تازہ ترین

کووڈ کہیں گیا نہیں… احتیاط جاری رکھیں!

  جموںوکشمیر کے بیشتر حصوں کووڈ لاک ڈائون تقریباً ختم ختم ہوچکا ہے اور اب صرف جزوی بندشیں جاری ہیں ۔بلا شبہ اس حکومتی اقدام سے لوگوںکو راحت ملی کیونکہ نہ صرف تجارتی و کاروباری سرگرمیاں کافی حدتک بحال ہو گئیں بلکہ ٹرانسپورٹ بھی کافی حد تک چل رہاہے اور یوں کم و بیش سماج کے سبھی طبقوں سے وابستہ افراد کو دو وقت کی روٹی کمانے کا موقعہ ملنے لگا ہے تاہم یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ بھلے ہی بندشوں میں نرمی کی جارہی ہو لیکن کورونا کہیں گیا نہیں ہے بلکہ وہ ہمارے ساتھ ہی موجود ہے اور مسلسل ہمارا تعاقب کررہا ہے اور اب مسلسل تیسری لہر کی باتیں کی جارہی ہیں جبکہ یورپی ممالک اور مغرب میں بھی ایک خطرناک وائرس سٹرین کے آنے کی باتیں کی جارہی ہیں جس سے بیس سال کی عمر تک کے بچے بری طرح متاثر ہورہے ہیں یہ انتباہ انتہائی پریشان کن ہے اور یقینی طور پر جہاں حکومت کیلئے نوشتہ دیوار ہونا چاہئے وہیں

جنگلی جانوروں کی خونچکانی اور حکومتی بے بسی!

 انسان اور جنگلی جانوروں کے مابین تصادم کا مسئلہ اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ اس عا لم ِ رنگ و بو کا وجوداور فریقِ اوّ ل نے ہمیشہ فریق ِ ثانی پر اس کی تمام تر وحشت ، خونخواری اور طاقت کے باوجود غلبہ پایا ہے۔لیکن بارہا پانسہ پلٹ بھی جاتا ہے اور غالب مغلوب ہو کر جنگلی جانوروں کی درندگی کا شکار ہو کر موت کے منہ میں پہنچ جاتا ہے۔ جنگلی درندوں کے بارے میں ما ہرین کا کہنا ہے کہ وہ تب تک انسانوں پر حملہ آور نہیں ہوتے جب تک انہیں اپنے لئے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا یا پھر دونوں کا براہِ راست آمنا سامنا نہیں ہوتا۔ یعنی ان کے لئے ایک طرح سے یہ بقا کی لڑائی ہو تی ہے اور یہ جبلت دنیا کی ہر زندہ شے میں پائی جاتی ہے۔ لیکن جب درندے اپنی فطری خوراک کے علاقوں کو چھوڑ کر بستیوں کا رخ کر کے انسانوں کا شکار کرنے لگتے ہیں تو یہ ایک تشویشناک اور غیر فطری رجحان ہے جس پر غور و فکر کرنا اور اس کے سدِ باب کے ل

روزگار کے مواقع پیداکرنا سرکار کی ذمہ داری

  5اگست 2019کو جب جموںوکشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کرکے اس کو دو مرکزی زیر انتظام اکائیوں میں تقسیم کیاگیا تو پچاس ہزار نوکریاں فوری طور فراہم کرنے کی بات کی گئی تھی تاہمدو سال بعد صورتحال یہ ہے کہ ایک بھی نوکری نہیں لگی ۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ریاست میں بیروزگار نوجوانوں کی تعداد 6لاکھ سے زائد ہے جن میں ساڑھے تین لاکھ کشمیر اور تقریباًاڑھائی لاکھ جموں صوبہ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن سرکاری سیکٹر میں نوکریاں فراہم کرنے کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ سال آٹھ ہزار سے زائد درجہ چہارم اسامیاں مشتہر کی گئیں جس کے بعد پنچایت محکمہ میں اکائونٹس اسسٹنٹوں کی پندرہ اسامیاں مشتہر کی گئیں ۔یوںدو سال میں محض10سے بارہ ہزار اسامیاں ہی مشتہر کی گئیں اور اب بتایا جارہا ہے کہ مزید دس ہزار اسامیاںعنقریب مشتہر کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ سرکاری اعدادوشمار کہتے ہیں کہ اس وقت کچھ80ہزار کے قریب اسامیاں خالی پڑی ہوئی

