تازہ ترین

افسانچے

بڑا آدمی خواجہ صاحب میں نے آپ کی بیٹی کے لیے اتنے رشتوں کا انتخاب کیا مگر کوئی بھی رشتہ آپ کو پسند ‌نہیں آیا۔ آخر آپ اپنی نازنیں بیٹی کے لیے کیسا رشتہ چاہتے ہیں۔۔۔۔۔عبدل جبار ثالث نے خواجہ سلطان شیخ سے کہا۔۔۔ مجھے کوئی بڑا آدمی بہت بڑا آدمی چاہیے۔ یہ ڈاکٹر انجینئر، پروفیسر رایئٹر ،آرٹسٹ، شاعر، موسیقار اور سرکاری ملازم وغیرہ میرے کسی کام کے نہیں۔۔۔ کوئی بڑا آدمی ڈھونڈ یئے جبار صاحب کوئی بہت بڑا آدمی۔۔۔۔۔۔ ہوں، آپ کو بڑا بہت بڑا آدمی چاہیے۔۔۔میری نظر میں ایک بہت بڑا آدمی ہے  اس‌کے پاس چار شاپنگ مال ہیں۔ ایک جوس فیکٹری ہے ااور وہ ڈرگس کا ‌کاروبار کرتا ہے۔۔۔ ہاں۔۔! خواجہ نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا۔ اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے۔۔۔۔اس بڑے آدمی کے بارے میں تفصیل سے سب کچھ بتاؤ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی عمر ‌پچاس سال ہے۔ ۔   اس کے چہرے

خالی دامانِ حیات

"کون ؟" "میں"  "میں کون ؟" "ارے میں ہوں"  تھوڑی خاموشی کے بعد "اوووو تم! " "کیسے فون کیا ؟" روکھا لہجہ  "وہ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔۔۔بات کرنی تھی" "کیا بات ،کونسی بات، اتنی مدت کے بعد ! اتنے برسوں کے بعد ۔۔۔اب کونسی بات کرنی ہے؟" "وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ کھانسی کا ایک ہلکا سا وقفہ  "وہ۔۔۔۔۔کیا ہے کہ " "ہاں کیا ۔۔۔۔پیسے چاہیں؟۔ صاف صاف کہو، خیر کوئی نہیں؛  اپنا اکونٹ نمبر بولو ،میں ٹرانسفر کر دوں گی ۔" "نہیں نہیں ۔۔۔۔۔پیسے نہیں چاہیں " "تو پھر ؟" "وہ۔۔۔۔۔وہ تم سے بات کرنی ہے "۔ "ہاں۔ کہو میں سن رہی ہوں۔ پر جلدی کہو مجھے اور بھی بہت سارے کام ہیں ۔" سرد مہری سے جواب 

نیکی کر دریا میں ڈال

منظور احمد کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے عمر نے آواز دی۔۔۔ انکل۔۔۔ انکل۔۔۔ منظور انکل۔۔۔ منظور احمد کی اہلیہ نے دروازہ کھولا اور اس کو دیکھتے ہی عمر مخاطب ہوا۔۔ السلام علیکم۔۔۔آنٹی۔۔ٹھیک ہو۔۔گھر میں سب ٹھیک ہیں۔۔ جی بیٹا۔۔۔الحمد اللہ سب ٹھیک ہیں۔۔۔اندر آؤبیٹا؟ منظور انکل کہاں ہیں۔۔مسجد شریف کی طرف سے انکے نام ایک خط لیکر آیا ہوں۔۔۔یہ انہیں دیجئے گا۔۔۔۔ خط منظور احمد کی اہلیہ کے ہاتھ میں تھمانے کے بعد وہ محلے کے باقی لوگوں کو بھی خط پہنچانے چل پڑا۔۔ شام کو منظور صاحب نے خط پڑھا جس میں لکھا تھا۔۔۔"اتوار کو بعد نماز عصر مسجد شریف کی تعمیر و ترقی کے متعلق ایک اہم نشست منعقد ہونے جارہی ہے ان شاء اللہ۔۔آپ اپنی شرکت یقینی بنائیں"۔۔۔۔۔ اتوار بعد نماز عصر نشست کا آغاز تلاوت کلامِ پاک سے ہوا۔ ۔اور اس کے بعد کمیٹی کے صدر نے ممبران اور محلے والوں کے سامنے

