تازہ ترین

عید الاضحی کی تیاریاں اورعوام | خوشیوں کے ایام میں کورونا کی خوشی کا انتظام نہ کریں

عید الاضحی کی تقریب سعید کل منائی جارہی ہے ۔کورونا کی عالم گیر وبا کے بیچ اگر چہ کافی حد تک اس عید کی خوشیاں ماند پڑچکی ہیں اور عوام میں وہ جوش و خروش نظر نہیں آرہا ہے جو روایتی طور عید کے ان ایام میں دیکھاجاتا تھا تاہم پھر بھی گزشتہ دو ایک روز سے بازاروں میں عید خریداری کے حوالے سے خاصارش پایا جارہا ہے ۔چونکہ عید مسلمانوں کا سب سے بڑا تہوار ہے تو اس پر خریداری کی ممانعت نہیں کی جاسکتی ہے اور لوگو ں کو عید کی تیاریاں کرنے کا بھرپور حق ہے تاہم گزشتہ دو روز کے دوران جس طرح دیکھاگیا کہ سماجی دوریوںکا اس عمل میں کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھاجارہا ہے ،وہ قطعاً دانشمندانہ فعل قرار نہیں دیاجاسکتا ہے ۔بلا شبہ آپ خریداری کریں لیکن یہ خریداری کرتے وقت آپ یہ بھی یاد رکھیں کہ وائرس آپ کے ارد گرد موجود ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ عید کی خوشیوں کو دوبالاکرنے کی کوششوںمیں آپ اپنی خوشیوںکو ہی محدود نہ

جموں:دربار اپنے ساتھ بجلی بھی لے گیا !

 سالانہ دربار کی جموںسے سرینگر منتقلی کے ساتھ ہی جموں صوبہ میں بجلی کا بحران شدید تر ہوتا جارہا ہے۔ اگرچہ ہر سال یہ روایت رہی ہے کہ دربارکی منتقلی کے بعد جموں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی بڑھ جاتی ہے اور لوگ شدید گرمیوں میں انتہائی مشکلات کاشکار ہوتے ہیں لیکن امسال دربار سے قبل ہی اس صورتحال کا سامنا رہا ہے اور جموں شہر میں کٹوتی کے وقت بچے بلکنے لگتے ہیں جبکہ بزرگ بھی پریشان حال ہوجاتے ہیں ۔پچھلے چند روز سے گرمی بڑھ جانے کے ساتھ ہی جموں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی شروع کردی گئی ہے ۔ حالانکہ حکومت نے بارہا اعلان کیاہے کہ جموں میں بغیرکٹوتی بجلی کی سپلائی فراہم ہوگی لیکن دور دراز علاقوں کی تودور کی بات، جموں خاص میں بھی ان دنوں بجلی کٹوتی عروج پر ہے ۔ان دنوں صوبہ کا ٹھیک وہی حال ہے جو سردیوں میں اہلیان کشمیر کاہوتاہے۔پہاڑی خطوں وادی چناب اور پیر پنچال میں بجلی کی فراہمی کا توکوئ

کشمیر میں کووڈ مینجمنٹ

 کووڈ مریضوں کے علاج و معالجہ میں خامیوں کے سنگین الزامات کے بیچ کشمیر انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ روز کہا گیا کہ صوبہ کشمیر کے ہسپتالوں میں 4ہزار بیڈ ایسے ہیں جن کو آکسیجن سپورٹ دستیاب ہے جبکہ صرف350بیڈ ہی کورونا مریضوں کے زیر استعمال ہیں جبکہ باقی خالی پڑے ہیں۔اسی طرح کہاگیا ہے کہ پورے صوبہ میں کچھ13ہزار کے قریب بیڈ ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کیلئے دستیاب رکھے گئے ہیں جن میں سے صرف6ہزار بیڈ زیر استعمال ہیں جبکہ باقی خالی پڑے ہیں ۔یہ بھی کہاگیا ہے کہ کشمیر کے ہسپتالوں میں اب 300وینٹی لیٹر دستیاب رکھے گئے ہیں جبکہ فی الوقت صرف6مریض ہی وینٹی لیٹر پر ہیں۔ حکومتی اعدادشمار سے انکار نہیں ۔اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ آکسیجن سپورٹ والے بیشتر بیڈ خالی ہیں تو ہسپتالوں میں کیوں کہرام مچا ہوا ہے ؟۔ کیوں صدر ہسپتال سے لیکر سی ڈی ہسپتال اور جے ایل این ایم سے لیکر صورہ ہسپتال تک آکسیجن بیڈوں

