رمضان اور ہماری ذمہ داریاں

  رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہم پر ایسے حالات میں سایہ فگن ہورہا ہے جب پوری دنیا کورونا وائرس کی وبائی بیماری سے جوجھ رہی ہے اور عملی طور تقریباً ساری دنیا لاک ڈائون میں ہے ۔دنیا بھر میں یہ مہینہ اپنے ساتھ برکتیں لاتاتھا اور بازاروں میں خاصی چہل پہل ہوا کرتی تھی لیکن اب کی بار بازاروں میں وہ رونق نہیں ہے۔مساجد،خانقاہوں اور زیارت گا ہوں میں کووڈ ایس او پیز کا خاص خیال رکھا جارہا ہے ۔یہ لمحات یقینی طور پر آزمائش کے ہیں اور ہمیں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے ۔ماہ مبارک کی سب سے بڑی خوبی یہ رہتی ہے کہ اس مہینہ میں دنیا بھر کے مسلمان اپنے صدقات ،عطیات اور زکواۃ ضرورتمندوں میں تقسیم کرتے آئے ہیں تاہم اس بار اس طرح کے حالات رمضان کے پہلے ہی پیدا ہوئے اور ہمیں اپنے ضرورتمند بھائیوں کی مدد کیلئے آگے آنا پڑا تاہم ابھی یہ کام ختم نہیں ہوا ہے اور اس وقت بھی ہمارے گرد و پیش میں

قبلہ درست کریں ورنہ فنا ہو جائینگے!

 ایک ایسے وقت جب کورونا وائرس کی وباء سے دنیا میں طبی نظام تقریباً مفلوج ہوچکا ہے اور اس ناگہانی آفت کے سامنے انسانی بے بسی ا س قدر انتہا کو پہنچ چکی ہے کہ اب لاشوںکا شمار رکھنا بھی مشکل ہورہا ہے ،یہ پریشان کن انکشاف ہوا ہے کہ دنیا میں نسل انسانی کو تباہ و برباد کرنے کیلئے عالمی دفاعی بجٹ مسلسل بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ۔سال رفتہ میں دفاعی ساز و سامان کی خریداری میںگزشتہ دہائی کا سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا ہے اور اس صرفہ میں بیک وقت3.6فیصد اضافہ ہوا ہے ۔حیرانگی کی با ت ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کو چھوڑیں ،اب تو ہمارا ملک بھارت بھی اس فہرست میں شامل ہوچکا ہے اور امریکہ وچین کے بعد بھارت دنیا کا ایسا تیسرا ملک بن چکا ہے جہاں دفاعی بجٹ میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ امریکہ میں 2019کے مقابلے میں3.6فیصد اضافہ کے ساتھ دفاعی بجٹ 1917بلین ڈالر تک پہنچ گیااور یہ 2010کے بعد سب سے زیادہ اضافہ ہے ۔ا

! کورونا وائرس اور عوامی لاپرواہی | قبلہ درست کریں ورنہ فنا ہوجائیں

ملک میں جان لیوا اور مہلک ترین عالمی وبا کورونا وائرس سے ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 70ہزارسے تجاوز کرگئی ہے جبکہ متاثرین کی تعداد1کروڑ 32لاکھ کا ہندسہ عبور کرچکی ہے جن میں سے11لاکھ کے قریب لوگ ابھی بھی حالت مرض میں ہیں۔یہ اعدادوشمار کسی بھی طور اطمینان بخش نہیں ہیں اور چیخ چیخ کر بتارہے ہیں کہ ملک میں کورونا مسلسل بے قابو ہی ہے ۔ایسے میں حالات ہم سے تقاضا کررہے ہیں کہ ہم زیادہ ہوش مندی کے ساتھ اپنے معاملات چلائیں ۔ویسے بھی ایک نئی تحقیق کے مطابق بھارت میں اگر فیس ماسک اور سماجی فاصلوں کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمدہوتا ہے تو کم از کم 2لاکھ اموات کو روکا جاسکتا ہے۔امریکہ میں واشنگٹن یونیورسٹی کے انسٹی چیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ اِویلویشن کی ایک سروے میں کہاگیا ہے کہ بھارت کے پاس اموات کم کرنے کا موقعہ ہے۔مذکورہ تحقیق کے مطابق اگر حکومت کی جانب سے وضع کردہ رہنماخطوط پر مکمل طور

کووڈ انیس… سدھر جائیں،سنبھل جائیں!

