تازہ ترین

ہمارے اعلیٰ تعلیمی ادارے

 ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں معیار کا تعین کرنے کی غرض سے قائم کئے گئے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے خودمختار ادارہ نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیشن کونسل ،جسے عرف عام میںNAACکہتے ہیں،کی جموںو کشمیر اور لداخ مرکزی زیر انتظام علاقوں کی ایکریڈیشن رپورٹوں کا تجزیہ گزشتہ دنوں ایک تقریب میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ہاتھوں جاری کیاگیا۔اس تقریب پر منوج سنہا نے تعلیمی شعبہ میں حال اور مستقبل میں درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے کچھ قابل قدر تجاویز پیش کیں ۔ یہ اب ہمارے دور کی ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ہم ایک ایسے دور کی طرف جا رہے ہیں جس پر علمی معیشت کا غلبہ ہو گا اور یہ کہ ہمارا سب سے بڑا اثاثہ انسانی سرمایہ ہوگا ، جو ہنر ، مہارت اور تخلیقی صلاحیتوں کا مجموعہ ہوگا۔ موجودہ دور میں دنیا بھر کی تعلیمی قیادت نے بار باراس طرح کے نظریہ پر زور دیا ہے اور پوری دنیا میں اس وقت تعلیم دان اس بات پر متفق

بجلی لائن پر ایک اور جان کا ضیاع | غریب ڈیلی ویجروں کا تحفظ کون کرے گا؟

گزشتہ کئی برسوں سے یہ اخبارمسلسل محکمہ بجلی میں فیلڈ سٹاف کی حالت زار کو اجاگر کر رہا ہے اور ارباب بست و کشاد کی توجہ محکمہ سے منسلک فیلڈ عملہ کے مشکلات کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی گئی لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ محکمہ کے اعلیٰ حکام کچھ سننے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو زمینی سطح پر محکمہ کی حالت بدل چکی ہوتی اور فیلڈ عملہ کی بے سرو سامانی کا عالم ختم ہوچکا ہوتا تاہم آج بھی یہ حالت ہے کہ محکمہ سے منسلک کیجول و ڈیلی ویجر مسلسل ترسیلی لائنوں کی مرمت کے دوران بے سرو سامانی کی حالت میں بجلی لائنوں اور ترسیلی کھمبوں پر ہی بجلی کرنٹ لگنے سے لٹک کر لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ پچھلے ہفتے ہم نے ایسا ہی ایک اور سانحہ وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کی تحصیل کھاگ کے کنچٹی پورہ گاؤں میں دیکھا جہاں ایسے ہی ایک نوجو ان کی زندگی ترسیلی کھمبے پر ہی ضائع ہو گئی اور اس کے اثرات اب خاندان میں برسوں تک ساتھ

ٹریفک کا حال مسلسل بے حال!

  شہرسرینگر سمیت پوری وادی میں ٹریفک نظام کی بدحالی ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے ۔ ٹریفک نظام کی تباہی اور بربادی کے مسائل وہی ہیں ، جو کئی سال پہلے تھے لیکن ان مسائل کو مکمل طور حل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ سڑکوں کی تنگ دامانی، گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ، عوام کی جانب سے قوانین و ضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں، محکمہ ٹریفک میںا نفراسٹرکچر اور افرادی قوت کی قلت جیسے مسائل کو حل کرنے کی جانب جب تک توجہ نہیں دی جاتی ، ٹریفک ہفتے تو کیا ’ ٹریفک سال ‘ منانے سے بھی کچھ نہیں بدلے گا بلکہ مسائل ہر گزرنے والے دن کے ساتھ بڑھتے جائیں گے۔ پہلے تو ٹریفک جامنگ کا مسئلہ صرف شہر کے بالائی علاقوں تک محدود تھا ، اب ہائی ویز پر تمام قصبہ جات میں ٹریفک جامنگ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے ۔ بدقسمتی سے حکومتی سطح پر اس مسئلے کے تئیں اتنی سنجیدگی سے توجہ

