ممبئی تجھے سلام۔۔۔

سرینگر کے بین الاقوامی ہوائی اڑے سے دن کے تین بجے ہوائی جہاز نے اُڑان بھردی۔ دھیرے دھیرے ہم دھرتی ماں سے رخصت ہورہے تھے۔ چند ہی منٹوں کے بعد ہمارا جہاز آکاش کی بلندیوں کو چُھو رہا تھا۔ جہاز میں میری نگاہیں اُونچی اُونچی برف پوش چوٹیوں سے ٹکرائیں تو مجھے یوں لگا گویا کہ میں کسی پرستان کے اوپر سے پرواز کررہا ہوں اور سفید لباس میں ملبوس پریاں میرے استقبال میں بانہیں پھیلا کر اِستادہ ہیں! کچھ ہی لمحات میں یہ دلفریب منظر میری نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ ہوائی جہاز اب بادلوں سے پرے ہوائوں کے دوش پرتیزی سے منزل طے کررہا تھا۔ شام ساڑھے پانچ بجے جہاز نے ممبئی کے چھترا پتی شیواجی ہوائی اڑے کے رَن وے کو چُھوا۔ آہستہ آہستہ جہاز نے رَن وے پر اپنی رفتار کم کردی اور رفتہ رفتہ ساکن ہوا۔ جہاز سے اُترتے ہی معتدل گرم ہوائوں نے میرے رخساروں کو چُوما۔ ہوائی اڑے سے فارغ ہوکر میں نے ٹیکسی اسٹینڈ میں سے ٹیکس

بے وفا

 ’’ دیکھو میں تمہیں کہہ چکا ہوں ۔ میں تمہارے ساتھ شادی نہیں کر سکتا ۔نہیں کر سکتا۔‘‘  ’’ کس نے کہا آپ میرے ساتھ شادی کرو ۔۔۔ شادی تو میں آپ کے ساتھ کر رہی ہوں۔‘‘  ’’ دیکھو یہ پاگل پن ہے جو تم کر رہی ہو۔ اس سے باہر آجائو ۔ پچھتائو گی۔‘‘  ’’ میں تو پچھتانے کے لئے ہی آپ کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہوں۔ پچھتانے دو نا مجھے  پلیزززز۔‘‘   ’’ سمجھا کرو لڑکی ۔ تم ابھی جوان ہو ۔ خوبصورت ہو ۔ کوئی بھی نوجوان تمہارے ساتھ شادی کر سکتا ہے۔ تم خوشحال زندگی گزار سکتی ہو۔ میرے تو صرف دو سال نوکری کے بچے ہیں۔ پھر میں رٹائیر ہوجائوں گا۔ ‘‘   ’’ سنئے سنئے ۔۔۔ سنئے نا۔۔۔ آپ کی یہ باتیں تو میں کئی بار سن چکی ہوں ۔ جانے کیو

دردبھری سحر

جولائی کے 15دن گزر چکے تھے ۔ہر طرف ہریالی تھی۔لوگ کھیتوں میں اپنے کاموں میں مصروف تھے۔۔کھیتوں میں عجیب رونق تھی۔موسم بھی خوش گوار تھا۔۔شام کو لوٹتے ہی لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو کہانياں سنایا کرتے تھے۔صبح ہوتے ہی لوگ پھر سے اپنے گھروں سے نکل کر کھیتوں میں اپنے کام کے ساتھ مصروف ہوتے تھے۔۔ شام کے چار بجے کا وقت تھا اور لوگ اپنے گھرں کی اور کوچ کررہے تھے۔۔ان لوگوں میں گھر جانے کی سب سے زیادہ جلدی شریفہ کوتھی۔کیوں کہ اس کو چھوٹا بچہ تھا ،جو صرف تین ماہ کا تھا۔شریفہ گھر پہنچی تو دیکھا کہ بچہ زور زور سے رو رہا ہے۔ اس نے جلدی جلدی ہاتھ دھوئے اور بچے کو دودھ پلانا شروع کردیا۔بچہ پھر بھی روتا رہا۔ شریفہ نے بچے سے کہا کہ غالب چپ ہوجا ورنہ ابو جان آجائینگے۔بہر حال غالب چپ ہو اور دودھ پینے لگا  اور اپنی ماں کی گود میں سوگیا۔ 6چھ بجے کا وقت تھا اور شریفہ اب شام کے کھ