تعمیراتی سیزن میں کام نہ ہوگا تو پھر کب ہوگا؟

 جموںوکشمیر انتظامیہ کی جانب سے کورونا کی عالم گیر وبا ء کے بیچ ہی آئے روز محکمہ اطلاعات کے ذریعے ایسی تصاویر اور بیانات جاری کئے جارہے ہیں جن میں دعویٰ کیا جارہاہے کہ اس سنگین صورتحال کے باوجود ترقیاتی عمل جاری ہے اور نہ صرف محکمہ دیہی ترقی کے ذریعے دیہی علاقوں میں منریگا اور دیگر سکیموں کے تحت کام شروع کئے جاچکے ہیں بلکہ تعمیرات عامہ اور دیگر منسلک محکموںکی جانب سے بھی ترقیاتی پروجیکٹوں پر کام شروع کیاگیا ہے ۔گوکہ حکومتی دعوئوں کو مسترد نہیں کیاجاسکتا ہے اور غالب امکان ہے کہ کام شروع ہوچکے ہوں تاہم زمینی سطح پر جو صورتحال بنی ہوئی ہے ،وہ مسلسل مایوس کن ہی ہے ۔کورونا کی آڑ میں مسلسل دوسرا تعمیراتی سیزن ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کا رجحان جاری ہے ۔گزشتہ برس بھی پہلے کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے وہ سیزن مکمل طور پر ضائع ہوگیا جب کشمیر اور جموںصوبہ کے پیر پنچال اور چناب خطوں میںکا

بچہ مزدوری …رجحان تشویشناک ،تدارک ناگزیر

 گزشتہ دنوں سرینگر میں بچوں کو انصاف کی فراہمی اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام سے متعلق منعقدہ ایک ورچیول ورک شاپ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے سماج کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے۔مقررین نے جس طرح بچہ مزدوری اورنابالغ بچیوں کی شادی کو لمحہ فکر قراردیتے ہوئے غلط سماجی رْجحانات کاقلع قمع کرنے کیلئے مشترکہ کوششوںکو لازمی قراردینے کے علاوہ اس بات پر زور دیا کہ سماج میں پنپنے والے مختلف قسم کے غلط رحجانات اور جرائم کا قلع قمع کرنے میں پولیس کا اہم رول بنتا ہے ، اس لئے پولیس افسروں کو اس بات کی مکمل جانکاری ہونی چاہیے کہ سماج کے مختلف طبقوں بالخصوص بچوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کو کیسے یقینی بنایا جائے،وہ واقعی قابل ستائش ہے ۔ مقررین کا یہ کہنا کہ حقو ق زن اور حقوق اطفال کے ساتھ ساتھ دیگر معاملات کے بارے میں پولیس کے پاس قوانین موجود ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ قوانین کی روشنی میں

ماحولیاتی تباہی سے گریز ناگزیر

گزشتہ سنیچر یعنی5جون کو پوری دنیا میں عالمی یوم ماحولیا ت منایا گیا۔یہ وہ دن ہے جب پہلی بار1972میں اقوام متحدہ میں ماحولیات پر5سے16جون تک کانفرنس منعقد ہوئی۔اس کے بعد 1973میں پہلی بار عالمی یوم ماحولیات منایا گیا اور جب سے آج تک یہ دن مسلسل 5جون کو اس عزم کے ساتھ منایا جاتاہے کہ قدرتی ماحول کی حفاظت کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے ۔ہر سال اس دن کی مناسبت سے الگ الگ نعرے مقرر کئے جاتے ہیںاور اس سال کا نعرہ’’ماحولیات کی بحالی ‘‘رکھا گیا تھا۔ زمین پر خشکی کا ایک تہائی حصہ جنگلات پر مشتمل ہے اور 1.6بلین لوگوں کا انحصار جنگلات پر ہے۔ انسان کرۂ ارض پر پندرہ ملین انواع میں سے ایک ہے۔ انسان دنیا کے ان جانداروں میں سرفہرست ہے جن کی تعداد اس سیارے پر بڑھ رہی ہے۔ اکثر جانوروں اور پودوں کی آبادی میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔انسان نے ترقی کے لئے قدرتی جنگلات کا کافی بڑا حصہ ص