معذور افراد قوم کا اثاثہ

اﷲ تعالی نے کوئی چیز بھی بے مقصد پیدا نہیں کی۔اس کائنات میں ایک ذرے سے لے کر،پودے پتے،جھاڑ جھنکار اور ریت کے ذروں سے لے کر پہاڑ،چٹانیں،غاریں اور دریا اور سمندر تک بے شمار مخلوقات ہیں اور کتنی ہی مخلوقات ہیں جو ان دریاؤں اور سمندروں کے اندر اپنی زندگی کے دن پورے کر رہی ہیں ،اور کتنی ہی مخلوقات ہیں جوپہاڑوں کے درمیان وادیوں میںاور زمین کی گہرائیوں میں اور پتھروں کے اندر اور درختوں کی جڑوں سے چمٹے ہوئے اس دنیا میں موجود ہیں اور نہ جانے کہاں کہاں اور کیسے کیسے اور کس کس طرح کی مخلوقات جو ہنوزانسانی مشاہدے میں نہیں آسکیں اﷲ تعالی کی خلاقی کا پتہ دیتی ہیں ۔لیکن یہ سب قطعاََ بھی بے مقصد نہیں،اتفاقََانہیں اور نہ ہی الل ٹپ ہیں بلکہ اﷲ تعالی نے یہ سب ایک نظام کے تحت ،ایک منصوبے کے مطابق اور ایک منزل کے تعین کے ساتھ تخلیق فرمایا ہے۔ان ساری مخلوقات میں سب سے افضل مخلوق حضرت انسان ہے جسے اﷲ تعالی

اخلاقی انحطاط کیلئے ذمہ دار کون؟

 اخلاقی انحطاط طوفان کی تیزی کے ساتھ ہمارے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔بے راہ روی ،بد اخلاقی ،بے ایمانی ،رشوت خوری اور کنبہ پروری نے لوگوں سے غلط اور صحیح میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہی چھین لی ہے۔ اس پرطرہ یہ کہ اجتماعی حس نام کی چیز ہی جیسے عنقا ہوگئی ہے اور لوگوں کی اکثر یت اس تشویشناک صورتحال سے بالکل بے پرواہ ہے۔ایک وقت تھا جب یہی قوم اپنی شائستگی ،اخلاق اور ایمانداری کی وجہ سے پوری دنیا میں اپنی مثال آپ تھی، تو پھر آخر ایسا کیا ہوا کہ ہمارے سماج کا تانا بانا اس حد تک بکھر گیا کہ اب ہماری انفرادی شناخت کو بھی خطرہ لاحق ہوا ہے ۔ اگر چہ اس سب کیلئے کئی ایک عوامل کارفرما ہیں تاہم عمومی طور پر نوجوان نسل کی بے حسی اور انتظامی غفلت شعاری کو اس کی بنیادی وجہ قرار دیا جارہا ہے لیکن کیا واقعی ہماری نوجوان نسل اکیلی اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوگئی ہے ؟۔ مسئلہ کا اگر باریک بینی سے جا

محکمہ صحت کی اپنی صحت ٹھیک کی جائے

 محکمہ صحت کے حوالے سے آئے روز جو ہوش ربا رپورٹ میڈیا کی توسط سے عام لوگوں تک پہنچ رہے ہیں،انہوں نے ذی حس عوام کی نیندیں ہی اچٹ دی ہیں کیونکہ عوام کے جان سے براہ راست تعلق رکھنے والے اس شعبہ کی جو حالت اخبارات کے ذریعے منکشف ہورہی ہے ،وہ انتہائی پریشان کن ہی نہیں بلکہ تشویشناک بھی ہے ۔ادویہ سکینڈل کوئی نئی بات نہیںہے بلکہ اب تو ہسپتالوں میں دستیاب سہولیات اور عملہ و ڈھانچہ کی قلت بھی درپیش ہے اور ایسے میں یہ ہسپتال محض نمائشی شفاخانے لگتے ہیںجہاں مریضوں کا خدا ہی حافظ ہے۔خرد برد اور بدانتظامی و مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے آئے روز جو نت نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں ،وہ اس بات کی جانب اشارہ کررہے ہیں کہ یہ کوئی انفرادی کورپشن کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک منظم دھندہ ہے جو برسوں سے اس محکمہ میں چلتا آرہا ہے اور اس کے تار نچلی سے لیکر اوپری سطح تک محکمہ کے منتظمین کے ساتھ جڑے ہوئے ہی

کووڈ …احتیاط جاری رکھیں !

