تازہ ترین

معذور افراد سماج کا حصہ

اﷲ تعالی نے کوئی چیز بھی بے مقصد پیدا نہیں کی۔اس کائنات میں ایک ذرّے سے لے کرپودے پتے،جھاڑ جھنکاڑ اور ریت کے ذروں سے لے کر پہاڑوں، چٹانوں، غاروں اور دریاوں اور سمندروں میں بے شمار مخلوقات ہیں اور کتنی ہی مخلوقات ہیں جو ان دریاؤں اور سمندروں کے اندر اپنی زندگی کے دن پورے کر رہی ہیں اور کتنی ہی مخلوقات ہیں جوپہاڑوں کے درمیان وادیوں میںاور زمین کی گہرائیوں میں اور پتھروں کے اندر اور درختوں کی جڑوں سے چمٹی ہوئی اس دنیا میں موجود ہیں اور نہ جانے کہاں کہاں اور کیسے کیسے اور کس کس طرح کی مخلوقات، جو ہنوزانسانی مشاہدے میں نہیں آسکیں۔ اﷲ تعالی کی خلاقی کا پتہ دیتی ہیں ۔لیکن یہ سب قطعاََ بھی بے مقصد نہیں،اتفاقََانہیں اور نہ ہی الل ٹپ ہیں بلکہ اﷲ تعالی نے یہ سب ایک نظام کے تحت ،ایک منصوبے کے مطابق اور ایک منزل کے تعین کے ساتھ تخلیق فرمایا ہے۔ان ساری مخلوقات میں سب سے افضل مخلوق حضرت انسان ہے جس

مئے کشی اورمنشیات فروشی | برہمی بجا مگر ذرا اپنے گریباں میں بھی جھانکیں

گزشتہ دنوں جب کشمیر میں شراب کی دکانیں کھولنے سے متعلق حکومتی منصوبہ افشاء ہوا تو ہر سُو ہاہار مچ گئی ہے اور سماج کے سبھی طبقوں نے اس مجوزہ منصوبہ کی کھل کر مخالفت کی ۔حکومتی منصوبہ کے خلاف عوامی ردعمل حوصلہ افزا ء تھا جو بادی النظر میں اس بات کی جانب اشارہ کررہا تھا کہ کشمیر ی اُم الخبائث کو فروغ دینے کے حق میں نہیں ہیں۔کھلے عام شراب کی دکانیں کھولنے کے منصوبہ کی مزاحمت کرنا اچھی بات ہے لیکن شراب کی اُس سپلائی کا کیا کیاجائے جو اس کے باوجود بھی اس وقت کشمیر وادی میں استعمال ہورہی ہے۔ حکومتی اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ صرف گزشتہ برس کشمیر میں شراب کے استعمال اور کاروبار میں 25 سے 30فیصد کے درمیان اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ سال ِ رفتہ کے دوران کشمیر میں 40لاکھ کے قریب شراب کی بوتلیں فروخت اور استعمال کی گئیں ۔غور طلب ہے کہ کشمیر میں صرف شراب کی 6دکانیں قائم ہیں جن میں سے

پانی زندگی ہے اور لاپر واہی موت

  جموں و کشمیر بالعموم اور وادی کشمیر بالخصوص اگر چہ آبی وسائل سے مالا مال ہے لیکن حسرت کا مقام ہے کہ وادی کے بیشتر علاقوں میں لوگ آج بھی پینے کے صاف پانی کیلئے ترس رہے ہیں اورآئے دنوں مضر صحت پانی کے استعمال سے وبائی بیماریاں پھوٹ پڑنے کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔اگر اس مسئلہ پر ذرا سنجیدگی سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وادی میں قلتِ آب کیلئے براہ راست محکمہ آب رسانی،جسے اب جل شکنی محکمہ نام دیاگیا ہے، ذمہ دار ہے ۔یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ پانی کی فراوانی کے باوجود تقسیم ملک کے 73سال بعد بھی کشمیری عوام پینے کے پانی کیلئے ترس رہے ہیںگوکہ اس کیلئے محکمہ آب رسانی رقومات کی عدم دستیابی کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے اس سیکٹر کیلئے جس طرح ریاستوں کو زر کثیرفراہم کیا گیا ،اُس سے یہ امید کی جارہی تھی کہ پانی کے مسئلے پر کافی حد

سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہونے کا دعویٰ

 سرکار کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں کورونا وائرس مریضوں کیلئے3762آئیسولیشن بیڈ دستیاب ہیں ۔ان میں سے 1113بستروں پر مریض زیر علاج ہیں جبکہ 2649بستر خالی پڑے ہیں۔ سرکاری اعدادوشمارکے مطابق 3762بستروں میں سے 1078پہلے زمرے جبکہ 2684دوسرے زمرے کے بستر ہیں۔ پہلے زمرے کے 1078بستروں میں سے565پر مریض زیر علاج ہیں جبکہ اس زمرے کے 513بستر خالی پڑے ہیں۔ دوسرے زمرے کے آئیسولیشن وارڈوں میں مجموعی طور پر 2684بستر موجود ہیں جن میں سے 548پر مریض ہیں جبکہ 2136بستر خالی ہیں۔   ان اعدادوشمار سے بدیہی طور یہی لگ رہا ہے کہ سب کچھ کنٹرول میںہے اور کہیں کوئی پریشانی نہیں ہے تاہم ہسپتالوں سے مسلسل جو اطلاعات موصول ہورہی ہیں،وہ پریشان کن ہیں۔گزشتہ کچھ روز سے مسلسل یہ اطلاعات آرہی ہیں کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں سے منسلک ہسپتال میں آکسیجن کی شدید قلت پیدا ہوچکی ہے اور کورونامریضوںکو آکس

کورونا کے بعد بھوک سے جنگ؟

کورونا وائرس کی عالمگیر وباء نے دنیا کو صدی کی بدترین اقتصادی مندی سے دوچارکردیا ہے اور اگر اس وائرس کی دوسری لہر نہ بھی آئی توبھی نتائج بھیانک ہونگے ۔آرگنائزیشن آف اکنامک کواپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ سمیت متعدد عالمی مالیاتی اداروںکے تازہ ترین تخمینوںکے مطابق اب تک سینکڑوں ملین لوگ روزگار سے محروم ہوچکے ہیں اور اگر وباء کی دوسری لہر نہ آئی تو امسال عالمی معیشت کی شرح نمو میں6فیصد کمی آئے گی اور اگلے سال اس میں کچھ حد تک بہتری آنے سے 2.8فیصد کا اضافہ ہوسکتا ہے لیکن اگر دوسری لہر آئی تو عالمی معیشت میں8فیصد تک کمی ہوگی جو صورتحال کی سنگینی کو سمجھنے کیلئے کافی ہے۔ادھرچند روزقبل ہی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک ویڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حالات کی جو مایوس کن منظر کشی کی ،وہ دل کو پسیج کر رکھ دینی والی تھی ۔اُن کا کہناتھا کہ آج بھی 820ملین لوگ بھوک کاشکا رہیں ا

تعلیمی اداروں کی جُزوی بحالی

 جموںوکشمیر مرکزی زیر انتظام علاقہ میں 6ماہ کے وقفہ کے بعد بالآخر تعلیمی ادارے جزوی طور کھل گئے ۔گوکہ طلباء کی حاضری قلیل رہی تاہم نویں سے بارہویں تک کلاسز کھولنے کا عمل اپنے آپ میں مستحسن قدم ہے اور اس کا خیر مقدم کیاجانا چاہئے تاہم کچھ باتیں ہیں جو حکام کے گوش گزار کرنا ضروری نہیں۔ سکولی تعلیم محکمہ کے سربراہ نے کہاتھا کہ سکولوں کا وائٹ واش کرنے کے علاوہ انہیں جراثیم کش ادویات کا چھڑکائو کیا جائے گااور ا سکے بعد ہی تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا عمل شروع کیاجائے گاتاہم ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔انہوںنے جس طرح تدریسی عمل میں تعطل پر تشویش کا اظہار کیا تھا،وہ اس بات کی جانب اشارہ تھا کہ حکومت کو واقعی بچوں کی تعلیم کو لیکر کافی فکر لاحق ہے اور ہونی بھی چاہئے ۔کوئی باپ نہیں چاہے گا کہ اُس کا بچہ سکول سے دور رہے ۔تمام والدین کی کوشش رہتی ہے کہ ان کے بچوں کا تعلیمی کیرئر متاثر نہ ہو ا

