این ای سی ٹی امتحانات اور کشمیر

 طبی تعلیم کے حصول کیلئے قومی سطح پر لئے گئے داخلہ امتحان کے حالیہ نتائج جموںوکشمیر کے لئے حوصلہ افزاء ہیں کیونکہ ان امتحانات میں ایک دفعہ پھر جموں وکشمیر کے طلباء نے نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ یہ ثابت کردیا کہ نامساعد حالات کے باوجود یہاں کے طالب علم کیریئر کے حوالے سے انتہائی حساس ہیں اور وہ کسی بھی طور زندگی کے کسی بھی شعبہ میں پیچھے رہنے کیلئے تیار نہیںہیں۔NEETامتحان میں جن امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ،ان کا خوش ہونا فطری ہے اور جو امیدوار اس بار یہ امتحان پاس نہ کرسکے ،اُن کی افسردگی بھی فطری ہے تاہم ایسے امیدواروں کیلئے یہ سنہری موقعہ ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کریں اور دیکھیں کہ وہ کیوں کر پیچھے رہ گئے ہیں تاکہ اگلے امتحان کیلئے وہ بھرپور تیاری کرسکیں اور اُن خامیوںکا ازالہ سکیں جن کی وجہ سے اُنہیں اس بار ناکامی کا سامنا رہا۔کسی بھی امتحان میں ناکامی کیریئر کا خاتم

شعبۂ تعلیم مائل بہ تنزل کیوں؟

  کسی بھی قوم کے لئے تعلیم ایک ا یسا اہم ترین شعبہ ہے جوا س کی سماجی بیداری، معاشی خوشحالی اور ہمہ جہت ترقی کاپیمانہ طے کرتا ہے تاہم جموں و کشمیر میں بد قسمتی سے اس کی موجودہ صو رتحال انتہائی مایوس کن ہے جس کے مضر اثرات مستقبل میں انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ کہنے کو تو گزشتہ چند برسوں میں سکولوں اور کالجوں کی بھر مار کر دی گئی ہے اور بقول حکومت پرائمری سے لے کر اعلیٰ تعلیم کی سہولیات لوگوں کی دہلیز تک پہنچا دی گئی ہے لیکن اس کی حقیقی تصویر کیا ہے ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جموںوکشمیرمیں فی الوقت شعبہ اعلیٰ تعلیم میں اسسٹنٹ لیکچرروں کی 1600سے زیادہ اور سکولوں کے اسا تذہ کی10ہزارسے زائد اسامیاں خالی پڑی ہیں۔حالیہ ایام میں نئے کھولے گئے کئی کالج ہنوز مستعار عمارتوں میں چل رہے ہیں ،سینکڑوں سکولوں کے پاس اپنی کوئی عمارت نہیں نیز ایسے سرکاری سکولوں کی تعداد بھی س

کشمیر میں ایمز کا قیام ہنوز ایک خواب

وادی میں آل انڈیا انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا قیام ہنوز ایک خواب بنا ہوا ہے کیونکہ پانچ سال گزر جانے کے باوجود بھی تاحال اس وقاری ادارہ کا تعمیری کام شروع نہیں کیاجاسکا ہے ۔خیال رہے کہ سات نومبر2015کو وزیراعظم نریندر مودی نے اونتی پورہ میں ایمز کے قیام کا اعلان کیاتھااور مرکزی حکومت نے 1828کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے اس پروجیکٹ کو منظوری بھی دی تھی ۔اس طرز کا ایک انسٹی چیوٹ جموں کو بھی دیاگیاتھا جس کیلئے وجے پور سانبہ کا انتخاب عمل میں لایاگیاتھا اور وہاں تعمیری سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہیں تاہم افسوس کا مقام ہے کہ کشمیر میں اس انسٹی چیوٹ کے قیام کے سلسلہ میں مسلسل سرد مہری کا مظاہرہ کیاجارہا ہے اور کام ابھی ٹیندر نگ کے عمل سے بھی آگے نہیں بڑھ پارہا ہے۔ایمز کے قیام کیلئے اونتی پورہ میں تعمیراتی ایجنسی سینٹرل پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کو 1886کنال اراضی بھی دستیاب کرائی گئی تاہم حیرت ک