 جموںوکشمیر میں کورونا لہرفی الوقت قابو میں ہے۔ حکومت نے معمولات کم وبیش بحال کر دئے ہیں ۔وادی اور جموں صوبہ کے بازار کھل چکے ہیں۔بازاروں میں جس طرح چہل پہل دیکھنے کو مل رہی ہے ،اُس سے تو بظاہر لگ رہا ہے کہ زندگی لوٹ آئی ہے تاہم یہ سب خطرے سے خالی نہیں ہے ۔بلا شبہ ہم مزید بندشوں کے متحمل نہیںہوسکتے تھے کیونکہ ہماری معیشت وینٹی لیٹر پر چلی گئی تھی تاہم معاشی سرگرمیاں بحا ل کرتے وقت ہمیں اس بات ذہن میںرکھ لینی چاہئے کہ کورونا وائرس کہیں گیا نہیں ہے ۔حکومت نے اَن لاک کرکے دراصل گیند اب عوا م کے پالے میں ڈال دی ہے اور اب یہ لوگوںکی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا خیال رکھتے ہوئے اپنی معمول کی سرگرمیاں بھی جاری رکھیں ۔جس طرح سے بازاروں میں جس طرح بھیڑ بھاڑ دیکھی جارہی ہے ،وہ قطعی کوئی اچھا شگون نہیں ہے ۔شہر اور قصہ جات میں لو ک اس طرح بازاروں کا رخ کررہے ہیں جیسے کچھ ہواہی نہیں ہے ۔ہم ابھ

غربت مٹائیں ،غریبوں کو نہیں

 غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزربسر کرنے والے جموں وکشمیر کے 13لاکھ لوگ موجودہ مہنگائی کے دور میں بنیادی اشیاء کے حصول کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں اور حکومت ان کے مسائل سے لاتعلق ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق جہاں 2009-10میں جموںوکشمیر میں غربت کی شرح 9.4فیصد تھی وہیں2011-12میں یہ شرح بڑھ کر 10.35فیصد تک پہنچ گئی ۔تشویشناک امر یہ ہے کہ سطح افلاس سے نیچے گزر بسر کرنے والوں کی تعداد میں زیادہ اضافہ دیہی علاقوں میں دیکھنے کو ملا ہے جہاں پہلے یہ شرح محض8.1فیصد تھی اور اب یہ بڑھ کر11.5فیصد تک پہنچ گئی ۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ جموں و کشمیر میں 23.27لاکھ لوگ غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں جن میں سے 10.73دیہی اور2.53لاکھ شہری علاقوں میں آباد ہیں۔سوال پیداہوتا ہے کہ غریبی کے خاتمہ کے لئے مرکز کی جانب سے چلائی جارہی کئی اسکیموں کے باوجود ریاست میں غرباء کی تعداد میں کمی کے بجائے اضافہ کیوں ہ

کووڈ ا ور معیشت… اُمید کا دامن نہ چھوڑیں

دنیا کے مختلف ممالک میں کورونا وائرس کی تیسری لہر شروع ہوچکی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ یہ لہر پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کورونا معاملات میں ایک بار پھر اضافہ کو دیکھتے ہوئے نئے سرے سے جزوی اور مکمل لاک ڈائون کا نفاذ عمل میں لایاجارہا ہے جس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ عالمی معیشت میں مزید تنزلی دیکھی جاسکتی ہے کیونکہ کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے اقتصادی سرگرمیوں میں مزید ٹھہرائو فطری ہے ۔ہمارے یہاں بھی صورتحال کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے ۔یہاں بھی کورونا کی دوسری لہر ابھی بھی جاری ہے تاہم قدرے ٹھہرائو آچکا ہے ۔گوکہ پہلی لہر کی وجہ سے نڈھال معیشت کا پہیہ ابھی بھی پوری طرح بحال نہیں ہوچکا تھا اور اقتصادی سرگرمیاں بدستور متاثرتھیں تاہم دوسری لہرکی وجہ سے معیشت مزید کمزور ہو گئی ہے۔ موجودہ حالات آنے والے مشکل ترین ایام کی جانب اشارہ کررہے ہیں۔کہنے کو تو لوگ بہت کچھ کہیں

