تازہ ترین

ممتاز

’’ ایک پریشانی سے چھٹکارا ملتا نہیں تو دوسری آ کر گھیر لیتی ہے ۔اب میں کیا کروں ؟کیسے اتنی بڑی رقم کا انتظام کروں ؟‘‘ سوچوں میں غلطاں وپیچاں ممتاز اپنا ریزہ ریزہ وجود لئے کام کے لئے نکل گئی۔چند مہینوں سے اس کا جینا دو بھر ہو گیا تھا اور وہ پائی پائی کی محتاج ہو گئی تھی لیکن آج مالک مکان کی مکان خالی کرنے کی دھمکی اور غیر انسانی روئے کے سبب اس کے تن بدن میں کانٹے چبھنے لگے حالانکہ اس سے پہلے مالک مکان نے کبھی بھی ایسا رویہ اختیار نہیں کیا تھا بلکہ وہ انتہائی نرمی اور ہمدردی سے پیش آتا تھا۔ ’’سنیے، اب کیسی حالت ہے ببلو کی؟‘‘ گلی کے نُکڑ پر تاک میں بیٹھے جنید کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔ ’’ جی آج قدرے ٹھیک ہیں‘‘۔ ممتازنے بغیر اس کی طرف دیکھے کہا۔ ’’کسی چیز کی ضرورت ہو تو بندہ ح

کارِ ثواب

اشرف اپنی فیملی کے ساتھ برف کا نظاہرہ کرنے کے لئے پہاڑیوں  کے راستے اس خوبصورت وادی میں پہنچ گیا جس کو دیکھنے کے لئے پوری دنیا سے سیاح آیا کرتے ہیں ۔ اُس کے ساتھ بیوی اور تین  چھوٹے بچے بھی تھے۔اس نے اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ وہاں تین چار گھنٹے خوب سیر کی اور جب بچوں کو سردی لگنے لگی تو بیوی نے اس سے کہا۔ "بچے بیمار ہو جائیں گے، اب گھر چلنا چاہیے ۔" اشرف جب اپنے بچوں کو لے کر گاڑی میں سوار ہو گیا تو اچانک موسم نے اپنا رخ بدل لیا اور زوروں کی برف باری شروع ہو گئی ۔وہ بہت پریشان ہو گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس تیز برف باری کی وجہ سے راستہ بند ہوجانے کا خطرہ ہے۔ وہ کار کو تقریبا ایک میل آگے نکال لایا لیکن اس کے بعدکار برف پر سلپ کرنے لگی،جس کی وجہ سے وہ آگے نہیں بڑھ رہی تھی ۔ اب تو اشرف اور اس کے اہل و عیال پر گھبراہٹ طاری ہونے لگی۔اُس نے کار ک

میلہ

بارش کب کی تھم چکی تھی۔ سورج غروب ہونے کو تھا۔ شام میرے آنگن میں اپنا خیمہ گاڑھ رہی تھی۔ ایک سنہری کرن نے میری انگلی تھام لی اور ہم رات کے میلے کا وہ حیرتناک منظر رکھنے چلے گئے، جس کے بارے میں میں برسوں سے سنتے آیا تھا۔ میلے میں کئی سٹال سجے ہوئے تھے۔ کچھ سٹال ایسے تھے جہاں سپنے بکتے تھے۔ کچھ سٹال ایسے بھی تھے جن پر صرف اونچی ذات کے لوگ خریداری کرسکتے تھے۔ کچھ سٹالون پر فقط چہرے بکتے تھے۔ میں نے کچھ سٹالوں پر حُسن (Beauty)کی خریداری ہوتے دیکھی۔ ایک سٹال پر تعجب منظر دیکھنے کو ملا۔ یہاں تاریخ کے اوراق بکتے تھے۔ ایک سٹال پر کچھ اجنبی چہرے قلیل معاوضے کے بدلے الفاظ کے خزانے لُوٹ رہے تھے۔ ایک سٹال پر کچھ لوگوں کو مہمل الفاظ کی خریداری میں مگن پایا۔ ایک اور سٹال پر فن اور ادب بک رہا تھا۔ یہاں اس سٹال پر ثقافتی ورثے کے ساتھ جُڑی اشیاء کی سستے داموں میں خریداری ہورہی تھی! اسی اسٹال

