تازہ ترین

اچھے والدین بنیں ، مستقبل خوبصورت ہوگا

 ماں باپ یہ تو چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے ہمارے فرمانبردار اور ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنیں مگر خود اس کا عملی نمونہ نہیں بنتے۔جبکہ بچے بہترین نقال ہوتے ہیں اور وہ والدین کے طرز عمل سے سیکھتے ہیں۔ ہم رول ماڈل یا عملی نمونہ کیسے بنیں: آپ بچوں کے سامنے ایک دوسرے کی عزت کریں، باہمی رضا مندی قائم کریں، ایک فیصلہ کریں۔شوہر اگر بچے کو کسی بات سے روکے تو آپ بھی روکیں اور اگر آپ اجازت دیں تو شوہر بھی اجازت دے، اس طرح بچے کو دُرست اور غلط کی پہچان ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں مسائل یہ ہیں کہ ماں روکتی ہے تو باپ اجازت دے دیتا ہے اور اگر باپ اجازت دے تو ماں روک دیتی ہے۔ بچے بھی کنفیوز ہیں کہ آخر ماجرا کیا ہے ،ایک اجازت دے رہا ہے دوسرا روک رہا ہے، کون درست ہے کون غلط ہے؟  بچے پھر نفسیاتی نہ ہوں، چڑ چڑے اور ضدی نہ بنیں تو پھر کیا کریں وہ؟ سب سے پہلے میاں بیوی میں اکتفا ہونا ضروری ہوتا

آگے بڑھنے میں بچیوں کی حوصلہ افزائی کریں

25سال قبل دنیا کے تقریباً 200 ممالک سے تعلق رکھنے والے 30ہزارکے قریب نمائندے خواتین کے حقوق کو انسانی حقوق میں شامل کرنے کا عزم لیے چوتھی عالمی خواتین کانفرنس میں شرکت کی غرض سے چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچے۔ کانفرنس کا اختتام (جو کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے تھا) بیجنگ کو بطور پلیٹ فارم استعمال کرنے پر ہوا، پھر اگلے چند سالوں کے دوران دنیا نے دیکھا کہ خواتین کے جنسی وتولیدی صحت کے حقوق سے لے کر مردوں کے مساوی تنخواہوں تک جیسی بے شمار تحریکیں زور پکڑتی چلی گئیں۔ آج ان تحریکوں کا دائرہ کار مزید وسیع ہوچکا ہے، جن میںکم عمری میں بچیوں کی شادی ، تعلیم میں عدم مساوات، صنفی تشدد،خود اعتمادی کی کمی جیسے مسائل بھی شامل ہیں۔ بہت سے ممالک کی طرح ہمارے یہاں کے کئی علاقوں میں بھی بچیوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں سے ایک بڑ مسئلہ کم عمری میں شادی ہے۔ دور جدید کا موازنہ ما

بیٹی بیاہیں یا بہو لائیں !

انسانی تہذیب میں شادی کا بندھن بہت اہمیت کا حامل ہے کہ یہ خُوب صُورت رشتہ جہاں دو اصناف کو یک جان، دو قالب میں ڈھالتا ہے، وہیں اس پاکیزہ بندھن سے ایک خاندان کی بنیاد پڑتی ہے، جو تہذیبِ انسانی کا بنیادی ستون ہے۔ شادی نوجوان جوڑوں کی ضرورت ہے اور والدین کی ذمّے داری بھی۔ اس فریضے کو وقت پر عقل مندی سے ادا کرنا امتحان ہے، تو زندگی کا ایک پُر لطف مقام بھی۔ شادی کے سلسلے میں سب سے پہلے مناسب جوڑ کے چناؤ کا مرحلہ آتا ہے، جو بظاہر آسان لگتا ہے، مگر اسے بہت پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ دینی نکتۂ نظر سے کفو اور مناسب جوڑ کی بنیاد دین داری پر ہے، جو دُنیاوی ٹھاٹھ باٹھ اور اسٹیٹس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ یاد رکھیے، لڑکا ہو یا لڑکی، دین کے بنیادی شعور، اچھے اخلاق و کردار کا کوئی بدل نہیں۔ مال و دولت اور آسائش سے پُر زندگی بھی اخلاق کی کمی اور کردار کی کجی سے تلخ ہو جاتی ہے۔ والدین خواہ اولاد کے لی

ماں ۔ دنیا کی سب سے بڑی دولت !