انسداد سیلاب اور کشمیر

2014کے تباہ کن سیلاب کے بعد حکومتی سطح پر اعلان کیا گیا تھا کہ اولین فرصت میں دریائے جہلم کی کھدائی عمل میں لاکر اس کے کناروں کو ناجائز تجاوزات سے پاک کیاجائے گا۔سیلاب کو آئے اب سات سال ہوچکے ہیںلیکن حکومتی اعلان حکم نواب تادر نواب ہی ثابت ہوا ۔نہ ہی جہلم کی کھدائی عمل میں لائی اور نہ ہی اس کی معاون ندیوں کو وسعت دینے کا عمل شروع کیا گیا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ جہلم سمیت تمام ندی نالوں اور دیگر آب گاہوں کو ناجائز تجاوزات سے پاک کرنے کی مہم بھی دم توڑ بیٹھی ۔سیلاب کے بعد بار بار کی عدالتی پھٹکار کی وجہ سے حکومتی مشینری کسی حد تک متحرک ہونے لگی تھی اور نہ صرف جہلم بلکہ فلڈ چینلوں کی کھدائی کا عمل شروع کرکے جہلم سمیت تمام ندی نالوں کے کناروں سے ناجائز تجاوازت ہٹانے کا بیڑا اٹھالیاگیا تھا لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا ،یہ مہم خاموشی کی موت مر گئی اور جہلم سمیت تمام ندی نالوں کے کناروں پر غیر قا

سکول کھولنے کی مشروط اجازت

جموںوکشمیر مرکزی زیر انتظام علاقہ میں حکومت نے بالآخر تعلیمی ادارے جزوی طور کھولنے کا فیصلہ لیا ہے۔ اول تو اسی ماہ طلباء اور عملہ کی صد فیصد کووڈ ٹیکہ کاری یقینی بناکر کالج اور یونیورسٹیاں کھولنے کا فیصلہ لیاگیا ہے جبکہ دسویں اور بارہویں جماعتوں کیلئے تدریسی عمل شروع کرنے کی مشروط اجازت دی گئی تاہم دونوں جماعتوں کے طلاب کو صرف مخصوص ایام میں50  فیصد حاضری کے ساتھ تدریسی عمل میں شرکت کی اجازت ہوگی۔اس کے علاوہ سول سروسز اور انجینئرنگ کوچنگ سنٹر50 فیصد کی محدود بنیاد پر تدریسی سرگرمیاں بحال کر سکتے ہیں، البتہ عام کوچنگ سینٹر بدستور بند رہیں گے۔ سرکاری حکم نامہ کے مطابق بارہویں جماعت کے طلباء کیلئے ٹیکہ کاری لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ دسویں جماعت کے طلاب کیلئے کووڈ ٹیسٹ لازمی قرار دی گئی ہے ،نیز والدین کی رضامندی بھی لازمی قرارپائی ہے۔ گوکہ دسویں اور بارہویں جماعت کے کلاسز کھولنے کا ع