دردکے گاؤں میں

موسم جاڑے کا چل رہا تھا۔رات کو شدید برفباری ہوئی تھی ۔ صبح کے آٹھ بجے بابا کوفون آیا۔ بابا لمبی سیڑھی کندھے پر اور ہاتھ میں پلاس لےکر مسکراکر  لنگڑاتے ہوئے چل پڑے۔ شام کے وقت بابا کا فون آیا کہ شاید آج مجھے آنے میں دیر ہوجائے گی کیونکہ مرمت کا کام زیادہ ہے اسلئے میں آج رات سٹیشن پر ہی رکوں گا۔ آپ لوگ میرا انتظار نہ کرنا۔ آج تک کبھی میری ہمت نہ ہوئی تھی کہ میں امی سے پوچھ لیتی کہ بابا کو چلنے میں دقت کیوں پیش آتی ہے؟ آج موقع غنیمت جان کر میں نےامی سے پوچھ لینے کا فیصلہ کر ہی لیا ۔ رات کےکھانے سے فارغ ہوتے ہی میں نے امی سے پوچھا کہ امی آپ مجھے بتائیں کہ بابا کو کوئی پیدائشی دقّت تھی یا انکے ساتھ کوئی بڑا حادثہ پیش آیا تھا؟ امی نے ایک گہری سانس لیکر آہ بھری اور کہا میری بچی یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ کسی دن فرصت سے سناؤں گی۔ نہیں امی مجھے بتائیں نا، میری پیاری امی۔ میں ا

چوکیدار

۔۔۔۔۔ تب سے میں ایک زندہ لاش ہوں اور وہ سب کچھ دیکھ رہا ہوں جو میرے آس پاس ہورہا ہے۔ میرے جانے کے بعد ہی میرا قلم نیلام ہوا۔ شہر کے ایک پبلشر نے مجھے نوے فیصد ڈسکونٹ پر فروخت کیا۔  بیڈ روم، ڈرسنگ روم اور ڈرائنگ روم کی آرائش کے دوران میرے البم، جسمیں میرے یادگار فوٹو لگے تھے، کومکان کے اُس سٹور میں رکھا گیا جہاں ہم غیر ضروری اشیا کو رکھتے تھے۔ چوہوں نے وہاں میرا ستیاناس کردیا۔ میری شریک حیات کے لئے اُس البم کو دیکھنا جرم سے کم نہیں تھا۔ وہ کربناک منظر ہنوز میرے تصور کے عالم میں ہلچل مچارہا ہے۔ جب میرے اپنوں نے میرے افسانوں اور ڈراموں کے سکرپٹ ردی کاغذ خریدنے والے کوپلاسٹک جگ کے عوض فروخت کئے۔ وہ پلاسٹک جگ آج ہمارے واش روم میں استعمال ہورہا ہے۔! تماشہ بین بچوں نے میری تصویروں کو آپس میں بانٹ دیا۔ اُن بچوں میں زینب کا تین سالہ بچہ آفریدی بھی تھا۔ آفریدی نے م

سُلگتے ارمان

صبح کی فضا سورج کی کنواری کرنوں میں نہا رہی تھی،خوش لہن پرندوں کی سریلی آوازیں ماحول میں ترنم پیدا کر رہی تھیں۔ رشید بستر پر لیٹے اس پر کیف منظر سے محظوظ ہوتے ہوئے نہ جانے کن سوچوں میں گُم تھا کہ سرہانے رکھااس کا موبائیل فون بج اٹھا ۔اس نے آنکھیں ملتے ہوئے فون اٹھا یا۔ ’’ہیلو۔۔۔۔۔ہیلو۔۔۔۔۔دل افروزبات کرو۔۔۔۔ کل پرسوں تک میں آجائوںگا۔۔۔۔ ہیلو ۔۔۔۔ ہیلو۔۔۔۔۔۔‘‘۔ دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آیا اور فون منقطع ہوگیا۔اس نے کئی بار واپس فون کیا لیکن جواب ندار۔ پہلے سے ہی پریشان رشید کواب گھر کی یادوں نے بری طرح گھیر کر بے چین کردیا۔اپنی گھروالی دل افروز کا شکوہ بھرا چہرہ آنکھوں کے سامنے آگیااور بچوں کی میٹھی توتلی آوازیں کانوں سے ٹکرانے لگیں۔ ’’ہائے میرے ارمان ۔۔۔۔۔۔‘‘۔ کہتے ہوئے وہ بستر سے اٹھ کر دیوار پر آویزان کلینڈر ک