کشمیر میں امن ،ترقی و خوشحالی

فوجی سربراہ جنرل منوج مکند نروانے، نے کہا ہے کہ کشمیر میں امن کا انحصار پاکستان پرمنحصر ہے اور امن وسکون کے بغیر ترقی ناممکن ہے ۔فوجی سربراہ نے کہا کہ تشدد سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ، اس کے برعکس امن کو گلے لگانے سے جموں و کشمیر میں خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔انہوں نے یہ باتیں جمعرات کو اپنے دو روزہ کشمیر دورہ سمیٹنے کے موقع پر نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہیں۔ فوجی سربراہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے جنگ بندی معاہدے پر سختی سے عمل درآمد اور بھارتی حدود میں جنگجوؤں کے بھیجنے کو بند کرنے کے عمل سے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جنگجویانہ سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے جس کے پیش نظر ہم کسی بھی صورت میں اپنی تیاریوں کی سطح کو کم نہیں کرسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اعتماد کی بحالی ایک مشکل کام ہے ،دہائیوں سے دونوں ممالک

جنگ بندی کے تین ماہ

 بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی جنگ بندی معاہدہ کے اعادہ کو اب تین ماہ ہوچکے ہیں۔ان تین ماہ کے دوران سرحدیں پُر سکون رہیں اور کہیں بھی آتشی گولہ باری کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ۔کشمیر سے لیکر کٹھوعہ تک ایل اوسی اور بین الاقوامی سرحد پر توپیں خاموش ہوچکی ہیں اور بندوقیں آگ اگلنا بند کرچکی ہیں۔جنگ بندی کا یہ معاہدہ ہوا کے خوشگوار جھونکے کی طرح آیا ہے جس نے سرحدی گولہ باری سے متاثرہ لوگوں کو راحت و فراوانی کاسامان مہیا کیا ہے ۔مدتوں بعد سرحدی آبادی سکون سے اپنے گھروں میںپیر پسار کرسونے لگی ہے اور اب انہیں اس بات کا ڈر نہیں لگا رہتا ہے کہ اچانک کہیں سے کوئی گولہ گر آئے اور ان کی خوشیاں لوٹ لے ۔آج سرحدی علاقوں میں زندگی رواں دواں ہے ۔نہ صرف سرحدی علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں بلکہ زرعی سرگرمیاں بھی جوبن پر ہیں اور لوگ کسی خوف کے بغیر اپنے کھیتوں میں کام کررہے ہی

لیفٹیننٹ گورنر کی وعظ و نصیحت

 ایک جوابدہ ، شفاف اور ذمہ دار انتظامیہ کسی بھی اچھی حکمرانی کے ڈھانچے کی سنگ بنیاد قرار دیتے ہوئے جموںوکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے تمام انتظامی سیکریٹریوں سے کہا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر عوام سے بات کریں اور ہمدردی کے ساتھ ان کی شکایات کا ازالہ کریں۔لیفٹیننٹ گورنر گزشتہ روز سیول سیکریٹریٹ سرینگر میں تمام انتظامی سیکریٹریوں کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔لیفٹیننٹ گورنر نے زور دے کر کہا کہ افسران کو چاہئے کہ وہ ایڈہاک ازم کو ختم کریں اورعام آدمی کی فلاح و بہبود کے لئے درکار ضروری  اقدامات کا تعین کریں۔انہوں نے افسران سے کہا کہ وہ لوگوں سے مربوط رابطے میں رہیں تاکہ حکومت کے ذریعہ کیے گئے عوام دوست اقدامات کا زیادہ سے زیادہ فائدہ عام آدمی تک پہنچ سکے۔لیفٹیننٹ گورنر نے موجود کووڈ صورتحال میں حکومتی اقدامات کو اطمینان بخش قرار دیا اور کہا کہ صحت کے ڈھانچہ کو

اخلاقی انحطاط: وجوہات جاننے کی کوشش کریں!

