تازہ ترین

’’جرم ‘‘

میں اپنے ریڈنگ روم میں بیٹھاایک نئی کہانی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اب کے میںایک ایسی کہانی لکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔ جس کا اسلوب منفرد  ہو۔جو روایتی کہانیوں سے ہٹ کر ہو۔ یہ سوچتے سوچتے میرے خیال کا تسلسل اُس وقت ٹوٹ گیاجب اچانک باہر سے شور و غل مچ اُٹھا اور میرے ہوش و حواس اُڑ گئے ۔میں نے کاغذ قلم سمیٹ کر ٹیبل پر رکھ دئیے اور تیز تیز قدم اُٹھا تے ہوئے شہاب چاچا کے آنگن میں پہنچ گیاکیونکہ مردانہ آواز کی جو چیخیں سنائی دیتی تھیں ان کا محور شہاب چاچا کا آ نگن ہی لگ رہا تھا  ۔اور میرا اندازہ بھی صحیح نکلا۔آنگن میں چپے چپے پر لوگ کھڑے تھے۔ میں اس بھیڑ کو چیر تا ہوا آگے بڑھا۔لوگوں کے بیچوں بیچ شہاب چاچازمین پر پائوں پسارے بیٹھا رو رہاتھااور زون ؔآپا اس کی بانہوںمیں بے سدھ سی پڑی تھی وہ چلا رہا تھا ۔ ’’تم مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتی ۔آنکھیں کھولو  ۔۔۔۔۔۔زونہ ؔآنک

دل کا کیا کریں صاحب

مت ماری گئی تھی میری ، جو میں نے واٹس ایپ پر اُسے اپنی تصویر بھیج دی ۔ وہ اِیکدم سےاُکھڑ گیا اور پھر بس لینے کے دینے پڑ گئے ۔ وہ بجائے شادو شادماں ہونے کے سخت رنجیدہ ہوا اور ایک کٹھور پولیس والے کی طرح پُوچھ گچھ پر اُتر آیا ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں تھی ، بلکہ اکثر ایسی نوک جھونک ہوتی رہتی تھی اور وہ مجھے پریشان کرنے پر تُلا رہتا تھا۔ اب ہوا یوں کہ بڑی کٹھور گرمیوں کے بعد ایک روز جو برسات کے دیدار نصیب  ہوئے تو مُجھ سے رہا نہ گیا ۔ بارش شروع  ہوتے ہی اُفتاں و خیزاں مسرور سی چھت پر چلی آئی اور بغیر کوئی  لمحہ ضائع کئے بارش میں بھیگنے لگی ۔ بڑا اچھا لگ رہا تھا ، جیسے اچانک جلتے بدن پر ٹھنڈک سی پڑ گئی ہو اور پورے شریر میں جیسے  تازگی اُتر آئی ہو ۔ میں بڑی مسرور تھی اور ننگی چھت پر گنگناتی ہوئی رقص کررہی تھی ، اچانک رگِ رومانیت پھڑک اُٹھی اور مجھے وہ یاد آئے ۔ وہ جیسے

تعبیر

جاڑے کا موسم اپنے اختتام کو پہنچ چکا تھا اور بہار کی آمد آمد کے ساتھ ہر طرف ہریالی نظر آنے لگی تھی۔ لوگ مسجدوں کے حماموں اور اپنے گھروں سے اب باہر نکل کر بازاروں، کھیتوں، کھلیانوں میں اپنے اپنے کام میں مصروف تھے۔ بڑا پُرکشش اور دلفریب منظر تھا۔ فضا میں مہک اور لوگوں کے چہروں پر خوشی تھی جیسے نئی زندگی کے آثار۔ ہر طرف شادمانی، دُکاندار  دکانوں پر، کاشتکار کھیتوں میں، ملازم اپنے دفتروں میں، مزدور اپنے کارخانوں میں اور بچے اپنے اسکولوں میں۔ سب اپنے اپنے کام میں مشغول۔ اچانک دور سے اُڑتی ہوئی دھول نظر آئی۔ ’’سرخ آندھی آرہی ہے۔‘‘ کوئی زور سے چِلایا، سب ہکا بکا رہ گئے۔ ’’ہاں۔ یہ تو سرخ آندھی ہے اور اس کا رخ بھی ہماری طرف ہے‘‘ ہوشیار خبردار، ہر طرف چیخ و پکار تھی، سرخ آندھی نے ہر طرف گھیر لیا تھا اور اس میں سے بے شمار بھڑیں