’’فلک بھی برس پڑا‘‘

ساون کا مہینہ تھا ۔آسمان پر تھوڑے تھوڑے بادل چھائے ہوئے تھے۔ سورج بادلوں کے پیچھے اپنی منزل کی جانب گویا لڑھکتا ہوا جا رہا تھا۔۔۔۔ٹھنڈی ٹھنڈی ہواچل رہی تھی ۔ میں اپنے گھر کے صحن میں بیٹھی تھی ۔میرے ہاتھ میں ایک کتاب اور میں اسکا مطالعہ کر رہی تھی۔میں نے بائیں جانب دیکھا ۔اپنے پڑودسی کے لڑکے عد نان کو پایا۔اس کی عمر یہی کوئی دس،گیارہ سال کی ہوگی۔وہ خندہ پیشانی سے میرے روبروہوا اور مجھ سے پوچھا ، ’’دیدی آپ کیا پڑ ھ رہی ہو‘؟ میں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔’’سائنس پڑ رہی ہوں ‘‘۔’’ ’’اوہ!۔آپ بھی ڈاکٹر بنو گی؟‘‘اس نے حیرت سے پوچھا ۔ ’’نہیں میں ٹیچر بننا چاہتی ہوں َ‘‘۔ میں نے سر سری نظر سے سے اسکی جانب دیکھ کر کہا ۔میں بدستور اپنی کتاب کا مطالعہ کرنے لگی۔عد نان مجھ سے سوال پہ

کھلواڑ

کتنی مستی سے یہ دنیا چلتی ہے نہ اس سے کسی کے آنے سے غرض اور نہ ہی اس سے کسی کے جانے کا ملال ۔کتنے سارے لوگ اس بے غرض دنیا کو سجانے اور بسانے میں اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں لیکن پھر بھی یہ دنیا ان افراد کے چلے جانے سے اپنا کام کاج نہیں چھوڑتی ۔یہ وہ باتیں تھیں جن کو سوچنے کی ذمہ داری شاید اللہ نے ہادیہ کو دی تھی ۔صبح ہوتی تو ہادیہ شام کے انتظار میں رہتی اور اندھیرا اپنی چادر بچھادیتا تو وہ صبح کے انتظار میں رہتی ۔آج ہادیہ کو ماں نے آخر کہہ دیا ــ’’کہ اب تم شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہو ،اب تمہارے لیے کوئی اچھا سا لڑکا دیکھ کر تمہارے ہاتھ پیلے کر دیتے ہیں ‘‘۔ہادیہ یہ سُن کر بہت خوش ہوگئی۔ وہ شاید دل میں ایک خلا دپن لیے بیٹھی تھی جو اُسے اب ماں کی باتوں سے پُر ہوتے ہوئے دکھ رہا تھا۔آج اب ہادیہ کو ایک نیا عُنوان سوچنے کو مل گیا ۔اب وہ ہر آن اپنے ہونے والے ہمسفر کا

بابوجی

خود ایک عورت ہوکر اُسے عورت ذات سے سخت نفرت تھی ۔ اُسے عورتوں کے حقوق پر عورتوں کی لمبی چوڑی تقاریر اور واویلا پر بھی سخت اعتراض تھا ۔ وہ اسے مکاری سے تعبیر کرتی تھی اور حقیقت سے بعید گردانتی تھی ۔  اُس کا خیال تھا کہ یہ عورت ذات ہی ہے جو عورت ہوکر بھی عورت  کو جہنم رسید کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھتی ، بلکہ ہر عورت کی بربادی کے پیچھے ایک عورت کا ہی ہاتھ ہے ، اس بات سے وہ کلی طور پر متفق تھی  ۔ ایسی بُربادیوں کو لے کر اُس کے سامنے بیسیوں ایسے قصے کہانیاں اور مثالیں تھیں کہ جہاں ایک ساس نے ہی جہیز کے لالچ میں اپنی بہو کو زندہ جلایا تھا۔ بہو کو ذلیل  کرکے گھر کی چوکھٹ سے باہر پھینکا تھا اور ظلم کے نِت نئے ریکارڈ قائم کئے تھے۔ پھر کہیں  بہو نے بھی اپنی عورت ذات کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے ساس سُسر کو خون کے آنسو رُلایا تھا ، کہیں عورت نے اپنے عاشق سے مل ک