کورونا وبااور عالمی نظام! | انسانی بقاء ترجیح ہو ،فنانہیں

کورونا وائرس کی تباہ کاریاں تھمنے کا نام نہیںلے رہی ہیں اور پوری دنیا اس وقت اس مہلک وائرس سے بچنے کے جتن کررہی ہے ۔ساری عالمی طاقتیں بے بسی کے عالم میں اب بس دعا ہی کررہی ہیں کہ کسی طرح دنیا کے سائنسدان کوئی ویکسین لیکر آئیں جو زندگی کا پیچھا کرنے والے ا س موت کے پیامبر سے نجات دلاسکے لیکن فی الوقت کوئی تدبیر بر نہیں آرہی ہے اور اگر یوں کہیں کہ ساری کی ساری تدبیریں الٹی ہورہی ہیں تو بیجا نہ ہوگاکیونکہ عملی طور اس وقت دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتیں بے بسی کی مو رت بن چکی ہیں اور انہیں کچھ سمجھ میں بھی نہیں آرہاہے کہ اس عفونت سے نمٹا جائے تو کیسے۔ایسے حالات میں اب عالمی لیڈروں کے رول پر سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں اور ہر جانب سے یہ صدائیں بلند ہونے لگی ہیں کہ کیوں کر دنیا پاگلوںکی طرح ایک دوسرے کو تباہ کرنے کیلئے ہتھیاروں کی دوڑ میں لگی ہوئی تھی جبکہ ان کے لوگ نان شبینہ کے محتاج تھے ۔اب اس ب

کووڈ ۔19…محدود رہیں، محفوظ رہیں

حکومت نے کہا ہے کہ سرینگر کے بڑے ہسپتالوں میں صرف ایسے مریضوں کو داخل کیاجائے گا جنہیں دیہی ہسپتالوں سے باضابطہ ریفر کیاگیا ہو اور کسی ایسے مریض کو شہر کے بڑے ہسپتالوں میں داخلہ نہیں دیاجائے گا جس نے از خود ایسے ہسپتال کا رجوع کیا ہو۔ یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں ہے اور اس کو قطعی سرسری نہیں لیاجاناچاہئے بلکہ اس فیصلہ کے پس پردہ محرکات سمجھنے لازمی ہیں۔ہمیں یہ سوچ لینا چاہئے کہ آخر حکومت کیوں اتنی مجبور ہوگئی کہ انہیں باضابطہ حکم نامہ جاری کرنا پڑا کہ اب ریفرل کے بغیر مریض بڑے ہسپتالوں میں داخل نہیں ہونگے۔جواب تلاش کرنے کیلئے زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے اور جواب موجودہ کورونا بحران میں ہی موجود ہے ۔لوگوں کو معلوم ہوناچاہئے کہ اس وقت سرینگر کے کم و بیش سبھی ہسپتالوں میں جگہ تقریباً ختم ہوچکی ہیں اور بیشتر ہسپتالوں میں اب نئے مریضوں کے داخلہ کی گنجائش نہیںہے۔شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل

عید الاضحی کی آمد آمد

 عیدالاضحی کی آمد آمد ہے۔ عید مسلمانوں کیلئے خوشی کا تہوار ہے لیکن جس ماحول میں یہ عید کشمیر پر سایہ فگن ہورہی ہے ،وہ ماحول کوئی خوشی بھرا ماحول نہیں ہے۔ لوگ کربناک حالات سے دوچار ہیں، آہوں اور سسکیوں کی آواز یں ہر سمت میں گونج رہی ہیں۔ کورونا وائرس کی وباء سے دنیا کا نظام تہہ وبالا ہوچکا ہے ۔دنیا سمیت کشمیر لاک ڈائون کا شکار ہے۔ لوگ نان شبینہ کے محتاج ہوچکے ہیں ۔سینکڑوں کی تعداد میں معصوم نوجوان زندانوں کی زینت بنے ہوئے ہیں ۔سینکڑوں مائیں آج بھی دریچوں سے باہرٹکٹکی لگائے جھانک رہی ہیں کہ شاید ان کا لخت جگر عید کی خوشی میں شامل ہونے کے لئے ضرور آئے گا۔گھروں کے ٹوٹے درودیوار،ٹوٹی کھڑکیاں،تباہ شدہ املاک اور اربوں روپے کی مالی قربانی زبان حال سے ہمارے ضمیرکوجھنجوڑ رہی ہے۔ ان جان گسل حالات سے دوچارکوئی قوم کس طرح اس امر کی متحمل ہوسکتی ہے کہ وہ عید کی خوشیاں اس اندازسے منائے جیس