تلاش

سہ پہرکا وقت ،ٹھنڈی ٹھنڈی ہواوں کے دل ربا جھونکوں بسترے میں میرا دماغ تازہ اور ہوشیار سا لگ رہا تھاکہ اچانک باہر کے دروازے کی کُنڈی کھٹکی ۔میں کھڑکی سے جھانکااور ایک معصوم لڑکی کو صحن کے اندر داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔ اس کے بال بکھرے،دانت زرد اور کپڑے پھٹے ہوئے تھے ۔اندر آتے ہی وہ دوڑ کے میرے کمرے میں چلی آئی اور میرا ہاتھ پکڑ کر عجیب لہجے میں مجھ سے محسن نامی کسی لڑکے کا پتہ پوچھنے لگی ۔اس کی آواز میں ایک عجیب سا درد تھا۔جس درد کو وہ اپنے الفاظ میں شائد پوری طرح سے اداکرنے کے اہل نہ تھی ۔میں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑا کر کہا ۔تم کسے ڈھونڈ رہی ہو،یہاں کوئی محسن نہیں رہتا۔میرا یہ کہنا تھا کہ وہ ایک دم سے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر مجھ سے کہنے لگی ،بھائی صاحب! انکار نہ کیجیے۔آپ نہیں جانتے میرا محسن سے ملنا کتنا ضروری ہے۔آپ کسی بھی طرح مجھے محسن سے ملوا دیجئے۔میں نے اسے ہاتھوں سے تھام ل

درد کی دہلیز

میرے ابا  اور چاچا کے درمیان نہ کوئی  مشترکہ بزنس تھا اور نہ ہی وراثت میں ملی کوئی اور دولت۔ فقط ایک گھر اور اس گھر کی دہلیز مشترکہ تھی۔مجھے اس دہلیز سے بڑی عقیدت تھی۔ میں اس دہلیز کے لیے کوئی بھی قربانی دے سکتا تھا کیونکہ اس دہلیز سے ہی تو میری محبت کی شروعات ہوئی تھی۔ اسکو پار کرتے کرتے میں اور میرے ساتھ ساتھ میری محبت بھی  جواں ہوگئی تھی اسلیے میں اس دہلیز کو محبت کی دہلیز مانتا تھا۔ محبت کہنے، سننے، اور لکھنے میں  جتنا چھوٹا، سادہ ، خوبصورت اور میٹھا لفظ ہے اتنا ہی وزن دار اور سنجیدہ احساس کا حامل۔ محبت کی لاج رکھ کر انسان واقعی محبت کوپاتا ہے لیکن محبت کی پہلی شرط وفا ہے۔  میں اپنے ابا کا اکلوتا بیٹا امروز ہوں جبکہ رب کائنات نے چاچا کو تین تین بیٹیوں سے نوازا  تھا۔ دو بڑی بیٹیاں خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہی ہیں جبکہ چاچا کی سب سے چھوٹی بیٹی وفا

افسانچے

کمائی  سیٹھ جی خوش تھے کہ اس نے صرف پانچ سو روپے میں زمیں کا اتنا بڑا ٹکڑا قابل کاشت بنوایا اور مزدور لسہ بابا حد سے زیادہ خوش تھا کہ اس نے آج اتنے روپے  کمائے کہ وہ  بیوی کی ساری فرمائشیں پوری کر سکتا ہے ۔سیٹھ  نے پانچ سو کا نوٹ اس کی طرف بڑھایا تو لسہ بابا نے نوٹ ایسے لیا  جیسے کسی بہت بڑے پیر  صاحب کا تعویز لیا ہو ۔۔نوٹ کو ایسے چوما جیسے کوئی محبوب اپنی محبوبہ کو چومتا ہے۔ نوٹ کو بڑی احتیاط سے جیب میں رکھا اور کوئی گیت گنگناتے ہوئے گھر کی طرف چل پڑا ۔ آج میں چاول ،پیاز، آلو، تیل اور نمک ہی نہیں بلکہ نبہ قصائی کے گھر سے پائو بھر گوشت بھی لے سکوں گا۔ بیچاروں نے کئی مہینوں سے گوشت نہیں دیکھا ہے۔ دو دن سے بھوکے ہیں، آج پیٹ بھر کر کھانا کھائیں گے ۔اس نے تصور میں دیکھا کہ وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گوشت اور چاول کھا رہاہے اور اس کی بیوی بہت خوش ہے۔