تسکین ِدل

فاطمہ ہر گزرتے دن اپنی بدنصیبی کا رونا روتی تھی۔محلے والوں اور رشتےداروں کو دیکھ کر وہ اکثر دل آزردہ رہتی تھی۔انکے خوش و خرم اور صحت مند بچے جب بھی فاطمہ کی نظر سے گزرتے تھے تو فاطمہ کا دل اکثر مایوس ہو جاتا تھا۔ اسکا خاوند اقبال جب بھی کام پہ جاتا تھا اور جس گھر میں کام کی خاطر چلا جاتا تھا، اکثر وہ دل رنجیدہ ہو کر رہ جاتا تھا ۔وہ اکثر اسی سوچ میں پڑھا رہتا تھا کہ آخر بڑھاپے میں اولاد کی کمی تو محسوس نہیں ہو گی ؟ دونوں میاں بیوی اسی فکر میں پڑے رہتے تھے۔دونوں کئی عوارض میں مبتلا تھے۔اپنی دل آویزی کےلئے کتنے ہی حربے انہوں نے آزمائے سب بےکار اور ناکام ثابت ہوئے ۔ محلے میں ایک شخص قادر بھی پاس ہی رہتا تھا ۔اسکے چار بیٹے اور ایک بیٹی تھی ۔شام کے قریب آٹھ بجے کا وقت تھا ۔فاطمہ باہر سے روڈ کے آئی اور تیزی سے اقبال کے کمرے میں گھس گئی ۔ ارے میاں ۔۔۔۔۔باہر کچھ شور سنائی دے ر

مَن دریدہ سایہ

گوتم بدھ آنکھیں بند کر کے گیان میں محو ہیں ۔ یہ پینٹنگ دیکھ کر میرے قدم خود بہ خود رک جاتے ہیں  اور میں اس تصویر کو دیکھنے میں کچھ ایسا کھو جا تا ہوں  کہ بس پھر کسی چیز کی کوئی خبر ہی نہیں رہتی ۔ کیا میں دھرم کے راستے پر چلنے والا ہوں ؟  کہیں یہ سب اسی بات کا اشارہ تو نہیں   پر میں نے تو کبھی بھی  ان باتوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔میرے نزدیک تو دنیا میں صرف دو ہی مذہب ہیں اور شاید ہمیشہ رہیں گے ایک امیری اور دوسرا غریبی ۔ میں بھی کن باتوں میں الجھ گیا ہوں اُف میرا بازو دکھ رہا ہے یہ موٹی کتاب کافی دیر سے ایک ہاتھ میں تھامے ہوئے ہوں ۔ واہ یہ پینٹنگ ۔۔۔۔ بس یہ پینٹنگ دیکھتے ہی میری دنیا رک سی جاتی ہے ،تھم سی جاتی ہے ۔ کیا آٹھ چالیس کی گاڑی ابھی ہوگی یا پھر نکل چکی  ہوگی ۔ذرا گھڑی دیکھتا ہوں ۔۔۔ارےابھی تو ٹائم ہے۔ ا

اولاد کا درد

آج وہ بہت خوش تھی ۔اُس سے دیکھ کر لگ رہا تھا کہ شاید دنیا کی ساری خوشیاں اللہ نے آج اس کی جھولی میں ڈال دی ہیں۔وہ بات بات پے قہقہ لگا کر جیسے ہر ایک کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی ۔اس سے دیکھ کر کوئی بھی یہ گماں نہ کر پا رہا تھا کہ اُس نے کل ہی اپنے چاند جیسے بیٹے کو در گو ر کیا ہے۔اپنے غم کو  قہقوں میں چھپاتے چھپاتے اس کی نظر ایک دس سالہ بچے پر پڑی ۔اس بچے کو دیکھ کر وہ جیسے پاگل ہونے لگی اور اس کی ہنسی، جو کچھ لمحہ پہلے بالکل اصلی معلوم ہورہی تھی، اچانک سے اس کے چہرے پر سے غائب ہوگئی۔وہ کافی مدت تک اس بچے کو دیکھتی رہی ،پھر خودسے  ہی باتیں کرنے لگیــ’’نہیں نہیں یہ شاہد نہیں ہے ۔اُسے تو میں نے صبح ہی خاک کے حوالے کر دیا۔اب وہ واپس کیسے آسکتا ہے ۔‘‘یہ جملے دہراتے دہراتے وہ جیسے سوچ کی ایک نئی دنیا میں داخل ہوگئی۔اُسے شاہد کی پیدائش سے لے کر اُس کی موت

