تازہ ترین

محکمہ بجلی کی نجکاری اور نئے قوانین صارفین کُش

 سرینگر// محکمہ بجلی کے ملازمین نے سرینگر اور جموں میں بہ یک وقت مرکزی حکومت کی طرف سے نئے مزدور قوانین کے اعلانات کے خلاف احتجاج کیا۔نان گزیٹیڈ الیکٹریکل ایمپلائز یونین کے جھنڈے تلے بمنہ سرینگر میں احتجاج کے دوران ملازمین نے کہا کہ نئے قوانین ہزاروں ملازمین کے احساسات کے منافی ہے۔ یونین کے ترجمان عمر بٹ نے کہا کہ لاک ڈائون کے دوران لاکھوں مزدوروں کو کوئی راحت دینے کے برعکس حکومت ہند نئے قوانین اور غیر ضروری ترامیم کے اطلاق کیلئے تجربے کر رہی ہے،جس کے نتیجے میں غریب مزدوروں کے ساتھ استحصال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوشش مزدوروں کے بنیادی حقوق کی لوٹ مار ہے،جبکہ یہ کامگار مشکلات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یونین کے جنرل سیکریٹری پرشوتم شرما نے کہا کہ ہزاروں ڈیلی ویجروں کو مختلف محکموں میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ وہ نظام کو بہتر طریقے سے چلا سکے،تاہم نئے قوانین کے ساتھ انہیں پشت

سپرسپیشلٹی اسپتال میں غیرمعیاری ماسک فراہم کرنے کاالزام

سرینگر //سپر سیپشلٹی اسپتال شرین باغ میں تعینات مریض، تیمادار وںاورعملہ کوکورونا وائرس سے بچانے کیلئے ماسک فراہم کئے گئے ہیں، لیکن ماسک غیر معیاری ہونے کی وجہ سے مریضوں اور عملہ کو سخت دشواریوں کا سامنا ہے۔ اسپتال میں زیر علاج مریضوں اور کام کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ ماسک کے غیر معیاری ہونے کی وجہ سے جلد کٹ جاتے ہیں اور انہیں دن میں کئی مرتبہ ماسک بدلنے پڑتے ہیں۔ اسپتال میں زیر علاج بشیر احمد نامی ایک مریض نے بتایا ’’ مریضوں اور ملازمین کو ماسک فراہم کیا جاتا ہے لیکن ماسک آدھے گھنٹے کے بعد کٹ جاتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ دن میں صرف ایک ہی ماسک فراہم کیا جاتا ہے اور ماسک جلدی کٹ جانے کی وجہ سے ان کو دن بھر بغیر ماسک کے رہنا پڑتا ہے‘‘۔ اسپتال میں کام کرنے والے ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’’ جے کے میڈیکل سپلائز کارپوری

تازہ ترین