شفقت

"اٹھو ساحل۔ دیکھو آٹھ بج گئے ہیں ۔۔تمہیں سکول نہیں جاناکیا؟ " ماں نے ساحل کے منہ پر  سے کمبل اُٹھاتے ہوئے کہا۔ "اُف ماں! سونے دو نا ابھی آدھے گھنٹے سے کون سا پہاڑ ٹوٹ پڑے گا "، ساحل نے کمبل کو کھینچ کر کہا۔ "اچھا تیری مرضی مجھے تو ابھی بہت سارے کام کرنے ہیں " رسوئی گھر سے آرہی آواز کو ساحل زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکا اور وہ اٹھ کر باتھ روم میں چلا گیا۔ باتھ روم سے باہر نکلتے ہی ماں نے کہا،" بیٹا تم آگئے۔ دیکھو میں نے تمہارے لئے کیا بنایا ہے ۔۔۔مٹر پنیر" " ماں کیا پکایا ہے؟ آج تو پاستا اور سینڈوچز کا زمانہ ہے۔۔۔ آپ نے میرا موڈ ہی خراب کر دیا۔۔ میں نہیں کھاؤں گا!"، ساحل  غصے میں وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا اور اسکول جانے کی تیاری کرنے لگا۔۔ ماں کو تو بہت برا لگ گیا اور کیوں نہ لگے اتنے

لہو مٹا دے گا فاصلے

سکندر خان اسپتال کے کوریڈور میں بے چینی کے عالم میں ادُھر سے اُدھر اور اِدھر سے ادُھر ٹہل رہا تھا ،اُس کے گھر کے تمام افراد ایک طرف لگے ہوئے بینچوں پر بیٹھ کر بارگاہِ خُدا وندی میں دُعا گو تھے ۔ اوپریشن تھیٹر کے دروازے کی پیشانی پر لگی ہوئی.سرخ  بتی بدستور جل رہی تھی، جس سے ظاہر تھا کہ عالیہ کا اوپریشن جاری ہے۔ سکندر خان کے چہرے پر غم اور فکر کے گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔ ذہن پر چھائی ہوئی اس تشویش کو وہ سگریٹ کے لمبے کش لگا کر دُھویں میں اُڑانے کی کوشش کر رہا تھا اور اُس کی بیوی ذکیہ کی آنکھوں سے چھم چھم آنسوں برس رہے تھے۔ایک جانب وہ عالیہ کی ضد کو رو رہی تھی تو دوسری طرف اپنے شوہر کی انّا اور تکبر کو ،وہ بیچاری خواہ مخواہ چکی کے دو پاٹوں میں پس رہی تھی ،عالیہ کے دو چھوٹے بھائی ہارون اور قارون بھی دیدی دیدی پُکار کر رو رہے تھے ۔اب تو سکندر خان پچھتا رہا تھا لیکن عبث ،اب تو وقت ہ

