تازہ ترین

دفعہ 370کا خاتمہ تاریخی فیصلہ تھا: امیت شاہ

جموں// مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں شروع ہونے والے ترقی کے دور کو کوئی روک نہیں سکتا ہے، کیونکہ یہاں کی ترقی میں خلل ڈالنے والوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ امت شاہ نے یہ باتیں اتوار کو یہاں بھگوتی نگر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔انہوں نے کہا’’یہاں شروع ہونے والے ترقی کے دور میں خلل ڈالنے والے، خلل ڈالنے کی کوششیں کر رہے ہیں، ترقی کا یہ دور کوئی روک نہیں سکتا ہے، میں آپ سب کو بھروسہ دلانے آیا ہوں کہ ترقی کے اس دور کو کوئی روک نہیں پائے گا‘‘۔وزیر داخلہ نے کہا ’’ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کے خاتمے سے پریم ناتھ ڈوگرہ اور شاما پرساد مکھرجی کا خواب پورا ہوا ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’آج پریم ناتھ ڈوگرہ کا جنم دن ہے، پورے بھارت کے لوگ انہیں کبھی بھول نہیں سکتے ، یہ وہ عظیم شخصیت تھیں جنہوں نے پرجا پ

جذبات بھڑکا نے کی ناکام کوششیں | لوگوں کی حفاظت اولین ترجیح: منوج سنہا

جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سوا کروڑ شہریوں کے مال و جان کی حفاظت کرنا میری انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔بھگوتی نگر میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا: 'کشمیری مہاجرین جنہیں 1990 سے پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، ان کے لئے ہم نے ایک پورٹل لانچ کیا تو چھ ہزار شکایتیں درج ہوئیں۔ ان شکایتوں میں سے دو ہزار کا ازالہ ہو چکا ہے اور باقی کا بھی جلد از جلد کیا جائے گا'۔انہوں نے کہا: 'میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگوں کو یہ بات ٹھیک نہیں لگ رہی ہے اور وہ ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ وہ جذبات کو بھڑکا کر یہاں تشدد کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں شاید معلوم نہیں کہ دلی میں سرکار کس کی ہے اور بھارت کے وزیر داخلہ کون ہیں۔ یہ سرکار امن قائم کرنے میں یقین رکھتی ہے'۔ان کا مزید کہنا تھا: 'یہاں کے سوا کروڑ شہریوں کے مال و جان کی حفاظت کرنا میری انتظامیہ کی

خصوصی پوزیشن کی بحالی ہمارا حق بھیک مانگنا نہیں:ڈاکٹر فاروق

جموں//نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں کشمیر کا الحاق عارضی تھا، جسے مستقل یا ختم کرنے کیلئے ریفرنڈم کرانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔مینڈھر میں عوامی جسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1947میں ساری ریاستیں ہندوستان میں مدغم ہوئیں البتہ جموں وکشمیر واحد ایسی ریاست ہے جو ضم نہیںہوئی بلکہ ایک مشروط الحاق کیا اور اس الحاق کی بنا پر دفعہ370اور 35اے کا قیام عمل میں آیا۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ دفعہ370عارضی تھا میں اُنہیں یہ ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں کہ یہ دفعہ اس لئے عارضی تھی کیونکہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں ریفرنڈم کرانا مطلوب تھا اور اس کے بعد ہی اس دفعہ کو ختم یا مستقل کیا جانا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دفعہ آج تک عارضی ہی رہی۔ انہوں نے کہا کہ جواہر لعل نہرو نے بھی پارلیمنٹ میں بحیثیت وزیرا عظم اس بات کا اعلان کیا تھا کہ اگر جموں

تازہ ترین