تازہ ترین

بی ایس این ایل…

  آج سے16سال قبل وادی میں جب بی ایس این ایل کی موبائل فون سروس شروع ہوئی تھی، تو عام لوگوں کو یہ گمان گزرا تھا کہ وہ ترسیل و ابلاغ کے حوالے سے ایک بڑی جست لگا کر قدامت کی سرحدوں کو پھاند رہے ہیں،لیکن روزِ اول سے ہی ثابت ہوگیا کہ بھارت سنچار نگم لمیٹڈ کی سروس محدود ہونے کے ساتھ ساتھ صارفین کی ضروریات اور جذبات کے معاملے میں نہ صرف تہی دامن واقع ہوا ہے،بلکہ بے حسی کے پنگوڑے جھولنے میں مصروف ہے۔ پہلے پہل بنیادی ڈھانچے کی کمی کو وقت کے ساتھ ساتھ پورا کرنے کی بی ایس این ایل کی یقین دہانیوں پر صارفین بھی صدق دلی کے ساتھ اعتبار کر رہے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ یقین دہانیاں بھونڈا مذاق ثابت ہوئیں، کیونکہ سروس میں کسی قسم کی بہتری پیدا ہونے کی بجائے بگاڑ میں مزید اضافہ ہوگا۔ اگرچہ اس وقت وادی کے سیل فون مارکیٹ میں مزید کئی کمپنیاں بھی موجود ہیں جن میں سے کچھ نے دھوم مچا رکھی ہے ۔

ماحولیاتی آلودگی اور انسانی مداخلت! | جاگ جائیں اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے

ماحولیات کے بچائو کے لئے مسلسل آوازیں اٹھائی جارہی ہیں۔گزشتہ ہفتے ہی وزیراعظم نریندرمودی نے فضاء میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کم کرنے کے سلسلے میں بھارت کے عزم کا اعادہ کیا او رکہا کہ بھارت عالمی برادری کے ساتھ مل کر ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کی ہر پہل کا ساتھ دے گا عالمی سطح پر مسلسل جنگلات کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرکے ماحول میں اس کی اہمیت باور کرائی جارہی ہے۔گزشتہ دنوںایک ویب نار کے ذریعے کشمیر کے سرکردہ ماہرین ماحولیات نے اس سنگین مسئلہ پر سیر حاصل گفتگو کی اور جموںوکشمیر میں ماحولیات کو درپیش خطرات پر مفصل روشنی ڈالی۔ زمین پر خشکی کا ایک تہائی حصہ جنگلات پر مشتمل ہے اور 1.6بلین لوگوں کا انحصار جنگلات پر ہے۔ انسان کرہ ارض پر ڈیڈھ کروڑ انواع میں سے ایک ہے۔ انسان دنیا کے ان جانداروں میں سرفہرست ہے جن کی تعداد اس سیارے پر بڑھ رہی ہے۔ اکثر جانوروں اور پودوں کی آبادی

کشمیری زبان کا فروغ

  نئی تعلیمی پالیسی 2020 کی سفارشات کے مطابق کشمیری زبان و ادب کو فروغ دینے کیلئے کشمیر یونیورسٹی میں جلد ہی اکیڈیمی آف کشمیری لنگویج قائم کی جائے گی۔رئیس جامعہ کشمیرپروفیسر طلعت احمد کے مطابق اکیڈیمی کے قیام سے نہ صرف اضافی فنڈ دستیاب ہونگے بلکہ یہ مزید فیکلٹی عہدوں کے قیام کا باعث بنے گی ۔ پروفیسر طلعت نے کہا کہ یہ اکیڈیمی ترجمے کے بارے میں مختصر نصاب پیش کر سکتی ہے تاکہ کشمیری ادب ، فلسفہ اور ثقافت کا بھرپور خزانہ پوری دنیا تک پہنچ سکے۔یہ اعلان انتہائی امید افزاء ہے کیونکہ عملی طور پر سرکاری سطح پر کشمیری زبان کو دیس نکال دیا گیا ہے اور رسمی طور ہائی سکول سطح پر ایک مضمون کی حیثیت سے پڑھائے جانے کے علاوہ اس کی ترویج کیلئے عملی طور کچھ نہیں کیاجارہاہے ۔کشمیری زبان کی زبوں حالی پر آج کل بہت سے لوگ ماتم کناں ہیں ۔کچھ حکومت کی عدم توجہی پر نالاں توکچھ اپنی غفلت پر خفالیکن حقیقت ی

