تازہ ترین

لاٹھی پہ ٹِکاوجود

انتیس دسمبر کی وہ ایک سہانی دوپہر تھی ۔آسمان پر دُور دُور تک بادلوں کا نام ونشان نہ تھا۔موسم سرماشروع ہوچکا تھا ۔ایسے موسم میں جب خُنک ہوائیں پورے جسم میں جُھر جُھری سی پیدا کردیتی ہیںتو آدمی اپنے آپ کو گرم رکھنے کے سامان ڈھونڈتا ہے ۔گنجان شہر کے زیادہ تر لوگ اپنے گھروں کے کوٹھوں پہ چٹائیوں اور کمبلوں پر بیٹھے دھوپ کا آنند لے رہے تھے لیکن اسّی سالہ محمد دل نواز ، جو پولیس محکمہ کے سربراہ کے طور ریٹائر ہوگئے تھے،اپنی شریک حیات دلنشیںبیگم کے ساتھ اپنی چار منزلہ کوٹھی کی پہلی منزل کے برآمدے میں بیٹھے اپنی گذشتہ زندگی کے البم دیکھ رہے تھے۔اُنھوں نے نہ جانے کیوں آج اپنے سب سے چھوٹے بیٹے سلامت اللہ سے اپنی پُرانی اٹیچی سے تین البم منگواکر اُنھیں دیکھنا شروع کیا تھا۔وہ آلتی پالتی مار کر نیچے ایک گدے پر بیٹھے تھے ۔اُن کی پیٹھ کے پیچھے نرم موٹاتکیہ تھا اور اُن کی دائیں جانب اُن کی شریک ح

کنکریاں

پری کنکریوں کو ہاتھوں میں لے کر کھیل شروع کرنے لگی۔ ’’اِکّا۔۔۔ دُکا۔۔۔ تِکا۔۔۔‘‘ اوہ کمال ہے دیدی! تجھے ایک بھی کنکری نہیں لگتی۔ کیا جادو کررکھا ہے تو نے اِن کنکریوں پر؟ لیکن آج تو میں بھی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ تجھے ہرا کر ہی دم لوں گی۔چلو تیری باری ہے اب۔۔۔ مگر ۔۔۔۔ مگر میں پہلے بھیڑ بکریوں کو موڑ کر لاتی ہوں‘‘۔ شیرین نے کنکریاں ہاتھ میں اُٹھا لیں اور ان گول گول سی کنکریوں کو ہاتھ میں لیتے ہی اُسکی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ وہ ایک دم اپنے پُرپیچ ماضی کے رستے پر قدم بڑھاتی گئی۔ جہاں ہر ہر قدم پر کوئی نہ کوئی خاص یاد تازہ ہوتی گئی۔ سب سے پہلے تو اُس کی شادی کا وہ منظر اُبھرنے لگا جب اُسے ڈولی میں بٹھایا گیا تھا اور ڈولی اُٹھتے وقت ہی اُس کی خاص اور اکلوتی سہیلی پردہ ہٹاتے ہوئے اُس کے ہاتھوںمیں چند کنکریاں تھما گئی تھی۔ اُس نے کہا تھا ۔۔۔۔ ’&

افسانچے

ڈرامہ  وہ عبادت گزار تھا اور ملنسار تھا مکر پھر بھی فرشتے اُسے جہنم کی طرف دھکیل رہے تھے ۔اور وہ چلائے جا رہا تھا ۔"مجھے چھوڑدو ۔۔مجھے چھوڑدو "۔۔کیا عبادت کا یہی صلہ ہے۔؟ ۔۔۔فرشتوں نے اس کے سامنے ایک بڑا آئینہ کھڑا کیا اور اس میں اس کی زندگی کا ڈرامہ شروع کیا ۔"یہ دیکھو تمہاری عبادت ،ریاضت،کیوں اکارت ہوئی"۔۔ اس کی زندگی کا سین چلنے لگا ۔وہ بول رہا تھا "۔۔۔۔۔ارے ۔۔نکالو یہ ماسک واسک ۔۔۔۔اس سے کچھ نہیں ہوتا ۔یہ سب ڈرامہ ہے اور کچھ نہیں۔۔۔" وہ اپنے بھائی سے کہہ رہا تھا ۔تو بھائی بولا "۔۔۔یہ سب جو مر رہے ہیں ۔۔۔۔کیا یہ سب جھوٹ ہے؟؟" تو اسلم خان بولا "۔۔ارے بدھو ۔۔یہ سب پتہ نہیں کیا چال ہے ۔۔۔ڈاکٹروں کی باتوں میں نہ آئو۔"۔۔۔۔ اس کے بعد آئینہ ماند پڑ گیا ۔دھندلا، جیسے ڈرامہ ختم ۔۔۔۔ پھر فرشتہ گویا ہوا ۔۔"۔۔وہ دیکھ