کووڈ گائیڈلائنز یکساں تو عمل جداگانہ کیوں؟

گزشتہ چند روز سے سوشل ا ور مقامی مین سٹریم میڈیا میں تواتر کے ساتھ ایسی رپورٹس آرہی تھیںکہ باہر سے کشمیر آرہے غیر مقامی کامگاروں کو جواہر ٹنل پر کسی سکریننگ یا کووڈ ٹیسٹنگ کے بغیر ہی چھوڑا جارہا ہے ۔اس ضمن میں بانہال سے لیکر جواہر ٹنل اور قاضی گنڈ علاقہ تک ویڈیوز بناکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ خود حکومتی مشینری اپنے ہی وضع کردہ پروٹوکول کو فراموش کرکے مقامی آبادی کو خطرات سے دوچار کررہی ہے ۔بعد ازاں حسب روایت ایک تفصیلی بیان جاری کرکے بتایا گیا کہ اب تک کچھ12ہزار غیر مقامی مزدوروں کے کووڈ ٹیسٹ کئے گئے ۔گوکہ لوگوںکو حکام کی ان تاویلات پر بھروسہ نہیں ہورہا تھا لیکن چونکہ اعدادوشمار سرکاری سطح پر جاری کئے گئے تھے تو یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا تاہم اب جس طرح سے بڈگام اور دیگر اضلاع میں اینٹ کے بٹھوں سے غیر مقامی مزدوروں کی ایک بڑی تعداد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آچکے ہیںتو حکو

قبضہ چھڑانے کی حوصلہ افزاء مہم

چند روزقبل جموں شہر کے ایک مضافاتی گائوں میں اقلیتی طبقہ سے وابستہ آبادی کے مکانات یہ کہہ کر مسمار کردئے گئے کہ وہ جنگلاتی اراضی پر تعمیر کئے گئے تھے۔حد تو یہ 17جولائی کو تحصیلدار کی جانب سے انہیں مذکورہ اراضی خالی کرنے کیلئے ایک تحریری نوٹس کے ذریعے پانچ دنوںکا وقت دیاگیا لیکن 18جولائی کو متعلقہ حکام پولیس کی ٹکڑی کے ساتھ وہ نوٹس لیکر وہاں پہنچے اور مہلت کی مدت کا کوئی خیال کئے بغیر ان مکانات کو منہدم کرکے مکینوں کو سڑک پر لایا۔انہدامی مہم کا تازہ واقعہ اپنی نوعیت کا نہ کوئی پہلا واقعہ تھا اور نہ آخری ہوگا۔یہ مہم اب گزشتہ چند برسوں سے جاری ہے اور شاید آگے بھی جاری رہے گی ۔سرکاری و جنگلاتی اراضی پر ناجائز قابضین کو یقینی طور پر بے دخل کیاجا نا چاہئے اور اس میں کسی قسم کا امتیاز نہیں برتنا چاہئے ۔سرکاری یا جنگلاتی اراضی اقلیتی طبقہ نے ہڑپ کر لی ہو یا اکثریتی طبقہ نے ،دونوں قانون کی ن

سرحدی آبادی کا کچھ خیال کریں!