یہ کشمیر ہے

سری نگر کے انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے باہر آتے ہی یہاں کی خْنک اور یخ بستہ ہواوں نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا ۔  وہ ٹھٹھر سے گئے اور خْنک ہواوں کا مزا لینے لگے۔ بھوک سے نڈھال دونوں جرمن جوڑے اب کھانے پینے کی چاہ میں ایک اچھے سے ریستوران کی تلاش میں سرگرداں معروف سیاحتی  علاقے  بلیوارڈ روڈ پہنچ گئے۔  نیلے ساکت و جامد شفاف پانی سے لبالب شہرہ آفاق ڈل جھیل کے کنارے موجود ایک معروف ریستوران میں داخل ہوئے اور اپنا آرڈر پلیس کیا۔  راستے میں سْنسان، شہرِ خموشاں کا نظارہ کرنے کے بعد ، اب وہ کشمیر کے پْر آشوب حالات کے بارے میں گفتگو کرنے ہی لگے تھے کہ ایک ویٹر ان کے قریب آیا اور بِنا کچھ کہے انہیں ایک پلے کارڈ دکھایا۔ " یہاں سیاسی گفتگو کرنا منع ہے " پلے کارڈ پر لکھا تھا۔ " اوکے او کے " ایک گول اور کْشادہ میز کے ارد گرد بیٹھے دو جرمن جوڑوں نے باری باری کہ

پریشانی

ایک بڑے اجتماع میں لوگ بے صبری سے مولانا صاحب کا انتظارکررہے تھے لوگ ادب سے بیٹھے تھے اور بڑے شائستہ انداز میںایک دوسرے سے بات چیت کررہے تھے۔بچے جوان بزرگ ہر عمر کے لوگ تشریف رکھے ہوئے تھے۔ ایک بزرگ اپنے قریب بیٹھے بزرگ سے بول پڑے۔ ’’میاں آپ نے مولانا صاحب کے کبھی دیدار کیے ہیں۔‘‘ دوسرے بزرگ بولے۔’’آج تک روبرو تو کبھی دیدا رنہیں ہوئے ہیںلیکن سنا ہے بڑے ذہین اور پہنچے ہوئے مولانا ہیں۔ ہر بیان میں بڑے بڑے مسائل بیان کرتے ہیں ۔‘‘ ’’میاں آپ نے ٹھیک سنا ہے یہ عصر حاضرکے ایک بڑے مولانا مانے جاتے ہیں۔ عمر کے لحاظ سے چھوٹے ہیںمگر فہم وفراست‘ دانائی اور عمل صالح میں یکتا ہیں۔بچے ان کی قسمیں کھاتے ہیں۔اللہ ہر ماں باپ کو ایسی اولاد عطا کرے۔‘‘ ’’آمین۔ایسے ہی صالح بندوں کے سبب دنیا قائم ہے۔

آئینہ فروش

’’کیا میرے سارے آئینے ناکارہ ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔۔؟‘‘   آئینہ فروش مایوس ہوکر اپنے آئینوںکو سامنے رکھ کر بڑ بڑایا ،اس کے دماغ میں راجا کے کہے ہوئے الفاظ اذیت بن کر گونج رہے تھے۔ ’’پیارے دیش واسیو ۔۔۔۔۔۔ ہمارے ذہین و فطین سائنس دانوں نے دن رات ایک کرکے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ہوا میں اڑنے والا آگ کا ایک ایسا طاقت ور گولہ بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے کہ نگری میں سب سے زیادہ طاقتور اور ترقی یافتہ بننے کا ہمارا دیرینہ خواب پورا ہو گیا ۔اب کوئی بھی دیش ہمارے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔۔ نہ ہی ہمارے ترقی کے منصوبوں میں روڑے اٹکانے کی ہمت جٹا سکتا ہے‘‘۔   آدم نگری کے ایک جزیرے کے راجا نے اپنی رعایا کے نام پیغام کی آڑمیںدل وذہن میں تکبر کے بلند و بالا پہاڑ لئے سینہ ُپھلا کر دھمکی آمیز لہجہ میں نگری کے دوسرے