 دنیا کے مختلف ممالک میں کورونا وائرس کی تیسری لہر شروع ہوچکی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ یہ لہر پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کورونا معاملات میں ایک بار پھر اضافہ کو دیکھتے ہوئے نئے سرے سے جزوی اور مکمل لاک ڈائون کا نفاذ عمل میں لایاجارہا ہے جس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ عالمی معیشت میں مزید تنزلی آسکتی ہے کیونکہ کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے اقتصادی سرگرمیوں میں مزید ٹھہرائو فطری ہے ۔ہمارے یہاں بھی صورتحال کچھ بہتر نہیں ہے ۔یہاں بھی کورونا کی دوسری لہر شدت سے جاری ہے ۔گوکہ پہلی لہر کی وجہ سے نڈھال معیشت کا پہیہ ابھی بھی پوری طرح بحال نہیں ہوچکا تھا اور اقتصادی سرگرمیاں بدستور متاثرتھیں تاہم اب دوسری لہر اگر اسی طرح جاری رہی تو معیشت کا مزید کمزور ہونا طے ہے ۔  موجودہ حالات آنے والے مشکل ترین ایام کی جانب اشارہ کررہے ہیں۔کہنے کو تو لوگ بہت کچھ کہیں گ

پالی تھین کی وباء سے چھٹکاراکب ملے؟

  کسی زمانے میں عدلیہ کے دبائو کے نتیجہ میں حکومت کو پالی تھین پر پابندی عائد کرنے کیلئے قانون سازی کرنا پڑی تاہم یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ پابندی کا اطلاق قانون کی کتابوں تک ہی محدود رہا جبکہ عملی طور متعلقہ حکام کی ناک کے نیچے جموںوکشمیرمیں پالی تھین کا استعمال شدومد سے جاری ہے اور کوئی اسے روکنے والا نہیں ہے۔ مئی 2009میں پالی تھین لفافوں کے استعمال پر پابندی کا اعلان کیاگیا تھا۔یہ عجیب بات ہے کہ حکومت12 سال قبل یہ فیصلہ کرتی ہے کہ پالی تھین لفافوں کو وادی میں برآمد نہیں ہونے دینا ہے اور اس کے استعمال پر پابندی کا اطلاق ہونا چاہئے ، اس ضمن میںکثیر رقومات خرچ کرکے عوام کیلئے جانکاری مہم شروع کی جاتی ہے، سمیناروں کا اہتمام کیا جاتا ہے، غیر سرکاری رضاکار تنظیموں کی مدد بھی حاصل کی جاتی ہے، لیکن اس سب کے باوجود 12 سال بعد حکومت آج بلا جھجھک یہ اعتراف کرلیتی ہے کہ پالی تھین لفافو

نقلی ادویات۔۔۔۔ ہمہ گیر کارروائی کی ضرورت

 وادی ٔکشمیر میں برسو ں طویل سیاسی غیر یقینیت اور عوامی بے چینی کے سبب ہر شعبہ ?زندگی میں بہت سارے گھمبیر مسائل کا گھنا جنگل اْ گ آیا ہے۔ اس جنگل میں چونکہ آ دم خور درندو ں کی بو دو با ش کا بڑا اہتمام ہے، اس لئے وہ آرام سے زند گی کی ہر قیمتی شئے کو نو چ کھا رہے ہیں بلکہ یہ انسا نیت کے حسین چہرے کو بد نما بنا نے میںکو ئی کسر نہیں چھو ڑتے۔ نقلی ادویات کی رسو ائے زما نہ تجا رت اسی سلسلے کی ایک اہم کڑ ی ہے۔ خو د ہی اندازہ کیجئے کہ جو بد قما ش عنا صر دوا کے بدلے لو گو ں کو زہر بیچ رہے ہو ں ، جو پیشہ ٔ طب جیسے عظیم اور مقدس خد مت کو اپنی نفسانیت کی پرستش میں پا ما ل کر نے کا نا قابل معافی جرم کر رہے ہو ںاور جن کی نگا ہ میں انسانی جا نو ں یا انصاف کے قدرو ں کی رتی بھر بھی اہمیت نہ ہو، کیاان کو جنگلی جا نو رو ں میں بھی شما ر کیا جا سکتا ہے ؟ نہیں ، قطعی طور نہیں۔ ستم بالا ئے ستم یہ کہ