ماں کی عظمت پر جتنا بھی لکھا جائے اور کہا جائے کم ہے۔ اسلام کے ساتھ ساتھ تمام مذاہب والدین بالخصوص والدہ کی رفعت کے معترف ہیں۔ والدہ سے محبت ایک فطری جذبہ ہے اور ہر انسان اپنی ماں سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا،’’ جس کو خانۂ کعبہ کی زیارت کرنی ہووہ صبح اٹھ کر اپنی ماں کی زیارت کرے۔ ‘‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس نے اپنی ماں اور باپ کو گالیاں دیں،اس کی قبر میں چنگاریاں گریں گی اُتنی مقدار میں کہ جتنے پانی کے قطرے آسمان سے زمین پر گرتے ہیں۔ شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ ماں کی خوشنودی دنیا میں باعثِ عزت، آخرت میں باعثِ نجات ہے۔حضرت مجدد الف ثانی فرماتے ہیں کہ ماں وہ واحد ہستی ہے جو اپنی اولاد کو دعا ہی دیتی ہے خواہ اولاد اچھی ہو یا بری۔ کہا جاتا ہے کہ ماں کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔ ظہیر الدین محمد بابر نے کہا ہے کہ ماں باپ کے فرماں بر

آمدِ رمضان۔ فضیلت کا مہینہ!

حضرت سید ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر شے کیلئے زکوٰة ہے اور جسم کا زکٰوة روزہ ہے اور روزہ آدھا صبر ہے‘‘ ۔اور ایک روایت میں آیا ہے جس کی روایت ابوہریرہ کرتےہیں کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ " جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنات قید کر دئے جاتے ہیں اور دوزخ کے سارے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں پھر اسکا کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا اور اعلان کرنے والا (فرشتہ ) اعلان کرتا ہے کہ ،اے بھلائی  (یعنی نیکی  و ثواب )کے طلبگار (اللہ تعالیٰ کی طرف ) متوجہ ہوجا اور اسے برائی کا ارادہ رکھنے والے برائی سے باز آجا کیونکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہے، اس لیے ہوسکتا ہے کہ آپ بھی ان لوگوں میں شامل ہوجائے اور اعلان (رمضان کی ) ہر رات میں  ہوتا ہے‘‘  (ترمذی  و ابن ماجہ )&nb

خواتین کو خود کفیل بنانے کی پہل

ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کی وزرات نے جنوری 2021 میں اپنی فلیگ شپ اسکیم پر دھان منتری کوشل وکاس یوجنا کا تیسرا مرحلہ شروع کیا تھا۔ جس کا مقصدایک طرف جہاں صنعت کی ضروریات اور بازار کی مانگوں کو پورا کرنا ہے وہیں دوسری جانب ہنر مندوں کو مناسب پلیٹ فارم مہیا کرانا ہے۔ دراصل کووڈ کے بعد کے دور میں نوکریوں سے متعلق بہت پریشانیاں آئی ہیں۔ہنر مند ہونے کے باوجودکئی لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں۔ایسے میں پر دھان منتری کوشل وکاس یوجنا کے ذریعہ ان کے ہنر کو فروغ دینے اور ان کی حوصلہ افزائی میں کارآمد ثابت ہو گا۔اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لئے ایک ایسا ماحولیاتی نظام تیار کرنا،جہاں پر وہ ہنر مندی کے دستیاب شعبوں میں سے اپنی پسند کی چیزیں شعوری طور پر منتخب کر سکیں۔ہنر مندی کی تربیت اور سند حاصل کرنے کے لئے نوجوانوں کو امداد فراہم کرنا اشد ضروری ہے۔ وزرات دیہی ترقی سلف ایمپلائمنٹ ٹریننگ آر ایس آئ

