تازہ ترین

لمحہ ٔ گُریزاں

بھیانک کالی رات اور اسپتال کے خوف زدہ کرنے والے ماحول میں فکر و اضطراب میںڈوبی خدیجہ ایمر جنسی واڑ میںچار پائی پر بے ہوش پڑے اپنے شوہر کے سرہانے بیٹھی حالت ندامت میںاللہ سے بخشش طلب کرتے ہوئے اس کی صحت یابی کے لئے دُعا کر رہی تھی۔ شوہر کی اچانک اس طرح حالت بگڑنے پر وہ انگشت بدندان تھی جب کہ گھر میں موجود بیٹی ،جس کا پائوں بھاری تھا،کی فکر بھی اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔ اس کا شوہر حفیظ دن بھر کی کٹھن دوڑ دھوپ سے فارغ ہو کر شام کو جب گھر پہنچا تو اس کا انگ انگ دردکی شدت میں ڈوبا ہوا تھا ،رنج و الم کی بے شمار لکیریں اس کے ماتھے پر رقص کر رہی تھیں۔وہ بغیر کچھ کھائے پئے گُم سم کمرے میں دبک کے بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔ رات دیر گئے اس کے سر میں درد کی شدید لہریں اٹھنے لگیں اور وہ سخت بے قراری کی حالت میں اپنا سر پیٹنے لگا ۔کچھ دیر بعد ہی اس کے نتھنوں سے خون ٹپکنے لگا۔خدیجہ نے اس سر پر ٹھنڈا

دیوانگی

ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعدجب رفیق گھر پہنچا تو ماں نے دستر خوان پرکھانا لگایا۔۔۔ رفیق نے بسم اللہ کہتے ہوئے کھانا شروع کیا..... ابھی دو یا تین نوالے ہی حلق کے نیچے اتارے تھے کہ فون کی رِنگ بج اٹھی..... السلام علیکم واجد بھائی ٹھیک ہو...... رفیق نے اپنے دوست واجد کی کال ریسیو کرتے ہوئے کہا۔ جی رفیق بھائی شکر اللہ کا...... حال چال پوچھنے کے بعد واجد نے ایک بُری خبر رفیق کو سنائی..... رفیق نے کھانا دستر خوان پر ہی چھوڑا اور واجد کے ساتھ ہسپتال کی اور روانہ ہوا....... جہاں ان کا ایک دوست سجاد ایمرجنسی وارڑ میں زیر علاج تھا..... دو گھنٹے پہلے ہی سجاد کی موٹر بائیک ایک آلٹو گاڑی سے ٹکرا گئی تھی اور وہ بُری طرح سے زخمی ہوا تھا...... تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ سجاد80کلومیٹر کی رفتار میں بائیک چلا رہا تھا جو اس کے ایکسیڈنٹ کی  اہم وجہ  تھی.... عیادت&nb

طلاق

   پری آج تم پھر دیر سے آئیں… مجھے تمہارا دیر سے آنا بالکل اچھا نہیں لگتا…جانتی ہو میں ایک گھنٹے سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔…شہاب نے غصے سے کہا۔ اچھا بابا سوری… دیکھو میں کان پکڑتی ہوں… اب آئندہ دیر سے نہیں آؤں گی۔  لیکن سنو! تمہارا یہ غصہ کرنے کی عادت ٹھیک نہیں ہے… ذرا ذرا سی بات پر تم اتنا غصہ کرتے ہو… غصہ تو جیسے تمہاری ناک پر رکھا ہو … پری نے شہاب کی ناک پر شرارت سے انگلی کرتے ہوئے کہا۔ اور دونوں ہنس دیئے۔ دیکھو پری مجھے غصہ ذرا زیادہ ہی آتا ہے۔ کیا تم میرا ہر حال میں ساتھ دوگی۔ شہاب نے ذرا مایوسی سے پوچھا؟ کیوں نہیں! میں زندگی کے ہر موڑ پر تمہارا ساتھ دوں گی ۔ یہ میرا تم سے وعدہ ہے۔ شہاب نے پری کو گلے سے لگا لیا۔ اور ہاں کیا تم نے اپنے گھر والوں سے بات کی؟ پری نے پوچھا؟ کون سی بات؟