افسانچے

خاموشی وائرس کی گھٹن زدہ اور جان لیوا ہوا سارے شہر میں پھیل چکی تھی۔ گلیوں ، سڑکوں اور بازاروں میں ایسی بھیانک خاموشی چھائی تھی جیسے مردہ گاڑنے کے فوراً بعد لوگ قبرستان سے نکلے ہوں ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وائرس کے اس دیو نے سب کی کایا کلپ کرکے انسانوں کو ذروں میں تبدیل کر دیا ہو۔  "تم کہاں جارہے ہو؟" سلطانہ شوہر کے باہر چلے جانے پر پوچھ رہی تھی ۔  "میں ۔۔ میں کھانے کا کچھ انتظام کروں گا"۔ اشرف اُداس ہوکر گھر کے دروازے سے باہر نکلا ۔  سنسان اور بدبو دار گلی سے نکل کر اس نے بازار کا رخ کیا۔ لیکن وہ خاموشی کے دل دہلا دینے والے مناظر دیکھ کر خوفزدہ ہوا۔ اس نے دیکھا کہ اکثر گھروں پر تالے چڑھے تھے۔  "شاید وائرس کے خوف سے گاوں چلے گئے ہونگے۔" وہ خودکلامی کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا ۔  دن بھر سنسان گلیوں کی خاک چھان ک

موت کی تمنا

چار بجنے ہی والے تھے،میں آفس سے واپس نکلنے کی تیاری میں لگ گیا۔جوں ہی میں مین گیٹ کے پاس پہنچا بارش اس قدر تیزی سے برسنے لگی کہ میں گبھرا کر سیدھے ہی آفس کے اندر پھر سے داخل ہوا اور کھڑکی سے آسمان کی ا ور دیکھنے لگا۔کئی منٹ گزرنے کے بعد آسمان سے اس قدر اولے گرنے لگے کہ لگ رہا تھا کہ صاف قیامت کی نشانی ہے۔بارش اور اولے بند ہونے کا نا م ہی نہیں لے رہے تھے ۔میں پریشان ہوا کہ اب کیسے گھر پہنچوں ۔بڑی دیر کے بعد بارش بند ہوگئی اور میں گھر کی طرف روانہ ہوا۔ژالہ باری اور بارش نے کچھ ایسا طوفان مچایا تھا کہ غریبوں کی جھونپڑیوں کی چھتیں چھلنی ہوگئی تھیںاور پانی کمروں کے اندر ٹپک رہا تھا اورشوو غوغا کا منظر تھا ۔تھوڑی دیر بعد جب میں گھر کی اور بڑ ھتا گیا تو ہا ہا کار مچ گئی تھی۔جو لوگ اُوپری منزلوں میں رہائش پذیر تھے اُن کے پورے سامان کا خدا ہی حافظ یعنی وہ سب ناقابلِ استعمال بن چکا تھا ۔فرش،

سونے کی انگوٹھی

میں اپنے سر کو دونوں ہاتھوں کے درمیان دبا کر آنکھیں بند کئے دن بھر کے مناظر کو یاد کرکے لرز رہا تھا تو پیچھے سے آواز آئی ، اے اٹھ کمینے! کھانا کھائو۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو لوہے کے دروازے پر ایک سپاہی کھانے کی تھالی میری طرف دھکیلتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ میں بے بس ہوکر اسے صرف دیکھتا رہا۔ من میں آیا کہ اسے کہہ دوں کہ تھوڑا سا زہر لاکر دو وہی بہتر رہے گا۔ سپاہی واپس چلا گیا تو میں نے دوبارہ اپنی آنکھیں بند کیں اور منہ موڑ کے سر کو جھکا کے بیٹھ گیا۔ جوں جوں وقت گزرنے لگا میرے لئے رات بھاری ہونے لگی۔ کھانا کھائے بغیر ہی رات کے نہ جانے کس پہر میری آنکھ لگ گئی کہ صبح تک بالکل ہوش نہ رہا۔ سپاہی کی آواز سے صبح میری آنکھ کھلی تو سپاہی نے کہا اُٹھ تجھے بڑے صاحب اپنے کمرے میں بلارہے ہیں۔ میں سر کو جھکا کر سپاہی کے پیچھے پیچھے بڑے صاحب کے کمرے میں پہنچ گیا۔ بڑے صاحب نے سپاہی کو جانے کا ا

تازہ ترین