کاروباری طبقہ کیلئے سود کی ادائیگی

 جموںوکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے خستہ حال معیشت کو پٹری پر لانے کیلئے پہلے مرحلہ کے تحت 1300کروڑ روپے کا اقتصادی پیکیج صحیح سمت میں اٹھایاگیا بروقت قدم ہے۔تمام متعلقین کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعدامید کی جارہی تھی کہ حکومت تجارتی طبقہ کو ضرور کوئی راحت دے گی اور ویسا ہی ہوا بھی ۔اس پیکیج کے تحت سود کی ادائیگی کا جو بندو بست حکومت نے کیا ہے ،اُس پر یقینی طور پر کاروباری حلقہ خوش ہے کیونکہ انہیں واقعی راحت ملی ہے۔سود میں چھوٹ یا سود معاف کرنا دو وجوہات کی بناء پر اہم ہے۔ پہلا یہ کہ ریزرو بنک آف انڈیا پیکیج ،جس کے تحت فقط سود کی ادائیگی کو ٹالا گیا تھااور سود کی رقم مسلسل جمع ہوتی چلی جارہی تھی،کے برعکس اس پیکیج میں حقیقی راحت کا سامان ہے ۔لاک ڈائون کی وجوہات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے تجارتی طبقہ کے سود کا پانچ فیصد خود برداشت کرنے کا جو فیصلہ لیا ہے ،وہ مبنی بر انصاف

سُکڑتی آبی پناہ گاہوں کو نابود ہونے سے بچائیں

 جموں و کشمیرکی خوبصورتی میں چار چاند لگانے والی قدرتی آب گاہوں اور جھیلوںمیں پچھلے 95سال کے دوران 50فیصد کمی آئی ہے۔ ایک تازہ ترین تحقیق میں کہاگیا ہے کہ جموں و کشمیر میں قدرتی جھیلوں اور آب گاہوں کوغیر قانونی قبضہ ، آلودگی اور پرتنائو صورتحال کی وجہ سے تشویشناک حد تک نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے 22اضلاع میں کل 3651چھوٹی بڑی آب گاہیں موجود ہیں جن میں پانچ آب گاہیں عالمی شہرت کی حامل ہے ۔ان میں جموں کی دو آبگاہیں سرنسر اورمانسر اور کشمیر کی دو آب گاہیںہوکر سر اور ولر جھیل شامل ہیں۔  رپورٹ میں اس بات کاپریشان کن انکشاف کیاگیا ہے کہ شہر سرینگر میں موجود قدرتی آب گاہیں اور جھیلیں غیر قانونی قبضہ کی وجہ سے ختم ہورہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرینگر میں 50فیصد آب گاہیں اور قدرتی جھیلیں ختم ہوچکی ہیںاور سرینگر شہر میں 95سال کے دوران آبی

صحت بیمہ سکیم … نادار مریضوں کیلئے اُمید کی نئی کرن

جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گور نر منوج سنہا نے 11ستمبر کو اپنی پہلی پریس کانفرنس میں اِس مرکزی زیرانتظام علاقہ کے 15لاکھ کنبوں کیلئے ہیلتھ انشورنس سکیم متعارف کرانے کا اعلان کیا ،جس سے ستر لاکھ کی آبادی کو فائدہ ملے گا۔اس سکیم پر سالانہ 123کروڑ روپے خرچ ہونگے۔سکیم کے ذریعے جموں و کشمیر کے تمام لوگوں کو مفت ہیلتھ انشورنس فراہم کیا جائے گا اور اس میں سبکدوش سرکاری ملازمین اور انکے اہل خانہ بھی شامل ہونگے۔یہ سکیم بالکل مرکزی حکومت کی سکیم ’آیوش مان بھارت سکیم‘کے طرز پر ہی ہے اور اس سکیم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں وہ سبھی لوگ بھی آئیں گے جو آیوش مان بھارت سکیم میں رہ گئے ہیں۔آیوش مان بھارت سکیم کے دائرے میںجموں کشمیر میں قریب 6لاکھ کنبوں کو پہلے سے لایا گیا ہے ، جو 30 لاکھ نفوس پر مشتمل ہیں، جنہیں فی سال 5 لاکھ روپے کا صحت بیمہ حاصل ہے۔ اب نئی سکیم کے تحت مزید 15 لاکھ کن