  اخلاقی انحطاط طوفان کی تیزی کے ساتھ ہمارے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔بے راہ روی ،بد اخلاقی ،بے ایمانی ،رشوت خوری اور کنبہ پروری نے لوگوں سے غلط اور صحیح میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہی چھین لی ہے۔ اس پرطرہ یہ کہ اجتماعی حس نام کی چیز ہی جیسے عنقا ہوگئی ہے اور لوگوں کی اکثر یت اس تشویشناک صورتحال سے بالکل بے پرواہ ہے۔ایک وقت تھا جب یہی قوم اپنی شائستگی ،اخلاق اور ایمانداری کی وجہ سے پوری دنیا میں اپنی مثال آپ تھی، تو پھر آخر ایسا کیا ہوا کہ ہمارے سماج کا تانا بانا اس حد تک بکھر گیا کہ اب ہماری انفرادی شناخت کو بھی خطرہ لاحق ہوا ہے ۔ اگر چہ اس سب کیلئے کئی ایک عوامل کارفرما ہیں تاہم عمومی طور پر نوجوان نسل کی بے حسی اور انتظامی غفلت شعاری کو اس کی بنیادی وجہ قرار دیا جارہا ہے لیکن کیا واقعی ہماری نوجوان نسل اکیلی اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوگئی ہے ؟۔ مسئلہ کا اگر باریک بینی سے ج

عام مریضوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں

 کووڈ انیس کے معاملات کیا بڑھنے لگے کہ شفاخانے عام مریضوں کیلئے پھر سے بند ہونے لگے ۔جموں سے لیکر کشمیر تک سبھی بڑے ہسپتالوں کے اوپی ڈی شعبے بند کر دئے گئے ہیں جبکہ معمول کے داخلے بھی بند کئے جاچکے ہیں اوراب صرف ایمر جنسی سروس ہی چل رہی ہے ۔جموںاور سرینگر میں قائم دونوں میڈیکل کالجوں سے منسلک ہسپتالوں کے علاوہ شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسزصورہ اور سکمز میڈیکل کالج ہسپتال بمنہ میں بھی اوپی ڈی خدمات بند کردی گئی ہیں اور اب دکھانے کیلئے آن لائن سہولت کا شوشہ چھوڑا جارہا ہے ۔ہم نے جموں اور سرینگر کے میڈیکل کالجوں سے منسلک بڑے ہسپتالوں میں اور اضلاع میں قائم میڈیکل کالجوںسے جڑے ہسپتالوں میں اوپی ڈی خدمات بند کرنے کے نتیجہ میں حفظان صحت پر پڑنے والے مضر اثرات پرپہلے بھی تفصیل سے بات کی تھی اور مثالیں دیکر یہ واضح کیا تھا کہ کورونا کے خلاف لڑتے لڑتے ہم عام مریضوںکو مرنے کیلئے چ