جرائم کی روک تھام وقت کا تقاضا

 موجودہ دنیابلاشبہ محیر العقول مادی ترقیوں کے میدانوں میں سر پٹ دوڑکر زمین کی گہرائیوں اور آسمان کی اونچائیوں کو برا بر مسخر کر رہی ہے مگر اس کے بین بین اخلاقی تنزل کے چلتے یہی دنیامتواتر پستیوں اور ناا?ٓسودگیوں کی کھائیوں میں بھی لڑھکتی جارہی ہے۔ اس زاویۂ نگا ہ سے دیکھا جا ئے توکشمیر جیسی چرب دست وتر دماغ قوم کے ایک قابل لحاظ حصے کااخلاقی بحران کی لپیٹ میں آکر اپنے اخلاقی تشخص سے ہاتھ دھو بیٹھنا قابل فہم بن جا تا ہے۔ حق یہ ہے کہ فی الوقت یہاںکی جوان پود ایک جانب شرح خواندگی میں مسلسل بڑھوتری اور مختلف میدانوں میں متاثر کن کارکرگی سے قوم کا سینہ پھلارہی ہے اور دوسری جانب اسی کی صفوں میں جرائم کے گراف میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ اخلاقی فساد کی تخم ریزی ہونے کے مختلف اسباب و محرکات ہیں۔ ان کی ایک شکل مخلوط کو چنگ سنٹرہے۔ ان جز وقتی تدریسی مراکز میں طلبہ

زیریں زمینوں پر توجہ کی ضرورت!

 وادیٔ کشمیرکے اندر آبادیوں کے بے ترتیب پھیلائو کے بہ سبب جو دنیا ترتیب پا رہی ہے ، آنے والے وقتوں میں وہ لوگوں کےلئے نہایت تکلیف دہ مشکلات کا سبب بن کر سامنےآ سکتی ہے، کیونکہ ان بستیوں کو کسی منصوبے سے ماوریٰ ہو کر آباد کیا جاتا ہے، جن میں نہ تو بنیادی شہری سہولیات موجودومیسر ہوتی ہیں اور نہ ہی انکے فروغ کی کوئی گنجائش ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ شہر سرینگر کے بے ترتیب پھیلائو میںجہاں آبادی کا اضافہ ذمہ دار ہے وہیں اس کےلئے سرکاری اداروں سے لیکر زمین دلالوں تک ایک یکساں سوچ متحرک ہے۔کیونکہ گزشتہ ساٹھ برسوں کے دوران شہر سرینگر میں آبادیوں کے پھیلائو کے دوران منصوبہ جاتی ضرور توں اور حقائق کو قطعی طو رپر نظر انداز کر دیا گیا۔ ایسا نہیں ہے کہ حکومتوں نے وقت وقت پر منصوبے مرتب نہیں کئے ہوں بلکہ سرینگر کےلئے ایک ماسٹر پلان ضرور موجود ہے اور مختلف ادوارمیں اسے سمارٹ سٹی کا درجہ دینے کی