نیاصنعتی پیکیج اُمید افزاء

 لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے گزشتہ دنوںجموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکز کے ذریعہ صنعتی شعبے میں صنعتی نمو ، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کیلئے 28400 کروڑ روپے مالیت کے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ پیکیج2021کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی کابینہ نے جموں وکشمیر کیلئے 28400کروڑ روپے مالیت کے صنعتی پیکیج کو6 جنوری کومنظور کیا اور اس کا مقصدمرکزی انتظام والے علاقے میں صنعتی سیکٹر کو فروغ دیکر ساڑھے4 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرنا ہے۔منوج سنہاکاکہناتھاکہ جموں وکشمیر میں یہ کثیرالمقاصدصنعتی پیکیج 17 سال تک یعنی 2037 تک لاگو رہے گا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ مرکز کے منظورکردہ صنعتی پیکیج کے تحت جموں وکشمیر میں 20ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔انہوں نے کہا کہ نئے صنعتی پیکیج کے اعلان کے ساتھ ہی مرکزی حکومت نے ایک بار پھرصنعتی نمو ، خوشحالی اور روزگار کے بیج بونے کے لئے

بجلی کی فراہمی…ذمہ داریوں سے فرار بجا نہیں

 یوں تو سردیاں شروع ہوتے ہی موسم سرما کی آمد کا اعلان ہوتا ہے ۔وادی میں بھی اگر چہ سردیوں کی شدت ہی سرما کا آغاز مانا جاتا ہے لیکن یہاں چند اور ایسی چیزیں بھی ہیں جو سرما کی آمد کا اعلان کرتی ہیں ۔ان علامات میں بجلی کٹوتی شیڈول میں بے پناہ اضافہ اور پانی کی قلت سر فہرست ہیں ۔جونہی بجلی کی آنکھ مچولی عروج پر پہنچتی ہے تو لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ حکومت نے موسم سرما کا اعلان کردیا ہے۔امسال بھی حسب روایت اس شیڈول پر خاموشی سے عمل شروع کیا گیا لیکن اس سے قبل بجلی کی سپلائی پوزیشن انتہائی ناگفتہ بہہ بن جائے ،حکومت نے ذمہ داریوں سے دامن جھاڑنے کیلئے رسم ِ دنیا نبھانے کی خاطر لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ صبح اور شام کے اوقات میں بجلی کا منصفانہ استعمال کریں تاکہ لوڈ شیڈنگ کی کم سے کم ضرورت پڑے۔ سرکار کا ماننا ہے کہ اگر صارفین اپنے ایگریمنٹ کے مطابق بجلی کا استعمال کریں گے تو بجلی کٹوتی ک

کشمیر میں ایمز کا قیام … مسلسل تاخیر کیوں؟

 وادی میں آل انڈیا انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا قیام ہنوز ایک خواب بنا ہوا ہے کیونکہ پانچ سال گزر جانے کے باوجود بھی تاحال اس وقاری ادارہ کا تعمیری کام شروع نہیں کیاجاسکا ہے ۔خیال رہے کہ سات نومبر2015کو وزیراعظم نریندر مودی نے اونتی پورہ میں ایمز کے قیام کا اعلان کیاتھااور مرکزی حکومت نے 1828کروڑ روپے کے تخمینہ کی لاگت سے اس پروجیکٹ کو منظوری بھی دی تھی ۔اس طرز کا ایک انسٹی چیوٹ جموں کو بھی دیاگیاتھا جس کیلئے وجے پور سانبہ کا انتخاب عمل میں لایاگیاتھا اور وہاں تعمیری سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہیں تاہم افسوس کا مقام ہے کہ کشمیر میں اس انسٹی چیوٹ کے قیام کے سلسلہ میں سرد مہری کا مظاہرہ کیاجارہا ہے اور ابھی ٹیندر نگ کے عمل سے بھی آگے نہیں بڑھ پارہا ہے۔ایمز کے قیام کیلئے اونتی پورہ میں تعمیراتی ایجنسی سینٹرل پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کو 1886کنال اراضی بھی دستیاب کرائی گئی تاہم حیرت کا