سماجی تانے بانے کا بکھرائو۔۔۔ آخر کیوں؟

 گوکہ 5اگست 2019کے بعد کشمیر کا سیاسی نقشہ بدل چکا ہے اور یونین ٹریٹری کی صورت میں عوامی حکومت کی عدم موجودگی میں لیفٹنٹ گورنر سرکارچلا رہے ہیں تاہم اس سیاسی بحث سے قطع نظر وادی میںکورونا وباء کے باوجود گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران سماجی سطح پر متعدد ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن سے اس سماج کے بتدریج بڑھتے ہوئے کھوکھلے پن کی تصدیق ہوجاتی ہے ۔ جس طرح صنف نازک کے ساتھ ہوئی زیادتیوں کی المناک کہانیاں اخبارات میں شائع ہورہی ہیں،انہوں نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ اخلاقی انحطاط طوفان کی تیزی کے ساتھ ہمارے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔بے راہ روی ،بد اخلاقی ،بے ایمانی ،رشوت خوری اور کنبہ پروری نے لوگوں سے غلط اور صحیح میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہی چھین لی ہے۔ اس پرطرہ یہ کہ اجتماعی حس نام کی چیز ہی جیسے عنقا ہوگئی ہے اور لوگوں کی اکثر یت اس تشویشناک صورتحال سے بالکل بے پرواہ ہے۔ایک وقت تھا جب یہ

انسداد ِ رشوت ستانی مہم

کورپشن کے خلاف جنگ میں اینٹی کورپشن بیورو نامی انسداد رشوت ستانی ادارہ کا قیام جب عمل میں لایاگیاتھا تویہ تاثر دیا جارہا تھا کہ اب رشوت خوروں کی خیر نہیں ہے ۔سابق گورنر ستیہ پال ملک بار بار کہہ رہے تھے کہ جموں وکشمیر میں کورپشن عام ہے اور اس ضمن میں وہ بارہا مثالیںبھی دیتے تھے ۔اینٹی کورپشن بیورو اُن کے دور میں ہی بنا۔انہوںنے تمام سرکاری افسران سے جائیداد کی تفصیلات جمع کرنے کو لازمی قرار دیا تھا تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ آمدنی سے زیادہ جائیداد کس کے پاس ہے ۔گوکہ وہ تفصیلات تقریباً جمع ہوچکی ہیں لیکن عمل ہنوز مفقود ہے ۔   گوکہ لیفٹنٹ گورنرکی نیت پر شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اُن کی اس پہل کو مستحسن ہی قرار دیا جاسکتا ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ محض چند ملازمین کے خلاف کارروائی کرکے حکومت کورپشن کا قلع قمع نہیں کرسکتی ہے ۔ارباب اختیار کو اس حقیقت کا ادراک و اعتراف ہون

سرحدی کشیدگی …آرپار عوام توپ کی رسد کیوں ؟

منقسم جموںوکشمیر میں لائن آف کنٹرول سے لیکر بین الاقوامی سرحد پر عملی طورجنگ جیسی صورتحال ہے ۔دونوں جانب سے آتشی گولہ باری تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق رواں ماہ کے دوران جنگ بندی کی خلاف ورزی کے نتیجہ میں سرحد کے دونوں جانب کم ازکم10کے قریب اموات واقع ہوئی ہیں جبکہ ایک وسیع سرحدی آبادی جان کی امان پانے کیلئے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوچکی ہے۔جانکار حلقوں کے مطابق سرحدی گولہ باری کے اس نہ تھمنے والے سلسلہ کی وجہ سے درجنوں دیہات متاثر ہوچکے ہیں اور اشتعال انگیزی کا یہ عالم ہے کہ دونوں جانب سے ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ 120 ایم ایم اور 180 ایم ایم مارٹر گولے بھی داغے جارہے ہیں ۔ ایک طرف امن اور مفاہمت کی باتیں کی جارہی ہیں تو دوسری جانب سرحدوں پر لگی توپیں آگ اگلنا بند نہیں کررہی ہیںاور کشمیر سے کٹھوعہ تک وقفہ وقفہ سے سرحدوں پر گولہ باری جاری ہے ۔صورتحال کی