دیہی خواتین کو ماہر معالجین میسر کیوں نہیں؟

نیشنل ہیلتھ مشن یاقومی صحت مشن کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مجموعی طور دیہی علاقوںمیں طبی سہولیات بہتر بنانے کے علاوہ خصوصی طور پر زچگی کے دوران نوزائیدوں کی شرح اموات میں کمی لانے کیلئے ادارہ جاتی زچگی کو فروغ دیا جائے ۔گوکہ اس مشن کے نتیجہ میں ہسپتالوں میں ہونے والے زچگی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے تاہم دیہی علاقوں کے طبی مراکز میں آج بھی ماہر امراض خواتین کی شدید قلت پائی جارہی ہے اور اس پر طرہ یہ کہ ماہر ڈاکٹروںکی عدم موجودگی میں محض ووٹ بنک سیاست کے تحت گزشتہ کچھ برسوں کیلئے ایک کے بعد ایک زچگی مراکز کھولے گئے۔دستیاب اعدادوشمار کے مطابق دیہی کشمیر کے تقریباً ساٹھ ہسپتالوں میںمحض 44ماہر امراض خواتین تعینات ہیں جبکہ انڈین پبلک ہیلتھ سٹینڈارڈ کی جانب سے وضع کردہ ضوابط کے مطابق ہر ضلع ہسپتال میں کم از کم دو جبکہ ہرکمیو نٹی ہیلتھ سنٹر یا سب ضلع ہسپتال میں ایک ماہرامراض خواتین تعینات ہونا چاہ

منشیات کی عفریت سے چھٹکارا کیسے ملے؟

پوری دنیا سمیت جموںوکشمیر میں کورونا وائرس کے خونی پنجوں نے جب نوع انسانی کو اپنے شکنجے میں کسا ہے ،ایسے جاں گسل حالات میں مفاد پرستوں کا ایک ایسا ٹولہ حد سے زیادہ سرگرم ہوچکا ہے جو ان مخدوش اور نامساعد حالات کی آڑ میں انسانوں کو زہر بیچ کر اپنا الو سیدھا کرنے میں لگا ہوا ہے ۔بات منشیات کی چل رہی ہے ۔گزشتہ چند ہفتوں سے جس طرح ہر روز جموںوکشمیر کے کم وبیش سبھی علاقوں سے منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے ان کے قبضہ سے بھاری مقدار میں نشہ آور ادویات ،چرس ،بھنگ ،افیون برآمد کرنے کی خبریں سامنے آرہی ہیں،اُن سے انسان دھنگ رہ جاتا ہے۔ ایک وقت تھا جب جموں وکشمیر خاص کر وادیٔ کشمیر کے حوالے سے یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی تھی کہ کشمیری سماج اس خجالت سے مکمل طور ناآشناہے بلکہ یہاں تمبا کو کو چھوڑ کر دیگر انواع کے نشوں کے بارے میں سوچنا اور بات کرنا بھی گناہ عظیم تصور کیاجاتا تھا تاہم اب و

متمدن معاشروں میں گھریلوتشدد کا جواز نہیں

 گزشتہ دنوں اخبارات کے توسط یہ دل دہلانے والی رپورٹ شائع ہوئی کہ صدر ہسپتال سرینگر کے برن وارڈمیں کئی خواتین زیر علاج ہیں جن کے بارے میں کہاجارہا ہے کہ وہ گھریلو تشدد کا شکار ہوئی ہیں۔ اخباری رپورٹ کے مطابق سرینگر کے صدر ہسپتال میں ہفتے میں اوسطاً ایک خاتون کو داخل کیاجاتا ہے جو گھریلو تشدد کی نذر ہوئی ہوتی ہے۔ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بیشتر خواتین گھریلو تشدد کی وجہ سے تنگ آکر اپنے آپ کو آگ سے جھلسا دیتی ہیں اور اس وقت بھی ہسپتال کے برن وارڈ میں کئی خواتین جھلس جانے کی وجہ سے موت وحیات کی کشمکش میں مبتلاء ہیں۔ماہرین سماجیات کی جانب سے حال میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق کشمیر میں40فیصد سے زائد خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔سروے کے مطابق گھریلو تشدد کے بیشتر معاملات میں وجوہات جہیز ،سسرال والوں کی مداخلت ،غلط فہمی ،شوہر کی طرف سے زیادتیاں، بچیوں کو جنم دینا وغیرہ شامل ہیں۔

عارضی ملازمین کے درد کا مداوا تو ہو!