 جموںوکشمیرمیں سرحدوں کو محفوظ بنانے کیلئے فوج کی جانب سے کی گئی تار بندی کی وجہ سے2.5لاکھ کنال اراضی اور ہزاروں مکانات تار بندی کے اُس پار رہ گئے تاہم آج تک اراضی اور مکان مالکان کو کوئی معاوضہ فراہم نہیں کیاگیا۔ان باتوں کا انکشاف وزارت داخلہ نے    حق اطلاعات قانون کے تحت دائر ایک عرضی کے جواب میں کیا ہے۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ضلع پونچھ ہے جہاں ایک لاکھ 43 ہزار 643 کنال اراضی سرحد پر تار بندی کی وجہ سے حصار کے اُس پار رہ گئی ہے اور نتیجہ کے طور یہ اراضی بنجر بن چکی ہے۔ کٹھوعہ سے لیکر کپوارہ اور اوڑی سے لیکر پونچھ تک پھیلی کنٹرول لائن حقیقی معنوں میں انسانی آبادی کیلئے وبال جان بن چکی ہے کیونکہ جہاں حد متارکہ پر لاکھوں کنال زرعی و غیر زرعی اراضی اس باڑ بندی کی زد میں آکر لوگوں کی دسترس سے باہر ہوچکی ہے وہیں ہزاروں مکانات بھی ایسے ہیں جو اس کی زد میں آچکے ہیں

پانی نایاب…لوگوں کی پیاس بجھے تو کیسے؟

گرمی میں شدت پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ شہر سرینگر کے پائین اور بالائی علاقوں میں پانی کی قلت سے ہاہار کار مچنے لگی ہے۔ایک طرف آبپاشی کی چھوٹی بڑی نہروں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح کافی حد تک بڑھ چکی ہے ،دوسری جانب جس طرح پینے کے پانی کی قلت کا مسئلہ پیدا ہوا ہے ،وہ اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ محکمہ آب رسانی میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے۔ اگرچہ شہر سرینگر اور بیشتر قصبہ جات میں کافی عرصہ سے پانی کی سپلائی میں کٹوتی کا سلسلہ جاری ہے اور صرف صبح و شام کے اوقات میں چند گھنٹوں کیلئے پانی فراہم کیا جاتا رہا ہے، مگر اِدھر کچھ عرصہ سے یہ سلسلہ بھی قائم نہیں رہ پایا اور پانی کی سپلائی کئی کئی دن تک منقطع کر دی جاتی ہے۔ پائین شہر کے حسن آباد، سعدہ کدل ، رنگہ پورہ الٰہی باغ ،رعناواری کے محلہ اشرف خان، محلہ ممہ خان، محلہ ہاتھی خان، محلہ مخدوم صاحب، ہاکہ بازار، حول، خوجہ یاربل، پوکھری بل اور ا

مئے کشی اورمنشیات فروشی

 گزشتہ دنوں جب کشمیر میں شراب کی دکانیں کھولنے سے متعلق حکومتی منصوبہ افشاء ہوا تو ہر سُو ہاہار مچ گئی ہے اور سماج کے سبھی طبقوں نے اس مجوزہ منصوبہ کی کھل کر مخالفت کی ۔حکومتی منصوبہ کے خلاف عوامی ردعمل حوصلہ افزا ء تھا جو بادی النظر میں اس بات کی جانب اشارہ کررہا تھا کہ کشمیر ی عوام الخبائث کو فروغ دینے کے حق میں نہیں ہیں۔کھلے عام شراب کی دکانیں کھولنے کے منصوبہ کی مزاحمت کرنا اچھی بات ہے لیکن اُس شراب کا کیا کیاجائے جس کا صرفہ اس کے باوجود بھی اس وقت کشمیر وادی میں جاری ہے۔حکومتی اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ صرف گزشتہ برس کشمیر میں شراب کے استعمال اور کاروبار میں 25 سے 30فیصد کے درمیان اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ سال ِ رفتہ میں کشمیر میں 40لاکھ کے قریب شراب کی بوتلیں فروخت اور استعمال کی گئیں ۔غور طلب ہے کہ کشمیر میں صرف 6شراب دکانیں قائم ہیں جن میں سے چار سرینگر او