محدود معیشی پیکیج نامکتفی

جموںوکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر حسب توقع کافی متحرک نظر آرہے ہیں۔منوج سنہا راج بھون میں کم جبکہ باہر زیادہ وقت گزار رہے ہیں اور اُس خلیج کو مسلسل پاٹنے کی کوشش کررہے ہیں جو عوام اور حکومت کے درمیان اب کافی عرصہ سے پائی جارہی ہے۔منوج سنہا چونکہ سیاسی پس منظر رکھتے ہیں اور زندگی کا بہت بڑا حصہ سیاسی میدان میں گزارا ہے تو اُن سے پہلے دن سے ہی یہ امید کی جارہی تھی کہ وہ کاغذی کیڑا بننے کی بجائے قضیہ زمین بر سر زمین والا اپروچ اختیار کریں گے۔ چنانچہ جب اُن کا تقرر ہوا تو اُس وقت بھی یہی بتایاجارہا تھا کہ مرکزی حکومت نے صرف اسی غرض سے جموںوکشمیر کا لیفٹنٹ گورنر بنا کر بھیجا کہ وہ عوامی رابطے استوار کریں اور جموںوکشمیر میں سیاسی سرگرمیوں کا احیاء کرنے میں اپنا کردار نبھائیں کیونکہ سابق لیفٹنٹ گورنرنے کافی حد تک اپنے آپ کو راج بھون اور بیروکریسی کے ساتھ میٹنگوں تک ہی محدو کیا ہوا تھا۔ بہر حال

محکمہ صحت او ر کورپشن مافیا | علاج کرنیوالوں کا علاج کون کرے؟

 محکمہ صحت کے حوالے سے آئے روز جو ہوش ربا رپورٹ میڈیا کی توسط سے عام لوگوں تک پہنچ رہے ہیں،انہوں نے ذی حس عوام کی نیندیں ہی اچٹ دی ہیں کیونکہ عوام کے جان سے براہ راست تعلق رکھنے والے اس شعبہ کی جو حالت اخبارات کے ذریعے منکشف ہورہی ہے ،وہ انتہائی پریشان کن ہی نہیں بلکہ تشویشناک بھی ہے ۔ادویہ سکینڈل کوئی نئی بات نہیںہے بلکہ اب تو ہسپتالوں میں دستیاب سہولیات اور عملہ و ڈھانچہ کی قلت بھی درپیش ہے اور ایسے میں یہ ہسپتال محض نمائشی شفاخانے لگتے ہیںجہاں مریضوںکا خدا ہی حافظ ہے۔خرد برد اور بدانتظامی و مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے آئے روز جو نت نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں ،وہ اس بات کی جانب اشارہ کررہے ہیں کہ یہ کوئی انفرادی کورپشن کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک منظم دھندہ ہے جو برسوں سے اس محکمہ میں چلتا آرہا ہے اور اس کے تار نچلی سے لیکر اوپری سطح تک محکمہ کے منتظمین کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں

ہمارا کل حال کی بھول بھلیوں میں گُم کیوں؟

 گزشتہ دنوں ایک غیر سرکاری انجمن کی رپورٹ میںبچوں کے مسائل کی جو منظر کشی کی گئی ،وہ انتہائی بھیانک ہے اور یقینی طور پر وہ منظر کشی سماج کے ہر فرد کو اپنا محاسبہ کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔یہ کس قدر افسوسناک ہے کہ جن نازک ہاتھوں میں قلم اور کتابیں ہونی چاہئے تھیں ان میں کارخانوں کے اوزار تھما دیئے گئے ہیں۔محققین کا کہنا ہے کہ جموںوکشمیرخاص طور پر وادی میں بچوں کو تعلیم حاصل کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ اقتصادی مسائل کی وجہ سے چھوٹے بچے کمانے کی مشینوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ان محققین کے مطابق اگر چہ جموںوکشمیر کی سطح پر سرکاری طور صرف 4900بچے مزدوری کی چکی میںپسے جا رہے ہیں تاہم غیر سرکاری سطح پر ان کی تعداد تین لاکھ کے قریب ہوسکتی ہے۔یہ اعدادوشمار انتہائی پریشان کن ہیں کیونکہ بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور یہی روزگار کی تلاش میں اپنا بچپن کھودیں تو سماجی ڈھانچہ تہہ و بالا ہون