موبائل انٹرنیٹ … اب اور کتنا انتظار ؟

  جموںوکشمیر حکومت  کے محکمہ داخلہ نے8جنوری کی رات کو جاری کئے گئے اپنے ایک حکم نامہ میں اس یونین ٹریٹری میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کی معطلی میں مزید توسیع کرکے اس کو22جنوری تک بڑھادیا ہے۔پرنسپل سیکریٹری محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری اس حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو اس بات کے خدشات ہیں کہ پاکستان کی جانب سے افراتفری کی کوششوں میں اضافہ کرنے کے علاوہ عسکری صفوںمیں نوجوانوں کی بھرتی اوردراندازی کی کوششیںبھی ہونگی۔پرنسپل سیکریٹری محکمہ داخلہ کے مطابق جنگجویانہ سرگرمیاں جاری ہیں،ایل او سی اور بین الاقوامی سرحد پر حالیہ دراندازی کی کوششیں اور اسلحہ کی برآمدگی اس کا ثبوت ہے، لہٰذا ناگزیر ہے کہ موبائل انٹرنیٹ سروس کی رفتار پر بندشیں جاری رکھی جائیں۔  انٹرنیٹ رفتار پر قدغن کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے اکثر وبیشتر ایسے جواز پیش کئے جارہے ہیں ،جو غی

سڑکوں کی تعمیر…منصوبہ بندی اور تال میل کا فقدان کیوں؟

جدید دور میں سڑکوں اور شاہرائوں کو ترقی کی شہ رگ کہا جارہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایک خصوصی پروگرام کے تحت مرکزی حکومت نے ملک کے تمام دیہات کوسڑکوں سے جوڑنے کا بھیڑا اٹھا رکھا ہے اور اس ضمن میں ملک کی دیگر ریاستوں سمیت جموں و کشمیر میں بھی بڑے پیمانے پر نئی سڑکیں تعمیر کی جارہی ہیں تاہم پہلے سے ہی موجود سڑکوں کا حال بے حال ہے ۔ سرینگر اور جموں شہروں کی بیشتر سڑکیں ویران ہوچکی ہیں اور معمولی بارشوں و برف باری کے بعد یہ سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرتی ہیں ۔آخر کیا وجہ ہے کہ ایک سال کے اندر اندر ہی سڑکوں کی حالت اتنی خستہ ہوگئی حالانکہ گزشتہ برس سے 30/30کروڑ روپے کی لاگت سے جموں اور سرینگر شہر کی  بیشترسڑکوں کو میکڈیمائز کیا گیاتھا۔سڑکوں کی اس خستہ حالت کیلئے گوکہ غیر معیاری مٹیریل کے استعمال کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے لیکن صرف غیر معیاری مٹیریل کا استعمال ہی اکیلے اس صورتحال کیلئے ذمہ

محکمہ بجلی … نجکاری کی جانب سفر جاری؟

 محکمہ بجلی کو غیر متمرکز کرنے کے سرکاری فیصلہ کے خلاف بجلی ملازمین اور عوامی حلقوں میں مسلسل اضطراب پایا جارہا ہے اور اس عمل کو محکمہ بجلی کی نجکاری کے منصوبے سے تعبیر کیاجارہا ہے ۔گوکہ محکمہ بجلی کے نزدیک یہ ایک قانونی ضرورت ہے اور اس کے نتیجہ میں صارفین سے آمدن کی وصولی میں آسانی پیدا ہوگی تاہم جانکار حلقوں کے نزدیک یہ محکمہ کو نجی ہاتھوں میں دینے کی کوشش ہے اور اس کا واحد مقصدشدید ترین خسارے سے دوچار محکمہ بجلی کو خسارے سے نکال کر منافع کی راہ پر ڈالنا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جموں وکشمیر الیکٹرسٹی ایکٹ 2010کے تحت محکمہ کی غیر متمرکزیت لازمی بن چکی تھی کیونکہ اس قانون کی روسے محکمہ کو تین الگ الگ حصوں تقسیم کرنا تھا جن میں پیداواری ،ترسیلی اور تقسیمی شعبہ جات شامل ہیں ۔اس ضمن میں پیداواری شعبہ کو پہلے ہی محکمہ سے الگ کرکے ایک کارپوریشن کی شکل دی گئی ہے اور اس کے بعد ترسیلی