کورونا بحران اور سرکار و عوام

ایک ایسے وقت جب کورونا کا بحران جموںوکشمیر خاص کر وادیٔ کشمیر میں شدید تر ہوتا چلا جارہا ہے اور لگاتار کورونا متاثرین اور کورونا اموات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہورہا ہے، حکومت اور ڈاکٹروں کی جانب سے مسلسل اس کا ملبہ عام لوگوں پر گرانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔اس بات سے قطعی انکار نہیں کہ موجود ہ صورتحال کیلئے لوگ بھی ذمہ دار ہیں لیکن حکام اور طبی شعبہ سے جڑے ہمارے ڈاکٹر اور طبی منتظمین بھی اپنی ذمہ داریوں سے پلو جھاڑ نہیں سکتے ہیں۔مانا کہ لوگوں کی جانب سے غفلت برتی گئی اور کووڈ پروٹوکول کا لحاظ کافی حد تک نہیں رکھاگیا، جس کی وجہ سے کورونا بے قابو ہوچکا ہے لیکن اگر حکومتی عدم توجہی اور نااہلی کے معاملات بھی گنے جائیںتو فہرست کافی طویل ہوجائے گی۔آج بھی جب معاملات قابو سے باہر ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں ،ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت ابھی بھی خواب غفلت میں ہے اور وہ کسی خدائی مدد کی منتظر ہے ۔بے شک مو

اخلاقی انحطاط…سماج کا پوسٹ مارٹم ناگزیر

کورونا کی عالمگیر وباء کے باوجود بھی جس طرح گزشتہ کچھ دنوںکے دوران جموںوکشمیر کے دونوں صوبوں سے اخلاقیت سوز واقعات پیش آئے ،اُس کے بعدیہ حقیقت ایک بار پھر ہم پر عیاں و بیاں ہوگئی ہے کہ اخلاقی انحطاط کاطوفان کی تیزی کے ساتھ ہمارے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔بے راہ روی ،بد اخلاقی ،بے ایمانی ،رشوت خوری اور کنبہ پروری نے لوگوں سے غلط اور صحیح میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہی چھین لی ہے۔ اس پرطرہ یہ کہ اجتماعی حس نام کی چیز ہی جیسے عنقا ہوگئی ہے اور لوگوں کی اکثر یت اس تشویشناک صورتحال سے بالکل بے پرواہ ہے۔ایک وقت تھا جب یہی قوم اپنی شائستگی ،اخلاق اور ایمانداری کی وجہ سے پوری دنیا میں اپنی مثال آپ تھی، تو پھر آخر ایسا کیا ہوا کہ ہمارے سماج کا تانا بانا اس حد تک بکھر گیا کہ اب ہماری انفرادی شناخت کو بھی خطرہ لاحق ہوا ہے ۔ اگر چہ اس سب کیلئے کئی ایک عوامل کارفرما ہیں تاہم عمومی طور پر نوجوا

لاک ڈائون … ذمہ داریوں سے فرار بجا نہیں!

جموں و کشمیر خاص کر وادی کشمیر میں گزشتہ تقریباً دس دنوں سے کورونا معاملات میں نہ صرف تشویشناک رفتار سے اضافہ ہورہا تھا بلکہ اموات کی شرح میں خطرناک اضافہ ہورہا تھا اور یہ سلسلہ ہنوز ایسے ہی جاری ہے ۔اس کے نتیجہ میں نہ صرف عوامی حلقوںمیں زبر دست تشویش پیدا ہوگئی بلکہ حکومتی حلقے بھی پریشان ہوگئے اور ہر سو یہی مطالبہ ہونے لگا کہ کسی طرح انسانی جانیں بچائو۔عوامی حلقوں میں یہ اضطراب قطعی غیر فطری نہیں ہے کیونکہ حالات اتنے سنگین ہوچکے تھے تاہم حکومتی ردعمل حسب روایت ویسا ہی رہا ،جیسے امید کی جارہی تھی ۔فوری طور حرکت میں آکر لاک ڈائون کے نفاذ کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا گیا اور اب رفتہ رفتہ پوری وادی اور جموں کے چند اضلاع میں دوبارہ سے لاک ڈائون نافذ کیاجارہا ہے ۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم اس صورتحال تک کیسے پہنچے ؟۔ گوکہ ہماری عادت بن چکی ہے کہ ہم ہر مسئلہ پر حکومت اور انتظامیہ کو ذمہ دار

سرحدوں پر آگ اگلنا بند کریں!