صنف نازک زیر عتاب کیوں؟

 گزشتہ روز یعنی بدھ کو صدر ہسپتال سرینگر کے برن وارڈ میں سوپور کی ایک خاتون خانہ آگ سے جھلسنے کی وجہ سے لگے زخموںکی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھی ۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ کشمیر میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات اب روز کا معمول بن چکے ہیں۔ایک تازہ ترین اخباری رپورٹ کے مطابق سرینگر کے صدر ہسپتال میں ہفتے میں اوسطاً ایک خاتون کو داخل کیاجاتا ہے جو گھریلو تشدد کی نذر ہوئی ہوتی ہے۔ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بیشتر خواتین گھریلو تشدد کی وجہ سے تنگ آکر اپنے آپ کو آگ سے جھلسا دیتی ہیں اور اس وقت بھی ہسپتال کے برن وارڈ میں تین خواتین جھلس جانے کی وجہ سے موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ ماہرین سماجیات کی جانب سے حال میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق کشمیر میں40فیصد سے زائد خواتین گھریلو تشدد کی شکار ہیں۔سروے کے مطابق گھریلو تشدد کے بیشتر معاملات میں وجوہات جہیز، سسرال و

کووڈ ۔19… احتیاط کا دامن نہ چھوڑیں

  کورونا وائرس کے تازہ معاملات میں کافی حد تک کمی آئی ہے اور مسلسل نئے معاملات میں کمی آرہی ہے جو بادی النظر میں ایک خوش آئند رجحان ہے تاہم ماہرین کمی کے اس رجحان پر اتنے خوش نہیں ہیں اور اُن کاماننا ہے کہ اگر جارحانہ ٹیسٹنگ کی جائے تو معاملات پھر بڑھ سکتے ہیں کیونکہ اُن کا استدلال ہے کہ کورونا وائرس سوسائٹی میں کافی گہرائی تک سرایت کرچکا ہے ۔  بلا شبہ نہ صرف تجارتی و کاروباری سرگرمیاں کافی حد تک بحال ہوچکی ہیں بلکہ ٹرانسپورٹ بھی اب تقریباً معمول کے مطابق چلنے لگا ہے اور یوں کم و بیش سماج کے سبھی طبقوں سے وابستہ افراد کو دو وقت کی روٹی کمانے کا موقعہ مل رہا ہے تاہم یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ بھلے ہی بندشوں میں نرمی کی جارہی ہو لیکن کورونا کہیں گیا نہیں ہے بلکہ وہ ہمارے ساتھ ہی موجود ہے اور مسلسل ہمارا تعاقب کررہا ہے۔گزشتہ دنوں ایک نیوز پورٹل کی وساطت سے ڈاکٹر

جموں وکشمیر میں انٹرنیٹ بحالی

 جموںوکشمیر میں موبائل انٹرنیٹ کی مکمل بحالی ہنوز ایک خواب بنا ہوا ہے ۔گوکہ گاندربل اور ادہم پور اضلاع میں 4۔جی موبائل انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا دعویٰ کیاگیا ہے تاہم ان دواضلاع کے لوگوں کی بھی شکایت ہے کہ کہنے کو تو 4۔جی انٹرنیٹ چل رہاہے لیکن اس کی رفتار قطعی 4۔جی نہیں ہے بلکہ یہ 2۔جی سے ذرا بہتر ہے ۔باقی اضلاع میں مسلسل 2۔جی انٹرنیٹ سروس ہی چل رہی ہے اور ایک کے بعد ایک حکم نامہ جاری کرکے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ فی الحال اس یونین ٹریٹری میں موبائل انٹرنیٹ کی مکمل بحالی حکومت کے زیر غور نہیں ہے ۔اور تو اور ،اب تو مرکزی حکومت نے سست رفتار موبائل انٹرنیٹ کو لائق کار قرار دیا ہے کیونکہ گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں وزارت داخلہ کی جانب سے بتایا گیا کہ 2۔جی  انٹرنیٹ کے سہارے جموںوکشمیر کا آن لائن تعلیمی نظام بخوبی چل رہا ہے اور 4۔جی انٹرنیٹ کی زیادہ ضرورت نہیں ہے ۔ &nb

