کشمیری عوام اور پے در پے آفات

اسے بدقسمتی کہئے گا یا پھر کچھ اور ،لیکن سرمنڈاتے ہی اولے پڑگئے کے مصداق کشمیریوں کے ساتھ اب یہ تقریباً معمول بن چکا ہے کہ اُن کی دہلیز پر جب بھی کوئی اچھی خبر دستک دینے پہنچ جاتی ہے تو بری خبروں کا ایک ایسا طوفان امڈ آتا ہے کہ یہ اس چھوٹی سی اچھی خبر کو کچھ اس طرح اپنی لہروں میں گم کردیتی ہے جیسے اس خبر کا جنم ہی نہ ہوا ہو۔سالہاسال سے ابھی یہی سلسلہ چل رہا ہے ۔خوشگوار ہوا کے جھونکوںکی طرح کبھی کبھار کانوںمیں رَس گھولنے والی خبر اگر آبھی جاتی ہے لیکن ابھی اس خبر پر خوشیاںمنانے کی نوبت ہی نہیں آتی کہ پھر مصیبتوںکا ایک پہاڑ ہم پر ٹوٹ پڑتا ہے ۔لوگ اس دردناک سلسلے کو کچھ بھی نام دے سکتے ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار کی چنداںگنجائش نہیں کہ بری خبروں اور ہیبت ناک پیش رفتوں کے اس نہ ٹوٹنے والے سلسلہ نے اب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور کافی حد تک اب لوگوںکی ہمت بھی جواب دے چکی ہے کیونکہ وہ

تازہ ترین