جموں صوبہ میں لائن آف کنٹرول سے لیکر بین الاقوامی سرحداور کشمیر کی حد متارکہ کے مختلف سیکٹروں میںگزشتہ کئی روز سے مسلسل گولہ باری ہورہی ہے ۔دونوں جانب سے آتشی گولہ باری تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ دس روز کے دوران جنگ بندی کی خلاف ورزی کے نتیجہ میں سرحد کے دونوں جانب کم ازکم5کے قریب اموات واقع ہوئی ہیں جبکہ ایک وسیع سرحدی آبادی جان کی امان پانے کیلئے نقل مکانی کرچکی ہے۔جانکار حلقوں کے مطابق سرحدی گولہ باری کے اس نہ تھمنے والے سلسلہ کی وجہ سے درجنوں دیہات متاثر ہوچکے ہیں اور اشتعال انگیزی کا یہ عالم ہے کہ دونوں جانب سے ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ 120 ایم ایم اور 180 ایم ایم مارٹر گولے بھی داغے جارہے ہیں۔ایک طرف امن اور مفاہمت کی باتیں کی جارہی ہیں جبکہ دوسری جانب فلیگ میٹنگوں اور ہاٹ لائن روابط کے باوجود سرحدوں پر لگی توپیں آگ اگلنا بند نہیں کررہی ہیںاو

! ماحولیاتی تحفظ کیلئے راست اقدامات ناگزیر

انسان کرہ ارض پر ڈیڈھ کروڑ انواع میں سے ایک ہے۔ انسان دنیا کے ان جانداروں میں سرفہرست ہے جن کی تعداد اس سیارے پر بڑھ رہی ہے۔ اکثر جانوروں اور پودوں کی آبادی میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔انسان نے ترقی کے لئے قدرتی جنگلات کا کافی بڑا حصہ صاف کردیا ہے۔ مچھلیوں کے ذخیرہ کا تین چوتھائی حصہ ختم کرڈالا ہے پانی کے نصف ذخائر کو آلودہ کردیا ہے اور اس قدر زیادہ زہریلے گیس فضاء میں خارج کئے ہیں جو زمین کو آنے والی کئی صدیوں تک گرم رکھیں گئے۔انسان نے قدرتی انواع کو فنا کرنے کا عمل قدرتی عمل سے ہزار گنا تیز کردیا ہے۔ اس طرح ہم نے خود اپنی بقاء کو خطرے سے دو چار کرنے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ہمارے سیارے کی رنگ برنگی زندگی کو حیاتیاتی تنوع(Biodiversity) کہتے ہیں جو ہمیں خوراک، کپڑے، ایندھن، دوائیاں اور بہت کچھ دیتا ہے۔ ہمیں تو سڑک کے کنارے اُگتی گھاس اور کھیتوں میں پلنے والے ایک بھنورے تک کی اہمیت کا اندازہ

نفسیاتی امراض … خاموش طوفان رُکے گا کیسے؟

وادی کشمیرمیںذہنی تنائوسے پیدا ہونے والے امراض ، خود کشی کے واقعات اور منشیات کے استعمال کے حوالے سے جس طرح چونکا دینے والے انکشافات سامنے آرہے ہیں ،اُن سے وادی کے ذی حس طبقہ کی نیندیں اُچٹ جانی چاہئیں ۔نفسیاتی امراض میں مبتلاء لوگوں کے بارے میں جو اعداد و شمار ا ٓرہے ہیں ،ان پر اگر چہ کئی لوگوں کو اعتراض ہے لیکن اس بات پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا کہ رواں نامساعد حالات کے چلتے وادی میں روز افزوں نفسیاتی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔اس سلسلے میں کئی مقامی اور بین الاقوامی رضاکار تنظیموں نے سروے کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کرہ ارض کے اس خطہ میں نامساعد حالات میںنہ صرف جوانوں کی ایک کثیر تعداد ذہنی طور سو فیصد توانا نہیں بلکہ بچے ،بزرگ اور خواتین بھی اعصابی اضمحلال اورذہنی تنائو کے شکار ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق پر تنائو صورتحال اور تشدد کے واقعات نے کشمیری سماج کے قلب و