کھنڈر

موسم ابر آلود تھا ہلکی سی بوندا باندی بھی ہو رہی تھی ۔ڈاکٹر عدنان اپنے کلنک میں بیٹھا کافی خوش نظر آرہا تھا کیوں کہ آج مریضوں کی اچھی تعداد آنے کی وجہ سے اس کی اچھی خاصی کمائی ہوئی تھی ۔شام کے دھند لکے چھانے کے بعد وہ اپنا کلنک بند کرکے  ’’ آداب ۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب ‘‘۔ دفعتاً اس کی سماعتوں سے آواز ٹکرائی ،اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو ایک بوڑھا شخص،جس کے سر اور داڑھی کے بال اُلجھے ہوئے تھے ،پھٹے پرانے لباس میں ملبوس اس کے سامنے کھڑا تھا ۔ ’’ با با ۔۔۔۔۔۔ کہیے کیا با ت ہے ؟‘‘ اس نے انتہائی نرم لہجے میں پوچھا ۔ ’’ڈاکٹر صاحب ۔۔۔۔۔۔ میری بیٹی سخت بیمار ہے ،آپ مہر بانی کرکے چل کر اُ سے دیکھ لیجئے ‘‘۔ اس کی بات سن کر ڈاکٹر اس کے حلیے کا جائیزہ لینے لگا تو وہ مسکین سی صورت بنا گویا ہوا ۔

مامتا

’’کھٹ کھٹ کھٹ ،کھٹ کھٹ کھٹ‘‘ٹائپ رائٹر پر انگلیاں چلاتے وقت جو ں ہی یہ آواز عمر رسیدہ قدرت اللہ خان کی سماعت سے ٹکراتی تو اسے ایک عجیب سرور محسوس ہوتا تھا ۔کئی لوگوں کے لیے یہ آواز شور ہے،لیکن اُس کے لیے یہ اطمینان قلب کا باعث تھی اور یہ اُس کے کانوں میں رس گھولتی تھی۔ وہ اس آواز سے نہ جانے کس دنیا میں کھو جاتا تھا۔ اس کے گھر میں کمپیوٹر بھی موجود تھا لیکن وہ خال خال ہی اسے ہاتھ لگاتا تھا۔ وہ ایک مشہور اور ہر دلعزیز قلمکار تھا ۔اس کے قلم میںنہ جانے کون سا جادو تھا کہ اس کی ساری کتابیں ہاتھوں ہاتھ بکتی تھیں۔مسودے کو ٹائپ کرنے کے لیے کمپیوٹر کے بجائے وہ ایک پرانے ٹائپ رائٹر کا ہی استعمال کرتا تھا ۔ٹائپ رائٹر کی آوازاُ سے زیادہ سے زیادہ لکھنے پر مائل کرتی تھی۔ اس پر انگلیاں چلاتے وقت وہ پرانی دنیا میں پہنچ جاتا تھا، جہاں کوئی ہنگامہ تھا نہ شور، نئی ٹیکنالوجی تھ

اُمید

اُس کے پائوں تلے سے زمین کھسک گئی جب اُسے پتہ چلا کہ اُس کی سہیلی اتنی دُور اُس شخص سے شادی کرنے کی غرض سے آئی ہے، جو اس کا شوہر ہے ۔ اُس نے ہلکے سے اپنی سہیلی کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور کہا  ’’ میں نہیں جانتی تھی کہ تم اُس سے اتنی محبت کرتی ہو …‘‘مگر وہ اُسے کچھ نہ کہہ سکی  … اس کی سہیلی خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی۔ نظروں کو منفرد انداز سے گھماتے ہوئے بولی ’’ تمہیں معلوم ہے … وہ شادی شدہ ہے مگر ہماری محبت کی انتہا دیکھو !…وہ اپنی بیوی کو جلد ہی طلاق دے گا اور پھر مُجھ سے کیا ہوا وعدہ پُورا کرے گا ‘‘ یہ سنتے ہی چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ لئے اُس نے اپنی سہیلی کے ہاتھ اپنی جانب کھینچے اور گویا ہوئی  ’’کیا تمہیں پورا یقین ہے کہ وہ تمہارے ساتھ…‘

