تازہ ترین

سیاحتی شعبہ پٹری پر آنے لگا!

  عالمی سطح کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا کی اقتصادیات میں دس فیصد حصہ سیاحتی شعبے سے تعلق رکھتا ہے ۔یہ سیاحت ہی ہے جس پر کئی ممالک کے غیر ملکی زر مبادلہ کی در آمدو بر آمد منحصر ہے۔اس شعبے کے ساتھ دوسرے کئی چھوٹے بڑے شعبے بھی جڑے ہیں جو براہ راست روزگار سے وابستہ ہیں اور یوں موجودہ عالمی سطح کی وبائی صورتحال نے لوگوں کے روزگار کو ہی خطرے میں ڈالدیا ہے۔حالانکہ کروڑوں افراد ، جو دوسرے شعبوں سے روزگار حاصل کررہے تھے پہلے ہی انتہائی بری طرح متاثر ہوگئے ہیں جن میںمہاجر کامگار وںاور مزدوروں کا حال تو 2020سے ہی قابل رحم بنا ہوا ہے۔کورونا وائرس سے پیدا عالمی سطح کی وبائی صورتحال نے دنیا کو اقتصادی اعتبار سے کس حد تک نقصان پہنچایا اُس کے بارے میں پہلے ہی ماہرین نے کئی رپورٹیں منظر عام پرلائی ہیں اور جن میں انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ کی وہ رپورٹ بھی شامل ہے۔ ماہرین کی ایک سروے کے مطابق جن ممالک

آن لائن تعلیم کے منفی اثرات کا سدِباب ناگزیر

 جدید تعلیم کچھ دہائیوں پہلے کی نسبت بالکل مختلف ہے۔تعلیم کا شعبہ گزشتہ چند دہائیوں میں جہاں بے پناہ تبدیلیوں سے گزر چکا تھا وہیں گزشتہ دو ایک برسوں میں اچانک ایک ایسا بدلائو آیا جس نے اس شعبہ کا نقشہ ہی بدل دیا۔روایتی تعلیم کی جگہ آن لائن تعلیم نے لے لی ہے ۔ ایک کلاس روم جہاں اساتذہ بچوں کو تعلیم دیتے تھے اور جہاں اساتذہ طالب علموں کے ساتھ طویل مدتی تعلقات استوار کرتے تھے ،وہ اب قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ اُن ننھے منے بچوں کا تصور کریں جنہیں کووڈ لہر آنے کے ساتھ ہی کنڈرگارٹن میں داخل کیا گیا تھا،وہ تاحال اپنی پہلی کلاس لینے کے منتظر ہیں کیونکہ جب سے سکول مسلسل بند ہیں۔ اگرچہ آن لائن تعلیم نے وقت کے ضیاع کی کافی حد تلافی کی لیکن ایک استاد اور ان کے طلباء کے درمیان تعلق تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ یہ چھوٹے بچے اب اپنے اساتذہ کو کچھ ڈیجیٹل آلات کے طور پر جانتے ہیںجنہیں وہ آواز اور تصوی

مرکز کے تعاون کی یقین دہانیاں باعث اطمینان

 لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے گزشتہ روز نئی دہلی میں تعلیم اور دیہی ترقی و پنچایتی راج محکموں کے مرکزی وزیروں سے دھرمندرا پردھان اور گری راج سنگھ سے الگ الگ ملاقاتیں کرکے جہاں جموںوکشمیر میں قومی تعلیمی پالیسی2020کی عمل آوری اور تعلیمی شعبہ میں انقلابی تبدیلیوں پر گفتگو کی وہیں انہوںنے وزیراعظم دیہی سڑک یوجنا اور دیہی روابط کو مستحکم بنانے سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔وزیرتعلیم سے گفتگو کے دوران لیفٹیننٹ گورنر کہا کہ یوٹی انتظامیہ نے قومی تعلیمی پالیسی کے تحت وضع کردہ اہداف کے حصول کی خاطر تعلیمی نظام کو یکسر تبدیل کرنے کیلئے ایک مضبوط نیو رکھی ہے اور طالب علموں کی شخصیت کے ہمہ جہت پہلوئوںکو صحیح سمت دینے اور انہیں ہنر مند بنانے کیلئے بیک وقت کئی منصوبوںپر کام جاری ہے ۔منوج نے ان سبھی اقدامات کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے مرکزی حکومت کا فراخدلانہ تعاون طلب کیا جس کی یقین دہان