سونے سے قبل بچوں سےڈانٹ ڈپٹ ؟

رات کوسونے سے پہلے کا وقت بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس وقت ہمارا دماغ معلومات اور احساسات کو ذخیرہ کرتا ہے۔یہ اگلے دن کے لیے ہمارے خوابوں، خیالات اور منصوبے کو متاثر کرتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے بچے اس وقت خوش رہیںاور محبت اور تحفظ محسوس کریں۔رات بھر گھٹن و بےقراری سے ان کا دن مختلف واقعات، دباؤ اور مناظر سے پراگندہ رہے گا۔ہمیں اُن سے منفی رویوں کو خالی کرنے اور مثبت رویوں کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔اس لیے کہ وہ بھی اگلے دن کے لیے مثبت توانائی کو چارج کر سکیں۔ ہم اپنے بچوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں: ع    الزام تراشی، اوربےجا تنبیہات سے بچنا ہوگا۔ ع   سونے سے قبل بچے کے قریب جائیے۔ بستر پر اُس کے پاس بیٹھیے، باتیں کیجئے، ہنسیں اور تسلی دیں اور اُسے پیار سے چومیں۔ ع   بچے کی دن بھر کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اُس کی اچھی عادات کی تعریف کیجی

جہیز۔۔۔ اِس لعنت کا خاتمہ کب ہوگا ؟

یہ حقیقت ہے کہ "جہیز " ایک ایسا لفظ ہے۔جسے سنتے ہی نجانے کتنے ہی غریب اور نادار والدین، نوجواں لڑکیوں ،غریب و لاچار بھائیوں کا ذہن مفلو ج ہونے لگتا ہے ،راتوں کی نیند غائب ہو جاتی ہے ،دل کا سکون اور چین سب ختم ہو جاتا ہے ۔حتیٰ کہ لوگ حرام اور ناجائز کاموں میں ملوث ہو جاتے ہیںاور اپنا چین و سکون سب برباد کر لیتے ہیں ۔جسکی وجہ کر ہمارا معاشرہ ایک ایسے دلدل میںپھنستا چلا جا رہا ہے، جس سے نکلنے کا بظاہر کوئی راستہ نظر نہیں آتا ۔معاشرے کے اندر پھیلتی اس بیماری نے پورے کے معاشرے کو اپنے گر فت میں لے رکھا ہے۔امیر وں اور مال داروں کے گھر سے نکلنے والی اس بیماری نے ایک بھیا نک شکل اختیار کر لی ہے،جس کی وجہ سے نہ جانے کتنی ہی زندگیا ں بر باد ہو رہی ہیں،یہاں تک کہ یہ موت اور حیات کا معا ملہ بن گیا ہے ۔ اکثر اخبار وں میں "جہیز "کے متعلق ظلم اور زیادتی کی خبر یں شایع ہوتی رہ

حجاب۔حِفظ واَمان کی زبان ہوتی ہے

اللہ تعالیٰ نے پردے کا حکم آسمانوں سے نازل فرمایا تاکہ ایک عورت بے حیا اور بے شرم لوگوں کی گندی نظروں سے محفوظ رہے ۔ اور اسکی عزت داغدار نہ ہوجائے اور نہ ہی کوئی مرد اس پہ حملہ کرے ۔ جبرائیل علیہ السلام کو اللہ نے خصوصی طور پہ پردے کے احکام نازل کرنے کے لیے نبی صلی الہ علیہ وسلم کے پاس بیجھا جو کہ سورہ الاحزاب میں وارد شدہ ہے ۔قرآن کریم میں ہے کہ ’’عورتوں سے کہو کہ اپنی چادریں اپنے اوپر لیں اور پردہ کریں ۔یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ پہچانی جائیں اور ان سے خواہ مخواہ چھیر چھاڑ کی جائے۔‘‘  ظاہر ہے کہ عورت کا بے تکلفی کے ساتھ بے پردہ رہنے سے معاشرےمیں جنسی بے راہ روی جنم لیتی ہے ، جب ایک عورت بناؤ سنگھار کرکے گھر سے باہر نکلتی ہے تو اسکے ساتھ شیطان بھی ہوتا ہے جو کہ اسکو بہکاتا ہے ۔ ایک عورت کی تخلیق اللہ رب العزت نے بڑے خوبصورت انداز سے کی ہے،اسکے جسم کی سا

