تازہ ترین

اے بنت حوا تیری زنیت ہے حیاء

دین اسلام کا بنیادی وصف" حیا" ہے ۔ہمارے دین میں تصور حیا کو اس قدر اہمیت حاصل ہے کہ اسے ایمان کے برابر قرار دیا گیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ" جس میں "حیا" نہیں،اس میں ایمان نہیں‘‘۔ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا ہے" حیا جس چیز میں بھی شامل ہو ،اسے زینت دیتی ہے "۔ اس کے ساتھ ہی حیا کو وسیع تصور کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا" حیا یہ ہے کہ جو کچھ تیرے دماغ میں گزرے،اس کے بارے میں تو اپنے رب سے حیا کر اور جو کچھ تیرے پیٹ میں جائے، اس کے بارے میں اپنے رب سے حیا کر"۔ یہ حدیث اس تصور کو واضح کرتی ہے کہ مومن حیا کا پیکر ہے اور اس کی حیا کا سب سے پہلا حق دار اس کا خالق ہے کہ وہ اپنی کل زندگی میں اسے اپنا نگران سمجھے اور اسے حیا کرے کہ اس کی زندگی کا کوئی دائرہ ایسے اعمال پر مشتمل نہ ہو، جو اس کے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہوں۔ 

گھر پر وائٹننگ فیشل کریں

خوبصورت،بے داغ اور چمکدار جِلد ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے لیکن یہ خوابوں جیسی جِلدموسم کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لئے اضافی توجہ اور اضافی وقت چاہتی ہے۔ دن بھر کی دھول مٹی اور دیگر کثافتیں جِلد پر گندگی کی ایک تہہ جما دیتی ہیں۔ اگر اس تہہ کو وقتاًفوقتاً صاف نہ کیا جائے تو چہرہ کئی جِلدی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے جیسا کہ داغ دھبے،کیل مہاسے،رنگت کا سیاہ ہو نا وغیرہ۔ ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لییبیوٹی پارلر کا رْخ کیا جاتا ہے تو وہاں چہرے کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لیے درجنوں مہنگے فیشل دستیاب ہوتے ہیں۔ ان فیشل کو کروانے کے لئے نہ صرف آپ کی جیب کا بھاری ہونا ضروری ہے بلکہ اس کے لیے اچھا خاصا وقت بھی درکار ہوتا ہے، خاص طور پر اس وقت ،جب آپ کی فیشل ایکسپرٹ کسی دوسرے کلائنٹ کے ساتھ مصروف ہو اور آپ کو اس کا انتظار کرنا پڑے۔ اگر آپ یہ سب افورڈ نہیں کرسکتیں توگھر پر ہی اسکن ٹون کی مناسبت سے کس

عورت مرد کی مستقل اور وفادار ساتھی

 ہمارے معاشرے میں ایک تنہا عورت کا کردار ہمیشہ مشکوک ہی سمجھا جاتا ہے، یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اسے تنہا کرنے والے بھی ہم ہی لوگ ہیں،پھراگر شادی شدہ عورت کسی مرد سے کوئی بات کر لے تو اس کے دل میں اس خاتون کے لئے خراب خیال پیدا ہو جاتے ہیں۔یہ ہمارے معاشرے کا غلاظتوں بھرا رویہ اور سوچ ہے۔کیا صرف رشتے جسم کے ہوتے ہیں، روح سے محبت نہیں ہو سکتی ہے۔ہو سکتا ہے کہ وہ اس میں اپنے والد بھائی،یا کسی اور رشتے داروں کو تلاش کر رہی ہو، اس نا سمجھ کو تو مردوں کی گندی سوچ کا پتہ ہی نہیں ہوتا ہے،اور ایسے غلیظ مرد کچھ دیر کی ہوس کی تسلی کیلئے عورتوں کو گناہ کے راستے پر ڈالنے کے لئے طرح طرح کا حربہ استعمال کرتے ہیں،اور باقی کام فلمی نغمے اور رومانٹک واقعات کرتے ہیں۔عورت ایک لتا کی طرح ہوتی ہے، اسے ایک سہارے کی ضرورت ہوتی ہے،وہ بھیڑ کی شکل میں چھپے ہوئے بھیڑئے کو نہیں پہچان پاتی، اور اس گناہ کے لئے سارا