شعبہ تعلیم انقلابی اقدامات کا محتاج

 کسی بھی قوم کے لئے تعلیم ایک ا یسا اہم ترین شعبہ ہے جوا س کی سماجی بیداری، معاشی خوشحالی اور ہمہ جہت ترقی کاپیمانہ طے کرتا ہے تاہم جموں و کشمیر میں بد قسمتی سے اس کی موجودہ صو رتحال انتہائی مایوس کن ہے جس کے مضر اثرات مستقبل میں انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ کہنے کو تو گزشتہ چند برسوں میں سکولوں اور کالجوں کی بھر مار کر دی گئی ہے اور بقول حکومت پرائمری سے لے کر اعلیٰ تعلیم کی سہولیات لوگوں کی دہلیز تک پہنچا دی گئی ہے لیکن اس کی حقیقی تصویر کیا ہے ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جموںوکشمیرمیں فی الوقت شعبہ اعلیٰ تعلیم میں اسسٹنٹ لیکچرروں کی 1600سے زیادہ اور سکولوں کے اسا تذہ کی10ہزارسے زائد اسامیاں خالی ہیں۔حالیہ ایام میں نئے کھولے گئے کئی کالج ہنوز مستعار عمارتوں میں چل رہے ہیں ،سینکڑوں سکولوں کے پاس اپنی کوئی عمارت نہیں نیز ایسے سرکاری سکولوں کی تعداد بھی سینکڑو

پانی زندگی ہے اور لاپر واہی موت

 جموں و کشمیر بالعموم اور وادی کشمیر بالخصوص اگر چہ آبی وسائل سے مالا مال ہے لیکن حسرت کا مقام ہے کہ وادی کے بیشتر علاقوں میں لوگ آج بھی پینے کے صاف پانی کیلئے ترس رہے ہیں اورآئے دنوں مضر صحت پانی کے استعمال سے وبائی بیماریاں پھوٹ پڑنے کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔اگر اس مسئلہ پر ذرا سنجیدگی سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وادی میں قلت آب کیلئے براہ راست محکمہ آب رسانی،جسے اب جل شکنی محکمہ نام دیاگیا ہے، ذمہ دار ہے ۔یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ پانی کی فراوانی کے باوجود تقسیم ملک کے 73سال بعد بھی کشمیری عوام پانی کیلئے ترس رہے ہیںگوکہ اس کیلئے محکمہ آب رسانی رقومات کی عدم دستیابی کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے اس سیکٹر پر جس طرح ریاستوں کو زر کثیرفراہم کیا گیا ،ایسے میں یہ امید کی جارہی تھی کہ پانی کے مسئلے پر کافی حد تک قابو پای

جراحیوں کی سرنو شروعات

  یہ امر باعث اطمینان ہے کہ کورونا وائرس کی وباء پھیلنے کے بعد گزشتہ کئی ماہ سے محکمہ طبی تعلیم اور نظامت صحت کشمیر کے تحت آنے والے ہسپتالوں میں بند پڑی او پی ڈی اور جراحیوں کا عمل دوبارہ شروع کیاجارہا ہے۔ہم نے انہی سطور میں کئی دفعہ اس سنگین مسئلہ کی جانب سے حکام کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی تھی ۔اب اگر حکام نے عوامی مشکلات کو دھیان میں رکھتے ہوئے ہسپتالوں میں اوپی ڈی خدمات کے بعد آپریشن تھیٹر خدمات بحال کرنے کا فیصلہ لیا ہے تو اس کا یقینی طور پر خیر مقدم کیاجانا چاہئے کیونکہ یہ براہ راست انسانی زندگیوںکے ساتھ جڑا ہوا معاملہ ہے ۔ہم نے جموں اور سرینگر کے میڈیکل کالجوں سے منسلک بڑے ہسپتالوں میں اور اضلاع میں قائم میڈیکل کالجوںسے جڑے ہسپتالوں اور دونوں صوبوں کے نظامت صحت کے تحت آنے والے ضلعی و سب ضلعی ہسپتالوں ،کمیونٹی ہیلتھ سینٹروںاور پرائمری ہیلتھ مراکز میں جراحیوں کا عمل بند

