تازہ ترین

بیٹیاں اللہ تعالیٰ کی رحمت

بیٹیاں سب کو مقدر میں کہاں ہوتی ہیں گھر جو خدا کو پسند ہو وہاں ہوتی ہیں اسلام میں بیٹیوں کو بہت اہمیت حاصل ہے۔بیٹیاںجہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہیں وہیں والدین کیلئے جہنم سے نجات کا باعث اور جنت کے حصول کا ذریعہ بھی ہوتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت و بادشاہت صرف اللہ ہی کیلئے ہے وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے گو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے جس کیلئے جو مناسب سمجھتا ہے وہ اس کو عطا فرما دیتا ہے(سورۃ شوریٰ) ۔اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ایسا نظام قائم کیا ہے کہ مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔نہ ہی مرد عورت کے بغیر مکمل ہے اور نہ ہی عورت مرد کے بغیر کامل ہے۔ یعن

چمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فُغاں میری

پورے ملک میں 27ستمبر کو یومِ دختران کے طور منا یاگیا۔اس حوالے سے مختلف تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں مقررین لچھے دار تقریریں کرتے ہیں اور پھر نشستند،گفتند اور برخواستند۔یومِ دختران کے نام پر معصوم کلیوں کی اہمیت اور عظمت پر زور دیا جاتا ہے،لڑکیوں کی تعلیم و تر بیت کے حوالے سے بہتر ماحول فراہم کرانے کی وکالت کی جاتی ہے،جنسی زیادتوں کا قلع قمع کرانے کی سفارش کی جاتی ہے اور جنسی تفاوت کی روک تھام کے لئے لوگوں میں بیداری مہم شروع کرانے کی اپیلیں بھی کی جاتی ہے۔ گویا یہ سلسلہ گزشتہ کئی برسو ںسے ایسے ہی چلتا آرہا ہے جسکے نتیجے میں چند خو بصورت عنوانات تر تیب دے کر لڑکیوں کی تعلیم و تر بیت کے لئے چند خوبصورت اصطلا حات معرض وجود میں لاکر یوم دختران کا بستر گول کیا جاتا ہے۔کروڑوں روپیہ خرچ کرنے کے باوجود بھی بیچاری یہ دختر مظلومیت کے قید خانے میں سسک رہی ہے۔ ملکی حالات پر نظر دوڑائیں تومعل

گھر کی صفائی بھی، ڈپریشن میں کمی بھی!

  میری کونڈو ’ڈی کلٹرنگ‘ کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ وہ گھر کی تمام اشیا کو نظم و ضبط سے رکھنے اورفالتوسامان کو ٹھکانے لگانے کے لیے بہترین مشورے دینے کی وجہ سے ہردلعزیز ہیں۔ میری کونڈو صرف گھر کی صفائی، نظم وضبط یا ڈی کلٹرنگ کو ہی فروغ نہیں دیتیں بلکہ وہ جذباتی نکتہ نگاہ سے بھی خواتین کے مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں رہتی ہیں۔ جاپان کی اس مشہور مصنفہ کی ڈی کلٹرنگ کے حوالے سے انسٹاگرام فیڈز سے سبھی مستفید ہوتے ہیں۔  شاید یہی وجہ ہے کہ صفائی کی اہمیت کے حوالے سے انسٹاگرام پرکلینز اسپو(cleanspo)کے نام سے ایک مہم بھی دیکھنے میں آئی، جس میں خواتین نے اپنے گھر وںمیں کی جانے والی صفائی، فالتو سامان کو ٹھکانے لگانے اور ڈی کلٹرنگ کے حوالے سے اپنے تجربات تصاویر کے ساتھ شیئر کیے۔ ’’ٹائڈنگ اَپ وِد میری کونڈو‘‘ کے نا م سے نیٹ فلکس پر شوکرنے