لاک ڈائون عارضی ہتھیار نہ کہ مستقل علاج | متاثرہ طبقوںکی فوری داد رسی ناگزیر

یہ امر اطمینان بخش ہے کہ جموںوکشمیر میں کورونا مثبت معاملات میں بتدریج کمی واقع ہورہی ہے جبکہ اموات کی شرح میں بھی کمی کا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔اگر ہم سنیچر کے کووڈ اعداد و شمار کو دیکھیں تو سنیچر کو  794جموں جبکہ 1459 افراد کشمیر میں مثبت آئے۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے 1459افراد میں 6بیرون ریاستوں اور ممالک سے سفر کرکے کشمیر پہنچے جبکہ دیگر 1453 افراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے تھے اور یوں سنیچر کو مثبت کیسوں کی شرح مزید کم ہوکر 5فیصدرہ گئی تھی ۔سنیچر کو ہی کل ملاکر46اموات جموںوکشمیر میں ریکارڈ کی گئی تھیں جن میں سے جموں صوبہ میں30جبکہ کشمیر صوبہ میں فقط16اموات ریکارڈ ہوئی تھیں۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو صورتحال بہتر ہورہی ہے اور نہ صرف مثبت کیسوںکی شرح بدستور گھٹتی ہی چلی جارہی ہے بلکہ صحتیابی کی شرح میں بھی نمایاں اضافہ ہورہا ہے جس کے نتیجہ میں اموات

سڑکوں کی تعمیر میں تال میل لازمی

 جدید دور میں سڑکوں اور شاہرائوں کو ترقی کی شہ رگ کہا جارہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایک خصوصی پروگرام کے تحت مرکزی حکومت نے ملک کے تمام دیہات کوسڑکوں سے جوڑنے کا بھیڑا اٹھا رکھا ہے اور اس ضمن میں ملک کی دیگر ریاستوں سمیت جموں و کشمیر میں بھی بڑے پیمانے پر نئی سڑکیں تعمیر کی جارہی ہیں تاہم پہلے سے ہی موجود سڑکوں کا حال بے حال ہے ۔ سرینگر اور جموں شہروں کی بیشتر سڑکیں ویران ہوچکی ہیں اور معمولی بارشوں و برف باری کے بعد یہ سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرتی ہیں ۔آخر کیا وجہ ہے کہ ایک سال کے اندر اندر ہی سڑکوں کی حالت اتنی خستہ ہوگئی حالانکہ گزشتہ برس سے 30/30کروڑ روپے کی لاگت سے جموں اور سرینگر شہر کی  بیشترسڑکوں کو میکڈیمائز کیا گیاتھا۔سڑکوں کی اس خستہ حالت کیلئے گوکہ غیر معیاری مٹیریل کے استعمال کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے لیکن صرف غیر معیاری مٹیریل کا استعمال ہی اکیلے اس صورتحال کیلئ

سگانِ شہر سے بچئے تو کیسے!

  وادی میں آوارہ کتوں کی بڑھتی آبادی انسانوں کیلئے وبال جان بن چکی ہے ۔کتوں کا انسانی خون کا کس قدر چسکا لگ چکا ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ 10برسوں کے دوران صرف صدر ہسپتال سرینگر کے اینٹی ریبیز کلینک میں60ہزار ایسے مریضوںکا علاج کیاگیا جنہیں کتوں نے کاٹا تھا اور حیرانی کی بات ہے کہ ان میں سے80فیصد معاملات کا تعلق صرف سرینگر شہر سے تھا۔گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر شعبہ کمیو نٹی میڈیسن کی ایک رپورٹ کے مطابق سرینگر اور جموںکے میونسپل حدود میں سالانہ10ہزار لوگوں کو آوارہ کتے کاٹتے ہیں۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ کتوں کی آبادی ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ کتوں کی جارحیت کا نشانہ بننے والے افراد کے تناسب نکالنے سے اخذ ہوتاہے کہ فی دن کتوں نے اس مدت کے دوران27افراد کو کاٹ کھایا۔ اگر وادی کے 9اضلاع کے طبی اداروں سے اعدادو شمار حاصل کئے جائیں توشہریوں کو کتوں کے ذریعہ ک

روڈ سیفٹی … خواب شرمندہ تعبیرہوتو کیسے!

