تازہ ترین

وبائی بحران میں عبرت کاسامان!

 گوکہ کورونا وائرس کی ویکسین آنے سے عالم انسانیت نے کسی حد تک راحت کی سانس لی ہے تاہم اس وائرس نے جس طرح دنیا کو صدی کی بدترین اقتصادی مندی سے دوچارکردیا ہے،اُس سے ابھر نے میں ابھی بھی سالہا سال لگ سکتے ہیں ۔آرگنائزیشن آف اکنامک کواپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ سمیت متعدد عالمی مالیاتی اداروںکے تازہ ترین تخمینوںکے مطابق اب تک سینکڑوں ملین لوگ روزگار سے محروم ہوچکے ہیں اور اگر وباء کی تیسری لہر نہ آئی تو امسال عالمی معیشت کے شرح نمو میں6فیصد کمی آئے گی اور اگلے سال اس میں کچھ حد تک بہتری آئے گی اور2.8فیصد کا اضافہ ہوسکتا ہے لیکن اگرتیسری لہر آئی تو عالمی معیشت میں8فیصد تک کمی ہوگی جو صورتحال کی سنگینی کو سمجھنے کیلئے کافی ہے۔ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گیوتریس نے حالات کی جو مایوس کن منظر کشی کی ہے ،وہ دل کو پسیج کر رکھ دینی والی ہے۔ اُن کا کہناتھا کہ آج بھی 820ملین لوگ