ڈل جھیل کی بحالی… دلّی ہنوز دور است

ڈل جھیل ،نگین،آنچار اور خوشحال سر آبی ذخائرکی تازہ پیمائش کی گئی ہے جس کے مطابق ڈل اور نگین کا رقبہ 50432کنال اراضی ہے جس میں 39226آبی ذخائر اور 10206کنال اراضی خشکی ہے جبکہ تازہ ترین پیمائش کے مطابق خوشحال سر کارقبہ 1791کنال اراضی ہے جس میں 1701آبی ذخائراور 90کنال خشکی ہے۔جبکہ مزیدایک ہزار کنال اراضی بھی ڈل کی وسعتوںمیں شامل کی جائے گی۔جہاں تک آنچار جھیل کا تعلق ہے تواس  کا رقبہ40728کنال اراضی ظاہر کیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یہ پیمائش جدید آلات اور ریموٹ سنسنگ سٹیلائٹ کے ذریعے کرائی گئی ہے۔مزید بتایا جارہا ہے کہ نہ صرف ڈل کے مکینوں کو رکھ آرتھ منتقل کر نے کے بعد ان کی املاک کو مہند م کرکے انکو بھی آبی ذخائر میں منتقل کیا جائے گا۔ اگر واقعی زمینی سطح پر ڈل جھیل کی بحالی کیلئے اتنا کام ہوا ہے تو یہ حوصلہ افزا ہے اور اس سے امید پیدا ہوگئی ہے کہ ڈل کی شان رفتہ بحال ہوسکے گی ل

بے ہنگم تعمیرات اور بے ڈھنگی پالیسیاں

 غذا کیلئے زرعی اراضی کا ہونا ضروری ہے۔ساری غذا زمین سے پیدا کی جاتی ہے۔ایسے میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ زمین کے بغیر خوراک کا تصور محال ہے لیکن اس کے باوجود زرعی زمین کو غیر زرعی استعمال میں لایا جارہا ہے۔ لاکھوں کنال زرعی زمین کو پختہ جنگل میں تبدیل کیا گیا۔ایک وقت تھا جب کشمیر خوراک کے معاملے میں کم و بیش خود کفیل تھا لیکن آج حالت یہ ہے کہ جواہر ٹنل چند دن بند ہوجاتی ہے تو کہرام مچ جاتا ہے ۔سرکار نے علامتی طور آبی زمین کےتعمیرات کے استعمال پر پابندی تو عائد کردی ہے لیکن سرکار کی ناک کے نیچے بلکہ خود سرکار کے بیشتر اعلیٰ عہدیداروں نے آبی زمین پر ہی اپنے نشیمن تعمیر کئے ،نتیجہ یہ ہوا کہ زرعی زمین سکڑتی گئی اور اب دانے دانے کیلئے جموںوکشمیرکو پنجاب اور دیگر ریاستوں سے درآمد ہونے والے اناج کا محتاج رہنا پڑتا ہے۔چاولوں سے لیکرگندم اور یہاں تک کہ سبزیاں بھی باہر سے آتی ہیں۔مردم

انتظامی مشینری …بہتری ہنوز دُور است!

سرما کی کٹھن سردی کے دوران کشمیر سے ناطہ توڑ کر جموں کی گرم ہوائوں میں اس بار8ماہ گزارنے کے بعد بالآخرسرینگر میںسیول سیکریٹریٹ کھل گیا ۔اس موقعہ پر لیفٹنٹ گورنر نے انتظامی سیکریٹریوں کی ایک میٹنگ طلب کی جس میں اُن سے کہاگیا ہے کہ وہ عوامی مسائل کے ازالہ کیلئے تمام اضلاع میں جانے کا پروگرام ترتیب دیں گے تاکہ برسر موقعہ عوامی مسائل کا جائزہ لے کر ان کے حل کی کوئی سبیل نکالی جاسکے ۔میٹنگ کی روداد کے حوالے سے جو سرکاری بیان جاری کیاگیا ،اُس میں انتظامی مشینری کی فعالیت کے حوالے سے زمین و آسمان کے قلابے ملائے گئے ہیں۔ اقتدار و اختیار کی اعلیٰ کرسیوں پر براجمان حضرات کے منہ سے بات نکلے توسادہ لوح عوام اسے حتمی تصور کر لیں ،شاید ایسا دنیا میں کہیں ہوتا ہو لیکن جموں و کشمیر میں بالعموم اور کشمیر وادی میں بالخصوص یہ باتیں کسی کے پلے نہیں پڑتیں ۔کشمیری عوام سیاسی طور انتہائی بالغ اور الفاظ کی