! ماحولیاتی تحفظ کیلئے راست اقدامات ناگزیر

 ماہرین ماحولیات نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ یہاں کے گلیشئر بڑی تیزی سے پگھل رہے ہیں ، جسکی وجہ سے مستقبل میں یہاں کی ماحولیات خطرناک اثرات مرتب ہونے کا قوی احتمال ہے۔گلیشئروں کے سرعت کے ساتھ پگھلنے کے نتیجے میں نہ صرف یہاں کے آبی ذخائر متاثر ہورہے ہیں بلکہ اسکے اثرات یہاں کی زرعی پیداوار اور اقتصادیات پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سال 1972سے اب تک وادی میں پانی کی قلت کے نتیجے میں تقریباً 1200مربع کلومیٹر زرعی زمین کو میوہ باغات میں تبدیل کیا جاچکا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ عالمی حدت یا موسمی تغیرات کا معاملہ ایک عالمی مسئلہ ہے لیکن اسکے باوجود ہر خطے میں اس مسئلے کی مقامی وجوہات کارفرما ہوتی ہیں۔عام طور سے گلیشئروں کے پگھلنے کی رفتار میں تیزی کے کلیدی اسباب میں اور باتوں کے علاوہ ماحولیاتی کثافت میں اضافہ اور جنگلات کے حجم میں کمی قرار دیئے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطاب

منشیات اور کشمیر | دردِ سر دردِ جگر نہ بن جائے

پوری دنیا سمیت جموںوکشمیر میں کورونا وائرس کے خونی پنجوں نے جب نوع انسانی کو اپنے شکنجے میں کسا ہے ،ایسے جاں گسل حالات میں مفاد پرستوں کا ایک ایسا ٹولہ حد سے زیادہ سرگرم ہوچکا ہے جو ان مخدوش اور نامساعد حالات کی آڑ میں انسانوں کو زہر بیچ کر اپنا الو سیدھا کرنے میں لگا ہوا ہے ۔بات منشیات کی چل رہی ہے ۔گزشتہ چند ہفتوں سے جس طرح ہر روز جموںوکشمیر کے کم وبیش سبھی علاقوں سے منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے ان کے قبضہ سے بھاری مقدار میں نشہ آور ادویات ،چرس ،بھنگ ،افیون برآمد کرنے کی خبریں سامنے آرہی ہیں،اُن سے انسان دھنگ رہ جاتا ہے۔ایک وقت جب جموں وکشمیر خاص کر وادیٔ کشمیر کے حوالے سے یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ کشمیری سماج اس خجالت سے مکمل طور ناآشناہے بلکہ یہاں تمبا کو کو چھوڑ کر دیگر انواع کے نشوں کے بارے میں سوچنا اور بات کرنا بھی گناہ عظیم تصور کیاجاتا تھا تاہم اب وہ صورتحال

روزگار کی فراہمی…وعدے وفا ہوں

۔5اگست 2019کو جب جموںوکشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کرکے اس کو دو مرکزی زیر انتظام اکائیوں میں تقسیم کیاگیا تو پچاس ہزار نوکریاں فوری طور فراہم کرنے کی بات کی گئی تھی تاہم دوسال بعد صورتحال یہ ہے کہ دس ہزار نوکریوں کے ساتھ کسی کو کچھ ہاتھ نہ لگا ۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جموںوکشمیر میں بیروزگار نوجوانوں کی تعداد 6لاکھ سے زائد ہے جن میں ساڑھے تین لاکھ کشمیر اور تقریباًاڑھائی لاکھ جموں صوبہ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن سرکاری سیکٹر میں نوکریاں فراہم کرنے کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ سال آٹھ ہزار سے زائد درجہ چہارم اسامیاں مشتہر کی گئیں جس کے بعد پنچایت محکمہ میں اکائونٹس اسسٹنٹوں کی پندرہ اسامیاں مشتہر کی گئیں ۔یوں دوسال میں محض10ہزار اسامیاں ہی مشتہر کی گئیں اور اب بتایا جارہا ہے کہ مزید دس ہزار اسامیاںعنقریب مشتہر کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ سرکاری اعدادوشمار کہتے ہیں کہ اس وقت کچھ80ہزار کے قریب اسامیاں