غالب کاسُخن اور وجودِزن

 دنیا میں ہر بڑے شاعر اور ہر بڑے فلسفی کا اپنا ندازِبیاں اور اسلوب ہوتاہے، پر مرزا غالبؔ جیسا اندازِ بیاں رکھنے والا سخنور نہ کبھی پیدا ہوا اورشاید نہ کبھی ہوگا۔ مولانا حالیؔ نے مرزا کو بہت قریب سے دیکھاتھا، وہ لکھتے ہیں کہ غالب بہت وسیع اخلاق کے مالک تھے، جو شخص بھی ان سے ملنے جاتا وہ اس سے بہت خندہ پیشانی سے ملتے اور جو شخص ایک بار ان سے مل لیتا تو اسے ہمیشہ مرزا سے ملنے کا اشتیاق رہتا تھا۔ دوستوں کو دیکھ کر وہ باغ باغ ہو جاتے تھے۔ ان کی خوشی میں خوش اور ان کے غم میں غمگین ہو جاتے تھے۔ اس لیے ان کے دوست ہر ملت و مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ اس مضمون میں ہم نے غالب کی اس شاعری کی جستجو کی جو انہوں نے صنف ِ نازک کیلئے کی ہے۔ دراصل ان کے داخلی اور خارجی معاملات اس قدر دگرگوں تھے، اس لیے اپنے محبوب کیلئے بھی انہوں نے اپنی ذات کے حوالے سے سخن طرازی کی اور ایسے انداز بیاں سے کی کہ ہمیں

خواتین اپنا کاروبار کیسے شروع کریں؟

اپنا کاروبار شرو ع کرناکوئی آسان کام نہیں، مضبوط اعصاب کے مالک افراد بھی نروس ہوجاتے ہیں۔ تاہم، اگرآپ ہمت کرچکی ہیں اور اس سلسلے میں پْرجوش بھی ہیں تو آپ کو انٹرپرینیورشپ کی رولر کوسٹر پر بیٹھنے سے پہلے کچھ اقدامات کرنے ہوں گے۔ فیملی کی سپورٹ سب سے پہلے تو اپنی فیملی سے صلاح و مشورہ کریں (بالخصوص اگر آپ شادی شدہ ہیں) کیونکہ ایسے میں آ پ کو ان کی سپورٹ کی ضرورت زیادہ ہوگی۔ ہوسکتا ہے جب آپ کو میٹنگز اٹینڈ کرنی ہوں توگھر کا کوئی فرد آپ کے بچوں کو دیکھ لے یا آپ کا شوہر خیال کرتے ہوئے ہاتھ بٹائے تاکہ آپ اضافی کام کرسکیںاور سب سے بڑھ کر یہ کہ گھر والوں کے علم میں سب کچھ ہونا چاہئے تاکہ آپ زندگی کے نشیب و فراز سیگزریں تو وہ آپ کے ساتھ ہوں۔سب سے اہم بات یہی ہے کہ اپنا کاروبار کرنے کے جذبے میں اپنی فیملی کو نظر انداز نہ کریں۔ گھر والوںکے ساتھ مل بیٹھنے کیلئے وقت نکالیں، آخر

صنف ِ نازک کی عصمت داؤ پر کیوں؟

رواں ماہ پاکستان کے شہر لاہور میں پیش آنے والے انسانیت سوز واقعہ نے ایک مرتبہ پھرعیاں کر دیا کہ آج اکیسویں صدی میں بھی صنف نازک کی عفت و عصمت محفوظ نہیں ہے۔ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق ایک خاتون لاہور سے گوجرنوالہ کی جانب اپنے دو بچوں کے ہمراہ گاڑی میں سفر کر رہی تھی کہ موٹر وے پر اس کی گاڑی کا پٹرول ختم ہوا۔ اسی اثنا ء میں چند درندہ صفت انسان موٹروے پر وارد ہوئے اور بندوق کی نوک پر خاتون اور اس کے بچوں کو پاس ہی ایک جگہ لے جاکر وہاں خاتون کی اپنے دو بچوں کے سامنے اجتماعی عصمت دری کی۔اس واقعہ نے پوری دُنیا بالعموم اور پاکستان کو بالخصوص جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور ہر سو احتجاجی صدائیں بلند ہوئی۔ابھی اس واقعے کو زیادہ دن نہ ہوئے تھے کہ بھارتی ریاست تامل ناڑو میں ایک اسی سالہ بزرگ خاتون کی عصمت کو تارتار کیا گیا۔ ان دو واقعات کو چھوڑ کر بھی آئے روز اس طرح کی دل دہلانے والی خبروں سے اخبارا

