تازہ ترین

شیشے کا سمندر

ہزاروں سال پہلے کی بات ہے نیرو روم کا شہنشاہ ہوا کرتا تھا۔ ایک رات جب وہ اپنے شاہی محل کی کھڑکی میں بانسری بجانے میں محو تھااُسی لمحے روم بھی جل رہا تھا۔ تاریخ کا یہ واقعہ پڑھ کر میں اس قدر متاثر ہوا کہ میں اپنے بچپن کے اُس زمانے میں لوٹ آیا جب میں بارہویں سے تیرہویں جماعت میں جارہا تھااور میں سائنس کے مضامین چھوڑ کر تاریخ کی جانب راغب ہورہا تھا۔ جب میری تعلیمی زندگی کا ایک نیا سفر شروع ہوا، اُس وقت میں خواب میں یقین کو تلاش کررہا تھا۔ تیرہویں جماعت میں مجھ پر یہ ظاہر ہوا کہ زندگی اُلجھنوں کا پلندہ ہے کیونکہ پہلی بار جب میں اپنے عزیز کی ناراضگی کے بوجھ تلے دب گیا، بلا سوچے سمجھے زندگی سے بھاگنے لگا۔ ذہن کچا تھا اور شاید یہ نہ سمجھ پایا تھاکہ زندگی کتنی قیمتی ہے، کس قدر انمول ہے۔ شہر کے مشہور معالجوں نے پھر زندگی کے حوالے کردیا۔ اُس دن مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ ماں کا پیار اور شف

’’ آخری پسند‘‘

سلمانؔ تھک ہار کر جب گھر واپس لوٹتاتو اکثر اوقات پارک میںبیٹھ کر کچھ دیر کے لئے سستا لیتا۔ اُس وقت بھی وہ معمول کی طرح ایک نئی لڑکی دیکھ کر آیا تھا اور من ہی من میں سوچ رہا تھا ۔ ’’ گردش ایام کے ساتھ ساتھ رسم ورواج بدلتے رہتے ہیں۔رہن سہن کے طور طریقے بدلتے رہتے ہیں انسان بدلتے ہیںپہلے بڑے بزرگ اپنی بساط دیکھ کر رشتے طے کرتے تھے اور اولاد بھی چپ چاپ فیصلہ تسلیم کر لیتی۔‘‘  اتنے میں ماں نے چائے کی پیالی لا کر ٹیبل پر رکھ کر کہا ۔ ’’چائے پی لو بیٹے ۔ تم تھک گئے ہو نگے۔‘‘ سلمانؔ چائے کی لمبی لمبی چسکیاں لے کر گہرائی سے سوچتا رہا۔’’وقت بدلتے بدلتے بہت بدل گیا ہے بڑے بزرگوں کو اب سائیڈ میں کر دیا گیا ہے اب اولاد اپنی مرضی کی مالک ہے ۔‘‘ سلمانؔ کئی برسوں سے اپنی پسند کی لڑکی کی تلاش میں تھا اُس ن

بدنام

سفید پوش فرشتے جب قبر میں اس آدمی کے پاس آئے تو وہ آدمی گھبرا گیا ۔ انہوں نے اس سے کہا ،" گھبرائو مت اے انسان ۔ تمہارے اعمال کا تمہیں پورا پورا بدلہ ملے گا "۔ پہلے فرشتے نے اس سے پوچھا، " بتاؤ کیا تم نے خدمت خلق کی ہے ؟ کیا تم نے لوگوں کے تئیں تمہارے حقوق کی تعمیل کی ہے ؟" اس سوال کا جواب دینے کے بجائے اس آدمی نے اپنا سر شرم سے جھکا لیا ۔ اور پھر کچھ دیر بعد کہنے لگا، "ہاے میری زندگی! میں نے تو مخلوقات خدا کو تکلیف کے بغیر کچھ بھی نہ دیا۔ اپنی نفسیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے میں نے انکو اذیت دینے میں کوئی کثر نہ چھوڑی ۔" "تو پھر اس دردناک عذاب کے لیے تیار ہوجا جو تمہیں اپنے اعمال کے سبب ملے گا"، فرشتے نے غضبناک آواز میں کہا،"تم جیسے انسانوں کی وجہ سے پوری انسانیت بدنام ہو کر رہ گئی ہے ۔"   لوہند، ش

کرتارپور کوریڈور

آج تقریباً72 سال ہوگئے لیکن اب بھی مجھے یاد ہیں وہ دن بچپن کے جب سکینہ اور میں محلے کے دیگر بچوں کے ساتھ گھر کے پاس والے میدان میں ’پٹھو گرم‘ کھیلا کرتے تھے۔ سکینہ یاد آتے ہی جسم میں عجیب سی ترنگ پیدا ہوتی ہے۔ بچپن میں اس کے ساتھ کھیلنے میں، شرارتیں کرنے اور ہمارے گاؤں کرتار پورکے نزدیکی باغوں سے چوری کرنے میں بہت مزہ آتا تھا۔ ان شرارتوں میں سکینہ کا کئی بار گرنا اور گر کر چوٹ لگنا، چوٹ لگ کر رونا ،رو کر مجھ پہ چلانا اور میرا اسے منانا، یہ ساری چیزیں جیسے کل کی باتیں ہیں۔ ہمارے ساتھ قاسم، بلوندر، گوری، زیبا ،رحمان وغیرہ بھی کھیلا کرتے تھے۔ لیکن سب سے زیادہ سکینہ اور میری بنتی تھی ۔ہم صبح اسکول ایک ساتھ جاتے تھے اور چار بجے واپس بھی ایک ساتھ آتے تھے۔ اسکول میں گلفام اکثر مجھ سے لڑا کرتا تھا اور مجھے چڑھا کر کہتا تھا،"اوے کرتار پور کے کرتارے، میں تیری ترکاری بنا دوں