سماج کا تانا بانا بکھر کیوں رہا ہے !

  گوکہ 5اگست 2019کے بعد کشمیر کا سیاسی نقشہ بدل چکا ہے اور یونین ٹریٹری کی صورت میں عوامی حکومت کی عدم موجودگی میں لیفٹنٹ گورنر سرکارچلا رہے ہیں تاہم اس سیاسی بحث سے قطع نظر وادی میںکورونا وباء کے باوجود گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران سماجی سطح پر ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن کی وجہ سے اس سماج کے کھوکھلے ہونے کی تصدیق ہوجاتی ہے ۔ جس طرح صنف نازک کے ساتھ ہوئی زیادتیوں کی المناک کہانیاں اخبارات میں شائع ہورہی ہیں،انہوں نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ اخلاقی انحطاط طوفان کی تیزی کے ساتھ ہمارے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔بے راہ روی ،بد اخلاقی ،بے ایمانی ،رشوت خوری اور کنبہ پروری نے لوگوں سے غلط اور صحیح میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہی چھین لی ہے۔ اس پرطرہ یہ کہ اجتماعی حس نام کی چیز ہی جیسے عنقا ہوگئی ہے اور لوگوں کی اکثر یت اس تشویشناک صورتحال سے بالکل بے پرواہ ہے۔ ایک وقت تھا جب یہی قوم اپن

برفباری اورمکرّر تجربہ

 رواں موسم کی اب تک کی سب سے بڑی برفباری کی وجہ سے وادی میں ایک بار پھر نظام ِزندگی تقریباً تھم کررہ گیااور آخری اطلاعات ملنے تک اس برف باری کی وجہ سے وادی کے یمین و یسار میں تباہی مچ گئی ہے ۔وادی کا بیرونی دنیا سے زمینی و فضائی رابطہ مسلسل مسدو د ہے کیونکہ جہاںجموں سرینگر قومی شاہراہ مسلسل بند پڑی ہوئی ہے وہیں سرینگر ایئرپورٹ پر مسلسل تیسرے روز نہ کوئی پرواز لینڈ کرسکی اور نہ ہی کوئی پروا زاُڑان بھرسکی۔بھاری برف باری کی وجہ سے معمولات ٹھپ ہیں اور گوکہ انتظامیہ اپنی طرف سے عوام کو ہر ممکن راحت پہنچانے کی کوشش کررہی ہے تاہم مسلسل برف باری حکومتی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہے ۔اتنے بڑے پیمانے پر برف با ری کے باوجود بھی یہ امر اطمینان بخش ہے کہ انتظامی مشینری نے تقریباًسبھی اہم شاہرائوں کو کھلا رکھا ہے اور بجلی کا نظام بھی کسی حد تک سالم ہی ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ دیہی علاقوں میں بجلی ک

