زرین دورکی خواتین کا بے مثال کردار

�حضرت اُم ایمن رضی اللہ عنہا: آپ رضی اللہ عنہا کا اصل نام برؔکہ تھا۔باپ کا نام ثعلبہ بن عمرو تھا۔بعض روایات میں ہے کہ آپ کا وطن مالوف حبشہ تھا۔کنیت اُم ایمن رضی اللہ عنہا مشہور تھی۔ حضرت اُم ایمن رضی اللہ عنہاآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد حضرت عبداللہ کی کنیز تھیں اور بچپن سے ان کے پاس ہی رہتی تھیں۔ جب حضرت عبداللہ انتقال کر گئے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہنے لگیں۔ جب وہ بھی فوت ہو گئیں تو حضرت اُم ایمن رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہنے لگیں۔پہلا نکاح عبید بن زید سے ہوامگر جب وہ انتقال کر گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کر دیا ۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ شادی ہوتے ہی آپ نے بھی اسلام قبول کر لیا۔حضرت اُم ایمن

عورت کا میدانِ عمل اس کا گھر

        عورت کا میدان کار اس کا گھر ہے البتہ اسلام کے نزدیک عورت اور مرد کے دائرہ کار جدا جدا ہے۔ عورت کا میدان عمل اس کا گھر ہے اور گھر سے باہر کی دنیا مرد کی آماجگاہ ہے۔ چنانچہ رسولِ اکرم ؐکی ازواجِ مطہرات کو قرآن نے ہدایت کی اور یہی ہدایت ان تمام عورتوں کے لئے ہے جو خدا اور رسولؐ پر ایمان رکھتی ہیں۔ ’’اور اپنے گھروں میں سکون سے رہو‘‘ اسلام نے دو وجوہ سے عورت اور مرد کے دائرہ کار ایک دوسرے سے الگ رکھے ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اس سے دونوں کی عفت و عصمت کی حفاظت ہوتی ہے۔ جب بھی دونوں ایک میدان میں کام کریں گے با عفت زندگی گزارنا ان کے لیے دشوار ہو گا۔  موجودہ دور میں جہاں کہیں اختلاط مرد و زن کی اجازت دی گئی وہاں اس کا بڑا بھیانک تجربہ ہوا ہے۔ عفت و عصمت اجڑ گئی اوربے راہ روی وبائے عام کی طرح پھیل گئی ہے۔ اب اس کی اصلاح بھی اتنی دشوار بن

تازہ ترین