’’جرم ‘‘

میں اپنے ریڈنگ روم میں بیٹھاایک نئی کہانی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اب کے میںایک ایسی کہانی لکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔ جس کا اسلوب منفرد  ہو۔جو روایتی کہانیوں سے ہٹ کر ہو۔ یہ سوچتے سوچتے میرے خیال کا تسلسل اُس وقت ٹوٹ گیاجب اچانک باہر سے شور و غل مچ اُٹھا اور میرے ہوش و حواس اُڑ گئے ۔میں نے کاغذ قلم سمیٹ کر ٹیبل پر رکھ دئیے اور تیز تیز قدم اُٹھا تے ہوئے شہاب چاچا کے آنگن میں پہنچ گیاکیونکہ مردانہ آواز کی جو چیخیں سنائی دیتی تھیں ان کا محور شہاب چاچا کا آ نگن ہی لگ رہا تھا  ۔اور میرا اندازہ بھی صحیح نکلا۔آنگن میں چپے چپے پر لوگ کھڑے تھے۔ میں اس بھیڑ کو چیر تا ہوا آگے بڑھا۔لوگوں کے بیچوں بیچ شہاب چاچازمین پر پائوں پسارے بیٹھا رو رہاتھااور زون ؔآپا اس کی بانہوںمیں بے سدھ سی پڑی تھی وہ چلا رہا تھا ۔ ’’تم مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتی ۔آنکھیں کھولو  ۔۔۔۔۔۔زونہ ؔآنک

دل کا کیا کریں صاحب

مت ماری گئی تھی میری ، جو میں نے واٹس ایپ پر اُسے اپنی تصویر بھیج دی ۔ وہ اِیکدم سےاُکھڑ گیا اور پھر بس لینے کے دینے پڑ گئے ۔ وہ بجائے شادو شادماں ہونے کے سخت رنجیدہ ہوا اور ایک کٹھور پولیس والے کی طرح پُوچھ گچھ پر اُتر آیا ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں تھی ، بلکہ اکثر ایسی نوک جھونک ہوتی رہتی تھی اور وہ مجھے پریشان کرنے پر تُلا رہتا تھا۔ اب ہوا یوں کہ بڑی کٹھور گرمیوں کے بعد ایک روز جو برسات کے دیدار نصیب  ہوئے تو مُجھ سے رہا نہ گیا ۔ بارش شروع  ہوتے ہی اُفتاں و خیزاں مسرور سی چھت پر چلی آئی اور بغیر کوئی  لمحہ ضائع کئے بارش میں بھیگنے لگی ۔ بڑا اچھا لگ رہا تھا ، جیسے اچانک جلتے بدن پر ٹھنڈک سی پڑ گئی ہو اور پورے شریر میں جیسے  تازگی اُتر آئی ہو ۔ میں بڑی مسرور تھی اور ننگی چھت پر گنگناتی ہوئی رقص کررہی تھی ، اچانک رگِ رومانیت پھڑک اُٹھی اور مجھے وہ یاد آئے ۔ وہ جیسے

تعبیر

جاڑے کا موسم اپنے اختتام کو پہنچ چکا تھا اور بہار کی آمد آمد کے ساتھ ہر طرف ہریالی نظر آنے لگی تھی۔ لوگ مسجدوں کے حماموں اور اپنے گھروں سے اب باہر نکل کر بازاروں، کھیتوں، کھلیانوں میں اپنے اپنے کام میں مصروف تھے۔ بڑا پُرکشش اور دلفریب منظر تھا۔ فضا میں مہک اور لوگوں کے چہروں پر خوشی تھی جیسے نئی زندگی کے آثار۔ ہر طرف شادمانی، دُکاندار  دکانوں پر، کاشتکار کھیتوں میں، ملازم اپنے دفتروں میں، مزدور اپنے کارخانوں میں اور بچے اپنے اسکولوں میں۔ سب اپنے اپنے کام میں مشغول۔ اچانک دور سے اُڑتی ہوئی دھول نظر آئی۔ ’’سرخ آندھی آرہی ہے۔‘‘ کوئی زور سے چِلایا، سب ہکا بکا رہ گئے۔ ’’ہاں۔ یہ تو سرخ آندھی ہے اور اس کا رخ بھی ہماری طرف ہے‘‘ ہوشیار خبردار، ہر طرف چیخ و پکار تھی، سرخ آندھی نے ہر طرف گھیر لیا تھا اور اس میں سے بے شمار بھڑیں

تسکین ِدل

فاطمہ ہر گزرتے دن اپنی بدنصیبی کا رونا روتی تھی۔محلے والوں اور رشتےداروں کو دیکھ کر وہ اکثر دل آزردہ رہتی تھی۔انکے خوش و خرم اور صحت مند بچے جب بھی فاطمہ کی نظر سے گزرتے تھے تو فاطمہ کا دل اکثر مایوس ہو جاتا تھا۔ اسکا خاوند اقبال جب بھی کام پہ جاتا تھا اور جس گھر میں کام کی خاطر چلا جاتا تھا، اکثر وہ دل رنجیدہ ہو کر رہ جاتا تھا ۔وہ اکثر اسی سوچ میں پڑھا رہتا تھا کہ آخر بڑھاپے میں اولاد کی کمی تو محسوس نہیں ہو گی ؟ دونوں میاں بیوی اسی فکر میں پڑے رہتے تھے۔دونوں کئی عوارض میں مبتلا تھے۔اپنی دل آویزی کےلئے کتنے ہی حربے انہوں نے آزمائے سب بےکار اور ناکام ثابت ہوئے ۔ محلے میں ایک شخص قادر بھی پاس ہی رہتا تھا ۔اسکے چار بیٹے اور ایک بیٹی تھی ۔شام کے قریب آٹھ بجے کا وقت تھا ۔فاطمہ باہر سے روڈ کے آئی اور تیزی سے اقبال کے کمرے میں گھس گئی ۔ ارے میاں ۔۔۔۔۔باہر کچھ شور سنائی دے ر

تازہ ترین