کورونا : ویکسین آنے تک احتیاط ہی علاج ہے

 دنیا کے مختلف ممالک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر شروع ہوچکی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ یہ لہر پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کورونا معاملات میں ایک بار پھر اضافہ کو دیکھتے ہوئے نئے سرے سے جزوی اور مکمل لاک ڈائون کا نفاذ عمل میں لایاجارہا ہے جس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ عالمی معیشت میں مزید تنزلی آسکتی ہے کیونکہ کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے اقتصادی سرگرمیوں میں مزید ٹھہرائو فطری ہے ۔ہمارے یہاں صورتحال اگر چہ قدرے بہتر ہے تاہم کورونا کی دوسری سٹرین سے متاثرہ ایسے افراد سامنے آرہے ہیں جو یورپ یا برطانیہ سے حالیہ ایام میں واپس وطن لوٹ چکے تھے ۔اس بات سے بھی انکار نہیںہے کہ یہاں ابھی کورونا کی پہلی لہر رفتہ رفتہ تھم رہی ہے اور کورونا معاملا ت میں بتدریج کمی واقع ہورہی ہے تاہم معیشت کا پہیہ ابھی بھی پوری طرح بحال نہیں ہوچکا ہے اور اقتصادی سرگرمیاں بدستور متاثر ہ

بَم و بارُود سے کبھی توبہ تو کیجئے

 ایک ایسے وقت جب پوری دنیا کورونا وائرس کی وباء سے جوجھ رہی ہے اور اس کو قابو کرنے کے جتن کررہی ہے،ہمارے یہاں دشمنیاں ختم ہونے کا نام لے رہی ہیں۔منقسم جموںوکشمیر کی سرحدیں مسلسل آگ اُگل رہی ہیں۔خود وادی کشمیر کے اندر بھی مسلح تصادم آرائیوں کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔جمعہ کو ہی راجوری کے نوشہرہ سیکٹرمیںگولہ باری کے دوران ایک فوجی ماراگیا جبکہ کل ہی جموںصوبہ کے کئی سیکٹر وں میں آتشیں گولہ باری چل رہی تھی جس کے نتیجہ میںکئی مکانوںکو نقصان پہنچنے کے علاوہ چند ایک لوگ زخمی بھی ہوگئے ہیں۔ کل ملا کر صورتحال یہ ہے کہ جموںوکشمیر کے باسیوں کو شاید ہی ایسا کوئی دن نصیب ہوتا ہے جب وہ پیر پسار کر سو سکیں۔ موجودہ جاں گسل حالات میں یہ دردناک صورتحال مزیدسنگین بن چکی ہے کیونکہ ایک طرف کورونا ہے تو دوسری جانب بھارت اور پاکستان کی دشمنی، جو اب جموںوکشمیر کے عوام کیلئے وبال جان

پالی تھین سے پاک جموںوکشمیر | خواب شرمندہ ٔ تعبیر کب ہوگا؟

عدالت عالیہ نے گزشتہ دنوںحکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ پالی تھین سے پاک جموں وکشمیر کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے نگرانی نظام مزید سخت کرے اور نہ صرف جموں وکشمیرمیں پالی تھین کی برآمد روکی جائے بلکہ جموںوکشمیر کے اندر بھی پالی تھین کا استعمال ختم کیاجائے ۔عدالت نے حکومت کی جانب سے پالی تھین لفافوں کے استعمال کے اعتراف کے بعد کہا کہ پالی تھین کے استعمال سے ماحولیاتی خوبصورتی ماند پڑرہی ہے اور اگر حساس ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنا ہے تواس ناسور کا خاتمہ لازمی ہے ۔یہ پہلی دفعہ نہیں ہے جب عدلیہ نے پالی تھین کے استعمال کو لیکر حکومت کی کھینچائی کی ہو بلکہ اس سے قبل بھی کئی دفع عدلیہ کی جانب سے حکومت کو کھری کھری سننا پڑی اور سچ تو یہ ہے کہ عدلیہ کے دبائو کے نتیجہ میں ہی حکومت کو پالی تھین پر پابندی عائد کرنے کیلئے قانون سازی کرنا پڑی تھی تاہم یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ پابندی کا اطلاق قانون