شیر خوار بچوں کی صحت کیلئے خصوصی ٹِپس

مائیں بچوں کی صحت کے لیے ہمیشہ پریشان رہتی ہیں۔ایسے میں اگر بات ہو شیر خوار بچوں کی صحت کی تو ان کی فکر میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔معمولی بیماریوں یا تکلیف کے لیے بچوں کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا یا دوائیں کھلانا ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔اس سے کہیں بہتر ہے کہ برسوں سے آزمودہ گھریلو ٹوٹکوں سے استفاہ حاصل کیا جائے۔ بچوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے لیے چند احتیاطی تدابیر اورگھریلو ٹوٹکے درج ذیل ہیں۔ طاقت کے لیے جائفل کو تین گلاس پانی میں آٹھ سے دس منٹ تک اْبالیں اور اس پانی کو بچوں کے دودھ میں استعمال کریں۔بچوں کی جسمانی مضبوطی کے لیے اور ان کی ہڈیاں مضبوط کرنے کے لیے تیل اور دودھ کی کریم سے بچوں کا مساج کریں۔چھوٹے بچوں پر موسمی بیماریاں جلد اثر انداز ہوتی ہیں۔لہٰذا انہیں نزلہ ،زکام سے محفوظ رکھنے کے لیے زعفران کو پانی میں بھگو دیں اور یہ پانی ان کے سینے پر لگائیں۔چھوٹے

بے قید شادیاں…یرغمال نکاح خواں

جموںوکشمیرمیں شادی بیاہ کا سلسلہ اپنے جوبن پر ہے اور جب تک اس کائنات ہست و بود میں سانس باقی ہے یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔کیونکہ اس کے ساتھ نسل انسانی کی بقا ء اور نئے خاندانوں کا وجود وابستہ ہے ،غور سے دیکھا جائے تو آدم ؑو حوا  ؑکی تخلیق کے ساتھ ہی نظام تزویج عمل میں آیا تھا اور جنت کی مبارک زمین پر انہیں رشتہ ازدواج کی ڈوری میں باندھ کر نسل انسانی کے پھیلائو کا آغاز ہوا تھا۔گو جنت میں یہ مبارک عمل عملایا گیا لیکن ذریت زمین پر آکر پیدا ہوئی۔اسلام نے نکاح کی اہمیت کو جابجا اجاگر کیا ہے اور یہ سارے انبیا ء کی سنت بھی رہی ہے ،یہی بات قرآن نے یہ کہہ کر بیان کی ہے کہ (اے محمد ؐ)ہم نے آپ سے پہلے بھی یقیناً رسول ؑبھیجے اور اْنہیں بیویوں اور اولاد سے بھی نوازا (الرعد۔38)اور نبی رحمتؐ نے اپنے مقدس ارشادات میںاس اہم معاملہ کی افادیت اور ضرورت کو خاص انداز میں واضح فرمایا کہ اے نوجو