زیر زمین بجلی کیبلنگ | جس کاڈر تھاوہی ہوا،ایک سال میں کچھ نہ بدلا

محکمہ بجلی ہمیشہ ہمیشہ غلط وجوہات کی بناء پر خبروں پر رہتا ہے ۔عمریں بیت گئیں ،جموںوکشمیر کے صارفین نے اس محکمہ کی جانب سے کوئی اچھی خبر نہیں سنی ہے ۔اب اگر کبھی محکمہ کسی اچھی خبر کی نوید بھی سناتا ہے تو وہ بھی مذاق ہی لگتا ہے۔ایسی ہی ایک نوید محکمہ کے تابع کمپنی کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹیڈ نے گزشتہ برس اگست کے مہینہ میں سنائی تھی جب مذکورہ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر نے کہاتھا کہ وہ سرینگر میں زیر زمین بجلی کی ترسیلی لائنیں بچھانے کا منصوبہ رکھتے ہیں تاکہ شہر کے سبھی ہسپتالوں کو اس نظام کے ساتھ جوڑ کر بلا خلل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے ۔منیجنگ ڈائریکٹر موصوف کہتے تھے کہ اس ضمن میں ایکشن پلان بنایا جاچکا ہے اور عنقریب اس کام کو ای ٹینڈرنگ پر ڈال دیاجائے گا۔وہ کہتے تھے کہ ایک دفعہ زیر زمین ترسیلی لائنوں کی بچھائی کا عمل مکمل ہوجائے تو شہر باسیوں کو برف وباراں اور باد

ہمارا اجتماعی رویہ اس قدر افسوسناک کیوں؟

 قومیں اپنے اجتماعی رویے سے پہچانی جاتی ہیں۔ کسی قوم کے اجتماعی رویے میں تہذیب اور بلند اخلاقیات اُس وقت منعکس ہوتی ہیں جب شرحِ خواندگی بلندیوں کو چھو رہی ہو اور اساتذہ کی اخلاقیات بھی اعلی درجے کی ہوں۔ بدقسمتی سے تاحال ہمارے یہاں یہ دونوں ہی روبہ زوال ہیں جس کی وجہ سے ہمارے اجتماعی رویے شرمناک حد تک خراب ہیں۔آج کے اسِ کرونائی عہد میں بھی جب جب لاک ڈاون اٹھایا جاتا ہے تو کیا ہم مصروف بازاروں میں بھیڑ بھار کرنے سے پرہیز کرتے ہیں؟ لائن بنا کر مسافر بس میں سوار ہوتے ہیں؟جہاں کہیں بھی پبلک بیت الخلا (ٹوائلٹس )ہیں،کیا ان کی صفائی اطمینان بخش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں؟کرونا کی وبائی بیماری سے بچنے کے لئے احتیاتی تدابیر پر عمل کرتے ہیں؟ اس وقت بھی گھروں میں کھانا ضائع نہیں کرتے ہیں؟ استاد اورامام کو حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ہیں؟ چلتی گاڑی سے سڑک پر کوڑا نہیں پھینکتے ہیں؟ بجلی کی چوری ن

خوشی ہو کیوں کر عید کی !