 جموںوکشمیر میں مختلف محکموں میں تعینات عارضی ملازمین وقفے وقفے سے ہڑتال پرجارہے ہیں جس کی وجہ سے بیشتر محکموں کا کام کاج متاثر ہوتاہے ۔ آج بھی جموں سے لیکر کشمیر تک کئی محکموں میں کام کررہے عارضی ملازمین ہڑتال پر ہیں۔آج تک یہ ملازمین کئی دفعہ اپنے مطالبات منوانے کیلئے احتجاج کا راستہ اختیار کرچکے ہیںاور ہر بار سرکار کی یقین دہانیوں پر ہڑتال ختم کرکے کام پر لوٹ آئے تاہم مسائل جوں کے توں ہیں اور یقین دہانیاں زبانی جمع خرچ سے آگے نہ بڑھ سکیں۔اس بات سے قطعی انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ حکومت کے مسائل ہیں اور مالی پوزیشن پتلی ہے ۔یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ جموںوکشمیر کے بجٹ کا بیشتر حصہ ملازمین کی تنخواہوں پر صرف ہوتا ہے جس کی وجہ سے ترقیاتی عمل بھی متاثر ہوتا ہے تاہم اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ یہ عارضی ملازمین ہی اصل میں ان اہم محکموں کو چلارہے ہیں ۔آج اگر سرکار کو ان ملازم

کشمیر میں کورونا کے بڑھتے معاملات

  گزشتہ چند روز سے جموںوکشمیر خاص کر وادی کشمیر میں جس رفتار سے کورونا کے مثبت معاملات سامنے آرہے ہیں،وہ یقینی طور پر پریشان کن ہے۔دو روز قبل ریکارڈ معاملات سامنے آئے جن کی تعداد3سوسے بھی زیادہ تھی۔جب ان کیسوں کا باریک بینی سے ذرا پوسٹ مارٹم کیاجاتا ہے تو ایک پریشان کن صورتحال ابھر کر سامنے آتی ہے ۔حکام کے لئے یہ مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے مریض ہوں لیکن گہرائی سے تجزیہ پریشان کردیتا ہے ۔کورونا اعداد وشمار کے تجزیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر وادی کا اب کوئی ضلع محفوظ نہیں ہے اور ہر ضلع میں کورونا نے دستک دی ہے ۔دوسرا اور اہم نکتہ جو تجزیہ کے بعد ابھر کرسامنے آتا ہے ،وہ یہ ہے کہ ہمیں قطعی طور لاپر واہی برتنے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ یہ گھوم پھر کر واپس آرہا ہے ۔سرینگر انتظامیہ کئی روز تک اس اطمینان میں تھی کہ یہاں اب نئے معاملات سامنے نہیں آرہے ہیں اور عوامی سطح پر بھی اس پ

کورونا اور جموں…گھبرائیں نہیں بس سنبھل جائیں

 صوبہ جموں خاص کر جموںشہر میں جس طرح گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران کووڈ معاملات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ،وہ واقعی تشویشناک ہے اور ایک بار پھر اس ناقابل تردید حقیقت کی جانب واضح اشارہ کرتا ہے کہ کورونا ہمارے انسانی سماج میں گہرائی تک سرایت کرچکا ہے ۔جموں شہر میں گزشتہ چارروز کے دو ران کم وبیس دو سوکورونا کے معاملات سامنے آئے ہیں اورامسال پہلی دفعہ جموں میں کورونا کے معالات میں اتنا زیادہ اُچھال دیکھنے کو مل رہاہے۔گزشتہ ہفتہ تک عام تاثر یہی تھاکہ کورونا کشمیر میںہی دوبارہ پھیل رہاہے جبکہ جموں قدرے محفوظ ہے کیونکہ کیس زیادہ نہیں آرہے تھے ۔عوامی تاثر یہ تھا کہ شاید کشمیر میںلاپرواہی زیادہ ہورہی ہے ،اسی لئے وہاں کورونا پھیل رہا ہے ۔ہمارے سیول سیکریٹریٹ میں بھی بیروکریٹوں کی سوچ اس سے کچھ مختلف نہیں تھی اور عملی طور کشمیری لوگوں کو لاپرواہی کے طعنے دئے جارہے تھے تاہم اب جو صورتحال جموں صوبہ