محکمہ تعلیم …ایک نظر ادھر بھی

کسی بھی قوم کی ترقی میں کلیدی رول رکھنے والاشعبہ تعلیم جموں وکشمیر ہمیشہ غلط وجوہات کی بناء پر خبروں میں رہا ہے اور حکومت کی جانب سے بارہا اعلانات کے باوجود اس شعبہ میں قابل ذکر سدھار نہیں آرہا ہے بلکہ اگر اعدادوشمار کو دیکھاجائے تو یہ شعبہ بھی دیگر شعبوں کی طرح ریاست میں فقط روزگار کی فراہمی اور اپنے منظور نظرافراد کو اپنی من پسند جگہوں پر تعینات کرانے تک ہی محدود رہا ہے جبکہ آج بھی ہزاروں بچے اپنے دیہات میں سکول نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم کے نور سے محروم ہیں۔مرکزی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کی ایک رپورٹ کے مطابق جموںوکشمیرمیں بالترتیب 3622اور3714بستیاں پرائمری اورمڈل سکولوں سے محروم ہیں۔اعدادوشمار کے مطابق تقریباً13فیصد بستیاں مجموعی طور پر تعلیمی اداروں کے بغیر ہیں جس کے نتیجہ میں 7ہزاسے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں جبکہ 28ہزاربچوں کو نزدیکی بستیوں میں قائم سکولوں میں جانا پڑتا ہے۔

خطوں اور ذیلی خطوں کو جوڑنا ناگزیر

جموںوکشمیر مختلف جغرافیائی زونوں کا علاقائی مجموعہ ہے اور یہ زون زیادہ تر دشوار گزار علاقوں سے ایک دوسرے سے علیحدہ ہوتے ہیں۔جب موسم خراب ہوتا ہے تو یہ مشکل ہمیں شدید ترین مشکل سے دوچار کرتی ہے۔ لوگ بارش یا برف باری کی صورت میں ان علاقوں کا سفر نہیں کر سکتے۔یہ ایک ایسی چیز ہے جو اب ہماری زندگیوں کا مستقل حصہ بن چکی ہے اور اس کے اثرات بھی مستقل ہی ہیں۔ خاص طوروہ لوگ مسلسل اثرات سے دوچار ہیں جو دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں۔ اب جب کہ گرمیوں کا موسم اگلے چند ہفتوں میں اختتام پذیر ہو رہا ہے اور موسم خزاں کا آغاز ہو جائے گا تو سخت ایام بھی اب زیادہ دور نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ اب ہمارے یہاں بارشیں ہوں گی اورپھر اگلے چند مہینوں میں برف باری کا موسم شروع ہو جائے گا۔ایسے حالات میں پھر ایک بار وہی سوال جواب طلب ہے جو اب تک سینکڑوں بار اجاگر کیاگیا ہے۔ اس تکنیکی لحاظ سے ترقی یافتہ وقت میں  جب سڑ

آوارہ کتوں کا کوئی سدِباب تو کریں

 وادی میں آوارہ کتوں کی بڑھتی آبادی انسانوں کیلئے وبال جان بن چکی ہے ۔کتوں کا انسانی خون کا کس قدر چسکا لگ چکا ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ 10برسوں کے دوران صرف صدر ہسپتال سرینگر کے اینٹی ریبیز کلینک میں60ہزار ایسے مریضوںکا علاج کیاگیا جنہیں کتوں نے کاٹا تھا اور حیرانی کی بات ہے کہ ان میں سے80فیصد معاملات کا تعلق صرف سرینگر شہر سے تھا۔گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر شعبہ کمیو نٹی میڈیسن کی ایک رپورٹ کے مطابق سرینگر اور جموںکے میونسپل حدود میں سالانہ10ہزار لوگوں کو آوارہ کتے کاٹتے ہیں۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ کتوں کی آبادی ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ کتوں کی جارحیت کا نشانہ بننے والے افراد کے تناسب نکالنے سے اخذ ہوتاہے کہ فی دن کتوں نے اس مدت کے دوران27افراد کو کاٹ کھایا۔ اگر وادی کے 9اضلاع کے طبی اداروں سے اعدادو شمار حاصل کئے جائیں توشہریوں کو کتوں کے ذریعہ کا