 روڈ سیفٹی کا موضوع آج کل پھر زیر بحث ہے اور روایتی میڈیا سے لیکر سوشل میڈیا تک ہر جگہ محفوظ سفر کو لیکر باتیں ہورہی ہیں۔ روڈ سیفٹی سے جڑے محکموںکے حکام بھی اپنے دلائل سے دوسروں کو قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے اور متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریوں سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ ان ذمہ داریوں کو نبھانے کی کوشش بھی کررہے ہیںتاہم یہ دلائل بے سود ہیں کیونکہ ٹریفک اور ٹرانسپورٹ سے جڑا سارا سرکاری نظام ہی آلودہ ہوچکا ہے ۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے دفاتر کورپشن کی آماجگاہ بن چکے ہیں اور ٹریفک پولیس محکمہ پر بھی کورپشن کے الزامات لگتے رہتے ہیں ۔ڈرائیونگ لائسنس کی اجرائی سے لیکر روٹ پرمٹ اور روڈ ٹیکس کی ادائیگی تک ایک ایسا مافیا سرگرم ہوچکا ہے جس نے اس محکمہ کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے ۔ریجنل ٹرانسپورٹ دفاتر کشمیر اور جموں سے

زلزلے کے جھٹکے

  گزشتہ چند روز سے جموںوکشمیر اور لداخ کے مختلف حصوں میں زلزلوں کی خبریں سامنے آرہی ہیںجن کی نوعیت سنگین نہیں ہوتی ہے اور عمومی طور پر اب تک کسی بڑے نقصان کی خبر سامنے نہیں آئی۔گزشتہ دنوںکشمیر عظمیٰ کے صفحہ اول پر شائع ایک رپورٹ میں کہاگیا تھا کہ کشمیر میں اوسطاًہر ماہ زلزلے کے تین سے چار جھٹکے محسوس کئے جاتے ہیں لیکن حکومتی سطح پر ان دیکھی کرکے مکمل خاموشی اختیارکرلی گئی ہے ۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ انتظامیہ ان حرکات شاقولی کو سرسری لے رہی ہے اور لوگوں کو یہ کہہ کر اضطرابی کیفیت سے باہر نکالنا چاہتی ہے کہ مزید کوئی زلزلہ نہیں آئے گا۔مانا کہ لوگوں کے دلوں سے خوف و دہشت مٹانا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ ہم آتش فشاں کے ڈھیر پر ہیں جو خدا نہ کرے ،کبھی بھی ہمیں نگھل سکتا ہے۔ گزشتہ ایک دو برس کے دوران کشمیراور جموں میں منعقد ہونے والے ورکشاپوں اور سمیناروں میں ماہری

معتدل آب و ہوا کو محفوظ بنانے کی ضرورت

 حال ہی میں جب جنگلاتی شجر کاری کا عالمی دن منایاگیااوراس سلسلے میںدنیا بھر میں تقاریب کا اہتمام ہوا۔ہمارے جموںوکشمیر میں بھی تقاریب منعقد ہوئیں اور شجرکاری کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی بگاڑ پر مسلسل تشویش کا اظہارکیاگیا۔گرچہ دنیا بھر میںماحولیات کے بچائو کے لئے مسلسل آ?وازیں اٹھائی جارہی ہیںتو ہمارے ملک میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔چنانچہ حال ہی میں وزیراعظم نریندرمودی نے فضاء  میں کاربن ڈائی اکسائیڈ کی مقدار کم کرنے کے سلسلے میں بھارت کے عزم کا اعادہ کیا او رکہا کہ بھارت عالمی برادری کے ساتھ مل کر ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کی ہر پہل کا ساتھ دے گا۔مسلسل عالمی سطح پر جنگلات کی اہمیت و افادیت اجاگر کرکے ماحول میں اس کی اہمیت باور کرائی جارہی ہے۔جبکہ ایک ویب نار کے ذریعے کشمیر کے سرکردہ ماہرین ماحولیات نے بھی اس سنگین مسئلہ پر سیر حاصل گفتگو کی اور جموںوکشمیر میں ماحولیات کو درپیش خ

کووڈ طبی بحران نہ کہ امن و قانون کا مسئلہ | ڈاکٹروں کو نمٹنے دیں ،انتظامی افسروںکو نہیں