 عیدالاضحی کی آمد آمد ہے ۔آج یوم عرفہ ہے اور ساری مسلم آبادی عید کی تیاریوں میں مصروف ہے ۔عمومی طور پر عید مسلمانوں کیلئے خوشی کا تہوار ہے لیکن جس ماحول میں عید کشمیر پر سایہ فگن ہورہی ہے ،وہ ماحول کوئی خوشی بھرا ماحول نہیں ہے۔ لوگ کربناک حالات سے دوچار ہیں، آہوں اور سسکیوں کی آواز یں ہمارے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ کورونا وائرس کی وباء سے دنیا کا نظام تہہ وبالا ہوچکا ہے ۔دنیا سمیت کشمیر لاک ڈائون کی پوزیشن میں ہے ۔لوگ نان شبینہ کے محتاج ہوچکے ہیں ۔سینکڑوں کی تعداد میں معصوم نوجوان زندانوں کی زینت بنے ہوئے ہیں ۔سینکڑوں مائیں آج بھی دریچوں سے باہرٹکٹکی لگائے جھانک رہی ہیں کہ شاید ان کا لخت جگر عید کی خوشی میں شامل ہونے کے لئے ضرور آئے گا۔گھروں کے ٹوٹے درودیوار،ٹوٹے کھڑکیاں،تباہ شدہ املاک املاک اور اربوں روپے کی مالی قربانی زبان حال سے ہمارے ضمیرکوجھنجوڑ رہی ہے۔ ان جان گسل حال

عید الاضحی کی تیاریاں اورعوام

  عید ا لاضحی کی تقریب سعید کی آمد آمد ہے ۔کورونا کی عالم گیر وبا کے بیچ اگر چہ کافی حد تک اس عید کی خوشیاں ماند پڑچکی ہیں اور عوام میں وہ جوش و خروش نظر نہیں آرہا ہے جو روایتی طور عید کے ان ایام میں دیکھاجاتا تھا تاہم پھر بھی گزشتہ دو ایک روز سے بازاروں میں عید خریداری کے حوالے سے خاصارش پایا جارہا ہے ۔چونکہ عید مسلمانوں کا سب سے بڑا تہوار ہے تو اس پر خریداری کی ممانعت نہیں کی جاسکتی ہے اور لوگوں کو عید کی تیاریاں کرنے کا بھرپور حق ہے تاہم گزشتہ دو روز کے دوران جس طرح دیکھاگیا کہ سماجی دوریوںکا اس عمل میں کوئی پاس ولحاظ نہیں رکھاجارہا ہے ،وہ قطعاً دانشمندانہ فعل قرار نہیں دیاجاسکتا ہے ۔بلا شبہ آپ خریداری کریں لیکن یہ خریداری کرتے وقت آپ یہ بھی یاد رکھیں کہ وائرس آپ کے ارد گرد موجود ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ عید کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کی کوششوںمیں آپ اپنی خوشیوںکو ہی محدو

کووڈ کہیں گیا نہیں… احتیاط جاری رکھیں!

 جموںوکشمیر کے بیشتر حصوں کووڈ لاک ڈائون تقریباً ختم ختم ہوچکا ہے اور اب صرف جزوی بندشیں جاری ہیں ۔بلا شبہ اس حکومتی اقدام سے لوگوںکو راحت ملی کیونکہ نہ صرف تجارتی و کاروباری سرگرمیاں کافی حدتک بحال ہو گئیں بلکہ ٹرانسپورٹ بھی کافی حد تک چل رہاہے اور یوں کم و بیش سماج کے سبھی طبقوں سے وابستہ افراد کو دو وقت کی روٹی کمانے کا موقعہ ملنے لگا ہے تاہم یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ بھلے ہی بندشوں میں نرمی کی جارہی ہو لیکن کورونا کہیں گیا نہیں ہے بلکہ وہ ہمارے ساتھ ہی موجود ہے اور مسلسل ہمارا تعاقب کررہا ہے اور اب مسلسل تیسری لہر کی باتیں کی جارہی ہیں جبکہ یورپی ممالک اور مغرب میں بھی ایک خطرناک وائرس سٹرین کے آنے کی باتیں کی جارہی ہیں جس سے بیس سال کی عمر تک کے بچے بری طرح متاثر ہورہے ہیں  یہ انتباہ انتہائی پریشان کن ہے اور یقینی طور پر جہاں حکومت کیلئے نوشتہ دیوار ہونا چ