اُستاد کا رشتہ محترم اور مکّرم

انسان دنیا میںکبھی بھی تنہا وقت نہیں گزارتا،وہ کئی رشتے ناطوںکے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ان میں سے کچھ رشتوں کاتعلق خون سے ہوتا ہے جبکہ بہت سے رشتے ناطوں کا تعلق روحانی ،اخلاقی اور معاشراتی طور پر قائم رہتا ہے۔انہی میں سے ایک رشتہ اْستاد کا بھی ہے۔اْستاد کو معاشرے میں روحانی والدین کا درجہ حاصل ہے۔اسلام میں ہی نہیں بلکہ باقی مذاہب میں بھی اْستاد کا رْتبہ والدین کے رْتبے کے برابر قرار دیا گیا ہے،کیونکہ دنیامیں والدین کے بعد اگر کسی بچے کی تربیت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو وہ معلم یعنی اْستادپر ہوتی ہے۔سچ تو یہ بھی ہے کہ انسان تو وہ ہے جو صاحبِ علم یا طالبِ علم ہے اوریہ تو اْستاد ہی ہے جو ہمیں دنیا میں جینے اور زندگی گزارنے کی تربیت ،اہمیت اور افادیت سے واقف کراتا ہے گویا اْستاد ہی کسی بھی قوم کے نونہالوں کو تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنے کے ضامن ہیں۔ایک بچے کی پہلی کتاب اْستاد اور پہلا سیلیبس اْ

کوروناکا رونا نہ روئیں

کہ ہاں زندہ ہوں میں، زندہ لاش بن کے تو جیتا بھی، تو میں بھی ہارا ہوں خاک بن کے  حضرات! کورونا(آگے سے کرونا) سے آج کون واقف نہیں۔ شاید ہی کوئی ہوگاجسے اس بارے میںپتہ نہ ہو۔ حیرت اس بات سے ہے کہ اس لفظ کا مطلب کروُن (Crown) ہے۔ جسے اردو میں تاج اور ہندی میں مُکٹ کہتے ہیں۔ مجھے اس سے پریشانی نہیں کہ اسے اتنا اعزازی نام کیوں دیا گیا۔ تاج یا کروُن نام سنتے ہی انسانی دماغ میںبادشاہ، حکومت، سلطنت جیسے نام ضرور گھومتے ہیں۔ مگر یہاں میں بتاتی چلوںکہ جہاں تاج و حکومت پانے کے لئے ماضی میں خون کی ندیاں بہائی گئی وہیں اس تاج (کرونا) کو آج کی تاریخ میں پانے کی کسی کونہ حسرت ہے نا کوئی تمنا۔ جب کوئی بھی امید وار سامنے نہ آیا تو وائرس کے ایک خاندان نے اس نازک موڑ پہ دنیا کی باگ ڈورسنبھالی جو بعد میں کرونا نام کی حکومت کہلائی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں ان کے آپسی اتحاد کی وجہ

تانییثیت

 یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مابعد جدید صورت حال نے جہاںوجودیت، عقلیت ،صارفیت، مادیت، جیسے انواع و اقسام نظریات و تصورات کو اپنی آغوش میں لیکر بال و پر پھیلانے کی سکت اور ہمت عطا کی وہیں حاشئے پر رکھے گئے عناصر ، جس کی نمائندہ اور پائندہ مثال عورت ہے، کو مرکز میں لا کھڑا کرنے کی جرأت بھی کی تاکہ صدیوں سے جس طبقہ کو ثانوی درجہ کی حیثیت سے نظروں سے اوجھل رکھا گیا ہے، اب دنیا کی نظروں کے سامنے آسکے۔ اور ادیب ، دانشور، قلمکار اور فن کار اس مظلوم طبقہ کی اہمیت اور افادیت کے اثبات میں اپنی کدو کاوش بروئے کار لائیں۔تاکہ ان کے تئیں روا رکھی گئی کمیوں کی تلافی ہوسکے۔ اس کوشش اور کاوش کے لیے عالمی سطح خصوصاََ مغرب میں ایک منضبط تحریک بلکہ تحریکیں معرض وجود آئیں جنہیں ’’تانیثیت‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔  تانیثیت (Feminism) بطور ایک نظریہ (Ideal