محبت خوب صورت آفاقی جذبہ ہے

محبت دنیا کا خوب صورت ترین جذبہ ہے، جس کو ہر دور کے معلم و مفکر ،دین دارو دنیا دار ،ادنیٰ و اعلیٰ ،شیخ و سالک ،صوفی و قلندر، شاعرو مصوراورہر دور کے ہر مکتبہ فکر نے اپنے اپنے انداز میں بیان کیا ہے، لیکن یہ وہ آفاقی جذبہ ہے، اسے جتنا بھی بیان کیا جائے اس کی تشنگی باقی رہتی ہے۔میں سمجھتی ہوں کہ عزت اور محبت کا بہت گہرا تعلق ہے ۔جس محبت میں عزت نہیں وہ کچھ بھی ہو سکتی ہےلیکن محبت نہیں ۔کائنات میں جس نے جس سے محبت کی ہے، اسے عزت دی ہے۔ گفتگو کو طوالت سے بچانے کے لیے صرف ایک مثال کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان سے محبت کی، اسے اشرف المخلوقات بنا دیا،بنی آدم کو عزت بخشی اور جس ہستی کو اپنا محبوب بنایا، اُنہیں کائنات میں سب سے زیادہ عزت سے نوازا۔ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام عالمین کے لئے رحمت بنا دیا، عزت والا بنا دیا۔ آپؐ سے پہلے بھی جو انبیاء تشریف لائے، اُن سب میں آپؐ کو بلند مق

آگے بڑھنے میں بچیوں کی حوصلہ افزائی کریں

25سال قبل دنیا کے تقریباً 200 ممالک سے تعلق رکھنے والے 30ہزارکے قریب نمائندے خواتین کے حقوق کو انسانی حقوق میں شامل کرنے کا عزم لیے چوتھی عالمی خواتین کانفرنس میں شرکت کی غرض سے چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچے۔ کانفرنس کا اختتام (جو کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے تھا) بیجنگ کو بطور پلیٹ فارم استعمال کرنے پر ہوا، پھر اگلے چند سالوں کے دوران دنیا نے دیکھا کہ خواتین کے جنسی وتولیدی صحت کے حقوق سے لے کر مردوں کے مساوی تنخواہوں تک جیسی بے شمار تحریکیں زور پکڑتی چلی گئیں۔  آج ان تحریکوں کا دائرہ کار مزید وسیع ہوچکا ہے، جن میںکم عمری میں بچیوں کی شادی ، تعلیم میں عدم مساوات، صنفی تشدد،خود اعتمادی کی کمی جیسے مسائل بھی شامل ہیں۔ دنیا کے بہت سے ممالک کی طرح ہمارے یہاں بھی بچیوں کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔دور جدید کا موازنہ ماضی سے کیا جائے تو حالات بہت تبدیل ہوگئے ہیں،

