تازہ ترین

قربانی

ورکس منسٹر مسٹر شمیم احمد پر جلسے میں حملے کی خبر چاروں طرف پھیل گئی۔دیر رات مسٹر شمیم صاحب اپنی بیوی کے ساتھ ٹیلی ویژن پر آج کے جلسے کا ٹیلی کاسٹ دیکھ رہے تھے۔خبر آئی کہ آج ورکس منسٹر عزت مآب شمیم صاحب کو جلسے میں ایک نا معلوم شخص نے دن دھاڑے قتل کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے مستعدی   سے حملہ آور کو بر وقت دبوچ لیا۔جامہ تلاشی لینے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ بھیس بدل کر آیا تھا۔اُس کی جیب سے ایک تیز دھار والا چاقو برآمد ہوا۔ہاتھوں میں ایک عجیب قسم کی خوشبو والا پھولوں کا ہار تھا۔۔پولیس کو مذید تحقیقات کے بعد پتہ چلاکہ حملہ آور مغل پورہ تحصیل چاند گڈھ کا رہنے والا ہے۔نام عبداللہ آہنگر ولد سبحان آہنگر ہے۔گھر میں بالکل اکیلا ہے۔پولیس اُسکے دیگر ساتھیوں کی تلاش میںہے۔ خبر سُنکر شمیم صاحب اور اُسکی بیوی شبنم احسان سکتے میںآگئے۔دونوں کے ہوش اُڑ گئے۔شبنم صاحب کی حالت غیر

عزیزہ

 موسم جو بھی رہا ہو ۔ جاڑا ، برسات ، ہوا ، طوفان یا پھر لاوا اُگلتی ہوئی گرمیاں ، ہم اُس بزرگ خاتون کو اکثر  دیکھتے تھے ، بلکہ بلاناغہ دیکھتے تھے ، کیونکہ ہمارے اسکول کا راستہ ان کے گھر کی بغل سے گُزر کرجاتا تھا ۔  سو اس گزُر گاہ سے  گُزرنا ہی پڑتا تھا ۔ مستقل آوا جاہی تھی اور روز کا آناجانا بھی ۔ طِفلِ مکتب ہی سہی ، توجہ اِس بُزرگ خاتون کی طرف مرکوز ہو ہی جاتی تھی ۔ کیونکر نہ ہوتی؟ وہ توجہ طلب تھی اور خاصی غور طلب بھی ۔ کوئی بھی اس کی حرکات و سکنات کی طرف متوجہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا ۔ پھر ہم تو بچے تھے ۔ کم سن اور نافہم ۔ کچھ زیادہ سمجھ نہیں پا رہے تھے ،  مگر چند لمحے اسے دُور سے دیکھنے کا من تو کرتا ہی تھا ، حالانکہ ڈرتے بھی تھے کہ کہیں یہ خاتون پتھر وغیرہ پھینک نہ دے ، مگر چھوٹے من اور دماغ سے اسے ایک نظر دیکھنے اور مشاہدہ کرنے کی سوچ ہی لیتے تھے ۔ تھ

چلتی پھرتی لاشیں

توبہ توبہ! لاشیں سڑک پر چل رہی ہیں۔پہلے تو کھبی ایسا نہیں دیکھا میں نے۔کسی نے ایک دن مجھ سے کہا تھا کہ ایک بار لوگوں نے ایک لاش کو سڑک پر چلتے دیکھا تو سارا گاؤں ایک مہینے تک گھر سے باہر نہیں نکلا تھا۔ میں کیوں اتنا پریشان ہو گیا ہوں ان لاشوں کو دیکھ کر ۔خوف وہراس کی تو نہیں لیکن حیرت کی بات ضرور ہے۔بھلا لاشیں کہیں چلتی پھرتی ہیں۔ اچھا تو کسی سے دریافت کر لیتا ہوں،مگر کس سے دریافت کروں ۔کیا لاشیں میرا کہا سن سکتی ہیں۔چلو ایک بار کہہ کر دیکھ لیتا ہوں ۔جب وہ چل پھر سکتی ہیں تو جواب بھی دے سکتی ہیں۔سوال کرنے میں کیا ہرج ہے۔ "ارے سنو!" "بولو!" افوہ!.....لاش نے تو میری بات سن لی۔۔۔۔انتہائی حیرت کی بات ہے۔ "بھائی،میں جو دیکھ رہا ہوں،کہیں یہ فریبِ نظر تو نہیں ہے۔!" "کیا دیکھ رہے ہو؟" "چلتی پھرتی لاشیں!" &qu