ریت کا ٹیلہ

ایک دن ٹھٹھرتی سردی میں میں اپنے چچیرے بھائیوں کے ساتھ گھر میں ایک الاؤ کے پاس بیٹھا تھا ۔ہم‌سب خوشی اور مستی میں زور زور سے باتیں کررہے تھے اور ایک دوسرے کو مکے ماررہے تھے ۔اتنےمیں چاچا جان آگئے اور ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگے ۔ہم نے سر تو جھکائے لیکن‌ چوری چوری ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگے اور اشاروں ہی اشاروں میں چاچا جی کا مذاق اڑانے لگے ۔ کافی کوششوں کے باوجود ہم ہنسی کو دبا نہ سکے اور زور سے قہقہ نکل گیا۔چچا جان کا چہرہ لال‌ ہوگیا ۔اس نے طیش میں آکر ہمیں حکماً دادا جی ‌کے کمرے ‌میں جانے کو کہہ دیا ۔ ہم سب تیزی سے ایک دوسرے کو دھکے مارتے مارتے دادا جی کے کمرے میں گھس کر اس کی چادر میں سمٹ گئے ۔پیچھے پیچھے چاچا‌ جان بھی آگئے۔   دادا جی نے بیچ بچاؤ کر کے ہم سب کو پٹائی سے بچا لیا ۔  چاچا جی نے دادا جی سے‌کہا ۔۔۔اباجان

شام ہوتے ہی مسّرور تھکا ہوا دفتر سے گھر لوٹ آیا - کپڑے تبدیل کر کے نماز مغرب کے لئے وضو بنا کر رکھا - اتنے میں آپ کی شریکِ حیات نے گرم نمکین چائے و روٹیاں پیش کر دی ں- دونوں میاں بیوی باتوں باتوں میں لگ گئے کہ اتنے میں ازان سنائی دی - " چلو یہ پیالہ اور پلیٹ اٹھا لو، میں نماز پڑھ کے آتا ہوں ۔۔۔ اور آپ بھی پڑھنا۔۔۔۔ " مسرور کچن سے اٹھتے ہی شریکِ حیات کو بھی نماز ادا کرنے کی تلقین کرتا ہوا نکل گیا - "جی ہاں ٹھیک ہے -" شریک حیات نے بڑی فرمانبرداری سے واپس جواب دیا - مسّرور نے سب سے پہلے اپنے موبائل فون کا انٹرنیٹ ڈاٹا بند کردیا اور اس کے ساتھ ہی ا سے سائیلنٹ موڑ پہ رکھا - نماز مغرب ادا ہو گئی - مسجد سے گھر واپس لوٹ آیا تو موبائل کا ڈاٹا دوبارہ آن کیا - مسرور دیکھتے ہی دیکھتے کئیں واٹساپ گروپس میں شئیر کردہ ایک اہم پیغام دیکھتا ہے - اس خبر

چمچے

ایک چمچہ چاہئے اپنی بڑھائی کے لئے   کُچھ تو پاس ہو اپنے ، خود نمائی کے لئے  حضرات! قدیم وقتوں میں چمچے ہر گز نہیں ہوا کرتے تھے۔ایک چمچے پر ہی کیا موقوف!اصل میں کچھ بھی نہیں ہوا کرتا تھا۔مگر زندگی تھی۔انسان پتوں سے تن ڈھانپا کرتا تھا اور کچاّ کھاتا تھا۔پھر اُس نے پتھر کے اوزار اور برتن بنائے۔برتنوں میں چمچوں کا وجودکب ناگزیر سمجھا گیا۔۔۔۔۔! اِس بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔   البتہ چمچوں کی اہمیت اور افادیت کے مدِنظر‘یہ کہا جا سکتا ہے کہ کھانا پکانے کی نوبت آتے ہی چمچوں کے وجود کو ناگزیر سمجھا گیا ہو گا۔بھلے ہی پتھر یالکڑی  کے بنائے گے ہوں گے۔بعد میں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز کا رنگ و  روپ اور معیار بلند ہوتا گیا اور ساتھ ساتھ چمچوں کا بھی۔۔۔۔! اور آج تو بازار میں علاحدہ علاحدہ اقسام میں ایک سے بڑھ کر ایک چمچے دستیاب ہی