افسانچے

سپنے اُسے اپنی بڑھتی عمر کا احساس تھا، لیکن وقت پر کس کا پہرہ رہا ہے۔ آخر وہ کر بھی کیا سکتی تھی۔  اسی شش و پنج میں وہ آئینہ کے سامنے جابیٹھی، اپنے سراپا کاجائزہ لینے کے بعد ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سنگار دان اُٹھا لیا۔ پہلے اپنے چہرے کا میک اَپ کیا، پھر بالوں کو کلر کرکے آئینہ پر نظر پڑتے ہی شرما گئی۔ اُف۔۔۔ جوانی کی دستک سے دل دھک دھک کرنے لگا تھا۔ ���   بھوک    بھکاری دن بھر گلی کوچوں میں بھوک کی لاحاصل صدائیں بلند کرتا رہا ۔سلیم کے دروازے پر عین اس وقت دستک دی جب وہ کھانا شروع کرنے والا تھا ۔یہ بات سلیم کو سخت ناگوار گزری ۔وہ غصے میں اٹھا تو سالن کی پلیٹ الٹ گئی ،باہر جا کر اس نے سارا غصہ بھکاری کو گالیاں سناتے ہوئے نکالا۔صحت مند بھکاری دیکھ کر اس کا جی چاہا کہ اس کی بھوک گھونسوں سے مٹائی جائے ۔مگر خود پر ضبط کرتے ہوئے ہوٹل

لمحہ ٔ گُریزاں

بھیانک کالی رات اور اسپتال کے خوف زدہ کرنے والے ماحول میں فکر و اضطراب میںڈوبی خدیجہ ایمر جنسی واڑ میںچار پائی پر بے ہوش پڑے اپنے شوہر کے سرہانے بیٹھی حالت ندامت میںاللہ سے بخشش طلب کرتے ہوئے اس کی صحت یابی کے لئے دُعا کر رہی تھی۔ شوہر کی اچانک اس طرح حالت بگڑنے پر وہ انگشت بدندان تھی جب کہ گھر میں موجود بیٹی ،جس کا پائوں بھاری تھا،کی فکر بھی اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔ اس کا شوہر حفیظ دن بھر کی کٹھن دوڑ دھوپ سے فارغ ہو کر شام کو جب گھر پہنچا تو اس کا انگ انگ دردکی شدت میں ڈوبا ہوا تھا ،رنج و الم کی بے شمار لکیریں اس کے ماتھے پر رقص کر رہی تھیں۔وہ بغیر کچھ کھائے پئے گُم سم کمرے میں دبک کے بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔ رات دیر گئے اس کے سر میں درد کی شدید لہریں اٹھنے لگیں اور وہ سخت بے قراری کی حالت میں اپنا سر پیٹنے لگا ۔کچھ دیر بعد ہی اس کے نتھنوں سے خون ٹپکنے لگا۔خدیجہ نے اس سر پر ٹھنڈا

دیوانگی

ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعدجب رفیق گھر پہنچا تو ماں نے دستر خوان پرکھانا لگایا۔۔۔ رفیق نے بسم اللہ کہتے ہوئے کھانا شروع کیا..... ابھی دو یا تین نوالے ہی حلق کے نیچے اتارے تھے کہ فون کی رِنگ بج اٹھی..... السلام علیکم واجد بھائی ٹھیک ہو...... رفیق نے اپنے دوست واجد کی کال ریسیو کرتے ہوئے کہا۔ جی رفیق بھائی شکر اللہ کا...... حال چال پوچھنے کے بعد واجد نے ایک بُری خبر رفیق کو سنائی..... رفیق نے کھانا دستر خوان پر ہی چھوڑا اور واجد کے ساتھ ہسپتال کی اور روانہ ہوا....... جہاں ان کا ایک دوست سجاد ایمرجنسی وارڑ میں زیر علاج تھا..... دو گھنٹے پہلے ہی سجاد کی موٹر بائیک ایک آلٹو گاڑی سے ٹکرا گئی تھی اور وہ بُری طرح سے زخمی ہوا تھا...... تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ سجاد80کلومیٹر کی رفتار میں بائیک چلا رہا تھا جو اس کے ایکسیڈنٹ کی  اہم وجہ  تھی.... عیادت&nb