احساس

انسپکٹر رحمان کا بس نام ہی رحمان تھا وراس میں رحم نام کی کوئی چیز تھی ہی نہیں ۔باتیں بڑی میٹھی کرتا تھا لیکن اندر سے سانپ تھا سانپ ۔بھلا ایسا بھی ہو سکتا تھا کہ کوئی کیس اس کے پاس آتا اور وہ اس سے چائے، مٹھائی اور نہ جانے کن کن ناموں سے پیسے نہ وصولتا ۔ سامنے والا کتنا مجبور اور بے بس کیوں نہ ہو۔دو چار جگہوں پر کوٹھیاں بنا رکھیں تھیں ۔اور بیوی کی مانگیں بھی روز بہ روز بڑھتی ہی جا رہی تھیں۔آج بھی انسپکٹر رحمان ڈیوٹی پر جانے کی تیاری کر ہی رہا تھا کہ اسے فون آیا۔ دائیں ہاتھ سے ٹائی کا ہُک ٹھیک کرنے لگا اور بائیں ہاتھ سے فون رسیو کیا۔ہیلو ۔۔سامنے والے نے اپنا تعارف دیا، مزید کچھ کہنے ہی والا تھا کہ انسپکٹر برس پڑا۔۔۔نہیں نہیں تب تک یہ نہیں ہو گا جب تک مجھے میرا حصہ نہیں ملے گا مجھے بیوی کے لیے نئے جھمکے لانے ہیں اس مہینے اور جھٹ سے فون رکھ دیا۔ جھمکے سنتے ہی بیوی کچن سے دوڑی دوڑی چلی ا

صورت

مجھے آپ کے ساتھ نہیں جانا ہے۔ مجھے روز روز بازار جانا بالکل بھی پسند نہیں ہے۔آج آخری بار آؤ پھر کبھی نہیں بولونگی۔آپ تو ہمیشہ یہی کہتی ہیں۔ ثریا اور آپی دو بہنیں ہیں۔آپی ثریا کی بڑی بہن ہے لیکن دونوں کا مزاج بہت مختلف ہے۔آپی کا دل گھر کے کام کاج میں بالکل بھی نہیں لگتا ہے۔ اکثر وہ اپنی چھوٹی بہن کو اپنے ساتھ بازارچلنے پر مجبور کرتی ہے۔اس کی ماں بھی آپی کی طرح ہو بہوہے۔جب کبھی ثریا بازار جانے سے انکار کرتی تو اس کی ماں بہت ساری باتیں سناتی۔ثریا کا رنگ کالا تھا اور اکثر آپی اسے کہتی کہ تو کتنی کالی اور میں کتنی سفید ہوں،تم تو بالکل بھی اچھی نہیں ہو۔ان سب باتوں سے وہ بہت دکھی ہوتی ۔ ایک روز وہ دونوں بازار جا رہی تھیں کہ اچانک سے آپی کی ملاقات کچھ سہیلیوں سے ہوئی۔ آپی کیسی ہو اور یہ کون ہے  ؟ یہ یہ ۔۔۔یہ میری کرزن سسٹر ( (cousin sisterہے۔ ثریا کا رنگ ہ

دعوت

لال دین کی شادی کچھ روز بعد ہی طے پا چکی تھی۔ تقریب کے حوالے سے تمام تر انتظامات مکمل کر لئے گئے تھے۔ اب دوستوں، ہمسایوں اور رشتے داروں کو دعوت پر بھلانے کا مسئلہ تھا۔ اس کا چھوٹا بھائی نجم دین ایک بڑی تقریب منانے کے حق میں نہیں تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ کچھ خاص لوگوں کو ہی شادی پر دعوت نامہ بھیج دیا جائے کیونکہ گزشتہ دو سالوں سے نہ میوہ باغات سے کچھ خاص آمدنی حاصل ہوئی تھی اور نہ ہی ماہوار گھریلو آمدنی سے کچھ خاص بچت ہوئی تھی کیونکہ ان کی عمر رسیدہ بیوہ ماں بہت سالوں سے بستر مرگ پر ہے ۔ وہ معدے کے کینسر کے مرض میں مبتلا ہے ۔ اب دونوں بھائی سوچ وبچار کر رہے ہیں کہ کس طرح اور کن لوگوں کو دعوت دی جائے۔ شادی کے روز انہوں نے ایک بھیڑ اور ایک بکرے کو زبح کرکے وازوان تیار کیا ۔ نجم دین نے اپنے بڑے بھائی کیساتھ مشورہ کرکے شادی کے روز ہی مہمانوں کو بُلانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ لال دین شش وپنج

تازہ ترین