جنگلی جانوروں کی خونچکانی …حکومت بے بس کیوں؟

انسان اور جنگلی جانوروں کے مابین تصادم کا مسئلہ اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ اس عا لم ِ رنگ و بو کا وجوداور فریقِ اوّ ل نے ہمیشہ فریق ِ ثانی پر اس کی تمام تر وحشت ، خونخواری اور طاقت کے باوجود غلبہ پایا ہے۔لیکن بارہا پانسہ پلٹ بھی جاتا ہے اور غالب مغلوب ہو کر جنگلی جانوروں کی درندگی کا شکار ہو کر موت کے منہ میں پہنچ جاتا ہے۔ جنگلی درندوں کے بارے میں ما ہرین کا کہنا ہے کہ وہ تب تک انسانوں پر حملہ آور نہیں ہوتے جب تک انہیں اپنے لئے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا یا پھر دونوں کا براہِ راست آمنا سامنا نہیں ہوتا۔ یعنی ان کے لئے ایک طرح سے یہ بقا کی لڑائی ہو تی ہے اور یہ جبلت دنیا کی ہر زندہ شے میں پائی جاتی ہے۔ لیکن جب درندے اپنی فطری خوراک کے علاقوں کو چھوڑ کر بستیوں کا رخ کر کے انسانوں کا شکار کرنے لگتے ہیں تو یہ ایک تشویشناک اور غیر فطری رجحان ہے جس پر غور و فکر کرنا اور اس کے سدِ باب کے لئے اقد

عارضی ملازمین اور سرکار

جموںوکشمیر میں مختلف محکموں میں تعینات عارضی ملازمین پھر ہڑتال پر ہیں جس کی وجہ سے بیشتر محکموں کا کام کاج متاثر ہوچکا ہے ۔ یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں ہے جب یہ عارضی ملازمین ہڑتال پر چلے گئے ہیں بلکہ اب تک یہ ملازمین کئی دفعہ اپنے مطالبات منوانے کیلئے احتجاج کا راستہ اختیار کرچکے ہیںاور ہر بار سرکار کی یقین دہانیوں پر ہڑتال ختم کرکے کام پر لوٹ آئے تاہم مسائل جوں کے توں ہیں اور یقین دہانیاں زبانی جمع خرچ سے آگے نہ بڑھ سکیں۔ اس بات سے قطعی انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ حکومت کے مسائل ہیں اور مالی پوزیشن پتلی ہے ۔یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ جموںوکشمیر کے بجٹ کا بیشتر حصہ ملازمین کی تنخواہوں پر صرف ہوتا ہے جس کی وجہ سے ترقیاتی عمل بھی متاثر ہوتا ہے تاہم اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ یہ عارضی ملازمین ہی اصل میں ان اہم محکموں کو چلارہے ہیں ۔آج سرکار کو ان ملازمین کی مستقلی بار ِ گراں لگت

سال ِ رفتہ مایوسی سے عبارت،سال ِ نو میں بہتری کی اُمید

 سال2020ہم سے رخصت ہورہا ہے اور2021کا سورج بس طلوع ہونے ہی والا ہے ۔شورش زدہ جموں وکشمیر میں انسانی ہلاکتوںکے تعلق سے اگرچہ گزرنے والا سال گزشتہ برس کے مقابلے میں کسی حد تک بہتر رہا اور تشدد آمیز کارروائیوں میں اُتنے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا اتلاف نہیں ہوا تاہم حسب سابق ہر اعتبار سے یہ سال بھی عوام کیلئے مایوس کن ہی رہا اور مسرت و فراوانی کا شاید ہی کوئی لمحہ جموںوکشمیرکے عوام کو بالعموم اور کشمیری عوام کو بالخصوس ہاتھ لگاہوگا۔ سال رفتہ میں جب کشمیر سیاسی لاک ڈائون سے ابھرنے لگا ہی تھا توکورونا وائرس کی آفت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور طبی لاک ڈائون نے اہلیان ِ جموںوکشمیر کو اپنے گھروں تک محدود کرکے رکھ دیا۔کوروناکی یہ لہر آتے آتے وادی میں بہار آچکی تھی اور موسم گرما نے بھی دستک دی تھی تاہم لوگوں میں گرم جوشی مفقود ہی رہی کیونکہ راحت رسانی کا کوئی سامان میسر نہ ہوا۔سی