جموں وکشمیر کا ڈیولپمنٹ ماڈل

 تصورات اور طریقوں کی انسانی تفہیم ہمیشہ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔جوں جوں ہم تجربہ حاصل کرتے ہیں اور مزید معلومات جمع ہوتی ہیں،ویسے ہی ہم سوچنے ، سمجھنے اور عمل کرنے کے اپنے طریقے کو بہتر بناتے ہیں۔دراصل تبدیلی قانون فطرت ہے اور انسان میں بدلتے حالات کے مطابق سوچ اور عمل میں تبدیلی کا وقوع پذیر ہونا بالکل ایک فطری عمل ہے ۔سیاست اور حکومتوں جیسے تصورات کے ساتھ بھی برسوں سے یہی ہوتا آیا ہے۔ ا ن تصورات پر نئی عکاسی کے نتیجے میں حکمرانی اور سیاست کے مجموعی طرز عمل میں نئے طریقے سامنے آئے ہیں۔ ایک وقت تھا جب نظریات اور تاریخی تعصبات حکمرانوں کی پالیسیوں کو تشکیل دیتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ یہ انسانی ترقی و فروغ کے دن ہیں اور اب منطق کی بنیاد پر پالیسیاں تشکیل پاتی ہیں کیونکہ انسان کے سوچنے کی وسعت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور سوچ کے نئے دریچے کھل چکے ہیں۔اب اس بات پر زور دیا جارہاہے کہ

محکمہ آب رسانی کی نیند کب ٹوٹے گی؟

محکمہ آب رسانی کی غفلت شعاری کی وجہ سے گزشتہ ایام کے دوران شمالی اور وسطی کشمیر کے کئی دیہات ہیضہ کی لپیٹ میں آگئے اور مصدقہ اطلاعات کے مطابق اب تک سینکڑوں لوگوں کا علاج و معالجہ کیاجاچکا ہے ۔گوکہ محکمہ آب رسانی، جسے عرف عام میں پی ایچ ای اور اب جل شکتی محکمہ کہتے ہیں ،کے ذمہ داروں نے صورتحال کی سنگینی کو ڈائون پلے کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پینے کے صاف پانی کی غلاظت سے انکار کیا تاہم متاثرہ علاقوں میں اس وقت جو سورتحال بنی ہوئی ہے ،وہ چیخ چیخ کر متعلقہ محکمہ کی غفلت شعاری بیان کررہی ہے۔بھلے ہی آب رسانی والے پانی کی آلودگی سے انکار کریں تاہم جن علاقوں میں یہ خطرناک بیماری پھوٹ پڑی تھی ،وہاں جو پانی سپلائی کیاجارہا تھا،اس میں انسانی اور حیوانی فضلہ پایا گیا ہے اورپورا پانی اس قدر آلودہ ہوچکا تھا کہ وہ مضر صحت بن چکا تھا ۔گوکہ ہاہا کار مچ جانے کے بعد متعلقہ محکمہ کے اہلکار و ذمہ دار نی

بچہ مزدوری کاتدارک ناگزیر

 گزشتہ دنوں سرینگر میں بچوں کو انصاف کی فراہمی اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام سے متعلق منعقدہ ایک ورچیول ورک شاپ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے سماج کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے۔مقررین نے جس طرح بچہ مزدوری اورنابالغ بچیوں کی شادی کو لمحہ فکر قراردیتے ہوئے غلط سماجی رْجحانات کاقلع قمع کرنے کیلئے مشترکہ کوششوںکو لازمی قراردینے کے علاوہ اس بات پر زور دیا کہ سماج میں پنپنے والے مختلف قسم کے غلط رحجانات اور جرائم کا قلع قمع کرنے میں پولیس کا اہم رول بنتا ہے ، اس لئے پولیس افسروں کو اس بات کی مکمل جانکاری ہونی چاہیے کہ سماج کے مختلف طبقوں بالخصوص بچوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کو کیسے یقینی بنایا جائے،وہ واقعی قابل ستائش ہے ۔ مقررین کا یہ کہنا کہ حقو ق زن اور حقوق اطفال کے ساتھ ساتھ دیگر معاملات کے بارے میں پولیس کے پاس قوانین موجود ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ قوانین کی روشنی میں