جراحیوں کی سرِنو شروعات

 یہ امر باعث اطمینان ہے کہ کورونا وائرس کی وباء پھیلنے کے بعد گزشتہ6ماہ سے نظامت صحت کشمیر کے تحت آنے والے ہسپتالوں میں بند پڑا جراحیوں کا عمل دوبارہ شروع کیاجارہا ہے۔ہم نے انہی سطور میں کئی دفعہ اس سنگین مسئلہ کی جانب سے حکام کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی تھی ۔اب اگر حکام نے عوامی مشکلات کو دھیان میں رکھتے ہوئے  ہسپتالوں میں اوپی ڈی خدمات کے بعد آپریشن تھیٹر خدمات بحال کرنے کا فیصلہ لیا ہے تو اس کا یقینی طور پر خیر مقدم کیاجانا چاہئے کیونکہ یہ براہ راست انسانی زندگیوںکے ساتھ جڑا ہوا معاملہ ہے ۔ہم نے جموں اور سرینگر کے میڈیکل کالجوں سے منسلک بڑے ہسپتالوں اور اضلاع میں قائم میڈیکل کالجوںسے جڑے ہسپتالوں اور دونوں صوبوں کے نظامت صحت کے تحت آنے والے ضلعی و سب ضلعی ہسپتالوں ،کمیونٹی ہیلتھ سینٹروںاور پرائمری ہیلتھ مراکز میں جراحیوں کا عمل بند کرنے کے نتیجہ میں حفظان صحت پر پڑنے

کورونا وبا… لاپرواہی کہیں لے نہ ڈوبے!

جموںوکشمیر یونین ٹریٹری میں کورونا کے حوالے سے حالیہ دنوںجو نئی درجہ بندی کی گئی ہے ،وہ قطعی اطمینان بخش نہیں ہے ۔وادی کشمیر میں صرف ایک ضلع بانڈی پورہ کو چھوڑ کر باقی سبھی اضلاع ریڈ زون میں رکھے گئے ہیں جبکہ جموں میں رام بن ضلع ریڈ زون میں ہے۔کٹھوعہ ، سانبہ ، ریاسی ، اودھمپور، پونچھ ، راجوری اور جموں کو اورینج زون اور خطہ چناب کے ڈوڈہ و کشتواڑ اضلاع کو گرین زون میں شمار کیا گیا ہے۔   حکومت کی نئی درجہ بندی اور بندشوں کی تفصیلات سے واضح ہوجاتا ہے کہ جموںوکشمیر خاص کر وادی کشمیر میں صورتحال قطعی اطمینان بخش نہیں ہے۔یہاں مسلسل نئے معاملات سامنے آرہے ہیں اور روزانہ 1500سے2000کے قریب نئے معاملات کاسامنے آنا معمول بن چکا ہے جبکہ اموات کی تعداد بھی دوہرے ہندسوں میں ہی رہتی ہے۔ظاہر ہے کہ یہ قطعی طور کوئی اطمینان بخش صورتحال نہیں ہے اور اس طرح متواتر اموات اور نئے کیسوں کا سامن

