حد بندی کمیشن کی بھا جپا کیساتھ خفیہ میٹنگیں

جموں//جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی صدر غلام احمد میر نے الزام لگایا ہے کہ حد بندی کمیشن بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈران کے ساتھ خفیہ میٹنگیں کر کے اسمبلی حلقوں کی جوڑ توڑ کا کام انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان 'خفیہ میٹنگوں' کی وجہ سے حد بندی کمیشن کے کام کاج پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ میر نے پریس کانفرنس میں بتایا: 'حد بندی کمیشن کے تین بڑے کام ہیں،پہلا حلقوں کی تعداد 83 سے بڑھا کر 90 کرنا، دوسرا پرانے شیڈول کاسٹ حلقوں کو ڈی ریزرو کرنا اور تیسرا آبادی کو دیکھتے ہوئے ایس ٹی حلقے ریزرو کرنا'۔ انہوں نے کہا: 'لیکن بی جے پی اور یو ٹی انتظامیہ حد بندی کمیشن کو استعمال کر رہی ہے۔ خفیہ میٹنگوں کا انعقاد ہو رہا ہے۔ ان خفیہ میٹنگوں میں بی جے پی کے لیڈران سے حد بندی سے متعلق مشورے لئے جاتے ہیں۔ یہ خفیہ میٹنگیں حد بندی کمیشن کے کام کاج پر سوالیہ نشان لگاتی ہیں'۔ میر ک

جموں میں 16513 مثبت معاملات

جموں//جموں صوبہ میں 8577فعال مثبت کیسوں کے ساتھ مجموعی طور پر 16513 مثبت معاملات رپورٹ ہوئے ہیں اور ایک 4سالہ لڑکے سمیت کووڈ 19 وبا پھیلنے کے بعدسے اب تک 143 افراد کی موت ہوگئی ہے۔انتظامیہ کی جانب سے بے ترتیب اور ٹارگٹ سیمپلنگ شروع کرنے کے بعد صوبہ میں مثبت معاملات میں اضافہ ہوا۔زیادہ تر مثبت کیس جموں کے ضلع سے سامنے آئے ہیں جہاں اب تک 7947 افراد وائرس سے متاثر ہوئے۔ اس کے بعد ادھم پور میں 1398 ، راجوری 1364 ، اور کٹھوعہ میں 1285 معاملات ہیں۔ضلع سانبہ میں 1037 ، رام بن 794 ، ڈوڈہ 732 ، پونچھ 821 ، ریاسی 570  اور کشتواڑ میں 565 کیس رپورٹ ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ضلع رام بن کو ریڈ زون میں رکھاگیاہے جبکہ ڈوڈہ اور کشتواڑ اضلاع گرین زون میں ہیں۔سنیچر کے روز صوبہ بھر میں چھ اموات ہوئیں جن میں سے چار کا تعلق ضلع جموں سے ہے۔علاوہ ازیں جموں میں 250 مثبت معاملات ریکارڈ ہوئے جو گزشتہ روز کے

تازہ ترین