ماحولیاتی آلودگی اور انسانی مداخلت

 چند روز قبل جنگلاتی شجر کاری کا عالمی دن منایاگیا ۔اس سلسلے میںدنیا بھر میں تقاریب کا اہتمام ہوا۔ہمارے جموںوکشمیر میں بھی تقاریب منعقد ہوئیں اور جب سے شجر کاری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔شجرکاری کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی بگاڑ پر مسلسل تشویش کا اظہارکیاجارہا ہے۔ماحولیات کے بچائو کے لئے مسلسل آوازیں اٹھائی جارہی ہیں۔گزشتہ ہفتے ہی وزیراعظم نریندرمودی نے فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کم کرنے کے سلسلے میں بھارت کے عزم کا اعادہ کیا او رکہا کہ بھارت عالمی برادری کے ساتھ مل کر ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کی ہر پہل کا ساتھ دے گا ۔مسلسل عالمی سطح پر جنگلات کی اہمیت و افادیت اجاگر کرکے ماحول میں اس کی اہمیت باور کرائی جارہی ہے۔گزشتہ دنوںایک ویب نار کے ذریعے کشمیر کے سرکردہ ماہرین ماحولیات نے اس سنگین مسئلہ پر سیر حاصل گفتگو کی اور جموںوکشمیر میں ماحولیات کو درپیش خطرات پر مفصل روشنی ڈال

ماحولیاتی خطرات اور انتظامیہ کی بے بسی

ریاستی عدالت عالیہ نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ پالی تھین سے پاک جموں وکشمیر کا خواب شرمندہ تعبیر بنانے کیلئے لکھن پور ٹول پلازہ  پر نگرانی نظام مزید سخت کرے تاکہ ریاست میں پالی تھین کی برآمد روکی جاسکے۔ عدلیہ کے ڈویژن بنچ نے بھی ایک عرضداشت پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ پالی تھین کے استعمال سے ریاست کی خوبصورتی ماند پڑرہی ہے اور اگر حساس ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنا ہے تواس ناسور کا خاتمہ لازمی ہے ۔ماضی میں بھی عدلیہ کے دبائو کے نتیجہ میں ہی حکومت کو پالی تھین پر پابندی عائد کرنے کیلئے قانون سازی کرنا پڑی تاہم یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ پابندی کا اطلاق قانون کی کتابوں تک ہی محدود رہا جبکہ عملی طور متعلقہ حکام کی ناک کے نیچے ریاست میں پالی تھین کا استعمال شدومد سے جاری ہے اور کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہے۔سرکار نے مئی 2009میں پالی تھین لفافوں کے استعمال پر پابندی کا اعلان کیا تھ

بجلی سپلائی میں معقولیت لائیں!

 سالانہ دربار کی جموںسے سرینگر منتقلی سے قبل ہی جموں صوبہ میں بجلی کا بحران شدیدترہوتاجارہاہے ۔اگرچہ ہر سال یہ روایت رہی ہے کہ دربارکی منتقلی کے بعد جموں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی بڑھ جاتی ہے اور لوگ شدید گرمیوں میں انتہائی مشکلات کاشکار ہوجاتے ہیں لیکن امسال دربار سے قبل ہی اس صورتحال کا سامنا ہو رہا ہے۔ پچھلے چند روز سے جموں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی شروع ہونے کی شکایات پے درپے موصول ہورہی ہیں ۔ حالانکہ حکومت نے بارہا اعلان کیاہے کہ جموں میں بغیرکٹوتی بجلی کی سپلائی فراہم ہوگی لیکن دور دراز علاقوں کی تودور کی بات، جموں خاص میں بھی ان دنوں بجلی کٹوتی عروج پر ہے ۔ان دنوں صوبہ کا ٹھیک وہی حال ہے جو سردیوں میں اہلیان کشمیر کاہوتاہے۔پہاڑی خطوں وادی چناب اور پیر پنچال میں بجلی کی فراہمی کا توکوئی شیڈول ہی نہیں اور محکمہ کی مرضی آئے تو بجلی سپلائی ہوتی ہے اور اگرمحکمہ نہ چاہے