لیفٹنٹ گورنر کے خوشگوار اعلانات

 جموںوکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر حسب توقع کافی متحرک نظر آرہے ہیں۔منوج سنہا راج بھون میں کم جبکہ باہر زیادہ وقت گزار رہے ہیں اور اُس خلیج کو مسلسل پاٹنے کی کوشش کررہے ہیں جو عوام اور حکومت کے درمیان اب کافی عرصہ سے پائی جارہی ہے۔منوج سنہا چونکہ سیاسی پس منظر رکھتے ہیں اور زندگی کا بہت بڑا حصہ سیاسی میدان میں گزارا ہے تو اُن سے پہلے دن سے ہی یہ امید کی جارہی تھی کہ وہ کاغذی کیڑا بننے کی بجائے قضیہ زمین بر سر زمین والا اپروچ اختیار کریں گے ۔ویسے جب اُن کا تقرر ہوا تو اُس وقت بھی یہی بتایاجارہا تھا کہ مرکزی حکومت نے صرف اسی غرض سے جموںوکشمیر کا لیفٹنٹ گورنر بنا کر بھیجا کہ وہ عوامی رابطے استوار کریں اور جموںوکشمیر میں سیاسی سرگرمیوں کا احیاء کرنے میں اپنا کردار نبھائیں کیونکہ سابق لیفٹنٹ گورنرنے کافی حد تک اپنے آپ کو راج بھون اور بیروکریسی کے ساتھ میٹنگوں تک ہی محدو کیا ہوا تھا۔ بہر

ماحولیاتی تحفظ کیلئے راست اقدامات ناگزیر!

  ماہرین ماحولیات نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ یہاں کے گلیشئر بڑی تیزی سے پگھل رہے ہیں ، جسکی وجہ سے مستقبل میں یہاں کے ماحولیات پر خطرناک اثرات مرتب ہونے کا قوی احتمال ہے۔گلیشئروں کے سرعت کے ساتھ پگھلنے کے نتیجے میں نہ صرف یہاں کے آبی ذخائر متاثر ہورہے ہیں بلکہ اسکے اثرات یہاں کی زرعی پیداوار اور اقتصادیات پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سال 1972سے اب تک وادی میں پانی کی قلت کے نتیجے میں تقریباً 1200مربع کلومیٹر زرعی زمین کو میوہ باغات میں تبدیل کیا جاچکا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عالمی حدت یا موسمی تغیرات کا معاملہ ایک عالمی مسئلہ ہے لیکن اسکے باوجود ہر خطے میں اس مسئلے کی مقامی وجوہات کارفرما ہوتی ہیں۔عام طور سے گلیشئروں کے پگھلنے کی رفتار میں تیزی کے کلیدی اسباب میں اور باتوں کے علاوہ ماحولیاتی کثافت میں اضافہ اور جنگلات کے حجم میں کمی قرار دیئے جاتے ہیں۔ ماہری

کوروناکا قہراور حکومتی انتظامات ! | طوفان جب تھما نہیں تو لاپرواہ کیوں بنیں

 کورونا متاثرین کے حوالے سے مقامی اور ملکی سطح پر جو اعدادوشمار سامنے آرہے ہیں،وہ پریشان کن ہی نہیں بلکہ نیندیں اچٹ دینے والے ہیں۔گزشتہ روز جموںوکشمیر میں 1700افراد کورونا وائرس میں مبتلا پائے گئے جو اب تک ایک دن میں سب سے زیادہ تعداد تھی ۔اسی طرح آج جو مرکزی وزارت صحت کی جانب سے کورونا اعدادوشمار ظاہر کئے گئے ہیں،وہ بھی اطمینان بخش نہیں ہیں۔مذکورہ وزارت کی جانب سے ظاہر کئے گئے اعداد وشما ر کے مطابق ملک میں کورونا اموات کی تعداد بڑھ کر79ہزارہوگئی ہے جبکہ کورونا متاثرین کی تعداد تقریباً48لاکھ تک پہنچ گئی ہے ۔وزارت صحت کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تقریباً95ہزارافراد ملک میں کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔ گوکہ مقامی اور ملکی سطح پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور معاملات کنٹرول میں ہیں لیکن اعدادوشمار کا باریک بینی سے تجزیہ کیاجائے تو یقینی طور پر سب ک

