تازہ ترین

خود کشی

 طارق شبنم  ’’بھابھی۔۔۔۔۔۔  اگر بھیا نے سلیم کے ساتھ میری شادی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو میں خود کشی کرکے اپنی جان دیدوں گی‘‘۔ رضیہ نے روتے ہوئے اپنی بھا بھی نگہت سے کہا ۔ ’’دیکھو رضیہ تمہارا بھیا تم سے بہت پیار کرتا ہے اور تمہاری ہی بھلائی چاہتا ہے۔ میری صلاح مانو تم سلیم کا خیال دل سے نکال دو کیوں کہ ایک تو وہ بیکار ہے اوپر سے اس کا چال چلن بھی ٹھیک نہیں ہے، تمہارے بھیا کہتے ہیں کہ وہ آوارہ لڑکا ہے اور شراب بھی پیتا ہے‘‘ ۔ نگہت نے اُسے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا۔ ’’نہیں بھا بھی ۔۔۔ کچھ بھی ہو آپ کو کسی بھی طرح سے بھیا کو اس شادی کیلئے راضی کرنا ہوگا‘‘۔ ’’دیکھورضیہ ۔۔۔۔۔۔ تم ابھی نادان ہو، لیکن میں ہرگز نہیں چاہوں گی کہ تمہاری زندگی بر باد ہو جائے اور نہ ہی تم

زِندگی

زندگی یوں تو اللہ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک حسین نعمت ہے اور یہ نعمت اور زیادہ حُسن تب اختیار کرتی ہے جب ساتھ چلنے والے مُنافق نہ ہوں ۔یعنی زندگی میں اگر صرف ایک ہی شخص ایسا ہو جو ہم سے بے لوث مُحبت کرے اور ہمارے دکھ میں دکھی اور خوشی میں خوش ہوجائے تو زندگی جیسی حسین نعمت واقعی اور زیادہ حسین بن جاتی ہے۔خورشید آج صبح سے ہی اپنی بہن سے زندگی سے ملنے والے دکھوں اور سکھوں کی باتیں کرر ہا تھا ۔زندگی کی اونچ نیچ، خوشی و غم ،نشیب و فراز،غرض یہ دونوں بھائی بہن آج زندگی کے ہر ایک پہلو  پر غور کر رہے تھے۔  ۔یوں تو خورشید نے زندگی میں کئی اونچ نیچ دیکھے تھے لیکن سب سے بڑا درد اُ سے تب ملا تھا جب وہ محض سولہ سال کا تھا اور ا س کی والدہ اس دنیا سے کوچ کر گئیں ۔اُس وقت خورشید کے اہلِ خانہ شادی کی تقریب میں جانے کے لیے تیار ہورہے تھے کہ اس کی والدہ کو بجلی کا کرنٹ لگ گیا اور

’’بھرم‘‘

 تین  بج رہے تھے رحمان صاحب ؔ پارک میں ایک درخت کے سائے میں بیٹھے کچھ سوچ رہے تھے کہ صحن کے صدر دروازے کا پٹ کھل گیا اور ان کاشاگرد عثمان ؔ تیز تیزڈگ بھرتے ہوئے اندر آیا۔قریب پہنچتے ہی سلام بجا لا کر نہایت عاجزانہ لہجے میں بولا۔ ’’سر میں نے سویرے فون کیا تھا۔کیا میں آ پ کی کار لے جا سکتا ہوں۔‘‘ رحمان صاحب کچھ دیر سوچنے کے بعد بولے ۔ ’’عثمانؔ میں نے آج تک کسی دوسرے کو اپنی کار ڈرائیونگ کے لئے نہیں دی ہے۔ یہ بہت قیمتی کار ہے ۔‘‘ ’’سر مجھے ڈرائیونگ میں کئی برسوں کا تجربہ ہے۔ یقین رکھئے میںبہت احتیاط کے ساتھ ڈرائیونگ کروں گا۔‘‘ رحمان صاحب سوچ ہی رہے تھے کہ بیگم صاحبہ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا۔ ’’اتنی عاجزی کر رہا ہے دیجئے نا۔چند ہی گھنٹوں کی تو بات ہے۔‘‘ رح