انسداد سیلاب اور کشمیر

 حالیہ چند روز کی بارشوں کے بعد لوگ پریشان ہونے لگے تھے کہ کہیں سیلاب نہ آئے اور محکمہ آبپاشی و انسداد سیلاب کو بار بار لوگوںکو کہنا پڑا کہ سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔دراصل لوگوں کا خوف بھی بے وجہ نہیں ہے کیونکہ2014کے تباہ کن سیلاب کے بعد عملی طور ممکنہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کو روکنے یا کم کرنے کیلئے کچھ نہیں کیاگیا ہے۔2014کے تباہ کن سیلاب کے بعد حکومتی سطح پر اعلان کیا گیا تھا کہ اولین فرصت میں دریائے جہلم کی کھدائی عمل میں لاکر اس کے کناروں کو ناجائز تجاوزات سے پاک کیاجائے گا۔سیلاب کو آئے اب سات سال ہونے والے ہیںلیکن حکومتی اعلان حکم نواب تادر نواب ہی ثابت ہوا ۔نہ ہی جہلم کی کھدائی عمل میں لائی اور نہ ہی اس کی معاون ندیوں کو وسعت دینے کا عمل شروع کیا گیا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ جہلم سمیت تمام ندی نالوں اور دیگر آب گاہوں کو ناجائز تجاوزات سے پاک کرنے کی مہم بھی دم توڑ بیٹھی ۔س

کورونا اور انسانی بے بسی کی انتہا | کیا اب ترجیحات تبدیل ہونگیں؟

 کورونا وائرس کی تباہ کاریاں تھمنے کا نام نہیںلے رہی ہیں اور پوری دنیا اس وقت اس مہلک وائرس سے بچنے کے جتن کررہی ہے ۔ساری عالمی طاقتیں بے بسی کے عالم میں اب بس دعا ہی کررہی ہیں کہ کسی طرح کورونا پر روک تھام کیلئے بنائے گئے ویکسین اپنا کام کر جائیں اور کسی طرح یہ بلا ٹل جائے لیکن فی الوقت کوئی تدبیر بر نہیں آرہی ہے اور اگر یوں کہیں کہ ساری کی ساری تدبیریں الٹی ہورہی ہیں تو بیجا نہ ہوگاکیونکہ عملی طور اس وقت دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتیں بے بسی کی مو رت بن چکی ہیں اور انہیں کچھ سمجھ میں بھی نہیں آرہاہے کہ اس عفونت سے نمٹا جائے تو کیسے۔ایسے حالات میں اب عالمی لیڈروں کے رول پر سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں اور ہر جانب سے یہ صدائیں بلند ہونے لگی ہیں کہ کیوں کر دنیا پاگلوںکی طرح ایک دوسرے کو تباہ کرنے کیلئے ہتھیاروں کی دوڑ میں لگی ہوئی تھی جبکہ ان کے لوگ نان شبینہ کے محتاج تھے ۔اب اس بات پر بھ

تعلیمی شعبہ مائل بہ تنزل کیوں؟

  ویسے دیکھا جائے توکسی بھی قوم کے لئے تعلیم ایک ا یسا اہم ترین شعبہ ہے جوا س کی سماجی بیداری، معاشی خوشحالی اور ہمہ جہت ترقی کاپیمانہ طے کرتا ہے تاہم جموں و کشمیر میں بد قسمتی سے اس کی موجودہ صو رتحال انتہائی مایوس کن ہے جس کے مضر اثرات مستقبل میں انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ کہنے کو تو گزشتہ چند برسوں میں سکولوں اور کالجوں کی بھر مار کر دی گئی ہے اور بقول حکومت پرائمری سے لے کر اعلیٰ تعلیم کی سہولیات لوگوں کی دہلیز تک پہنچا دی گئی ہیں لیکن اس کی حقیقی تصویر کیا ہے ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جموںوکشمیرمیں فی الوقت شعبہ اعلیٰ تعلیم میں اسسٹنٹ لیکچرروں کی 1600سے زیادہ اور سکولوں کے اسا تذہ کی10ہزارسے زائد اسامیاں خالی ہیں۔حالیہ ایام میں نئے کھولے گئے کئی کالج ہنوز مستعار عمارتوں میں چل رہے ہیں ،سینکڑوں سکولوں کے پاس اپنی کوئی عمارت نہیں نیز ایسے سرکاری سکولوں

تازہ ترین