اُجڑتے سپنے

لگاتار دو دن سے برف باری جاری ۔۔۔۔ رکنے کا کوئی نام ہی نہیں ۔۔۔۔۔حماد  اندر کمرے میں اتنا بے چین جیسے کہ جنت کے دروازے پر اسے کوئی زبردستی داخل ہونے سے روک رہا ہو اور وہ بے بس ہوکر مدد کی پکار میں اپنے بابا سے ۔۔ ۔ ’’بابا۔۔۔۔ بابا۔۔۔ کب رُکے گی برف باری ۔۔۔۔۔ کب رکے گی ۔۔۔۔۔بولو  ۔۔ نا۔بولو۔۔  ‘‘ ’’ مجھے باہر جاکے برف کا کا پُتلا اور برف کی سرنگ بنانی ہے ۔۔۔اور تو اور مجھے اپنے دوستوں کے ساتھ برفانی گولے پھینکنے کی لڑائی بھی کرنی ہے‘‘ ’’ہاں یاد آیا ۔۔  میں نے راجو سے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ ہم آنگن میںبرف پر پھسلنے (snow sliding) کا کھیل بھی کھیلیں گے ‘‘ حماد کی یہ تڑپ دیکھ کر اس کے بابا اظہر  مسکراتے ہوئے۔۔ ’’ہاں ۔۔۔۔ہاں ۔۔۔۔۔سب کچھ کرو ۔۔۔۔برف کے ساتھ خوب ک

اللہ! اللہ! اللہ!

  اتوار کا دن تھااور نومبر کا مہینہ۔سورج بادلوں کے لحاف میں مُنہ چھپائے بیٹھا تھا۔بیچ بیچ میں ٹھنڈی دُھوپ اور چھاؤ ں آپس میں آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ عظمت اُللہ کو فوج سے کیپٹن کی پوسٹ سے رٹائرڈ ہوکر گھر پینشن آئے کُل پندرہ دن ہوگئے تھے ۔ایک دن چائے ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد اُنھوں نے اپنی بیوی ساجدہ بیگم کو کہا ’’ساجدہ ! میں اپنے پرانے دوست اور محلے دار بُدھی سنگھ سے ملنے جارہا ہوں ‘‘ ساجدہ بیگم بولی ’’وہاں سے جلدی آجایئے گا ،بازار میں گرم کپڑوں کی سیل لگی ہے ۔میں اپنے اور بچّوں کے لیے سوئٹر اور جیکٹیں خریدنا چاہتی ہوں‘‘ ’’ہاں میں کوئی ڈیڑھ گھنٹے کے بعد آجاؤں گا‘‘ اُنھوں نے ہاتھ میں چھوٹی سی تسبیح اُٹھائی اور اللہ کا ذکرکرتے ہوئے بُدھی سنگھ کے گھر کی طرف چل دیئے۔تھوڑے وقت کے بعد وہ

پگھلا ہوا سیسہ

’’تھوڑی لیں گے؟‘‘ نہیں، جس چیز کو میں نے ایک بار ترک کردیا وہ میرے لئے حرام ہوگئی۔۔۔ ہاں! اگر کوئی میرے سامنے پیے گا تو مجھے اعتراض نہیں۔۔۔‘‘ بے نیاز صاحب نے سلاد سے بھری ہوئی پلیٹ سے گاجر کا ٹکڑا اُٹھاتے ہوئے لاپرواہی سے آتش صاحب کے سوال کا جواب دیا۔ آتش صاحب کے حلق سے اُن کا یہ جواب نہ اُترا۔ اُس نے اِنکی بات کو کاٹنے کی بجائے اپنی ہی مثال دیکر کہا؛ ’’جناب میرے باطن اور ظاہر میں کوئی فرق نہیں۔۔۔ میں کوئی نقاب نہیں پہنتا۔۔۔۔‘‘ ڈاکٹر بے نیاز صاحب کو آتش صاحب کی یہ بات ناگوار گزری لیکن چہرے پہ ملال کا کوئی نشان ظاہر نہ ہونے دیا اور مسکراتے ہوئے گوش گذار کردیا؛ ’’اِس کا مطلب یہ ہوا کہ میں بہروپیا ہوں؟ میں نے ہی نقاب پہنی ہوئی ہے؟۔۔۔۔‘‘ ’’نہیں یار، میں نے آپ کے لئے ن