بجلی کی آنکھ مچولی

اگرچہ ہر سال یہ روایت رہی ہے کہ دربارکی منتقلی کے بعد جموں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی بڑھ جاتی ہے اور لوگ شدید گرمیوں میں انتہائی مشکلات کاشکار ہوجاتے ہیں تاہم اس بار چونکہ سیکریٹریٹ کے بیشتر دفاتر گرمیوں میں بھی کووڈ انیس کی وجہ سے جموں میں کھلے رہے جبکہ بیشتر بیروکریٹ اور لیفٹنٹ گورنر سے لیکر اُن کے مشیر بھی جموں آتے جاتے رہتے ہیں تو یہ اُمید کی جارہی تھی کہ شاید اس بار جموں باسیوں کو بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی سے نجات مل جائے گی لیکن یہ اُمیدیں بھر نہ آئیں اور فی الوقت بجلی کٹوتی اپنی انتہا پر ہے۔جموں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی کا یہ عالم ہے کہ اکثرو بیشتر گرمی کی وجہ سے بچے بلکنے لگتے ہیں جبکہ بزرگ بھی پریشان حال رہتے ہیں۔ حالانکہ حکومت نے بارہا اعلان کیاہے کہ جموں میں بغیرکٹوتی بجلی کی سپلائی فراہم ہوگی لیکن دور دراز علاقوں کی تودور کی بات، جموں خاص میں بھی ان دنوں بجلی

قبضہ چُھڑانے کی مہم

 گزشتہ چند مہینوں سے جموں شہر اور اس کے مضافاتی اضلاع میں سرکاری اور جنگلاتی اراضی سے قبضہ چھڑانے کے نام پر ایک مخصوص طبقہ کے لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، جس کے تحت نہ صرف انہدامی مہم عمل میں لاکر مکینوںکو بے خانماں کیا جارہا ہے بلکہ محکمہ مال کے ریکارڈ میں اندراجات کو ہذف بھی کیاجارہا ہے۔  انہدامی مہم اور سرکاری اراضی کی ’بازیابی‘ کا یہ سلسلہ اپنی نوعیت کا نہ کوئی پہلا واقعہ تھا اور نہ آخری ہوگا۔یہ مہم اب گزشتہ چند برسوں سے جاری ہے اور شاید آگے بھی جاری رہے گی ۔سرکاری و جنگلاتی اراضی پر ناجائز قابضین کو یقینی طور پر بے دخل کیاجا نا چاہئے اور اس میں کسی قسم کا امتیاز نہیں برتنا چاہئے ۔سرکاری یا جنگلاتی اراضی اقلیتی طبقہ نے ہڑپ کر لی ہو یا اکثریتی طبقہ نے ،دونوں قانون کی نظروں میں قصور وار ہیں اور اس کی سزا ایسے قابضین کو ضرور ملنی چاہئے تاہم جہاں سرکاری مش

منشیات اور کشمیر

پوری دنیا سمیت جموںوکشمیر میں کورونا وائرس کے خونی پنجوں نے جب نوع انسانی کو اپنے شکنجے میں کسا ہے ،ایسے جاں گسل حالات میں مفاد پرستوں کا ایک ایسا ٹولہ حد سے زیادہ سرگرم ہوچکا ہے جو ان مخدوش اور نامساعد حالات کی آڑ میں انسانوں کو زہر بیچ کر اپنا الو سیدھا کرنے میں لگا ہوا ہے ۔بات منشیات کی  ۔گزشتہ چند ہفتوں سے جس طرح ہر روز جموںوکشمیر کے کم وبیش سبھی علاقوں سے منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے ان کے قبضہ سے بھاری مقدار میں نشہ آور ادویات ،چرس ،بھنگ ،افیون برآمد کرنے کی خبریں سامنے آرہی ہیں،اُن سے انسان دھنگ رہ جاتا ہے۔ ایک وقت جب جموں وکشمیر ،خاص کر وادیٔ کشمیر، کے حوالے سے یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی تھی کہ کشمیری سماج اس خجالت سے مکمل طور ناآشناہے بلکہ یہاں تمبا کو کو چھوڑ کر دیگر انواع کے نشوں کے بارے میں سوچنا اور بات کرنا بھی گناہ عظیم تصور کیاجاتا تھا تاہم اب وہ صورت

