کشمیرمیں کشمیری زبان مفلوک الحال کیوں؟

 کشمیری زبان کی زبوں حالی پر آج کل بہت سے لوگ ماتم کناں ہیں ۔کچھ حکومت کی عدم توجہی پر نالاں توکچھ اپنی غفلت پر خفالیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ زبان اپنی آن بان اور شان کھورہی ہے ۔آج کی نئی نسل کیلئے شاید یہ کوئی اتنی اہم زبان نہ ہو لیکن انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہماری زبان کی جڑیں انتہائی گہری ہیں ۔یہ زبان ہمیں یوں ہی اپنے آبا و اجداد سے ورثے میں نہیں ملی ہے بلکہ اس زبان کو زندہ رکھنے کیلئے کشمیریوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔تاریخی اعتبار سے کشمیر میں صدیوں تک کبھی سنسکرت،کبھی فارسی ،اور پھر اُردو کے غالب اثرات رہے اور مختلف ادوار میں برسر اقتدار لوگوں نے اس عمل کا سیاسی استعمال بھی کیا ، جس کی وجہ سے کشمیری زبان یقینی طور پر نشانہ بنتی رہی۔کشمیری زبان ان سب مشکلات کے باوجود گوکہ آج کل غریب ہے ،لیکن زندہ ہے۔یہ کوئی کل کی زبان نہیں ہے بلکہ اس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔1919میں جارج ابر

تازہ ترین