طلاق

   پری آج تم پھر دیر سے آئیں… مجھے تمہارا دیر سے آنا بالکل اچھا نہیں لگتا…جانتی ہو میں ایک گھنٹے سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔…شہاب نے غصے سے کہا۔ اچھا بابا سوری… دیکھو میں کان پکڑتی ہوں… اب آئندہ دیر سے نہیں آؤں گی۔  لیکن سنو! تمہارا یہ غصہ کرنے کی عادت ٹھیک نہیں ہے… ذرا ذرا سی بات پر تم اتنا غصہ کرتے ہو… غصہ تو جیسے تمہاری ناک پر رکھا ہو … پری نے شہاب کی ناک پر شرارت سے انگلی کرتے ہوئے کہا۔ اور دونوں ہنس دیئے۔ دیکھو پری مجھے غصہ ذرا زیادہ ہی آتا ہے۔ کیا تم میرا ہر حال میں ساتھ دوگی۔ شہاب نے ذرا مایوسی سے پوچھا؟ کیوں نہیں! میں زندگی کے ہر موڑ پر تمہارا ساتھ دوں گی ۔ یہ میرا تم سے وعدہ ہے۔ شہاب نے پری کو گلے سے لگا لیا۔ اور ہاں کیا تم نے اپنے گھر والوں سے بات کی؟ پری نے پوچھا؟ کون سی بات؟

پہچان

اُجلے اُجلے پہاڑوں کے دامن میں آباد گوجر بستی یوں تو سبزہ زاروں میں ہنستی مسکراتی تھی لیکن چھوٹے چھوٹے کچے پکے مکانوں کے درمیان چودھری منور علی کا حویلی نما مکان ایک قلعہ کی مانند لگتا تھا۔ چودھری صاحب کو انتقال کئے اب کافی عرصہ گذر چکا تھا لیکن نہ صرف یہ حویلی بلکہ پوری بستی اُن کے نام اور کام سے جانی پہچانی جاتی تھی۔ بہت بڑا گھرانہ اس حویلی نما مکان میں آباد تھا۔ اَن گنت افراد خانہ اس کی زیبائش بڑھتاتے تھے۔ اِس گھرانے کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ افراد خانہ کے چہرے الگ الگ ہونے کے باوجود ایک سے لگتے تھے۔ باتیں کرنے کے انداز مختلف ہونے کے باوجود یکساں لگتے تھے۔ آوازیں الگ الگ نہیں ایک سی محسوس ہوتی تھیں۔ جو معاشرہ چودھری منور علی کے حویلی نما مکان میں نظر آتا تھا۔ وہ بستی میں کہیں اور دکھائی نہیں دے رہا تھا، اپنے پن کا یہ احساس چودھری صاحب کی زندگی میں موجود تھا اور اُن کے انتقال کے

افسانچے

شہرت وزیر نے وہسکی کا  چوتھا پیگ چڑھایا اور بائیں ہاتھ کی پشت سے منہ صاف کرکے اطراف میں کھڑے اپنے چاہنے والوں سے کہا۔کوئی ساغر دل کو بہلا تا نہیں۔۔۔میں تو اب ایک فراموش شدہ آدمی ہوں۔۔۔ جب سے کرونا وائرس نے اس ملک میں اپنا کام شروع کیا ہے، تب سے سب لوگ اسی کے نام کی مالا جپتے ہیں، کوئی ہمارا نام بھی نہیں لیتا ہے۔میڈیا بھی ہم کو یوں بھول گیا ہے جیسے ہمارا وجود ہی نہ ہو۔ اگراسی طرح گمنامی کے غار میں پڑا رہا تو میرا کیا ہوگا۔۔؟ اس نے‌سوالیہ نگاہوں سے سب کی طرف دیکھا۔ اس کے سب سے بڑے ‌چمچے نے ‌اس کے گھٹنوں میں جھک کر کہا۔۔۔ سر آپ گھبرا یئے مت سب ٹھیک ہوگا۔ سر بھی پازیٹو۔ بھی پازیٹو  پازیٹیو۔ پ ا ز ی ٹ۔ یو اچانک وزیر اچھل پڑا۔۔۔پازیٹیو ! ہاں! پازیٹو۔۔ تین دن بعد اسے اطلاع ملی کہ پورے ملک میں ہر ایک کی زبان پر اسی کا نام ہے اورمیڈیا میں اسی ک