آویزے

 بادی النظر میں وہ ایک مُناسب بندہ ہی نظر آتا تھا ۔ ماشااللہ چہرہ اِتنا معصوم اور خُوبصورت تھا کہ بس دیکھتے ہی بنتا تھا ۔ خوش دہن تھا ، خوش لہن اور خوش طبع بھی ۔ گویائی ایسی کہ منہ سے پھُول جھڑتے تھے ۔۔۔۔۔ ایک اکیلا ، آ گے کوئی نا پیچھے ۔ اپنی دُھن میں مست ، شاد و شادماں ۔ لا پرواہ اور بے فکرا سا ۔ پچیس سال کی عمر کے لگ بھگ کا ایک بانکا نوجوان تھا ۔ نام تاشف الدین تبریزی ۔ کام ، ہاتھ کی صفائی ، وہ بھی مہارت اور بڑے کمال کی ۔ تبریزی جیسا خوب رو نوجوان ایک مشاق اٹھائی گیرا ہوسکتا ہے ، یہ بعید از قیاس تھا ۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا ، کیونکہ اُس کا چہرہ اتنا دلکش اور صُورت اتنی مسمسی اور  معصُوم تھی کہ ایسا خیال ذہن میں لانا بھی گُناہ تھا ۔ مگر وہ ایک مشاق اٹھائی گیرا تھا ۔ یہ ایک حقیقت تھی جو وہ فقط خود جانتا تھا ، کوئی دیگرے نہیں ۔  اِتنا مشاق تھا کہ کِسی کی آنکھوں سے

میرا گھر میری جنت

دادا دادی کی یاد میں قرآن خوانی کی تقریب ختم ہوئی تو میں اپنے حصے کے سارے کام نپٹا کر اپنے کمرے میں آرام کر نے کے لئے بیٹھی۔ آج مجھے میرا گھر واقعی جنت لگ رہا تھا۔ اسی کے ساتھ میں اپنے ماضی کی کتاب کےاوراق پلٹنے لگی۔۔۔۔۔ مجھے یقین ہی نہیں آرہا ہے جیسے کل ہی کی بات ہے۔ پورے دس سال بیت گئے جب میں نے دوسرے کمرے سے زور زور سے انکل جی کو یہ کہتے سنا دیکھو عدیل نہ تمہاری بیوی کسی امیر باپ کی بیٹی ہے اور نا ہی کسی بڑے افسر کی۔ بڑی آئی پڑھی لکھی۔ اسے اچھی طرح یہ بات سمجھانا کہ اسے ہمارے گھر کے اصولوں پر چلنا پڑے گا ورنہ اسکے لئے اس گھر میں کوئی جگہ نہیں۔ یہ غیر مناسب سے الفاظ سنتے ہی مجھے میری خوشیاں اور میرے خواب بے معنی سے لگنے لگے۔ ہر ماں باپ کی طرح میرے ماں باپ نے بھی مشکلوں سے لڑ لڑ کر مجھے پڑھا لکھا کر اس قابل بنایا کہ میں صحیح و غلط ، کھرے اور کھوٹے کی پہچان کر سکوں۔ پھر انہوں

اَنوکھا رشتہ

دین دیال کا یہ خیال تھا کہ خوشامد اور چالبازی سے بڑے بڑے کام کروائے جاسکتے ہیں۔وہ محکمئہ آب رسانی میں درمیانہ درجے کے ملازم تھے۔تقریباًسات سال سے وہ گھر سے کافی دور ایک ایسے مقام پہ نوکری کررہے تھے کہ جہاں انھیں دو نمبر کا پیسہ نہیں ملتا تھا۔اس لیے وہ چاہتے تھے کہ شہر میں  انھیں ایسی جگہ تعینات کیا جائے جہاں انھیں تنخواہ کے علاوہ کچھ اور بھی حاصل ہو۔ چناں چہ انھوں نے اپنے اعلیٰ آفیسر کے نام ایک عرضداشت لکھی اور اپنے آفیسر کے بھائی خورشید اکبر کو ان کے گھر پر دینے کے لیے تیار ہوگئے۔اچانک انھیں یہ خیال آیا کہ وہ اپنا کام کروانے کے لیے کون سا حربہ استعمال کریں کہ خورشید اکبر کے دل میں ان کی محبت اور اپنائیت کا شعلہ بھڑک اٹھے۔ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد جب انھیں کوئی مناسب تجویز نہیں سوجھی تو انھوں نے اپنی دھرم پتنی؛ شانتی دیوی کو آواز دی   ’’  شانتی---شانتی