ٹریفک کا حال بے حال

 شہرسرینگر سمیت پوری وادی میں ٹریفک نظام کی بدحالی ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے ۔ ٹریفک نظام کی تباہی اور بربادی کے مسائل وہی ہیں ، جو کئی سال پہلے تھے لیکن ان مسائل کو مکمل طور حل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ سڑکوں کی تنگ دامانی، گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ، عوام کی جانب سے قوانین و ضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں، محکمہ ٹریفک میںا نفراسٹرکچر اور افرادی قوت کی قلت جیسے مسائل کو حل کرنے کی جانب جب تک توجہ نہیں دی جاتی ، ٹریفک ہفتے تو کیا ’ ٹریفک سال ‘ منانے سے بھی کچھ نہیں بدلے گا بلکہ مسائل ہر گزرنے والے دن کے ساتھ بڑھتے جائیں گے۔ پہلے تو ٹریفک جامنگ کا مسئلہ صرف شہر کے بالائی علاقوں تک محدود تھا ، اب ہائی ویز پر تمام قصبہ جات میں ٹریفک جامنگ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے ۔ بدقسمتی سے حکومتی سطح پر اس مسئلے کے تئیں اتنی سنجیدگی سے توجہ

بھوک کورونا سے بھی بڑی وباء

 جن لوگوں کو دن میں دو وقت کا کھانا نصیب ہوجاتا ہے ، وہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں کہ اس کرہ ارض پر موجود لاکھوں افرادایسے بھی ہیں جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے اور وہ بھوک سے مر جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں جو لوگ نمود و نمائش پر فخر محسوس کرتے ہیں اورخود نمائی اور اپنے آپ کو بڑا آدمی ظاہر کرنے کی کوشش میں پیسہ ضائع کرتے ہیں،اُنہیں اپنے اس وطیرہ پر شرم آنی چاہئے۔وہ اپنی دولت کی نمائش نہیں کررہے ہوتے ہیں بلکہ وہ دراصل اُن اموا ت پر جشن منارہے ہوتے ہیںجو بھوک اور افلاس کی وجہ سے رونما ہوتی ہیں۔کووڈ وبائی دور میں بھوک اور افلاس کا یہ بحران مزید سنگین ہوگیا ہے۔ وہ لوگ جو اس وبائی بحران سے پہلے اچھی زندگی گزار رہے تھے ، اب وہ دو وقت کی روٹی حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔دنیا میں لاکھوں خاندان ایسے ہیں جن کا روزگاراس وبائی بحران کی وجہ سے ختم ہوچکا ہے ، اور ان میں ایک اچھی خاصی

برساتی پانی سے شہرپھر پانی پانی ہوگئے!

  جموںوکشمیر میں گزشتہ رات سے ہوئی بارشوں نے ایک بار پھردارالحکومتی شہروں سرینگر اور جموںمیں ناقص ڈرینج سسٹم کی قلعی کھول کررکھ دی ہے کیونکہ محض چند گھنٹوں کی بارش سے دونوں شہرپانی پانی ہو گیا۔بارشوں کے پانی سے نہ صرف سڑکیں اور گلی کوچے زیر آپ آگئے بلکہ جموںشہرسرینگر کے سیول لائنز اور بالائی حصے میں متعدد علاقوں میں پانی رہائشی مکانات اور تجارتی مراکز میں داخل ہو گیا۔ہر سو پانی جمع ہونے کے نتیجہ میں صورتحال اس قدر سنگین بن چکی تھی کہ کئی علاقوں میں عبور و مرور ناممکن بن چکا تھا۔ہر بار کی طرح اب کی بار بھی انتظامیہ کے اہلکاروں اور انجینئروں کو’’حالت جنگ میں خندق کھودنے ‘‘کے مصداق کئی مقامات پر ڈی واٹرنگ پمپ نصب کرتے ہوئے دیکھا گیا تاکہ ان شہروں کو پانی پانی ہوتے دیکھ کر خود پانی پانی ہونے سے بچ سکیں اور لوگوں کو یہ تاثر دیں کہ ’’قدرت‘&lsq