افسانچے

خصوصی پوزیشن ’’تمہاری درخواست تو نامنظور ہوجائیگی کیونکہ تم نے درخواست میں یہ نہیں لکھا ہے کہ تم جموں و کشمیر ریاست کے مستقل باشندے ہو اور نا ہی تم نے سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپی درخواست کے ساتھ نتھی کی ہے۔ تم تو جانتے ہو کہ یہاں صرف ریاست کا مستقبل باشندہ ہی کسی بھی نوکری کے لئے درخواست دے سکتا ہے‘‘۔ ڈائریکٹر کے پی اے نے درخواست لوٹاتے ہوئے حارث کو سمجھایا۔  ’’مگر میں تو یہاں کا پُشتینی باشندہ ہوں۔ میری میٹرک کی سرٹیفکیٹ میں میری ولدیت اور پتہ صاف درج ہیں۔‘‘ حارث نے جواب دیا۔ ’’وہ تو ٹھیک ہے مگر لکھنا اور سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپی درخواست کے ساتھ رکھنا ضروری ہے۔‘‘ خیر ابھی درخواست کیلئے آخری تاریخ میں سات دن باقی ہیں اس لئے تم یہ درخواست واپس لے جائو اور مطلوبہ سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپی جوڑ کے واپس

انتظار

حلیمہ آج بھی ٹیلی ویژن پر گمشدہ لوگوں کے بارے میں اطلاعاتی ٹیلی کاسٹ دیکھ رہی تھی ۔ ٹیلی کاسٹ کے فوراََ بعد حلیمہ آہ بھرتے ہوئے اپنے داہنے ہاتھ کو  رخسار کا سہارا بنا تے ہوئے بیتے لمحوں کے سمندر میں تیرنے لگی۔ باہر سے پرندوں کے شور و غُل نے اُس کے خیالوں کو اور تقویت بخشی۔ اپنے شوہر عزیز کے ساتھ گزارے  ہوئے ہر پل کی یادیں اُس کی روح کو کریدتی رہیں۔آج وہ سارا منظر پھر سے اُس کی آنکھوں کے سامنے ہو بہ ہو ایسا  ہی ہے ،جیسے کہ یہ سب ماضی میں نہیں بلکہ حال میں ہو رہا ہو۔ اپنے شوہر عزیز سے روٹھنا ۔۔۔روٹھ کے منانا ۔۔۔۔ جس کے ساتھ وہ اپنے دکھ سکھ بانٹ رہی تھی ۔وہ خوشیوں کے پل۔۔۔۔محبت کے رنگ ۔۔۔۔غرض کہ ہر وہ لمحہ جو اُس نے اپنے شوہر کے ساتھ گزاراتھا۔ ان حالات میں وہ دیوانوں کی طرح تنِ تنہا کبھی ہنستی ہے تو کبھی خوشیوں کے اُجڑنے پہ من ہی من سسکیاں بھرتی رہتی ہے۔خیالوں ہی خی