کورونا کے بیچ نادار خواتین کی دادرسی

 وادی کے سماجی مسائل میں شامل ایک سلگتا ہوا مسئلہ غربت کی وجہ سے لڑکیوں کی شادیوں میں تاخیر ہے۔ اس ضمن میں صورتحال کی شدت کو جانچنے کیلئے چند سال قبل ایک غیر سرکاری رضاکار انجمن نے ایک مفصل سروے بھی کرایا تھا۔ ’’تحریکِ فلاح مسلمین ٹرسٹ‘‘ کی جانب سے کرائے گئے اس سروے کے نتائج  میں یہ ہوشربا انکشاف ہوا کہ صرف سرینگر میں دس ہزار ایسی بالغ لڑکیاں موجود ہیں جن کی شادیاں اْنکے والدین کی بدترین مفلسی کی وجہ سے نہیں ہوپارہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ پوری وادی میں ایسی بدنصیب لڑکیوں کی تعداد لاکھوں میں ہوسکتی ہے۔  تاہم یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ کشمیر کے معاشرے میں ایسے لوگوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے، جو اس مسئلے کے تدارک کیلئے انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنی مقدور کے مطابق تعاون فراہم کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اس سال وسط مارچ میں جب کووِڈ 19 کی وبا نے یکسر سماجی

بنت حوا کو مہذب سماج سے خطر ہ کیوں؟

 آہ! یہ کیسی مصیبت ہے کہ صنف نازک، بنت حوا اور تصویر ِ کائنات میں رنگ بھرنے والی عورت آئے روز نئی نئی الجھنوں میں پھنستی چلی جارہی ہے اور درندہ صفات، بے ضمیر اور بے غیرت افراد اس صنف نازک کو اپنی حوس کا شکار بنا کر اس زندگی تباہ کررہے ہیں۔ کبھی ناتواں گونگی بہری بچیوں کو تو کبھی نابالغ اور دنیا کے نشیب و فراز سے ناواقف بیٹیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور انسانیت کا سر شرم سے جْھک رہا ہے۔باضمیر و باحس افراد کا دم اندر ہی اندر سے گْھٹ رہا ہے۔ ایسے درندہ صفت افراد کو اگرچہ کچھ وقت کیلئے سلاخوں کے پیچھے بھی رکھا جاتا ہے مگر یہ افراد بعد میں اپنا اثرورسوخ برؤئے کار لاکر ضمانت پر رہا ہوجاتے ہیں اور بعد میں ایسے جرائم انجام دینا ان کیلئے سہل و آسان ہوجاتا ہے اور قید خانہ ان کو سسرال سے بھی زیادہ میٹھا لگتا ہے۔ ہندوستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنسی زیادتیوں کے درج ہونے والے

کامیاب معاشرے کیلئے تعلیم نسواں ضروری

’’تعلیم نسواں‘‘دو الفاظ کا مرکب ہے، تعلیم اور نسواں۔ تعلیم کا مطلب ہے ’’علم حاصل کرنا‘‘۔ نسواں ’’نسا‘‘سے ہے۔ جس کا مطلب ہے عورتیں۔ گویا تعلیم نسواں سے مراد عورتوں کی تعلیم ہے۔ علم اور تعلیم دونوں کی اہمیت اپنی اپنی جگہ مسلم ہے۔ تاریخ مذاہب کے مطالعہ سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑکو تخلیق فرماکر جنت میں ٹھہرایا۔ حضرت آدم ؑ نے تمام نعمتوں کے موجود ہونے کے باوجود تنہائی و کمی محسوس کی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت حواؑ کو پیدا فرمایا۔ گویا عورت کا وجود کائنات کی تکمیل کرتا ہے۔   عورت اس کائنات کا جمال و شاہ کار اور دلکش وجود ہے۔ وہ گردش لیل ونہار کا ایک حسین اور کیف آور نغمہ ہے۔ جس کے دم سے حیات قائم ہے۔ عورت کے بغیر انسانی نسل کا استحکام اور نشوونما ناممکن ہے۔ بقائے حیات و معاشرے