’’جرم ‘‘

میں اپنے ریڈنگ روم میں بیٹھاایک نئی کہانی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اب کے میںایک ایسی کہانی لکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔ جس کا اسلوب منفرد  ہو۔جو روایتی کہانیوں سے ہٹ کر ہو۔ یہ سوچتے سوچتے میرے خیال کا تسلسل اُس وقت ٹوٹ گیاجب اچانک باہر سے شور و غل مچ اُٹھا اور میرے ہوش و حواس اُڑ گئے ۔میں نے کاغذ قلم سمیٹ کر ٹیبل پر رکھ دئیے اور تیز تیز قدم اُٹھا تے ہوئے شہاب چاچا کے آنگن میں پہنچ گیاکیونکہ مردانہ آواز کی جو چیخیں سنائی دیتی تھیں ان کا محور شہاب چاچا کا آ نگن ہی لگ رہا تھا  ۔اور میرا اندازہ بھی صحیح نکلا۔آنگن میں چپے چپے پر لوگ کھڑے تھے۔ میں اس بھیڑ کو چیر تا ہوا آگے بڑھا۔لوگوں کے بیچوں بیچ شہاب چاچازمین پر پائوں پسارے بیٹھا رو رہاتھااور زون ؔآپا اس کی بانہوںمیں بے سدھ سی پڑی تھی وہ چلا رہا تھا ۔ ’’تم مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتی ۔آنکھیں کھولو  ۔۔۔۔۔۔زونہ ؔآنک

دل کا کیا کریں صاحب

مت ماری گئی تھی میری ، جو میں نے واٹس ایپ پر اُسے اپنی تصویر بھیج دی ۔ وہ اِیکدم سےاُکھڑ گیا اور پھر بس لینے کے دینے پڑ گئے ۔ وہ بجائے شادو شادماں ہونے کے سخت رنجیدہ ہوا اور ایک کٹھور پولیس والے کی طرح پُوچھ گچھ پر اُتر آیا ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں تھی ، بلکہ اکثر ایسی نوک جھونک ہوتی رہتی تھی اور وہ مجھے پریشان کرنے پر تُلا رہتا تھا۔ اب ہوا یوں کہ بڑی کٹھور گرمیوں کے بعد ایک روز جو برسات کے دیدار نصیب  ہوئے تو مُجھ سے رہا نہ گیا ۔ بارش شروع  ہوتے ہی اُفتاں و خیزاں مسرور سی چھت پر چلی آئی اور بغیر کوئی  لمحہ ضائع کئے بارش میں بھیگنے لگی ۔ بڑا اچھا لگ رہا تھا ، جیسے اچانک جلتے بدن پر ٹھنڈک سی پڑ گئی ہو اور پورے شریر میں جیسے  تازگی اُتر آئی ہو ۔ میں بڑی مسرور تھی اور ننگی چھت پر گنگناتی ہوئی رقص کررہی تھی ، اچانک رگِ رومانیت پھڑک اُٹھی اور مجھے وہ یاد آئے ۔ وہ جیسے

تعبیر

جاڑے کا موسم اپنے اختتام کو پہنچ چکا تھا اور بہار کی آمد آمد کے ساتھ ہر طرف ہریالی نظر آنے لگی تھی۔ لوگ مسجدوں کے حماموں اور اپنے گھروں سے اب باہر نکل کر بازاروں، کھیتوں، کھلیانوں میں اپنے اپنے کام میں مصروف تھے۔ بڑا پُرکشش اور دلفریب منظر تھا۔ فضا میں مہک اور لوگوں کے چہروں پر خوشی تھی جیسے نئی زندگی کے آثار۔ ہر طرف شادمانی، دُکاندار  دکانوں پر، کاشتکار کھیتوں میں، ملازم اپنے دفتروں میں، مزدور اپنے کارخانوں میں اور بچے اپنے اسکولوں میں۔ سب اپنے اپنے کام میں مشغول۔ اچانک دور سے اُڑتی ہوئی دھول نظر آئی۔ ’’سرخ آندھی آرہی ہے۔‘‘ کوئی زور سے چِلایا، سب ہکا بکا رہ گئے۔ ’’ہاں۔ یہ تو سرخ آندھی ہے اور اس کا رخ بھی ہماری طرف ہے‘‘ ہوشیار خبردار، ہر طرف چیخ و پکار تھی، سرخ آندھی نے ہر طرف گھیر لیا تھا اور اس میں سے بے شمار بھڑیں