غربت

بچپن میں آصفہ سے یوں تو ہر خوشی نے جیسے ناطہ ہی توڑ دیا تھا اور اب اس کی طبیعت بھی ایسی ہی بن گئی تھی کہ وہ روتے روتے کبھی ہنس دیا کرتی اور ہنستے وقت اُس کی آنکھیں اشک بار ہو اکرتیں ۔قدرت کی تقسیم کاری سے یوں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں لیکن پھر بھی آصفہ کبھی کبھار اپنے رب سے اپنی بے بسی اور اپنی غربت پر سوال کیا کرتیں ۔رب کی تقسیم کاری سے یوں تو حاسدوں کو ہی اختلاف رہتا ہے لیکن میرے خیال میں اتنا نیک اس دنیا میں کوئی نہیں جو اپنے دل میں کبھی نہ کبھی اس طرح کا وسوسہ نہ پالے ۔آج آصفہ کی سہیلی نے حسب ِ معمول نہایت خوبصورت پوشاک پہنی تھی اور آصفہ وہی پرانے کپڑے جو وہ کئی عیدوں پر پہن چکی تھی اور جس کے متعلق وہ کئی بار اپنی ماں سے کہہ چکی  تھی ’’ماں نجمہ ہر عید پر نئے کپڑے پہنتی ہے ،کیا اس کے والدین اتنے اچھے ہیں جو اُسے ہر تہوار پر نئے کپڑے پہننے کو دیتے ہیں یا نجمہ ا

سکون

علی بابا ایک متقی اور پرہیزگار  انسان تھے۔ وہ ہمیشہ ہاتھ میں تسبیح لئے عبادت خداوند میں مشغول رہتے تھے۔گاؤں بھر میں اس کی عبادت گزاری اور دیانتداری کا خوب چرچا تھا۔لوگ اسے امین اور صادق کے ناموں سے پکارتے تھے۔بستی میں جب کھبی بھی کوئی مسئلہ پیش آتا، تو لوگ اس کا حل تلاش کرنے کے لئے علی بابا کے پاس دوڑے چلے آتے اور وہ اس مسلے کا حل معقول طریقے سے نکال لیتے۔وہ ہمیشہ پرسکون رہتے، یاد خدا اور خدمت خلق اُن کا پسند دیدہ مشغلہ تھا۔انہوں  نے اپنی زندگی میں سکھ ہی نہیں بلکہ دکھ بھی بہت دیکھے تھے مگر کبھی اس کی پیشانی پر بل نہیں پڑے۔۔غم کو وہ اپنے آس پاس بھٹکنے بھی نہیں دیتے تھے۔وہ ہمیشہ خوش و خرم نظر آتے۔ ایک دن اچانک ان کی جوان بیوی کا انتقال ہو گیا۔ پوری بستی پر ماتم کی فضا چھاگئی۔بستی کی سبھی عورتیں ماتم کرنے لگیں۔ جوان،بوڑھے سب تشویش میں مبتلا تھے کہ بیوی کا غم آخر سب غموں س