کھیل

گرمیوں کے دن تھے ۔سہ پہرکی دھوپ  جھلسادینے والی تھی۔سڑک پر زیادہ بھیڑ نہ تھی۔تینوںدوست ساتھ ساتھ چل رہے تھیــــ۔ایک دُکان کے سامنے گزرتے ہوئے سرخ ٹائی پہنے نوجوان نے ساتھی سے کہا۔’’ اٹھاو  اِسے ۔۔۔‘‘ ساتھی نے تعمیل کی۔اُن کا تیسرا  ہم عمر دوست  لا تعلق سا سگریٹ سلگانے میں محو تھا ۔ ’’ چلو ‘‘سرخ ٹائی لگائے نوجوان نے کہا۔ تینوں نکل پڑے۔کچھ دیربعد وہ شہر کے ایک کم آباد علاقے میں پہنچے۔ پھر ایک مکان کے وسیع مُنَّقَش کمرے میں داخل ہوگئے۔سرخ ٹائی لگائے خوش پوش نوجوا ن نے صوفہ سیٹ پربیٹھ کر ایک اطمینان بھری سانس لی۔ دوسرے نے سامنے پڑی میز پر  رنگ دارگول خوبصورت مرتبان رکھ دیا ۔ سگریٹ کی راکھ جھاڑ تے ہوئے تیسرے نے زرا  چونکتے ہوئے کہا ۔ ’’ ارے واہ ۔سنہری ہے  ‘‘ 

بختاوری

 بہلول پابانی اب ستھر کی دہائی میں تھا اور عُمر کے باسٹھویں زینے پر ایستادہ تھا ۔ اب پا بہ دامن تھا اور شاذونادر ہی کہیں دُور جانے کےلئے پا بہ رکاب رہتا تھا ۔ حالانکہ صحت اتنی بہتر اور مُستحکم تھی کہ اُس کی صحیح عُمر کا اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا تھا ۔لوگ اکثر اُس کی عُمر کا صحیح  اندازہ لگانے میں دھوکہ کھا جاتے تھے اور اُسے پنتالیس پچاس کی عُمر سے زیادہ کا نہیں بتاتے تھے ۔ بہلول پابانی خوب رو، جاذب نظر اور پُرکشش شخصیت کا مالک تھا۔ سنجیدہ اور پُر وقار ۔ چہرہ اب بھی جُھریوں سے بے نیاز تھا ۔ کلین شیوڈ رہتا تھا اور اپنے کنگھے سے اپنے گھنے اور خوبصورت بالوں کے ساتھ ہمہ وقت چھیڑ خانیاں کرتا رہتا تھا ۔ پابان کے اپنے آبائی علاقے سے ، جسے وہ چالیس سال قبل چھوڑ چکا تھا ، ایک دعوت نامہ موصول ہوتے ہی اُس کے رگ وپے میں مّسرتوں کی ایک لہر  سی دوڑ گئی ۔ وہ خوشی سے جُھوم اُٹھا اور

بندھن

سجنا سنورنا! یہ سب شوق کس لڑکی میں نہیں ہوتا لیکن میں ان چیزوں سے پچپن سے ہی بے نیا ز تھی۔ایسا بھی نہیں تھا کہ میں اپنے آپ کی طرف توجہ نہ دیتی تھی لیکن اپنے آپ پر حد سے زیادہ توجہ دینا میں تضیع اوقات سمجھتی تھی ۔میں کبھی کبھی نہ جانے کن باتوں کو لے کر اپنا ذہن منتشر کرتی ہوں ،دراصل میں ہی نہیں بلکہ شاید ہر شخص بیٹھے بیٹھے نہ جانے خیالوں میں کہاں کی سیر کرتا رہتا ہے ۔کبھی پہاڑوں کی،کبھی سبزہ زاروں کی،تو کبھی کسی اور جگہ یہ سوچ کے دھارے ہمارے وجود کو لے جاتے ہیں ۔سوچ کے میدانوں سے واپس آکر میں نے آج اپنے کمرے کی حالت کا جائزہ لیا ۔آج نہ جانے کیوں مجھے یہ کمرہ بالکل ویران سا لگ رہا تھا ۔بکھرا ہوا بسترہ ،غرض ہر شئے نہ جانے کیوں آج مجھے بے رونق لگ رہی تھی۔آج کئی دنوں کے بعد مجھے اپنے کمرے کو سجانے کا خیال آیااور میں نے اپنے کمرے کو آج پھر سے خوش اندام بنایا۔کام ختم کرنے کے بعد میں&