خواتین کیلئے مساوات اور مواقع

مواقع کے لغوی معنی ہیں،’’وقت یا حالات کا ایک مجموعہ جس سے کچھ کرنا ممکن ہوجاتا ہےـ‘‘۔ لہٰذا اگر ہم اس نظریے کی جانچ کرنا چاہیں کہ آیا آج کی خواتین کو یکساں مواقع مل رہے ہیں تو ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت مردوں کے مقابلے میں ان کے لئے حالات سازگار ہیں یا نہیں؟تاریخی طور پر دیکھا جائے تو خواتین ہمیشہ ہی معاشرے میں پسماندہ رہی ہیں، تاہم اب حالات بدل رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ سے زیادہ خواتین کو بااختیار بنانے کی راہ ہموار ہورہی ہے، جس کے اثرات ترقی پذیر ممالک میں بھی دیکھے جارہے ہیں۔ صنفی عدم مساوات، مساوی تنخواہ اور ہراساں کرنے کے معاملات کو حل کرنے کے لئے اب کمپنیاں تیزی سے پختہ پالیسیاں تشکیل دے رہی ہیں۔ یہ پالیسیاں مزید خواتین کو افرادی قوت میں شامل ہونے اور مَردوں کی طرح مساوات کے پیمانے پر کارکردگی دکھانے میں مدد فراہم کریں گی۔خواتین گذشتہ

خواتین کی تکریم اور ہمارا معاشرتی شعور!

عورت کی تکریم کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ہمارے نبی کریمؐ کی بیٹی حضرت فاطمہؓ جب حضور اکرمؐ سے ملنے تشریف لاتی تو آپؐ اپنی چادر بچھاتے اور کھڑے ہو کر اپنی بیٹی کی عزت و تکریم میں اضافہ فرماتے۔حضور اکرمؐ کا یہ فعل سنت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک واضح پیغام بھی ہے کہ عورت قابلِ عزت ہے۔بیٹی ہے تو باپ کی عزت ،بیوی ہے تو شوہر کی غیرت،بہن ہے تو حرفِ دعا،ماں ہے تو سراپا دعااورجنت کا راستہ۔قبل از اسلام عورت کی کوئی عزت و تکریم نہ تھی۔نبی اکرم ؐ نے اس معاشرے میں عورت کو عزت سے نوازجو معاشرہ ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گر چکا تھا۔جس معاشرے میں عورت کی خریدو فروخت کی جاتی تھی اُس معاشرے میںعورت کا پیدا ہونا ہی گناہ تصور کیا جاتا تھا،بیٹی کے پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جاتا تھامگردرود و سلام ہو نبی رحمت ؐپر، جنہوںنے عورت کو اعلیٰ رُتبہ دیا ،وہ مقام دیا جو کسی دین نے ،کسی مذہب نے نہ دیا۔عورت

والدین سے حُسنِ سلوک کی اہمیت

اسلام میں والدین کے حقوق ، ان کی اطاعت اور فرماںبرداری کو اﷲ تعالیٰ نے اپنے واضح حکم سے انسان کو پابند بنایا ہے۔قرآن کریم کی تعلیم جہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیتی ہے اور تاکید کرتی ہے کہ اولاً عبادت اللہ تعالیٰ کی ہے اور حکم بھی اللہ تعالیٰ ہی کامانناہے یہ ایمان کی پہلی شرط ہے ۔یہ ہدایت ہر نبی اور پیغمبر کی بنیادی اور اولین دعوت حق رہی ہے۔ اس کے بعد قرآن میں پانچ جگہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بعد ماں باپ کے حکم کی تاکید آئی ہےکہ انسان والدین کی اطاعت اور فرماں برداری کرے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئے۔ لہٰذا جہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت ضروری ہے ۔وہاں والدین کی اطاعت بھی ضروری ہے اور اس میں کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ بات بھی مسلّم ہے کہ ماں دنیامیں لانے کا سبب اور بیوی اس دنیا میں ساتھ نبھانے کے لیے ایک خوش گوار ذریعہ ہے۔ ہم جب اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تواس نت