افسانچے

بیٹی بیٹے  بھگوان داس کو ایمرجنسی تھیٹر میں داخل کیا گیا تھا اسے کوئی سرجکل پرابلم تھی۔ تھیٹر کے باہر کوریڈور میں اس کے چار بیٹے اور ایک بیٹی انتظار کر رہے تھے جب اس کے گھر بیٹی پیدا ہوئی تھی تو اس نے دس روز بھوک ہڑتال کی تھی کیونکہ وہ بیٹی کو ایک نحوست سمجھتا تھا۔ سرجن آیا تو بھگوان داس کے بیٹوں نے اس سے کہا ڈاکٹر اگر  ہمارے پتا شری کو کچھ ہوا تو ہم اس اسپتال کو آگ لگا دیں گے۔ وہ ہمارا بھگوان ہے خیال رکھنا ۔سرجن گھبرایا ہوا تھیٹر میں داخل ہوا ۔۔ مریض کا پیٹ چاک کیا گیا تو اس کی سانس رک گئی اور وہ مرگیا ۔سرجن گھبرا گیا ۔۔اب کیا ہوگا، وہ سوچنے لگا، اس نے اسپتال کے ڈائریکٹر کو فون پر صورتحال سے آگاہ کیا ۔۔۔اس نےمسکراتے  ہوے جواب میں کہا میرے پی اے سے بات کرو ۔۔۔پی اے نے سرجن کو سمجھایا کہ کیا کرنا ہے ۔۔۔سرجن نے سب سے سینئر نرس سلطانہ کو باہر بھیجا ۔ سلطانہ نے بھ

’’شب ‘‘

ماں اپنی بیٹیوں کو یہ سمجھاتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ ’’آج کی شب بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔آج کی شب میں زندگی اور موت کے فیصلے لکھے جاتے ہیں اس لئے اللہ کی بارگاہ میںگڑگڑاتے ہوئے اپنی لمبی عمر کے لئے دعا مانگو۔۔اور گناہوں سے مغفرت۔۔‘‘ اتنے میں گھر کا اکلوتابیٹا عابدیہ کہتے ہوئے کچن میں داخل ہوا۔ ’’مما۔۔۔۔۔مما مجھے بہت زیادہ بھوک لگی ہے جلدی سے کھانا پروسو۔‘‘ ماں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔’’تو میں کہہ رہی تھی کہ آج تم شب بھر بیدار رہوگی۔‘‘ یہ سُن کر بیٹے نے اصرار کرتے ہوئے کہا۔’’مما۔۔۔۔۔مما  میں بھی شب بیداری کروں گا۔‘‘ بیٹے کے تئیں محبت نے ماںکو یہ کہنے کے لئے آمادہ کردیا۔’’بیٹے تم ابھی چھوٹے ہو۔تم کھانا کھا کے سو جائو۔‘‘ بیٹے نے طا

ویڈیو کال

میں اُس کے ماتھے پر چپکی غم کی تصویر کو پڑھ سکتا تھا۔ وہ کسی فلسفی کی طرح بیڈ پر لیٹا نہ کُچھ کہتاتھا نہ سُنتا تھا۔ اُس کے ہونٹوں پر صرف ایک ہی سوال تھا۔ ’’کیا میں آخری بار اپنی بیوی سے مل سکتا ہوں؟‘‘ ’’پھر ۔۔۔ پھر کیا ہوا!‘‘ میں نے ڈاکٹر سے پوچھا۔ اندھیرا دھیرے دھیرے اُس کی چھاتی میں اُترتا جارہا تھا۔ آس کے پل اُس سے دور بھاگنے کی تَگ دو میں تھے! درد بھری دھیمی آواز میں اُس جوان نے مجھ سے رو رو کر کہا۔ ’’ڈاکٹر صاحب! اب مجھ سے بدن کا جنجال برداشت نہیں ہوپاتا۔ میری سوچ گھبرا جارہی ہے!‘‘ ’’کیوں۔۔۔ کیا بات ہے؟‘‘ میں نے اُس مریض سے پوچھاجو زندگی کی آخری سانسیں گِن رہا تھا۔ ’’ڈاکٹر صاحب! میں جانتا ہوں کہ میں زندگی کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہوں جہاں سائن ب