آج پھر دل کو ہم نے سمجھایا۔۔۔۔

وہ جمی ہوئی کلفی کی طرح ایک جگہ جیسے جم گیا تھا اور اُس کی بہن اُسے ہر آن یہ احساس دلاتی تھی کہ اُسے ابھی سب کے لیے جینا ہوگا ۔اپنے تئیں بہن کی اس طرح کی محبت دیکھ کر عدنا ن کو ایک بار خیال تو ضرور آتا ہوگا کہ وہ دوسرے بھائیوں کی طرح صادیہ کے سر پہ ہاتھ رکھ کر اُسے تسلی دیتا کہ ’’میں ہوں نا! تمہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں‘‘۔صادیہ ہر آن،ہر لمحہ اپنے بھائی کی پرچھائی بنی رہتی،یہ مصیبتیں بھی جیسے ایک ساتھ قطار میں ہی کھڑی رہتی ہے ۔ ’’مما کب ہمارے بھیا ٹھیک ہوجائیں گے‘‘۔َ ’’کب یہ پھر سے ہمارے گھر کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔‘‘ ’’صادیہ تو پرواہ نہ کر، اللہ نے ہم سب کے لیے کچھ بہتر سوچو ہوگا۔صادیہ کی عمر اکتیس سال کی تھی لیکن اس کی ماں کو کبھی بھی اپنی بیٹی کے اکیلے پن سے خوف نہیں آتا تھا ۔

پاگل

’’ اٹینشن ۔۔۔۔۔۔‘‘۔ دفعتاً لالچوک میں آواز گونجی اور شہزاد اپنے خاص انداز میں چھڑی ہوا میں لہراتے ہوئے نمودار ہوا ۔بازار کے سیٹھ اور ان کی دکانوں میں کام کرنے والے مزدور حیران ہو کر سڑک کی طرف دیکھتے ہوئے آپس میں باتیں کرنے لگے ۔کچھ سیٹھوں نے اپنے نوکروں کو ہدایات دیں کہ کہیں یہ پاگل ان کی دکان کی طرٖٖ ف نہ بڑھے۔بازار کے اکثر دکاندار اس کو اپنی دکانوں پر چڑھنے سے سختی سے روکتے تھے حالانکہ وہ کبھی کسی سے ایک آنے کا بھی تکازا نہیں کرتا تھا ۔ ان کا یہ رویہ دیکھ کر شہزاد بھی اب خال خال ہی کسی دکان کا رخ کرتا تھا۔ خاص بات یہ تھی کہ لالچوک کو آج نئی نویلی دلہن کی طرح سجایا گیا تھا ، یہاں خوب گہما گہمی تھی کیوں کہ آج یہاں کسی سیاسی پارٹی کا جلسہ منعقد ہونے والا تھا اور اتفاق سے شہزاد بھی آج ایک لمبے وقفے کے بعد اچانک یہاں نمودار ہوا تھا ۔ ’’ ا

افسانچے

بُھول  صبح نیند کھلتے ہی مجھے اپنے ہمسایہ سلمان صاحب کے گھر  سے انکی بیوی کے رونے کی آواز سنائی دی۔میرے ان سے اچھے مراسم تھے۔جا کر  دیکھا تو سلمان  صاحب اپنی اہلیہ کو زور سے پیٹ رہے تھے- میں نے بڑی مشکل سے ان  کی بیوی کو بچایا اور مارنے کی وجہ پوچھی ۔ " گذشتہ شب کو ہم شادی کی ایک تقریب میں مدعو تھے۔ وہاں اس نے میری عزت نیلام کر دی اور میرے منع کرنے کے باوجود اس بے حیاء نے میری بات نہیں مانی "کہتے ہوئے وہ رو پڑے ۔پھر انہوں نے اپنی جیب سے موبائل نکالا اور فیس بک پر اپنی بیوی کا ڈانس والا ویڈیو دکھانے لگے اور میں کمرے میں کھڑا سوچ رہا تھا بھول کس کی تھی ۔۔۔؟؟   نجات "جج صاحب! اچانک کہاں کھو گئے۔؟" ارشد، جو کہ جج صاحب کا قریبی دوست تھا، 'چائے کی چسکی لیتے ہوئےپوچھ بیٹھا۔  " کچھ نہیں دوست! سوچ رہا ہوں ک