کشمیر میں ایمز کا قیام

 وادی میں آل انڈیا انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا قیام ہنوز ایک خواب بنا ہوا ہے کیونکہ پانچ سال گزر جانے کے باوجود بھی تاحال اس وقاری ادارہ کا تعمیری کام شروع نہیں کیاجاسکا ہے ۔خیال رہے کہ سات نومبر2015کو وزیراعظم نریندر مودی نے اونتی پورہ میں ایمز کے قیام کا اعلان کیاتھااور مرکزی حکومت نے 1828کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے اس پروجیکٹ کو منظوری بھی دی تھی ۔اس طرز کا ایک انسٹی چیوٹ جموں کو بھی دیاگیاتھا جس کیلئے وجے پور سانبہ کا انتخاب عمل میں لایاگیاتھا اور وہاں تعمیری سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہیں تاہم افسوس کا مقام ہے کہ کشمیر میں اس انسٹی چیوٹ کے قیام کے سلسلہ میں سرد مہری کا مظاہرہ کیاجارہا ہے اور ابھی ٹیندر نگ کے عمل سے بھی آگے نہیں بڑھ پارہا ہے۔ایمز کے قیام کیلئے اونتی پورہ میں تعمیراتی ایجنسی سینٹرل پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کو 1886کنال اراضی بھی دستیاب کرائی گئی تاہم حیرت کا مق

کورونا وائرس اور عوامی لاپرواہی | اب تو بس کریں اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے

ملک میں جان لیوا اور مہلک ترین عالمی وبا کورونا وائرس سے ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ متاثرین کی تعداد65لاکھ کا ہندسہ عبور کرچکی ہے۔یہ اعدادوشمار کسی بھی طرح اطمینان بخش نہیں ہیں اور چیخ چیخ کر بتارہے ہیں کہ ملک میں کورونا ابھی بھی بے قابو ہی ہے ۔ایسے میں حالات ہم سے تقاضا کررہے ہیں کہ ہم زیادہ ہوش مندی کے ساتھ اپنے معاملات چلائیں ۔ویسے بھی ایک نئی تحقیق کے مطابق بھارت میں اگر فیس ماسک اور سماجی فاصلوں کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمدہوتا ہے تویکم دسمبر تک کم از کم 2لاکھ اموات کو روکا جاسکتا ہے۔امریکہ میں واشنگٹن یونیورسٹی کے انسٹی چیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ اوالویشن کی ایک سروے میں کہاگیا ہے کہ بھارت کے پاس اموات کم کرنے کا موقعہ ہے۔مذکورہ تحقیق کے مطابق اگر حکومت کی جانب سے وضع کردہ رہنماخطوط پر مکمل طور عملدرآمد کیاجاتا ہے تو معاملات بہتر ہوسکتے ہیں ورن

جموں ۔سرینگر قومی شاہراہ …ایک نظر ادھر بھی !