جدید تقاضوں کے تحت آگے بڑھو

دنیا میں فی زمانہ اگر کسی کے معیارزندگی کا اندازہ لگانا ہو تو اس کی تعلیمی قابلیت کے بجائے، بینک بیلنس اور اس کے پاس موجود مادی اشیاء سے لگایا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک سچ ہےکہ زیادہ تر طالب علم اچھی ملازمت اور پُر آسائش مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں، جس میں وہ خود کو ٹائی لگائے ایئر کنڈیشنڈ آفس میں بیٹھے فائلوں کی ورق گردانی کا تصور کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ سب ناممکن تو نہیں، مگر سچ یہ ہے کہ ایسا صرف کچھ نوجوانوں کے لیے ہی ممکن ہو پاتا ہے، جب وہ ڈگری لے کر عملی میدان میں قدم رکھتے ہیں، تب انہیں پتہ چلتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔  نوکری کی تلاش میں دھکے کھانے کے بعد آخرکار اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اپنی مرضی چھوڑو، بس کوئی بھی کام مل جائے جس سے چار پیسے ہاتھ میں آئیں اور بے روزگار ہونے کے طعنے سے جان چھڑاسکیں۔ یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ، بڑھتی آبادی، توانائی کی کمی کے پیش نظر مستقبل کی منصوبہ بندی

صحت اور خوبصورتی کیلئے سرکہ کا استعمال

  سرکہ عام طور پر سلاد کا ذائقہ بڑھانے، ڈبہ بند غذاؤں کو محفوظ رکھنے یا پھر کھڑکی اور دروازوں کو چمکانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس کی افادیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ عربی، فارسی اور اردومیں بیک وقت ایک ہی نام سے معروف سرکہ انگریزی زبان میںVinegarکہلاتا ہے۔ یہ بظاہر ایک تیزابی مادہ ہوتا ہے، جو عام طور پر ایتھنول سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہاں سرکہ سے مراد قدرتی طور پر تیار کیے جانے والا سرکہ ہے ناں کہ مصنوعی طریقے کے تحت تیار کردہ۔ سرکہ کی قسمیں : سرکہ کئی قسم کا ہوتا ہے مثلاً سیب کا سرکہ، بلسان کا سرکہ، گنے کا سرکہ، ناریل کا سرکہ، کھجور کا سرکہ، پھلوں کا سرکہ، فلیورڈ سرکہ، شہد کا سرکہ، کیوی فروٹ کا سرکہ، چاولو ں کا سرکہ، سفید سرکہ اورکشمش کا سرکہ وغیرہ۔ سرکہ کی چند خاص اقسام ایسی ہیں جو دنیا بھر میں بالخصوص کچھ ممالک میں خاص اہمیت کی حامل ہیں۔ سرکہ کی اہمیت:سرکہ انبیائ

خواتین کیلئے میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوںکا قیام | وقت کی اہم ترین ضرورت

دسمبر ۲۰۱۲ نئی دہلی جہاں ایک معصوم دوشیزہ 23 سالہ دامنی نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے داعی اجل کو لبیک کہا اور ہم سے سدا کے لیے دور موت کی آغوش میں چلی گئی۔ اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ صرف ہندوستان ہی نہیں پڑوسی ممالک میں بھی زبردست احتجاج کیا گیا۔ مشرق سے مغرب ( آسام سے راجستھان تک) اور شمال سے جنوب ( کشمیر سے کنیا کماری تک) اس کا چرچا ہے۔ اس درد ناک موت پر تقریباً سبھی ہندوستانی خواتین کی آنکھیں نمدیدہ ہیں۔ اہل وطن نے اشکبارآنکھوں سے دامنی کو الوداع کہا، وہ شرمناک واقعہ جو ہندوستانی کی راجدھانی دہلی میں ہوا اس کی ہر مکتبۂ فکر کے لوگوں کی جانب سے پر زور مذمت کی گئی۔ شدید عوامی احتجاج میں اکثریت نوجوانوں کی تھی۔ جس نے پارلیمنٹ کو ہلا کر رکھ دیا۔ دہلی جو ہندوستان کا دارالحکومت ہے۔ اس کے تعلق سے شاعر نے کہا تھا  : کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو ! ہم کو غریب ج