حرکات شاقولی اعلانِ بیداری

 گزشتہ چند ماہ سے جموںوکشمیر اور لداخ کے مختلف حصوں میں زلزلوں کی خبریں سامنے آرہی ہیںجن کی نوعیت سنگین نہیں ہوتی ہے اور عمومی طور پر اب تک کسی بڑے نقصان کی خبر سامنے نہیں آئی۔گزشتہ دنوںکشمیر عظمیٰ کے صفحہ اول پر شائع ایک رپورٹ میں کہاگیا تھا کہ کشمیر میں اوسطاًہر ماہ زلزلے کے تین سے چار جھٹکے محسوس کئے جاتے ہیں لیکن حکومتی سطح پر ان دیکھی کرکے مکمل خاموشی اختیارکرلی گئی ہے ۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ انتظامیہ ان حرکات شاقولی کو سرسری لے رہی ہے اور لوگوں کو یہ کہہ کر اضطرابی کیفیت سے باہر نکالنا چاہتی ہے کہ مزید کوئی زلزلہ نہیں آئے گا۔مانا کہ لوگوں کے دلوں سے خوف و دہشت مٹانا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ ہم آتش فشاں کے ڈھیر پر ہیں جو خدا نہ کرے ،کبھی بھی ہمیں نگھل سکتا ہے۔ گزشتہ ایک دو برس کے دوران کشمیراور جموں میں منعقد ہونے والے ورکشاپوں اور سمیناروں میں ماہرین

! یہ اُچھلنے کا نہیں،سنبھلنے کا وقت ہے

 جموںوکشمیر میں کورونا لہرفی الوقت قابو میں ہے۔ حکومت نے معمولات کم وبیش بحال کر دئے ہیں۔ وادی اور جموں صوبہ کے بازار کھل چکے ہیں۔بازاروں میں جس طرح چہل پہل دیکھنے کو مل رہی ہے ،اُس سے تو بظاہر لگ رہا ہے کہ زندگی لوٹ آئی ہے تاہم یہ سب خطرے سے خالی نہیں ہے ۔بلا شبہ ہم مزید بندشوں کے متحمل نہیںہوسکتے تھے کیونکہ ہماری معیشت وینٹی لیٹر پر چلی گئی تھی تاہم معاشی سرگرمیاں بحا ل کرتے وقت ہمیں اس بات ذہن میںرکھ لینی چاہئے کہ کورونا وائرس کہیں گیا نہیں ہے ۔حکومت نے اَن لاک کرکے دراصل گیند اب عوا م کے پالے میں ڈال دی ہے اور اب یہ لوگوںکی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا خیال رکھتے ہوئے اپنی معمول کی سرگرمیاں بھی جاری رکھیں ۔جس طرح سے بازاروں میں جس طرح بھیڑ بھاڑ دیکھی جارہی ہے ،وہ قطعی کوئی اچھا شگون نہیں ہے ۔شہر اور قصہ جات میں لو ک اس طرح بازاروں کا رخ کررہے ہیں جیسے کچھ ہواہی نہیں ہے ۔ہم ابھ

تدریسی عمل کی بحالی

جب پہلی کووڈ لہر دم توڑ گئی تو حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا اور ہم نے سکون کا سانس لیا۔ بازار آہستہ آہستہ کھلنے لگے ، دفاتر نے کام دوبارہ شروع کیا اورسکول بھی کھل گئے ، حالانکہ بچوں کو سکول بھیجنے کا فیصلہ بالآخر والدین پر چھوڑ دیا گیا۔ بدقسمتی سے دوسری لہر نے سب کچھ تہہ و بالا کردیا اور ہمیں ایک خوف ناک مرحلہ سے گزرنا پڑا،جو ابھی بھی ختم ہونے کا نام نہیںلے رہا ہے۔سینکڑوںجانیں ضائع ہوگئیں اور خوف و دہشت کے عالم میں زندگی کا پہیہ تھم سا گیا۔ سکول کھولنے کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لے لیا گیا ،بازارایک بار پھر بند کر دئے گئے ، دفاتر میں ملازمین کی حاضری انتہائی کم ہوگئی اور تمام توجہ اس بحران کو سنبھالنے میں گئی جس سے ہزاروں متاثر ہوئے اور ان میں سے سینکڑوں افراد کشمیر میں بھی مر گئے۔ آہستہ آہستہ دوسری لہر کی شدت کم ہونے لگی اور کئی مہینوں کی جدوجہد کے بعد کور

تازہ ترین