کشمیرکی شہ رگ کہلائی جانے والی جموں سرینگر قومی شاہراہ پر جس طرح ٹریفک جام معمول بن گیا ہے ،وہ مستقبل قریب میں پیش آنے والی نئی ہولناکیوں کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔قومی شاہراہ پر ٹریفک جام کا یہ عالم ہے کہ سرینگر سے جموں تک محض10گھنٹوں کا سفر اب20سے ،30گھنٹوں میں بھی طے نہیں ہو پاتا ہے ۔گوکہ گزشتہ روز شاہراہ مرمت کی غرض سے ٹریفک کیلئے بند تھی لیکن گزشتہ دو ایک ہفتوںکے دوران شاہراہ پر ٹریفک جام کی جو صورتحال بنی رہی ،وہ حکام کیلئے لمحہ فکریہ ہونی ہی چاہئے جبکہ یہ صورتحال اس شاہراہ پر سفر کرنے والوں کیلئے مصائب و الم کی ایک طویل داستان لیکر آتی ہے۔ٹریفک نظام کی اس بدنظمی کی وجہ سے شاہراہ پراب جان گنوانے اور زخمی ہو نے والوں کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار بھی زیادہ موجب ِ استعجاب و دلچسپی نہیں رہ گئے ہیں اور اسی وجہ سے اسے غیر سرکاری طور پر خونی شاہراہ کا نام بھی دیا گیا ہے ۔تقریباً پورا

بیک ٹو ولیج کا تیسرا مرحلہ

حکومت کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے اور عوام و سرکار کے درمیان موجود خلیج پاٹنے کی غرض سے بیک ٹو ولیج مہم کا تیسرا مرحلہ آج یعنی2اکتوبر سے شروع ہورہا ہے ۔پہلے دو مرحلوں کے برعکس اس بار 5ہزار سے زیادہ گزیٹیڈ افسران 2راتیں اور3دن فی پنچایت میں قیام کریں گے جس دوران وہ گرام سبھائوں کے ذریعے براہ راست لوگوں سے روبرو ہونگے اور اُن کے مسائل سن کر ان کا موقعہ پر ہی نپٹارا یقینی بنانے کی کوشش کریں گے۔ بیک ٹو ولیج کے تیسرے مرحلہ کو کامیابی سے ہمکنار کرانے کیلئے ایک وسیع عوامی مہم21رو ز تک چلی، جس دوران نہ صرف خود لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کشمیر میں کھنموہ اور جموں میں اکھنو ر میں عوامی پروگراموں میں شرکت کرکے اُن کے مسائل سنے بلکہ اُن کے مشیروں سے لیکر چیف سیکریٹری ، انتظامی سیکریٹریوں ،صوبائی کمشنروں اور تمام ضلعی ترقیاتی کمشنروں نے پروگراموں میں شرکت کی جبکہ اس دوران ان تین ہفتوں میںہر ب

شاہرا ئوں پر موت کا رقص کب تک ؟

محکمہ ٹریفک کے مطابق گذشتہ 4برسوں میں جموںوکشمیرکے مختلف علاقوں میں سڑک حادثات کے دوران 4ہزارسے زائد شہری لقمہ اجل بن گئے ہیں ۔ دیگر شاہرائوں کے ساتھ ساتھ سرینگرجموںقومی شاہراہ پر تواتر کے ساتھ رونما ہونے والے خونین حادثات نے ایک بار پھراس شاہراہ کی تعمیرو و تجدید کیلئے ایک مؤثر اور تخلیقی منصوبے کے تحت اقدامات کرنے کی ضرورت کا احساس اُجاگر کیا ہے۔ دنیا بھر میں شاہرائوں کو ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور بدقسمتی سے ہمارے یہاں ایک اہم ترین شاہراہ جو اس خطے کو باقی دنیا سے جوڑنے کا واحدزیر استعمال زمینی ذریعہ بھی ہے، دردناک اموات کی علامت بن کررہ گئی ہے۔یہ حادثے اور اس میں ہوئی اموات دراصل دہائیوں سے اس موت کی شاہراہ پر ہونے والے لاتعداد حادثات اور ہزاروں اموات کا تسلسل ہے۔المیہ بھی یہی ہے کہ مسلسل حادثات اور اموات کے باوجود اب تک کسی بھی حکومت نے سرینگر۔ جموںقومی شاہراہ کی تجدید نو کے

زلزلوں کے جھٹکے اور خوابیدہ حکومت !