تسکین ِدل

فاطمہ ہر گزرتے دن اپنی بدنصیبی کا رونا روتی تھی۔محلے والوں اور رشتےداروں کو دیکھ کر وہ اکثر دل آزردہ رہتی تھی۔انکے خوش و خرم اور صحت مند بچے جب بھی فاطمہ کی نظر سے گزرتے تھے تو فاطمہ کا دل اکثر مایوس ہو جاتا تھا۔ اسکا خاوند اقبال جب بھی کام پہ جاتا تھا اور جس گھر میں کام کی خاطر چلا جاتا تھا، اکثر وہ دل رنجیدہ ہو کر رہ جاتا تھا ۔وہ اکثر اسی سوچ میں پڑھا رہتا تھا کہ آخر بڑھاپے میں اولاد کی کمی تو محسوس نہیں ہو گی ؟ دونوں میاں بیوی اسی فکر میں پڑے رہتے تھے۔دونوں کئی عوارض میں مبتلا تھے۔اپنی دل آویزی کےلئے کتنے ہی حربے انہوں نے آزمائے سب بےکار اور ناکام ثابت ہوئے ۔ محلے میں ایک شخص قادر بھی پاس ہی رہتا تھا ۔اسکے چار بیٹے اور ایک بیٹی تھی ۔شام کے قریب آٹھ بجے کا وقت تھا ۔فاطمہ باہر سے روڈ کے آئی اور تیزی سے اقبال کے کمرے میں گھس گئی ۔ ارے میاں ۔۔۔۔۔باہر کچھ شور سنائی دے ر

مَن دریدہ سایہ

گوتم بدھ آنکھیں بند کر کے گیان میں محو ہیں ۔ یہ پینٹنگ دیکھ کر میرے قدم خود بہ خود رک جاتے ہیں  اور میں اس تصویر کو دیکھنے میں کچھ ایسا کھو جا تا ہوں  کہ بس پھر کسی چیز کی کوئی خبر ہی نہیں رہتی ۔ کیا میں دھرم کے راستے پر چلنے والا ہوں ؟  کہیں یہ سب اسی بات کا اشارہ تو نہیں   پر میں نے تو کبھی بھی  ان باتوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔میرے نزدیک تو دنیا میں صرف دو ہی مذہب ہیں اور شاید ہمیشہ رہیں گے ایک امیری اور دوسرا غریبی ۔ میں بھی کن باتوں میں الجھ گیا ہوں اُف میرا بازو دکھ رہا ہے یہ موٹی کتاب کافی دیر سے ایک ہاتھ میں تھامے ہوئے ہوں ۔ واہ یہ پینٹنگ ۔۔۔۔ بس یہ پینٹنگ دیکھتے ہی میری دنیا رک سی جاتی ہے ،تھم سی جاتی ہے ۔ کیا آٹھ چالیس کی گاڑی ابھی ہوگی یا پھر نکل چکی  ہوگی ۔ذرا گھڑی دیکھتا ہوں ۔۔۔ارےابھی تو ٹائم ہے۔ ا

اولاد کا درد

آج وہ بہت خوش تھی ۔اُس سے دیکھ کر لگ رہا تھا کہ شاید دنیا کی ساری خوشیاں اللہ نے آج اس کی جھولی میں ڈال دی ہیں۔وہ بات بات پے قہقہ لگا کر جیسے ہر ایک کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی ۔اس سے دیکھ کر کوئی بھی یہ گماں نہ کر پا رہا تھا کہ اُس نے کل ہی اپنے چاند جیسے بیٹے کو در گو ر کیا ہے۔اپنے غم کو  قہقوں میں چھپاتے چھپاتے اس کی نظر ایک دس سالہ بچے پر پڑی ۔اس بچے کو دیکھ کر وہ جیسے پاگل ہونے لگی اور اس کی ہنسی، جو کچھ لمحہ پہلے بالکل اصلی معلوم ہورہی تھی، اچانک سے اس کے چہرے پر سے غائب ہوگئی۔وہ کافی مدت تک اس بچے کو دیکھتی رہی ،پھر خودسے  ہی باتیں کرنے لگیــ’’نہیں نہیں یہ شاہد نہیں ہے ۔اُسے تو میں نے صبح ہی خاک کے حوالے کر دیا۔اب وہ واپس کیسے آسکتا ہے ۔‘‘یہ جملے دہراتے دہراتے وہ جیسے سوچ کی ایک نئی دنیا میں داخل ہوگئی۔اُسے شاہد کی پیدائش سے لے کر اُس کی موت