تازہ ترین

افسانچے

بڑا آدمی خواجہ صاحب میں نے آپ کی بیٹی کے لیے اتنے رشتوں کا انتخاب کیا مگر کوئی بھی رشتہ آپ کو پسند ‌نہیں آیا۔ آخر آپ اپنی نازنیں بیٹی کے لیے کیسا رشتہ چاہتے ہیں۔۔۔۔۔عبدل جبار ثالث نے خواجہ سلطان شیخ سے کہا۔۔۔ مجھے کوئی بڑا آدمی بہت بڑا آدمی چاہیے۔ یہ ڈاکٹر انجینئر، پروفیسر رایئٹر ،آرٹسٹ، شاعر، موسیقار اور سرکاری ملازم وغیرہ میرے کسی کام کے نہیں۔۔۔ کوئی بڑا آدمی ڈھونڈ یئے جبار صاحب کوئی بہت بڑا آدمی۔۔۔۔۔۔ ہوں، آپ کو بڑا بہت بڑا آدمی چاہیے۔۔۔میری نظر میں ایک بہت بڑا آدمی ہے  اس‌کے پاس چار شاپنگ مال ہیں۔ ایک جوس فیکٹری ہے ااور وہ ڈرگس کا ‌کاروبار کرتا ہے۔۔۔ ہاں۔۔! خواجہ نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا۔ اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے۔۔۔۔اس بڑے آدمی کے بارے میں تفصیل سے سب کچھ بتاؤ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی عمر ‌پچاس سال ہے۔ ۔   اس کے چہرے

خالی دامانِ حیات

"کون ؟" "میں"  "میں کون ؟" "ارے میں ہوں"  تھوڑی خاموشی کے بعد "اوووو تم! " "کیسے فون کیا ؟" روکھا لہجہ  "وہ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔۔۔بات کرنی تھی" "کیا بات ،کونسی بات، اتنی مدت کے بعد ! اتنے برسوں کے بعد ۔۔۔اب کونسی بات کرنی ہے؟" "وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ کھانسی کا ایک ہلکا سا وقفہ  "وہ۔۔۔۔۔کیا ہے کہ " "ہاں کیا ۔۔۔۔پیسے چاہیں؟۔ صاف صاف کہو، خیر کوئی نہیں؛  اپنا اکونٹ نمبر بولو ،میں ٹرانسفر کر دوں گی ۔" "نہیں نہیں ۔۔۔۔۔پیسے نہیں چاہیں " "تو پھر ؟" "وہ۔۔۔۔۔وہ تم سے بات کرنی ہے "۔ "ہاں۔ کہو میں سن رہی ہوں۔ پر جلدی کہو مجھے اور بھی بہت سارے کام ہیں ۔" سرد مہری سے جواب 

نیکی کر دریا میں ڈال

منظور احمد کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے عمر نے آواز دی۔۔۔ انکل۔۔۔ انکل۔۔۔ منظور انکل۔۔۔ منظور احمد کی اہلیہ نے دروازہ کھولا اور اس کو دیکھتے ہی عمر مخاطب ہوا۔۔ السلام علیکم۔۔۔آنٹی۔۔ٹھیک ہو۔۔گھر میں سب ٹھیک ہیں۔۔ جی بیٹا۔۔۔الحمد اللہ سب ٹھیک ہیں۔۔۔اندر آؤبیٹا؟ منظور انکل کہاں ہیں۔۔مسجد شریف کی طرف سے انکے نام ایک خط لیکر آیا ہوں۔۔۔یہ انہیں دیجئے گا۔۔۔۔ خط منظور احمد کی اہلیہ کے ہاتھ میں تھمانے کے بعد وہ محلے کے باقی لوگوں کو بھی خط پہنچانے چل پڑا۔۔ شام کو منظور صاحب نے خط پڑھا جس میں لکھا تھا۔۔۔"اتوار کو بعد نماز عصر مسجد شریف کی تعمیر و ترقی کے متعلق ایک اہم نشست منعقد ہونے جارہی ہے ان شاء اللہ۔۔آپ اپنی شرکت یقینی بنائیں"۔۔۔۔۔ اتوار بعد نماز عصر نشست کا آغاز تلاوت کلامِ پاک سے ہوا۔ ۔اور اس کے بعد کمیٹی کے صدر نے ممبران اور محلے والوں کے سامنے

دردکے گاؤں میں

موسم جاڑے کا چل رہا تھا۔رات کو شدید برفباری ہوئی تھی ۔ صبح کے آٹھ بجے بابا کوفون آیا۔ بابا لمبی سیڑھی کندھے پر اور ہاتھ میں پلاس لےکر مسکراکر  لنگڑاتے ہوئے چل پڑے۔ شام کے وقت بابا کا فون آیا کہ شاید آج مجھے آنے میں دیر ہوجائے گی کیونکہ مرمت کا کام زیادہ ہے اسلئے میں آج رات سٹیشن پر ہی رکوں گا۔ آپ لوگ میرا انتظار نہ کرنا۔ آج تک کبھی میری ہمت نہ ہوئی تھی کہ میں امی سے پوچھ لیتی کہ بابا کو چلنے میں دقت کیوں پیش آتی ہے؟ آج موقع غنیمت جان کر میں نےامی سے پوچھ لینے کا فیصلہ کر ہی لیا ۔ رات کےکھانے سے فارغ ہوتے ہی میں نے امی سے پوچھا کہ امی آپ مجھے بتائیں کہ بابا کو کوئی پیدائشی دقّت تھی یا انکے ساتھ کوئی بڑا حادثہ پیش آیا تھا؟ امی نے ایک گہری سانس لیکر آہ بھری اور کہا میری بچی یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ کسی دن فرصت سے سناؤں گی۔ نہیں امی مجھے بتائیں نا، میری پیاری امی۔ میں ا