تازہ ترین

’’یہ کیسی شرم ‘‘

گاڑی سے نیچے اُتر کر عالیہؔ کچھ ہی دور چلی تھی کہ اُس کی سینڈل کی نس کٹ گئی وہ ایک ہی جگہ پر بُت کی طرح ساکت ہوگئی اِدھر اُدھر دیکھامگر موچی کی دُکان کہیں نظر نہیں آئی۔مجبوراََایک راہ گیر سے پوچھنا پڑا۔’’بھائی صاحب یہاں نزدیک میں کسی موچی کی دُکان ہے ۔‘‘ ’’ہاں ہاں۔۔۔۔۔وہ گلی ہے نا۔اس کے نکڑ پر ہے۔‘‘ عالیہؔآہستہ آہستہ سینڈل گھسیٹتے ہوئے دُکان تک پہنچی ۔وہاں ایک ہٹے کٹے خوبصورت نوجوان کو دیکھ کر اسے بالکل یقین نہیں ہوا کہ یہ جوتے چپل ٹھیک والا ہوگا۔اُس نے سینڈل آگے کر کے کہا۔ ’’میری سینڈل کٹ گئی ہے اس سے ذرا ٹھیک کر دو ‘‘ ایک گوری چٹی فربہ اندام لڑکی کودیکھ کر موچی بولا۔’’لائو میں ٹھیک کر دیتا ہوں۔ تم بیٹھ جائو  ‘‘ عالیہ چاروناچار سامنے رکھے ایک اسٹول پربیٹھ گئی مو

سو شل ڈسٹنس

’’شکر ہے تیرا میرے مولیٰ کہ تو نے مجھ پر رحم فرمایا،واقعی میں نے بہت بڑی غلطی کی تھی ۔۔۔۔۔‘‘ راحیلہ ،جو کئی دنوں بعد آج کسی حد تک سکون محسوس کررہی تھی ،خود سے بڑ بڑاتے ہوئے اپنے آنگن میں کرسی پر بیٹھی اور موبائیل فون پر سوشل میڈیا کا نظارہ کرنے میں محو ہو گئی ۔راحیلہ کو جس واقعہ نے پریشان کر رکھا تھا قریب پندرہ دن گزرنے کے بعد وہ آج اس پریشانی سے نکلی تھی ۔ہوا یوں تھا کہ راحیلہ نے اپنی سہیلی قرعت کے گھر دودھ پیا تھا جس کے چند دن بعد قُرۃکی بیٹی بخار میں مبتلا ہوئی تھی اور وہ اس شک میں مبتلا ہوگئی تھی کہ کہیں وہ اس وبائی بیماری کرونا وائیرس میں مبتلا نہ ہو، جس سے بہت سے لوگ لقمہ اجل بن رہے ہیں اور اس دودھ کے ذریعے یہ وائیرس مجھ میں بھی منتقل نہ ہوا ہو ۔اسے اس بات نے اور زیادہ پریشان کر رکھا تھا کہ اگر راحیلہ کی بیٹی اس بیماری میں مبتلا پائی گئی تو ان کے گھ

گھر

اکثر یہ بات میرے ذہن میں آکر بیٹھ جاتی ہے کہ گھر اور مکان میں کیا فرق ہے ۔یوں تو عام لوگوں کے لیے واقعی ا ن دونوں میں کوئی تفاوت نہیں ۔ لیکن میرے نزدیک ان دونوں میں ویسا ہی فرق ہے جیسا زندہ انسان اور مردہ انسان میں ۔اپنے اس قول کو سچ ثابت کرنے کے لیے میں نے آج ابو سے بھی یہی سوال کیا ’’ابو مجھے گھر اور مکان کے بیچ کا فرق سمجھائیے ‘‘۔ابو نے بھی مجھے تسلی بخش جواب دیاکہ بیٹا ’’ہر گھر مکان تو ہوسکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر مکان کو گھر گردانا جائے ۔مکان کو گھر اس میں رہنے والے لوگ بناتے ہیں یا اگر ہم یوں بھی کہیں کہ مکان کو گھر اس گھر کی عورت بناتی ہے تو غلط نہ ہوگا۔‘‘یہ تسلی بخش جواب سن کر میں ابو کے کمرے سے رخصت ہوئی اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔میں ابھی بیٹھی بھی نہ تھی کہ پڑوسیوں کے گھر سے رونے کی آوازیں آئیں ۔لڑائیاں ،جھگڑے ،ناراضگیاں

اُمید کی کرن

ہلکی ہلکی بوندا باندی اب رفتہ رفتہ تیز بارش میں بدل چکی تھی۔ کوئی بارش سے بچنے کے لئے چھتری کا سہارا لے رہاتھا تو کوئی دکان کی چھت کے نیچے کھڑا ہو کر بارش کی تیز بوندوں سے بچنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔سڑک کی نچلی طرف لگے چنار کے درخت کے زرد پتے تیز بارش کی مار برداش نہیں کر پا رہے تھے اور تسبیح کے دانوں کی طرح ایک ایک کر کے سڑک پر گر رہے تھے۔ ان کا گرنا یوں تو ایک عام سی بات تھی لیکن اصل میں وہ پتے انسان کو وقت کے بدلتے مزاج اور انسان پر آنے والے مختلف حالات کی عکاسی کر رہے تھے وہ چیخ چیخ کر انسان کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ یہی بارش کچھ ماہ پہلے جب وہ پتے بالکل سرسبز تھے انکا بال بھی بیکا نہیں کر پائی تھی لیکن آج۔۔۔۔۔! آج وہ پتے بارش کی ان ہی بوندوں کے سامنے بے بس نظر آ رہے تھے۔ان سرسبز پتوں کو زرد بنا کر درخت کی اونچائی سے زمین کی پستی پر لانے میں سب سے بڑا کمال "

تیرگی

  ہر شے پر سے شبنمِ بے نور روز کی طرح اوجھل ہونے کو تھی۔ پرندے آمدِصبح کے گیت اونچے ، بکھرے ، اور سہمے سروں میں کو بہ کو گنگنا رہے تھے۔ سورج کی کرنیں کمرے کی کھڑکی سے جوں ہی احمد کی آنکھوں  سے جا ٹکرائیں، اسکا نیند سے طویل ربط چشمِ زدن میں ٹوٹ گیا۔ احمد بستر سے اٹھنے ہی والا تھا کہ اچانک اسکی نظر میز پر رکھے ہوے اخبار پر پڑی۔ جب غور سے مطالعہ کیا تو اسکے لب تھر تھرانے لگے ،  اسکے  پاؤں تلے  جیسے زمیں ہی کھسک گئی۔ تحریر شدہ ہر اِک لفظ خنجر کی طرح اسکے جگر پر پے در پے وار کرنے لگا۔ اخبار کے صفحۂ اول پر شائع خبر کا طلسم اس پر طاری ہونے لگا۔ احمد کے ہوش و خرد پر جیسے اسرافیل  نے صور پھونک دیا۔ رفتہ رفتہ تیرگی چار سو‘ چھانے لگی۔احمد زور زور سے رونے لگا، ہاتھ مَل کر چیخنے لگا۔۔۔ ’’ ممی! ممی میں ابھی زندہ ہوں! ابو میں مرا نہیں۔۔۔ میں ہیں ہوں

تازہ ترین