منزل کہاں ہے تیری

’’اپنی بکھری ہوئی کتابیں سمیٹو ساتھیو۔۔۔۔۔اور بڑھتے جاو ۔ آگے ہی آگے۔ہمیں بہت دور جاناہے۔چلو۔۔۔۔۔‘‘ــــ ماہان اُن سب کے بیچ اپنی ست رنگی جھنڈی لہراتا ہوا چیخ رہا تھااور قبیلے کے جوان  بوڑھے،مرد عورتیںبچے۔۔۔۔سبھی ہمہ تن گوش تھے۔اُنکے چہروں پر بڑا جوش وخروش تھا۔لیکن کوئی کوئی تو اداس بھی تھا۔اندر ہی اندر بجھا ہوا سا۔۔۔۔۔جیسے یہ لمحہ ہی عذاب ہو۔۔۔۔یہ ساری کہانی ہی فضول اور بے معنی ہو۔جیسے جو کچھ نظر آتا ہے۔وہ ہے ہی نہیں۔۔۔بس آنکھوں کا دھوکہ ہے  ۔ایک فریب ۔۔۔ ’’ہٹاو۔۔۔ہٹاویہ دُھند آنکھوں پر سے۔۔۔‘‘ماہان نے اونچی آواز میںاچانک چلا کر کہا۔کوئی جان نہ سکاکہ وہ کس سے مخاطب ہوا تھا۔اپنے آپ سے یا ہوا کی سرگوشیوں سے۔۔۔۔ یکبارگی ایسا ہوا۔سیاہ گھنے بادلوں میں سے تیز چمکتا ہواسورج باہر نکل آیا۔ دوسرے ہی لمحے  دور دور تک ز

بچپن

وہ ایک معمول کا دن تھاہر روز کی طرح میں اپنے کمرے میں بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھاکہ اچانک مجھے احساس ہوا کہ یہاںکسی چیز کی کمی ہے۔کچھ دیر سوچتے سوچتے مجھے یاد آیا کہ نازیہ اور خالدہ کے بچے، جو ہر روز میری کھڑکی کے ٹھیک سامنے کھیلا کرتے تھے ،آج وہاں نہیں تھے ۔ دراصل یہ اُنھیں کے شوروغُل کی کمی تھی جو مجھے تھوڑی دیر پہلے محسوس ہوئی تھی ۔نازیہ اور خالدہ اصل میں جٹھانی تھیں دونوں کے بچے اکثر ہمارے آنگن میں کھیلا کرتے تھے ،حالانکہ دونوں بچوں کے گھر میں بھی ایک سندر سا باغیچہ تھا وہ چاہتے تو وہاں بھی کھیل سکتے تھے۔مگر یہ بچے ان سب چیزوں کو کہاں دیکھتے ہیں ،ان کے کھیل کود اور اُتھل پتھل کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے لیے کوئی چیز رُکاوٹ بن جاتی ہے ۔بچے اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہیں اور شائد اسی آزادانہ زندگی کا نام ’’بچپن ‘‘ہے۔خیر !میں اپنے کمرے سے باہر نکل کر

آخری جام

’’آج میں نے اپنی عمر کی ننانوے بہاریں مکمل کرکے ہمیشہ زندہ رہنے کا پہلا پڑائو سر کر لیا۔اب موت کو اپنے سے دور رکھنا بہت حد تک آسان ہو جائے گا ۔خوشی کے اس موقعہ پر مجھے اپنی کمائی کا ایک اور حصہ کسی خیراتی ادارے کو دان کرنا چاھیے تاکہ موت کے فرشتے کو اپنے سے ہمیشہ دور رکھ سکوں‘‘ ۔ نکولن چارلس نے اپنی نناوے ویںسالگرہ کے موقعے پر اطمینان کا سانس لیا اوردل ہی دل میں اوپر والے کا شکر بجا لاتے ہوئے اپنے منیجر کوایک خطیر رقم اُس لائیف کمپنی کو خیرات میں دینے کا حکم صادر فرمایا جو موت کو انسانوں سے دور رکھنے کے مشن پر کام کر رہی ہے اور یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ مستقبل میں موت کو انسانوں سے دور رکھنے کے (نا ممکن )کام یا کم سے کم انسانوں کی عمروں میں سینکڑوں برس کا اضافہ کرنے میں کامیاب ہوگی ۔مشہور سائینس دان نکولن چارلس نے اپنی ساری زندگی انسانی صحت اور مختلف بیماریوں

تازہ ترین