قومی شاہراہ…سفر آسان اور محفوظ کب بنے گا؟

 کشمیرکی شہ رگ کہلائی جانے والی سرینگر جموں قومی شاہراہ پر جس طرح ٹریفک جام معمول بن گیا ہے ،وہ مستقبل قریب میں پیش آنے والی نئی ہولناکیوں کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔قومی شاہراہ پر ٹریفک جام کا یہ عالم ہے کہ سرینگر سے جموں تک محض8سے  10گھنٹوں کا سفر اب 20کیا 30گھنٹوں میں بھی طے نہیں ہو پاتا ہے ۔گوکہ جمعہ کو شاہراہ مرمت کی غرض سے ٹریفک کیلئے بند رہتی ہے لیکن گزشتہ دو ایک ہفتوںکے دوران شاہراہ پر ٹریفک جام کی جو صورتحال بنی رہی ،وہ حکام کیلئے لمحہ فکریہ ہونی ہی چاہئے تاہم یہ صورتحال اس شاہراہ پر سفر کرنے والوں کیلئے مصائب و الم کی ایک طویل داستان لیکر آتی ہے۔ٹریفک نظام کی اس بدنظمی کی وجہ سے شاہراہ پر جان گنوانے اور زخمی ہو نے والوں کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار بھی اب زیادہ مؤجب ِ استعجاب و دلچسپی نہیں رہ گئے ہیں اور اسی وجہ سے اسے غیر سرکاری طور پر خونی شاہراہ کا نام بھی دیا

سکڑتی آبی پناہ گاہیں

  جموں و کشمیرکی خوبصورتی میں چار چاند لگانے والی قدرتی آب گاہوں اور جھیلوںمیں پچھلے 95سال کے دوران 50فیصد کمی آئی ہے۔ ایک تازہ ترین تحقیق میں کہاگیا ہے کہ جموں و کشمیر میں قدرتی جھیلوں اور آب گاہوں کوغیر قانونی قبضہ ، آلودگی اور پرتنائو صورتحال کی وجہ سے تشویشناک حد تک نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے 22اضلاع میں کل 3651چھوٹی بڑی آب گاہیں موجود ہیں جن میں پانچ آب گاہیں عالمی شہرت کی حامل ہے ۔ان میں جموں کی دو آبگاہیں سرنسر اورمانسر اور کشمیر کی دو آب گاہیںہوکر سر اور ولر جھیل شامل ہیں۔  رپورٹ میں اس بات کاپریشان کن انکشاف کیاگیا ہے کہ شہر سرینگر میں موجود قدرتی آب گاہیں اور جھیلیں غیر قانونی قبضہ کی وجہ سے ختم ہورہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرینگر میں 50فیصد آب گاہیں اور قدرتی جھیلیں ختم ہوچکی ہیںاور سرینگر شہر میں 95سال کے دوران آب

! بٹھنڈا سرینگر گیس پائپ لائن منصوبہ | آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہونے تک

جون2011میں سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بٹھنڈا پنجاب سے جموں کے راستے سرینگر تک 5000ک روڑلاگت والے725 کلو میٹر گیس پائپ لائن کے اہم پروجیکٹ کو منظوری دی تھی؟ جسے تین سال میں مکمل کرنے کا اعلان کیاگیا تھااور تکمیل کی حتمی تاریخ 6جولائی2014مقرر کی گئی تھی تاہم آج صورتحال یہ ہے کہ9سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی اس پروجیکٹ پر کام کا آغاز ہونا باقی ہے۔سابق وزیر اعلیٰ کے نزدیک یہ پروجیکٹ اس لئے انتہائی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ یہ متبادل توانائی کامؤثر ذریعہ بن سکتا تھا ۔یہی وجہ ہے کہ انہوںنے مقررہ مدت کے اندر اندر اس پروجیکٹ کو مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی اور اس کے بعد اس پروجیکٹ پر پیش رفت کے حوالے سے جائزہ میٹنگیں بھی طلب کرلی تھیں ۔کون یہ بھول سکتا ہے کہ 10دسمبر2012کووادی میں رسوئی گیس کے شدید ترین بحران کے بیچ وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے امید ظاہرکی تھی کہ بٹھنڈا جموں سرینگر7