شعبہ تعلیم مائل بہ تنزل کیوں؟

گزشتہ روز یعنی8ستمبر کو عالمی یوم خواندگی اس عزم کے ساتھ منایاگیا کہ سو فیصد شرح خواندگی کی حصولی عالمی سطح پر یقینی بنانے کیلئے کوششیں جاری رہیں گی۔یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ پوری دنیا نے کل اُس وقت عالمی یوم خواندگی منایا جب پوری دنیا میں تعلیمی ادارے گزشتہ چھ ماہ سے بند پڑے ہوئے ہیں اور اول جماعت کے طلاب سے لیکر پی ایچ ڈی سکالر تک گھر بیٹھے آن لائن ایجوکیشن نظام سے استفادہ حاصل کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ ویسے دیکھا جائے توکسی بھی قوم کے لئے تعلیم ایک ا یسا اہم ترین شعبہ ہے جوا س کی سماجی بیداری، معاشی خوشحالی اور ہمہ جہت ترقی کاپیمانہ طے کرتا ہے تاہم جموں و کشمیر میں بد قسمتی سے اس کی موجودہ صو رتحال انتہائی مایوس کن ہے جس کے مضر اثرات مستقبل میں انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ کہنے کو تو گزشتہ چند برسوں میں سکولوں اور کالجوں کی بھر مار کر دی گئی ہے اور بقول حکومت پرائمر

2014سیلاب کے چھ سال

 2014کے تباہ کن سیلاب کے 6سال مکمل ہوچکے ہیں ۔گوکہ اس سیلاب کے بعد وزیراعظم کی جانب سے تعمیر نو پروگرام کے تحت 80ہزار کروڑ روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیاگیاتاہم زمینی صورتحال مایوس کن ہے ۔تعمیر نو کا کام جو چھ سال قبل شروع کیاگیاتھا،تاحال مکمل نہیں ہوپایا ہے جبکہ 63پروجیکٹوں میں سے اب تک صرف18مکمل کئے گئے ہیں۔انتظامی سست روی کی انتہا یہ ہے کہ جہلم کی کھدائی کا پروجیکٹ بھی مکمل نہیں ہوپایا۔ حالیہ بارشوں کے بعد جب جہلم بپھر نے لگا تھا تو پوری وادی میں لوگ دہشت میں مبتلا ہوگئے تھے کیونکہ وہ ابھی2014کے تباہ کن سیلاب کو نہیںبھولے ہیں جب جہلم کے پانیوں نے بیشتر وادی کو اپنی لپیٹ لیکر بھاری پیمانے پر تباہی مچادی تھی۔2014سیلاب کے بعد یہ امید کی جارہی تھی کہ حکومت نے کچھ سبق سیکھا ہوگا اور اب پیشگی اقدامات کئے جائیں گے تاہم جب جب گزشتہ دنوں دو دن کی بارشوں کے بعدپانی کی سطح جہلم میں بل

کورونا اور جموں…گھبرائیں نہیں بس سنبھل جائیں

صوبہ جموں خاص کر جموںشہر میں جس طرح گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران کووڈ معاملات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ،وہ واقعی تشویشناک ہے اور ایک بار پھر اس ناقابل تردید حقیقت کی جانب واضح اشارہ کرتا ہے کہ کورونا ہمارے انسانی سماج میں گہرائی تک سرایت کرچکا ہے ۔جموں شہر میں گزشتہ چارروز کے دو ران کم و بیش دو ہزار کورونا معاملات سامنے آئے ہیں اور مارچ سے شروع ہونے والے کووڈ بحران میں پہلی دفعہ گزشتہ تین روز سے جموں نے کشمیر کو ہلاکتوں اور کیسوں کے معاملات میں پچھاڑ دیاہے ۔گزشتہ ہفتہ تک عام تاثر یہی تھاکہ کورونا کشمیر میں بری طرح پھیل چکا ہے جبکہ جموں قدرے محفوظ ہے کیونکہ کیس زیادہ نہیں آرہے تھے ۔عوامی تاثر یہ تھا کہ شاید کشمیر میںلاپرواہی زیادہ ہورہی ہے ،اسی لئے وہاں کورونا پھیل رہا ہے ۔ہمارے سیول سیکریٹریٹ میں بھی بیروکریٹوں کی سوچ اس سے کچھ مختلف نہیں تھی اور عملی طور کشمیری لوگوں پر لاپرواہی کے طعنے ک