نادان محبت

مما کیا ہوا ،آپ کیوں رو رہی ہیں؟سفوان نے ڈرڈر کے اپنی ماںسے پوچھا۔ کچھ نہیں تم اپنا کام کرو۔ جبینہ نے اپنے بیٹے سے کہا۔ جبینہ اپنے بیٹے سفوان سے کبھی اچھے لہجے بات نہیں کرتی تھی۔جب کبھی وہ بازار جاتی، کھا نا بناتی یا کسی محفل میں جانے کے لئے تیار ہوتی تو سفوان کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگتے۔وہ آٹھ سال کا تھا اور اس کی بہن بارہ سال کی۔جبینہ کا رویہ دن بہ دن بگڑتاہی جا رہا تھا۔وہ اپنے بچوں کے ساتھ برے طریقے سے پیش آتی تھی۔ اس کی ماں جاجو ہمیشہ اسے سمجھاتی لیکن وہ کچھ سمجھنے کو تیار ہی نہیں تھی۔ سفوان:۔نانی! مما مجھے ہر روز مارتی ہے۔میں اب ان سے ڈر نے لگا ہوں،وہ بہت گندی ہیں۔ جاجو:۔ایسا نہ کہو،مما تھک جاتی ہے اور پھر دن بھر سلائی بھی کرتی ہے۔اس نے اپنے نواسے کو اپنے سینے سے لگا لیا ۔ وہ سلائی کا کام کرتی تھی اور اپنے دونوں بچوں کو پڑھاتی تھیں۔جبینہ اپنی ماں کی اکلوت

میں پُل ہوں !

میں ایک پُل ہوں____!جی ہاں ایک پل __ وہی پل جو دریا کے دو کناروں کو ملاتا ہے ،وہی پل جو ہزاروں افراد کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے ، وہی پل جو کئی علاقوں کو ملاتا ہے ___ میں شہر کے بیچوں بیچ واقع ہوں____انسانی زندگی میں میری ضرورت اس وقت سے محسوس کی گئی جب انسان تہذیب یافتہ ہونے لگا اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ میری اہمیت بھی بڑھتی گئی ،آبادی کے لحاظ سے مجھے تعمیر کیا جانے لگا ،ویسے تو ہماری برادری پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے  اور انسانیت کی خدمت کرنے میں پیش پیش ہے۔ اس شہر میں بھی میرے بہت سارے رشتہ دار ہیں لیکن دور دور ہیں ، امیر خان جوان نامی افغان حاکم نے شائد اپنا نام زندہ رکھنے کے لئے مجھے استوار کیا، میرے نزدیک ہی "بڈ شاہ کدل" ہے  جو ہر وقت میرے سینے پر رونق دیکھ کر حسد سے میری جانب دیکھتا رہتا ہے ___ پہلے میرا وجود لکڑی کا تھا لیکن جدید تقاضوں کے مد نظر میری تجدید لو