’’ یہ ماجرا کیا ہے ‘‘

راشد، آ کھانا کھا لے بیٹا ، ایک بج گیا ہے ، میں نے کھانا لگا دیا ، یہ پھر ٹھنڈا ہوجائے گا۔ راشد کہاں گیا تو ؟ ابھی یہاں آنگن میں ہی بیٹھا تھا۔ شاید محلے کے بچوں کے ساتھ کھیلنے گیا ہوگا۔ چلو پانچ دس منٹ انتظار کروں گی تب تک آئے گا۔  " کلثوم آپا کا شوہر کسی حادثے کا شکار ہوگیا تھا اور اسی میں اپنی جان کھو بیٹھا تھا۔ ایک بیٹی تھی اس کا بیاہ ہوگیا تھا۔ اب اس کا صرف یہی ایک بیٹا تھا ، اسی  کو دیکھ کر وہ جی رہی تھی " جب راشد نہیں آیا تو کلثوم آپا بے چین ہوکر اس کی تلاش میں نکلی۔ صغریٰ بی بی سے پوچھا " بہن ، راشد کو کہیں دیکھا ہے ؟  نہیں " صغریٰ بی بی نے جواب دیا۔ بیٹی ، کہیں میرے لعل کو مت دیکھا ؟ سولہ سالہ فاطمہ سے پوچھا۔ نہیں اماں میں نے نہیں دیکھا " فاطمہ نے جواب دیا۔ اسی طرح چند اور لوگوں سے پوچھا لیکن سب نے نف

’’حُکم کی تعمیل ہو‘‘

صاحب اُدھیڑ عمر میں قدم رکھ چکے تھے مگرتیور۔۔۔۔ہاں تیور۔ایک بیس بائیس برس کے نوجوان کے جیسے۔مکھی ناک پر نہیں بیٹھنے دیتے تھے۔ کسی کی بات خلاف توقع گزرتی تو شیر کی طرح غُرا اُٹھتے یا یوں سمجھئے کہ جیسے شیر شکار پر جھپٹ پڑا ہو۔اُس کی طرف ہاتھ لپکاتے ہوئے کہتے۔ ’’بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔enough۔۔۔!!! ‘‘ پھر ایسے گھورتے کہ مخاطَب کی روح لرز اُٹھتی۔بے چارا دبک کر بیٹھ جاتاکچھ توقف کے بعد صاحب کہتے۔ ’’دوبارہ ایسی بات منہ سے مت نکالنا ۔‘‘  وہ آنکھ نیچی کر کے جب حامی بھرتاتو صاحب منہ کو ایسے موڈدیتے جیسے پھر کی گھومنے لگی ہو۔ غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعداُس کے کندھوںپرتھپکی دیتے ہوئے زور زور سے ہنس دیتے۔ایسا لگتا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔مخاطب صاحب کے کھلکھلا کر ہنسنے پرپسینے پسینے ہوجاتا اور چپ چاپ بیٹھے رہتا ۔ پھرجب صاحب کے ہاتھ تھپکی د

افسانچے

سبق  اچانک احمد کی بچی کی طبیت خراب ہو گئی اور وہ اسے لے کر فوراً ہسپتال پہنچا۔ ہسپتال میں وہ سیدھے بچوں کے ڈاکٹر کے کیبن میں گیا۔ کیبن خالی تھا اور وہاں کوئی نہیں تھا۔ وہ پریشان ہو گیا۔ اِدھر اُدھر معلوم کرنے پر جب ڈاکٹر کے بارے میں کسی سے کچھ پتہ نہیں چلا تو وہ سیدھا میڈیکل آفیسر کے پاس پہنچا ۔  " سر بچوں کا ڈاکٹر کہاں ہے میری بچی کی طبیت  بہت خراب ہے؟ "  ڈاکٹر ابھی ابھی گھر گیا ہے آپ کو ایک گھنٹہ پہلے آجانا چاہیے تھا" "سر میری بچی کی طبیت ابھی خراب ہوئی ہے اور ویسے بھی  ابھی  بارہ ہی بجے ہے "  "مطلب کیا ہے تمہارا وہ آپ کے لئے یہاں بیٹھتا  رہتا" میڈکل آفسیر کے چہرے پر غصے کی لہر دوڈ گئ۔ "سر کیا ان کی ڈیوٹی  بارہ بجے تک ہی تھی۔؟ اب میری بچی کا علاج کون کرے گا ‘&lsquo