گجر بکروال خواتین میں تعلیمی پسماندگی اور اس کا حل

عورت کئی نسلوں کی امین ہوتی ہے۔عورت کا وجود باعث رونق ہے۔ عورت نہ ہوتی تو یہ کائنات بھی نہ ہوتی ۔بقولِ شاعر ’’وجود زَن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ ‘‘ یعنی دنیا کی رنگینی عورت کے وجود سے ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ اگر اماں حواؑ کا وجود نہ ہوتا تو آج انسانی نسل کا بھی وجود نہ ہوتا۔ عورت جو کہ انسانی نسل کی امین ہوتی ہے ،اس کا تعلیم یافتہ ہونا اشد ضروری ہے۔ اس بات کا اظہار بے شمار مفکروں اور فلاسفروں نے بھی کیا ہے، کہ ایک مرد کے تعلیم یافتہ ہونے کا مطلب ہے کہ صرف اسی ایک فرد کا صاحب کردار بننا، لیکن ایک عورت کا تعلیم یافتہ ہونے کا مطلب ہے دو خاندانوں کے ساتھ ساتھ پوری نسل کا تعلیم یافتہ ہونا۔قرآن کریم میں بھی 500 سے زائد آیات ہیں جن میں تعلیم کی اہمیت اور افادیت کو کُھلے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پہ اگر ہم دھیان دیں

صنف نازک کے تخیل کی پرواز

عمومی طور جنگ ذدہ خطوں کا سماجی اور معاشرتی تانا بانا بکھر کر رہ جاتا ہے۔ لیکن تین دہائیوں سے مسلسل پر تشدد حالات کے تھپیڑوں کا شکارکشمیریوں نے اپنے اجتماعی اقدار اور اْن روایت کو دم توڑنے نہیں دیا، جن کی آبیاری اْن کے آبا و اجداد صدیوں سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ آج بھی جب کسی فرد،کنبے یا کسی علاقے کی آبادی پر ناسازگار حالات کی وجہ سے کوئی اْفتاد نازل ہوجاتی ہے، تو یہاں کے لوگوں کا دل اجتماعی طور پر دھڑکنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے جب وسط مارچ میں کورونا نامی جان لیوا وبا نے باقی دنیا کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر پر بھی اپنے مہیب سائے پھیلانا شروع کردیئے تو لوگ اپنے ساتھ ساتھ سماج کی ہمت افزائی کیلئے اْٹھ کھڑے ہوگئے۔ اس ضمن میں جموںکشمیر کی مائوں ، بہنوں اور بیٹیوں نے یکساں طور پر ایک کلیدی کردار ادار کیا اور کررہی ہیں۔ طبی سیکٹرسے لیکر تعلیمی سیکٹر تک اورمعیشت سے جڑے اداروں سے لیکر فن وثقافت

اُردوزبان اور موجودہ سرکار

اردومخالف رویے:  جب چند شیکھر راؤ نے تلنگانہ میں اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیاتھا ،اُس وقت بھی بھاجپا سرکار نے یہ کہہ کر مخالفت کی تھی کہ ’’اردو‘‘ ہی کیوں’’ہندی‘‘ یا ’’انگریزی‘‘ کیوں نہیں۔بی۔جے۔پی لیڈروں نے راؤ کے اس قدم کو ’’Muslim Appeasement‘‘ سے تعبیر کیا۔اب آپ سمجھیں گے کہ یہ مودی ہی ہے جو اردو مخالف ہے ۔نہیں! جب 1989ء میں یوپی میں اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا تھا تو اُس وقت اٹل بہاری واجپائی نے بھی اس کی سخت مخالفت کی تھی اور اسے ’’Muslim Appeasement‘‘قرار دے دیا تھا(بہ حوالہ دی وائر اردو،اپریل۳،۲۰۱۷)۔شاید آپ کو یاد ہوگا کہ BSPکارپوریٹر نے علی گڑھ میونسپل کارپوریشن میں جب اردو زبان میں حلف اُٹھا یا تھا تو بی۔جے۔پی ک

