین بھی مرد و و خواتین کو حصول تعلیم کے برابر حقوق فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ خواتین مختلف شعباجات میں اپنی قابلیت کا لوہا منواتی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی خواتین کو آج کے اس ترقی یافتہ ودر میں گونا گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔  ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں بھی خواتین اس معیار کی تعلیم حاصل نہیں کرپاتی ہیں

لاک ڈائون اور رمضان کی آمد

آپ تمام اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ پچھلے کچھ دنوں سے ہم سب لاک ڈائون کا سامنا کر رہے ہیں اور یہ بھی جانتے ہے کہ ہماری ریاست مہاراشٹر میں کورونا وائرس کے بہت زیادہ مریض پائے جانے کی وجہ سے لاک ڈائون کیا گیا ہے۔رمضان ہم پر آچکا ہے ،ہمیں اس کا بہت شان دار طریقے سے استقبال کرنا ہے۔ اب چونکہ لاک ڈائون میں رمضان کا مہینہ گزرے گا تو ہمیں ہر سال سے ہٹ کر ایک نئے انداز میں اس کا استقبال کرنا ہے۔افسوس اس بات کا ہے کہ لاک ڈائون کی وجہ سے اجتماعی طور پر کوئی کام نہیں کیا جاسکتا ہے ہمیں ہر کام انفرادی طور پر ہی کرنا ہوگا۔ جیسے کہ استقبال رمضان کا پروگرام ، افطار پارٹیاں ، طاق راتوں کا اہتمام ، سماعت قرآن وغیرہ پروگرام منعقد نہیں کر سکتے ہیں لیکن پھر بھی ہمیں افسوس نہیں کرنا ہے۔ ایک نئے انداز میں تمام کام انجام دے سکتے ہیں۔ کئی لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ لاک ڈائون میں ہم رمضا