چِٹھی بابو

وہ اِسے چِٹھی  بابو کے نام سے پکارتی تھی ، جو اسے بڑا اچھا لگتا تھا ، ورنہ عرف عام میں اسے کوئی ڈاک بابو تو کوئی ڈاکیہ بابو کے نام سے پکارتا تھا ، حالانکہ وہ اسی کِشن گڑھ گاوں کا ایک ساکِن جگن ناتھ مشرا تھا جو اس حوالے سے اب اپنا نام اور اپنی شناخت کھو چکا تھا ، یعنی اب لوگ اسے ڈاک بابو اور ڈاکیہ بابو کے نام سے ہی پکارتے تھے، طُرہ یہ کہ کچھ لوگ اسے تار بابو بھی کہتے تھے جو اسے بہت بُرا لگتا تھا مگر کِشن گڑھ میں اسے تعظیم و تکریم کی نگاہ سے بھی دیکھا جاتا تھا جو اس کےلئے باعث افتخار تھا اور  باعثِ اطمینان بھی ۔ اکثر وہ گائوں کی ایک کم سِن ننھی سی ، پیاری سی ، معصوم بچی دشا کے بارے میں سوچتا  تھا ، جو گھر میں دشابی کے نام  سے پُکاری جاتی تھی ۔ جسے وہ روز دیکھتا تھا اور پہروں اس کے بارے میں سوچتا رہتا تھا ۔ دشابی پیہم اپنے چھوٹے گھر کی ایک چھوٹی سی کھڑکی پر اپنے ننھے س

لیلیٰ

جہلم کنارے اداس بیٹھی لیلی اپنے رخسار تلے بایاں ہاتھ رکھے،اپنےدونوں پیر پانی میں ڈبوئے  کِسی گہرے خیال میں گُم اپنا عکس پانی میں دیکھ رہی تھی۔  جو عکس کبھی ایک مرد اور کبھی ایک ان کی شکل میں بہتے ہوئے پانی میں دکھائی دے رہا تھا۔ جو کبھی لطیف اور کبھی لیلیٰ دکھ دہا تھا۔ اس کےسرخی مائل ہونٹوں سے خوشی کا نام و نشان تک غائب تھا،آنکھوں میں دو موٹےآنسو بہنے کے لیے بے قرار تھے۔ ایک گھنٹے تک وہاں بیٹھے رہنے کے بعد آسمان کی طرف دیکھ کراپنے رب سے اپنی تخلیق پر سوالات کرتے ہوئے اپنافون، پرس اور شال اُٹھا کرچلی گئی۔ پینتالیس سالہ لیلیٰ درحقیقت لطیف بن کر پیدا ہوئی تھی۔اس کی پیدائش کےفورا بعد ہی اس کی امی کو اِس کے جنسی اعضاء، جو نا تو مرد کے تھے اور نا ہی عورت کے ، دیکھ کر شک و شبہ اور اندیشہ ہوا تھا۔ بیٹے کی خواہش میں اِس کو لطیف نام دیا گیا۔ ماں نے تو اس بات کو راز ر

افسانچے

ٹریننگ  محکمہ کے اعلی حکام کی طرف سے دس دن کا ٹریننگ شیڈول جاری کیا گیا تھا ۔ ندیم بھی، جو سماجی بہبود محکمے کا ملازم ہے، اس فہرست میں شامل تھا ۔ ٹریننگ کے لئے ریاست سے باہر جانا تھا ۔ ندیم نے اپنا الگ منصوبہ بنایا تھا۔ اپنی عمر رسیدہ ماں، بیوی اور بچوں سمیت جموں جانے کا کیونکہ سرما میں ندیم کی والدہ اور اہلیہ دونوں اکثر بیمار ہوجاتے ہیں ، اس لئے سرما کی شدید سردی اور بیماری سے بچنے کے لئے ندیم نے سرمائی ایام جموں میں گزارنے کا منصوبہ پہلے ہی مرتب کیا تھا۔۔۔۔۔ ٹریننگ کینسیل کرنے کے لئے ندیم نے اعلی حکام کا بھی رخ کیا ۔ جہاں تک اسکی پہنچ تھی اپنا اثرورسوخ استعمال میں لایا لیکن ہر ایک آفیسر نے اس کی عرضی ٹھکرادی ۔ ندیم نے متعلقہ وزیر سے ملنا بھی مناسب سمجھا لیکن وہاں سے بھی اسکو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ۔ ٹریننگ میں حصہ نہ لینے کی صورت میں ندیم کو اپنے آفیسروں نے تادیبی کا