 جموںوکشمیر میں گزشتہ کچھ عرصہ سے مسلسل زلزلوں کے جھٹکے محسوس کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے انسانی آبادی میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔گوکہ حکام نے کہاکہ لوگوںکو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے تاہم ماہرین ارضیات ساتھ ہی یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جموںوکشمیر زلزلوں کے اعتبار سے حساس زون میں آتا ہے اور یہاں بڑے زلزلوں کو خارج ازمکان قرار نہیں دیاجاسکتا ہے۔ 8اکتوبر 2005کے تباہ کن زلزلہ کے بعد دسمبر2005میں حکومت ہند نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ منظور کیا اور 23دسمبر2005کو اس کو صدر ہند کی منظوری مل گئی جبکہ26دسمبر2005کوسرکاری گیزٹ میں اعلامیہ جاری کرکے اس قانون کا نفاذ عمل میں لایاگیا۔اس قانون کی رو سے جہاں ملکی سطح پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میںلایا گیا وہیں ریاستی و ضلعی سطحی پر بھی بھارت بھر میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھاڑتیوں کا قیام لازمی قرار پایااور وہ کمیٹیاں بن بھی گئیں ۔ 20

معذور افراد سماج کا حصہ

اﷲ تعالی نے کوئی چیز بھی بے مقصد پیدا نہیں کی۔اس کائنات میں ایک ذرّے سے لے کرپودے پتے،جھاڑ جھنکاڑ اور ریت کے ذروں سے لے کر پہاڑوں، چٹانوں، غاروں اور دریاوں اور سمندروں میں بے شمار مخلوقات ہیں اور کتنی ہی مخلوقات ہیں جو ان دریاؤں اور سمندروں کے اندر اپنی زندگی کے دن پورے کر رہی ہیں اور کتنی ہی مخلوقات ہیں جوپہاڑوں کے درمیان وادیوں میںاور زمین کی گہرائیوں میں اور پتھروں کے اندر اور درختوں کی جڑوں سے چمٹی ہوئی اس دنیا میں موجود ہیں اور نہ جانے کہاں کہاں اور کیسے کیسے اور کس کس طرح کی مخلوقات، جو ہنوزانسانی مشاہدے میں نہیں آسکیں۔ اﷲ تعالی کی خلاقی کا پتہ دیتی ہیں ۔لیکن یہ سب قطعاََ بھی بے مقصد نہیں،اتفاقََانہیں اور نہ ہی الل ٹپ ہیں بلکہ اﷲ تعالی نے یہ سب ایک نظام کے تحت ،ایک منصوبے کے مطابق اور ایک منزل کے تعین کے ساتھ تخلیق فرمایا ہے۔ان ساری مخلوقات میں سب سے افضل مخلوق حضرت انسان ہے جس

مئے کشی اورمنشیات فروشی | برہمی بجا مگر ذرا اپنے گریباں میں بھی جھانکیں

گزشتہ دنوں جب کشمیر میں شراب کی دکانیں کھولنے سے متعلق حکومتی منصوبہ افشاء ہوا تو ہر سُو ہاہار مچ گئی ہے اور سماج کے سبھی طبقوں نے اس مجوزہ منصوبہ کی کھل کر مخالفت کی ۔حکومتی منصوبہ کے خلاف عوامی ردعمل حوصلہ افزا ء تھا جو بادی النظر میں اس بات کی جانب اشارہ کررہا تھا کہ کشمیر ی اُم الخبائث کو فروغ دینے کے حق میں نہیں ہیں۔کھلے عام شراب کی دکانیں کھولنے کے منصوبہ کی مزاحمت کرنا اچھی بات ہے لیکن شراب کی اُس سپلائی کا کیا کیاجائے جو اس کے باوجود بھی اس وقت کشمیر وادی میں استعمال ہورہی ہے۔ حکومتی اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ صرف گزشتہ برس کشمیر میں شراب کے استعمال اور کاروبار میں 25 سے 30فیصد کے درمیان اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ سال ِ رفتہ کے دوران کشمیر میں 40لاکھ کے قریب شراب کی بوتلیں فروخت اور استعمال کی گئیں ۔غور طلب ہے کہ کشمیر میں صرف شراب کی 6دکانیں قائم ہیں جن میں سے

تازہ ترین