سڑک حادثات کا سلسلہ کب تھمے گا؟

 محکمہ ٹریفک کے مطابق گذشتہ 4برسوں میں جموںوکشمیرکے مختلف علاقوں میں سڑک حادثات کے دوران 4ہزارسے زائد شہری لقمہ اجل بن گئے ہیں ۔ دیگر شاہرائوں کے ساتھ ساتھ سرینگرجموںقومی شاہراہ پر تواتر کے ساتھ رونما ہونے والے خونین حادثات نے ایک بار پھراس شاہراہ کی تعمیرو و تجدید کیلئے ایک موثر اور تخلیقی منصوبے کے تحت اقدامات کرنے کی ضرورت کا احساس اجاگر کیا ہے۔ دنیا بھر میں شاہرائوں کو ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور بدقسمتی سے ہمارے یہاں ایک اہم ترین شاہراہ جو اس خطے کو باقی دنیا سے جوڑنے کا واحدزیر استعمال زمین ذریعہ بھی ہے، دردناک اموات کی علامت بن کررہ گئی ہے۔یہ حادثے اور اس میں ہوئی اموات دراصل دہائیوں سے اس موت کی شاہراہ پر ہونے والے لاتعداد حادثات اور ہزاروں اموات کا تسلسل ہے۔المیہ بھی یہی ہے کہ مسلسل حادثات اور اموات کے باوجود اب تک کسی بھی حکومت نے سرینگر۔ جموںقومی شاہراہ کی تجدید نو

پانی نایاب…لوگوں کی پیاس بجھے تو کیسے؟

  گرمی میں شدت پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ شہر سرینگر کے پائین اور بالائی علاقوں میں پانی کی قلت سے ہاہار کار مچنے لگی ہے۔ایک طرف آبپاشی کی چھوٹی بڑی نہروں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح کافی حد تک بڑھ چکی ہے ،دوسری جانب جس طرح پینے کے پانی کی قلت کا مسئلہ پیدا ہوا ہے ،وہ اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ محکمہ آب رسانی میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے۔ اگرچہ شہر سرینگر اور بیشتر قصبہ جات میں کافی عرصہ سے پانی کی سپلائی میں کٹوتی کا سلسلہ جاری ہے اور صرف صبح و شام کے اوقات میں چند گھنٹوں کیلئے پانی فراہم کیا جاتا رہا ہے، مگر ادھر کچھ عرصہ سے یہ سلسلہ بھی قائم نہیں رہ پایا اور پانی کی سپلائی کئی کئی دن تک منقطع کر دی جاتی ہے۔ پائین شہر کے کئی علاقوںمیں پانی کی قلت سے لوگوں کا جینا دوبھر ہوگیا جبکہ بالائی شہر کے عمر کالونی لا ل نگر چھانہ پورہ اور باغ مہتاب کی کئی کالونیوں کے علاوہ برزلہ سے بھ

سڑکوں کی تعمیر و تجدیدبے ہنگم نہ ہو!

 ہر سال حکومت ترقیاتی سرگرمیوں کے لئے کچھ اہداف طے کرتی ہے۔ ان میں ، معمول کی سرگرمیوں میں سے ایک نئی سڑکیں بنانا ، تباہ شدہ سڑکوں کی مرمت اور سڑک کی سطح کو بلیک ٹاپ کرنا ہے۔ اس سال بھی حکومت نے سڑکوں کی ایک مخصوص لمبائی کو بلیک ٹاپ کرنے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا ہے اورویسے بھی ہماری سڑکوں پر موسم کی تاثیرکو دیکھتے ہوئے جموں و کشمیر میں ہمیشہ اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے ہم نے دیکھا ہے کہ ترقی کے اس شعبے میں کام بہت سست رفتاری ہوا۔اگر یوں کہاجائے کہ وادیٔ کشمیر میں سڑکوں کو بلیک ٹاپ کرنا موسمی سرگرمی ہے تو بیجا نہ ہوگاکیونکہ یہ کام سردیوں کے مہینوں میں نہیں کیا جاسکتا ، جس کا مطلب ہے کہ اگر زیادہ نہیں تو تقریباً نصف سال تک ایسی کوئی سرگرمی انجام نہیں دی جاسکتی ہے۔ لہٰذا ہمارے پاس یہ کام کرنے کے لئے صرف کچھ مہینوں کا وقت ہی ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ کام کی رفتاراگر زیادہ

تازہ ترین