 کورونا وباء ایک طبی بحران ہے۔ اگر کسی کو بھی اس بے مثال صورتحال سے نمٹنے کے لائق سمجھا جاتا ہے تو وہ اس طبی شعبے سے جڑے لوگ ہی ہیں۔ یہ ایک ڈاکٹرہی ہے جو جانتا ہے کہ اس صورتحال میں کیا کرنا ہے ، اور نقصان کو کم سے کم کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ جس طرح ڈاکٹروں نے اس وباء کے دوران اپنی جان کو خطرے میں ڈال دیا ، ہم نے انہیں اس جنگ میں صف اول کے سپاہیوں کا خطاب دیا۔ حقیقت میں ہمارے پاس یہ ایک انتہائی افسوسناک خبر ہے کہ ایک ہی دن میں 50 کے قریب ڈاکٹروں نے اپنی جان کورونا وائرس کی وجہ سے کھو بیٹھے۔صرف اس جاریہ دوسری کورونا لہر کے دوران ملک میں اب تک269ڈاکٹر کووڈ کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئے جبکہ پہلی لہر میں748ڈاکٹروں کو اس وبائی بیماری کی وجہ سے اپنی متاع حیات سے ہاتھ دھو نا پڑا تھا۔مجموعی طور پر اب تک ملک میں اس وباء کی وجہ سے ہم نے ایک ہزار سے زیادہ ڈاکٹروں کو کھویا ہے جس سے یہ اندازہ لگانا م

غذائی ملاوٹ…انسانی صحت ترجیح کیوں نہیں؟

  کشمیرکی ہر سڑک پرتلے آلو ، مٹھائیاں اور دیگر پکے ہوئے غذائی اجناس فروخت کرنے والے خوانچہ فروشوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگ اور جلدی میں سفر کرنے والے مسافروں کی ایک بڑی تعد اپنی بھوک مٹانے کیلئے انہی خوانچہ فروشوں کے سامنے بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔جہاں سڑکوں اور بازاروں میں ایسی ہی چھاپڑیوں پر غذائی اجناس خرید کرکھانے والے عام لوگوں کی شکایت ہے کہ سڑک پر ملنے والے غذائی اجناس غیر معیاری اور ملاوٹی ہوتے ہیں وہیں بڑے نام رکھنے والے ریستورانوں اور بیکری دکانوں کا بھی حال اس سے کچھ مختلف نہیں ہے اور اب ڈبہ بند خوراک نے یہ تمیز ہی ختم کردی ہے ۔چھاپڑی فروشوں، دکانوں اور ریستورانوں میں لوگوں کو فروخت کئے جانے والے غذا کی وجہ سے صارفین دست ، بخار اور دیگر بیماریوں کے شکار ہوتے ہیںجبکہ Processed Foodبنانے والے اور چھاپڑیوں اور دکانوں پر غذائی اجناس فروخت

! ایامِ کورونا میں بجلی کا بحران

سالانہ دربار کی جموںسے سرینگرجزوی منتقلی کے ساتھ ہی جموں صوبہ میں بجلی کا بحران شدیدترہوگیاہے ۔اگرچہ ہر سال یہ روایت رہی ہے کہ دربارکی منتقلی کے بعد جموں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی بڑھ جاتی ہے اور لوگ شدید گرمیوں میں انتہائی مشکلات کاشکار ہوتے ہیں لیکن امسال دربارجموں میں بھی سجا ہوا اور اس کے باوجود بجلی سپلائی کی حالت پتلی ہوچکی ہے۔پچھلے چند روز سے جموں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی شروع ہونے کی شکایات پے درپے موصول ہورہی ہیں ۔ حالانکہ حکومت نے بارہا اعلان کیاہے کہ جموں میں بغیرکٹوتی بجلی کی سپلائی فراہم ہوگی لیکن دور دراز علاقوں کی تودور کی بات، جموں خاص میں بھی ان دنوں بجلی کٹوتی عروج پر ہے ۔ان دنوں صوبہ کا ٹھیک وہی حال ہے جو سردیوں میں اہلیان کشمیر کاہوتاہے۔پہاڑی خطوں وادی چناب اور پیر پنچال میں بجلی کی فراہمی کا توکوئی شیڈول ہی نہیں اور محکمہ کی مرضی آئے تو بجلی سپلائی ہوتی ہ