تازہ ترین

ایک فیصدی کا انسان

اے ے ے ے۔۔۔ سن سن سن۔۔۔ میں ننّاوے فیصد شیطان ہوں۔ شیطان کیا میں شیطان کا گرو ہوں اور وہ میرا چیلا۔  ہرصبح  کام پر  نکلنے سے پہلے  شیطان مجھ سے ملنے آ جاتا ہے۔ ہاتھ جوڑ کر مجھ سے آگیا مانگتا ہے۔ گرو مہاراج آج میں کہاں سے شروع کروں۔ کس کا بھیڑا غرق کردوں، کس کی نیا پار لگا دوں۔ جب میں اسے اجازت دیتا ہوں تبھی کام پر نکل جاتا ہے۔ اچھے اچھے  انسانوں  کے قدموں کے آگے کیلے کے چھلکے  پھینکتا ہے  اوراپنے جیسے لوگوں کی پیٹھ تھپتھپاتا ہے۔۔  اے میرے ناداں دوست میری بات غور سے سن ۔  میں بلاجہ نہیں مار رہا ہوں تم کو۔ جان بوجھ کر خون کر رہا ہوں تمہارا۔ ہاں ہاں  جلتا ہوں میں تم سے ۔ تمہاری کامیابیوں سے میرا دل لہو لولہان ہے ۔ مجھے میری ناکامیوں سے نفرت ہے ۔ اپنی نا اہلی سے مجھے  بیر ہے۔ مجھے معلوم ہے میں تجھ سے تیری ذہانت ، تیری قابل

’’ ابابیل کی نسلیں‘‘

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔ موسمِ بہارپورے شباب پر تھا۔ پرندے بڑی عاجزی اور انکساری سے خالقِ کائنات کے حمد و شکر میں مشغول تھے۔ ہر جانب  دلفریب آوازوں کی گونج تھی۔ جشن ایسا جیسے کہ آج بستی سے خود خالقِ کائنات کا گذر ہوا ہو۔  مسجدوں میں ہو رہے ذکر اور پاس والے محلے میںہو رہی پراتھنا نے تو ماحول کو مزید چاشنی بخشی تھی۔  کلیم آج مسجد سے قدرے پہلے ہی نکل کر سیدھا نانوائی کے پاس چلا گیا۔  لمبی قطار دیکھ کر کلیم کا دل بوجھل سا ہوگیا۔ کچھ لوگ جان بوجھ کر بھیڑ میں بیٹھنے کے متمنی تھے !!!کرتے بھی کیا؟؟؟ وہاں ہو رہی گفت و شنید تنور کی گرمی سے بھی گرم تھی !!! اس لئے وہ اپنی باری آنے پر بھی دلشاد کی آواز کو نظر انداز کر رہے تھے۔  دلشاد مُحلے کا ایک محنتی باشندہ ہے ۔ اگر چہ وہ پشتنی نانوائی نہیں!!!  لیکن حالات  نے اُسے ایک پیشہ ور ضرور بنایا تھا۔

دھوکا

  امنگوں آرزؤں کی کونپلیں پھوٹنے لگیں۔ بہار کا موسم جیسے آ ہی گیا ہو۔ ہزاروں ارمانوں و خواہشات کے ساتھ نسیم بھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکا تھا۔ بیٹا اللہ نے ہمارے سارے دکھ درد دور کرکے ہمیں نعمتوں سے نوازا ہے اور اب تو تمہاری نوکری بھی لگ گئی ہے۔ ماں نے دپٹے کے کونے سے اپنے آنسوؤں کو پونچھتے ہوئے کہا۔ اُف اَمی آپ رو رہی ہیں۔ مجھے اچھا نہیں لگتا۔ نہیں پگلے یہ تو خوشی کے آنسوہیں۔ اللہ نے مجھے اتنے خدمت گذار بیٹے سے نوازا ہے۔ بس بیٹا میری ایک آخری خواہش ہے؟ وہ کیا اَمی؟ میں اپنے پوتے کو کھلانا چاہتی ہوں۔ بیٹا تم اب شادی کرلو ۔ مجھے بہو لادو۔ دیکھو بیٹا! اگر تمہاری نظر میں کوئی لڑکی ہو تو بتاؤ ؟ ورنہ گُڈن کی اماں تمہارے لئے رشتہ لیکر آئی تھی۔ لڑکی کی یہ تصویر بھی دیکر گئی ہے۔ تم دیکھ لو۔  امی نے تصویر کو میز پر رکھتے ہوئے کہا۔ امی! میری کوئ

نیا اُجالا

رات کا آخری پہر تھا، سردی ایسی تھی کہ ہڈیوں کے اندر تک گھسی جا رہی تھی۔ بارش بھی اتنی تیز تھی جیسے آج اگلی پچھلی کسر نکال کر رہے گی۔۔ میں اپنی کار میں دوسرے شہر سے ایک کاروباری دورے سے واپس آرہا تھا اور کار کا ہیٹر چلنے کے باوجود میں سردی محسوس کر رہا تھا۔ دل میں ایک ہی خواہش تھی کہ بس جلد سے جلد گھر پہنچ کر  بستر میں گھس کر سو جاؤں۔مجھے اس وقت کمبل اور بستر ہی سب سے بڑی نعمت لگ رہے تھے۔ سڑکیں بالکل سنسان تھیں،حتیٰ کہ کوئی جانور بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ لوگ اس سرد موسم میں اپنے گرم بستروں میں دبکے ہوئے تھے۔ جیسے ہی میں نے  کار اپنی گلی کی طرف موڑی تو مجھے کار کی روشنی میں بھیگتی بارش میں ایک سایہ نظر آیا۔ اس نے بارش سے بچنے کے لئے سر پر پلاسٹک کے تھیلے جیسا کچھ اوڑھا ہوا تھا اور وہ گلی میں پانی سے خود کو بچتا بچاتا آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ مجھے شدید حیرانی ہوئی ک

تازہ ترین