تازہ ترین

بڈشاہ چوک میں تلاشیاں، فرن بھی اتارے گئے

سرینگر+ترال// ہری سنگھ ہائی سٹریٹ کے بعد منگل کوشہر سرینگر کے بڈشاہ چوک علاقے میں سیکورٹی فورسز اور پولیس نے راہگیروں کی جامہ تلاشیاں لیں اور فرن پہنے نوجوانوں سے زیادہ پوچھ تاچھ کر کے انہیں فرن اتارنے پر مجبور کیا۔ با غات سرینگر میں گزشتہ دنوں کے جنگجویانہ حملے کے بعد شہر میں فورسز اور پولیس کو متحرک و چوکس کیا گیاہے۔ پیر کو ہری سنگھ ہائی سٹریٹ میں کریک ڈائون کے بعد منگل کو  بڈشاہ چوک میں کھڑا کھڑا کریک ڈائون کیا گیا۔اس دوران گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں سے پوچھ تاچھ کی گئی اور راہگیروں کی جامہ تلاشی بھی عمل میں لاکر انکے شناختی کارڈ چیک کئے گئے۔ لیکن سب سے غیر معمولی بات دیکھنے میں یہ آئی کہ فرن پہنے نوجوانوں سے فرن اتارنے کیلئے کہا گیا اور بعد مین انہین فرن پہننے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ملی تینسی شروع ہونے کے بعد 1989سے ابتک وادی کشمیر میں کبھی بھی فرن پہننے پر روک نہیں لگائی گ

چیف جسٹس پنکج متھل کا ضلع کورٹ کمپلیکس سرینگر کا دورہ

سرینگر//چیف جسٹس جموں کشمیر ہائی کورٹ جسٹس پنکج متھل نے ڈسٹرکٹ کورٹ کمپلیکس سرینگر کا دورہ کیا اور جج صاحبان اور وکلاء کے ساتھ علیحدہ علیحدہ میٹنگوں میں تبادلہ خیال کیا ۔ چیف جسٹس کا استقبال ضلع سرینگر کیلئے انتظامی جج جسٹس علی محمد ماگرے نے کیا۔ اس موقعہ پر پرنسپل ڈسٹرکٹ اور سیشن جج سرینگر عبدالرشید ملک اور دیگر جج صاحبان اور عدلیہ کے دیگر افسران موجود تھے ۔ اس موقعہ پر چیف جسٹس کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ۔ چیف جسٹس پنکج متھل کو بحثیت چیف جسٹس جموں کشمیر ہائی کورٹ کے اپنے پہلے دورے پر اُن کا خیر مقدم کرتے ہوئے جسٹس علی محمد ماگرے نے کہا کہ ’’ ہم سب چیف جسٹس کا زمین پر جنت میں گرمجوشانہ استقبال کر رہے ہیں ‘‘ ۔ عدلیہ کے افسران اور عدلیہ کے نظام کے کام کاج کی تفصیل دیتے ہوئے جسٹس ماگرے نے عدلیہ کے افسروں کو انصاف کے سپاہی قرار دیا جو 365 دن 24X7 کام کرتے ہیں ۔ ا

سابق جنگجوئوں سے بیہائی گئی خواتین کاپریس کالونی میں احتجاج

سرینگر// عمر عبداللہ کی سربراہی والی سابق مخلوط سرکار میں محفوظ راہداری پالیسی کے تحت آنے والے سابق جنگجوئوں کے ساتھ بیہائی گئی پاکستانی نژاد خواتین نے انہیں شہریت کا درجہ دینے یا واپس پاکستان روانہ کرنے کیلئے پریس کالونی لالچوک میں احتجاج کیا اور گھنٹہ گھر تک مارچ کیا۔ خواتین انے بچوں کے ہمراہ احتجاج کرتے ہوئے نعرہ بازی کی اور الزام عائد کیا کہ حکام نے انہیں شہریوں کے حقوق سے محروم رکھا ہے یہاں تک کہ انہیں سرحد پار آبائی علاقوں میںجانے کیلئے سفری دستاویزات بھی فراہم نہیں کئے جاتے ہیں۔ 2006 میں اُس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ذریعہ تشکیل دیئے گئے ورکنگ گروپ کی سفارشات کے بعد مرکزی وزارت داخلہ کے مشورے سے 2010 میں ’’ محفوظ راہداری پالیسی ‘‘ کا اعلان کیا گیا تھا۔اس پالیسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلحہ کی تربیت کیلئے پاکستان کے زیرانتظام آزاد کشمیر گئے نو

حدبندی کمیشن اقلیتوں کو اعتماد میں لے: جگموہن رینہ

 سرینگر// آل پارٹیز سکھ کوآرڈینیشن کمیٹی چیئرمین اور اپنی پارٹی لیڈر جگموہن سنگھ رینہ نے سکھ برادری سے کہا ہے کہ وہ حد بندی کے عمل سے دو ر رہے کیونکہ یوٹی جموں و کشمیر میں اقلیتوں کیلئے کوئی ریزرویشن نہیں رکھی گئی ہے۔موصولہ بیان میں جگموہن رینہ نے کہا کہ’ ہمیں حد بندی کمیشن کے ممبروں سے ملنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ، اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے کہ جموں و کشمیر میں اقلیتوں کے معاملات سے لوگ لاتعلق ہیںاور اگر اقلیتوں کو اعتمادمیں نہیں لیا گیا تو حد بندی کمیشن اپنی ساکھ کھو دے گا‘‘۔ انہوںنے کہاکہ ’’میں کمیونٹی ممبران سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ انتخابی حلقوں کی حد بندی کے کسی بھی عمل سے دور رہیں، انہیںاس عمل میں صرف اُسی وقت حصہ لینا چاہئے جب جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں کچھ نشستیں اقلیتوں کے لئے مخصوص ہوں، مرکزی حکومت اور حد بندی کمیشن اقلیتوں کو اعتماد می