کب بنیں گے آشیانے غربیوں کے؟

  کویڈ۔19کی پہلی لہر کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاست مدھیہ پردیش میں ایک ورچول کانفرنسنگ کے ذریعہ پی ایم اے وائی اسکیم کے تحت ایک لاکھ 75ہزار نئے تعمیرکردہ مکانوں کا افتتاح کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’پہلے غریب حکومت کے پیچھے بھاگتےتھے، اب حکومت عوام کے پاس جارہی ہے‘‘ ۔ مسٹر مودی نے مزید کہا کہ کسی کی مرضی کے مطابق فہرست میں کوئی نام شامل یا چھوڑا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مکانات کی تعمیر کے لیے ان کے سنگ بنیاد رکھنے سے لے کر اس کے افتتاح تک انتہائی شفاف اور سائنسی طریقہ اپنایا گیا ہے۔ا میں کوئی دورائےنہیں کہ اس میں سرکار کی نیت صاف نظر آرہی ہے۔لیکن زمینی سطح پر حقیقت کیا ہے اس سلسلہ میں،میں قارئین کو مرکزی زیر انتظام علاقہ جموں کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کی روئیداد بتائوںگی جو کہ تینوں اطراف سے لائین آف کنٹرول سے گھیرا ہوا ہے، سرحدی

کب بنیں گے آشیانے غربیوں کے؟

  کویڈ۔19کی پہلی لہر کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاست مدھیہ پردیش میں ایک ورچول کانفرنسنگ کے ذریعہ پی ایم اے وائی اسکیم کے تحت ایک لاکھ 75ہزار نئے تعمیرکردہ مکانوں کا افتتاح کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’پہلے غریب حکومت کے پیچھے بھاگتےتھے، اب حکومت عوام کے پاس جارہی ہے‘‘ ۔ مسٹر مودی نے مزید کہا کہ کسی کی مرضی کے مطابق فہرست میں کوئی نام شامل یا چھوڑا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مکانات کی تعمیر کے لیے ان کے سنگ بنیاد رکھنے سے لے کر اس کے افتتاح تک انتہائی شفاف اور سائنسی طریقہ اپنایا گیا ہے۔ا میں کوئی دورائےنہیں کہ اس میں سرکار کی نیت صاف نظر آرہی ہے۔لیکن زمینی سطح پر حقیقت کیا ہے اس سلسلہ میں،میں قارئین کو مرکزی زیر انتظام علاقہ جموں کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کی روئیداد بتائوںگی جو کہ تینوں اطراف سے لائین آف کنٹرول سے گھیرا ہوا ہے، سرحدی

سیاسی جماعتیں اندیشوں میں مبتلا !

یوں تو پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کادوسرا دور بھی مکمل ہوچکا ہے۔ پانچ ریاستوں میں سب سے زیادہ اتر پردیش ریاست موضوع سخن بنی ہوئی ہے ۔ اس کی وجہ بالکل صاف ہے ہر بھارتی جانتا ہے کہ مرکز میں حکومت کا راستہ اُتر پردیش سے ہی گزرتا ہے، یعنی کہ جس پارٹی نے اتر پردیش میں اپنا پرچم لہرا دیا، مرکز میں حکومت بنانے کے لیے 60 فیصد امکانات اسی کے نظر آتے ہیں ۔ اس بار اتر پردیش کا انتخاب پچھلے انتخاب کی مانند یک طرفہ ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ کوئی ایک پارٹی 'کلین سوئیپ 'کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ ہر پارٹی کے دل میں خوش گمانیوں سے زیادہ فکر و تشویش، خدشات نے انہیں سیاہ حصار میں لے رکھا ہے۔میں کانگریس تو پہلے ہی کہہ چکی ہے" ہر انتخابات صرف جیتنے کے لیے نہیں لڑا جاتا " لیکن ہاں!سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگار البتہ یہ کہتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ پرینکا گاندھی نے جس طرح کم