جَزا

کبوتروں کا ایک جھنڈ ہر روز بوقتِ سحر اُس جگہ کو اپنے حصار میں لیکر فاتحہ پڑھتا تھا۔ میں نے بہت پہلے اس عجیب واقعہ کے بارے میں سُنا تھا لیکن آج اظہر صاحب کی زبانی یہ واقعہ سنکر مجھے اس بات کی تصدیق ہوئی۔ اظہر صاحب کوئی معمولی شخص نہیں ہیں، چالیس برس وہ درس و تدریس کے ساتھ جُڑے رہے۔ وہ عالم، فلسفی اور مفکر ہیں۔ اب میرے لئے یہ مسئلہ تھا میں اس جگہ کیسے پہنچ جائوں! وہ بھی سحر کے وقت!  اظہر صاحب نے مجھے بتایا تھا ’’سحر ہوتے ہی کبوتر اُس جگہ جمع ہوتے ہیں اور دائرے کی صورت میں فاتحہ پڑھتے ہیں!‘‘ اس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ میں ضرور یہ دلفریب منظر دیکھنے کے لئے جائوں گا۔ ’’کبوتر اُس جگہ پر کیوں فاتحہ پڑھتے ہیں؟‘‘ مجھے یہ راز جاننا تھا۔ رات کالی تھی اور میں رات کے تیسرے پہر مطلوبہ جگہ کی طرف روانہ ہوا۔ میں نے دورانِ سفر کالی رات ک

آنسو

کتیا کی آنکھ لگ گئی تھی اور پلے گلی میں ایک دوسرے کے آگے پیچھے دوڑتے ہوئے کھیل رہے تھے کہ اچانک دھماکے کی سی آواز آئی۔کتیا جاگ کر تھرا اٹھی۔اس نے ایک کار کو بڑی تیز رفتاری سے گلی سے گزرتے دیکھاوہ دو تین چھلانگیں مار کرگھبرائی سی گلی میں پہنچ گئی پھر تیز تیز کار کے پیچھے دوڑتی رہی مگر کار منٹوں میں اس کی نظروں سے اوجھل ہوگئی کتیا۔۔۔ ووں۔۔۔ ووں۔۔ چلاتے ہوئے واپس اسی جگہ آپہنچی جہاں ایک پلے کی لاش پڑی تھی اس پلے کے اند رونی اعضا گلی میں بکھرے پڑے تھے۔دوسرے پلے ششدر ہو کر دیکھ رہے تھے کتیا بوکھلائی سی آگے پیچھے دوڑتی رہی وہ اپنے پنجوں سے گلی میں پڑی پلے کی لاش ہلاتی رہی اور بکھرے پڑے اعضا منہ میں بھر کر پلے کے جسم میں واپس فٹ کر نے لگتی۔اس امید سے کہ شاید اٹھ کھڑا ہو جائے۔بہت کوشش کے بعد جب پلا نہ اٹھاتو کتیا لاش کے قریب بیٹھ کر ماتم کرنے لگی  ۔اس کی یہ حالت دیکھ کر لوگ گھبرائے

مجھے انجام سے ڈر لگتاہے۔۔۔

سمیرا اور میں بچپن سے ہی ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور شاید ہم دونوں اچھی سہیلیاں بھی ہوتیں لیکن میری ایک عجیب عادت بچپن سے ہی رہی ہے کہ میں اپنی باتیں کسی سے بھی کُھل کر نہ کیا کرتی۔میرے برعکس سمیر ااس قدر جلدی لوگوں سے گھل مل کر انہیں اپنی باتیں بتاتی۔اپنے دوستوں کے ساتھ ساتھ اپنے جاننے والوں تک سے بے تکلف گویا ہوتی ۔اُس کی اس ادا سے تقریباََ ہر کوئی اُس کا گرویدہ بن جاتا ۔سمیرا اپنے گھر میں بچپن سے ہی توجہ کا مرکز رہی ہے ،اور اکثر گھر والوں کے اپنے تئیں لگاؤ کا ذکر کیا کرتی۔وہ تین بھائیوں میں اکلوتی بہن تھی۔ شکل و صورت سے بھی اس قدر حسین و جمیل تھی کہ میں اُس کا حُسن دیکھ کر رشک کرتی ۔کالج کے تین سال گزرنے کے بعد میرا تعلق اپنی چند سہلیوں کے علاوہ تقریباََ ہر ایک سے منقطع ہی رہا ۔کالج کے آخری سال مجھے والد کے تبادلے کی وجہ سے دوسرے شہر کے کالج میں ایڈمیشن لینا پڑا اس لیے بھی شاید میر