ازدواجی زندگی کامیاب بنانے کے رہنما اصول

 ازدواجی زندگی ایک طویل سفر کی مانند ہوتی ہے۔ اِس سفر کے دوران خوشیاں بھی ملتی ہیں اور مشکلات بھی آتی ہیں۔ کبھی کبھار اِس سفر میں پہاڑ جیسی اونچی رکاوٹیں کھڑی ہو جاتی ہیں اور لگتا ہے کہ اْن کو سر کرنا ناممکن ہے۔ تاہم، کسی بھی سفر کے دوران اگر کوئی آپ کی رہنمائی کرے تو آپ آسانی سے منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسی طرح ازدواجی زندگی کے سفر میں بھی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کی رہنمائی کے لیے یہاں کامیاب ازدواجی زندگی گزارنے کے کچھ رہنما اصول بیان کیے جارہے ہیں۔ شادی کو پاک بندھن خیال کریں یقیناً میاں،بیوی یہ نہیں چاہتے کہ اْن کا رشتہ دو اجنبیوں کے رشتے کی طرح ہو، جو محض ایک دوسرے کے ساتھ وقت کاٹنے پر مجبور ہوں۔ اس کے بجائے وہ چاہتے ہیں کہ اْن کا رشتہ اْنہیں خوشی اور اطمینان بخشے۔ یہ اْس وقت ممکن ہوگا جب وہ شادی کے بندھن کے مقصد، مان اور مرتبے کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ہ

ٹیکنالوجی کی دنیا میں خواتین کیلئے مواقع

 عام طور پر دیکھا جائے تو ٹیکنالوجی کے شعبے میں خواتین کی تعداد کم دیکھنے میں آتی ہے۔ اگرچہ تنخواہوں کے معاملے میں صنفی امتیاز کا مسئلہ تقریباًہر شعبے میں ہے لیکن ٹیکنالوجی کا شعبہ اس حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے دیکھا جائے تو مرد ہی ٹیکنالوجی کی اعلیٰ ملازمتوں پر فائز نظر آتے ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں بھی ٹیکنالوجی کے مضامین میں لڑکیوں کی تعداد بے حد کم دیکھنے میں آتی ہے۔ ایکسینچر اینڈ گرلز ( Girls and  Accenture ) کی شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق، امریکا میں2025ء تک کمپیوٹنگ کے شعبے میں خواتین کی تعداد22فیصد یا اس سے کم ہوتی دیکھی جاسکتی ہے اور اگر یہی صورتحال کئی عرصے تک قائم رہی تو امکان ظاہر کیا جاسکتا ہے کہ خواتین کا ٹیکنالوجی کے شعبے میں کردار نہ ہونے کے برابر رہ جائے گا۔ تاہم پچھلے چند سالوں سے ہائی اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیاں اس صنفی

فریج کی صفائی اور اسے منظم رکھنا

فریج بھی گھر کے فرد کی طرح ہوتا ہے۔اس کا بھی ایسے ہی خیال رکھنا چاہئے جیسے ہم گھر کے افراد کا رکھتے ہیں۔ یہ بیمار تو نہیں ہوتا لیکن اسے بھی صفائی کی ضرورت ہوتی ہے ، جو ہر مہینے کی جائے تو بہتر ہے، ورنہ ہر دو ماہ بعد لازمی کرنی چاہیے۔ گھر کے ہر فرد کا فریج سے روزانہ کئی بار واسطہ پڑتا ہے۔ اسی لیے گھریلو استعمال کی اس اہم ترین چیز کے لیے مناسب صفائی اور دیکھ بھال کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ فریج کی صفائی کیسے کی جائے ؟ فریج کی صفائی کیلئے سب سے پہلے تواس کا مین سوئچ بند کرنا نہ بھولیں اور پھر اس کے دروازے مکمل کھول دیں۔ فریج کی صفائی کا کام 30تا45منٹ میں مکمل کرلینا چاہیے تاکہ ضروری اشیا کی اثر پذیری برقرار رکھتے ہوئے انہیں دوبارہ فریج میں رکھا جاسکے۔ باہر نکالی گئی چیزوں کو چھانٹ لیں، جو آپ کے استعمال میں نہ ہوں، انہیں باہر ہی رکھ دیں۔ فریج میں رکھنے والی چیزوں کو اچھی طرح صاف کر لیں