رسوائی

"ارے،ارے،ارے، کہاں جا رہے ہو، تمہیں پتا نہیں باہر پولیس ہے اور گھر سے باہر نکلنا منع ہے۔ اگر پولیس نے دیکھا تو مار مار کر ہڈیاں توڑ ڈالیں گے۔ایک تو غریبی نے ہمارا چین و سکون چھین لیا ہے اور اوپر سے  اب اس نئی آفت نے پریشان کررکھا ہے۔"  چھوٹے بیٹے عامر کے قدم گھر سے باہر کی جانب بڑھتےہی شرافت بہن نےہانک لگائی۔  یہ سنتے ہی عامر اُداس ہو کر کمرے میں واپس چلا گیا اورزانوں پر سررکھ کر رونے لگا۔  پھرکچھ دیر تک اپنی قسمت کو کوستا ہوا بھوک سے نڈھال ہوکر ماں سے کہا: "مجھے کھانا دو...ماں۔۔۔بہت بھوک لگی ہے۔" شرافت بہن یہ سن کرآہ بھرتے ہوئے بولی: "کہاں سے لاؤں گی میں کھانا۔ تیرے ابو تو پچھلے دس دنوں سے گھر پر ہی ہیں۔جو کچھ بھی تھا وہ سب گزشتہ دس دنوں میں ختم ہوا۔ اللہ ہمارےحال پر رحم کرے ۔" لاک ڈاؤن کا دم

سزا

فقیروں کو پیسے دیتے ہوئے کلیم صاحب مسجد کی سیڑھیاں اُتر رہے تھے، کہ اچانک ایک فقیر کو دیکھتے ہی رک گئے… جس نے ایک گندھے پھٹے ہوئے کمبل میں منہ کو چھپاتے ہوئے کہا…ارے بابا اللہ کے نام پر کچھ دے دو … اللہ تمہارا بھلا کرے گا… کلیم صاحب کواس کی آواز کچھ جانی پہچانی سی لگی… انھوں نے فقیر سے پوچھا :  تم کون ہو؟ فقیر نے کمبل کی آڑ سے دیکھتے ہوئے کہا مجھ سے دور رہو۔ لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں… مجھے دھتکارتے ہیں۔  کلیم صاحب نے اسے ایک روپیہ دیا اور آگے بڑھ گئے۔ کچھ دوری پر کلیم صاحب کے دوست اشفاق یہ سب دیکھ رہے تھے۔ جیوں ہی کلیم صاحب اشفاق کے پاس پہنچے ، اشفاق نے کہا، ارے بھئی تم کہاں وہاں رک گئے تھے۔ اور اس فقیر سے کیا بات کر رہے تھے؟ کلیم صاحب مسجد کی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے کہا، میں اس آدمی کو جانتا ہوں۔ اشفاق کلیم صاحب کی ب

لومڑی اورمُرغا

 ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک مرغا تھا جو قصے کہانیاں سننے اور سنانے کا بہت شوقین تھا۔ جس وقت وہ مرغیوں ،چڑیوں اور کبوتروں کو دیکھتا تھا ان سے گذارش کرتا تھا کہ وہ سنی ہوئی یا دیکھی ہوئی سر گذشتیں بیان کریں اور وہ بھی، اگر ان کو کام بھی ہوتا تھا،مرغے کی دعوت کو قبول کرتے تھے۔ ایک دوسرے کے ارد گرد بیٹھتے تھے اور کہانیاں سناتے تھے، جو کچھ انہوں نے دیکھا ہوتا یا سنا ہوتا۔وہ حیلے اور بہانے جو گیدڑ اور لومڑی اور دوسرے شکاری مرغوں اور جانوروں کو پکڑنے کے لئے بناتے ہیں۔اور وہ مصیبتیں جو انکے یا انکے دوستوں پر گذری ہوتیں اس کے متعلق بات کرتے تھے اور اسطرح مرغے کو بہت سی خبریں فراہم ہو جاتی تھیں۔ ایک دن مرغا تنہا رہ گیا تھااور وہ جس باغیچہ میں زندگی گذارتا تھا اس کا دروازہ کھلا تھا۔مرغا کوچے میں آگیا اور چلتے چلتے کوچے سے صحرا  میںپہونچ گیا۔بہار کا موسم تھا اور صحرا سر سبز اور شاداب