تازہ ترین

جنگ ُیگوں کی

دریا میں بے شمار قسم کی مچھلیاں ہیں اوراُنکے بیچ ایک جنگ مدتوں سے جاری ہے۔ سیاہ مچھلی سفید کی گھات میں۔۔۔زرد مچھلی سبز کو پیٹ میں اتارنے کی کوشش میں مصروف۔۔۔اور لال مچھلی کچھ تلاشتی ِ،اچھلتی تیز۔۔۔۔ دریا اپنے سفر میںرواں ہے۔ دوسرے علاقوں سے بھی دریا آگے بڑھ رہے ہیں۔ایک موڑ پر  دو  دریا آپس میںملتے ہیں ۔ایک سے ہوجاتے ہیںمگر کنارے کنارے ۔۔اپنی کہانی روانی جاری رہتی ہے ۔ د ریانے ایک موڑ کاٹ لیاہےسفید مچھلی سطح آب پہ آکے دور کا ایک منظر چُراتی ہے ۔اسے پانی کی رنگین لہروں پر سنہری  مچھلیوں کے چمکتے لہراتے ہوئے بدن  اچھے لگتے ہیں۔للچاتے ہیں ۔اپنی جانب بلاتے ہیں  یکبارگی اس میں کچھ ترنگ سی آجاتی ہے۔ جسم و جاں میںایک حرارت سی بھرجاتی ہے۔ تھوڑا سااچھل کے وہ  آگے بڑھتی ہے اور اُسی پل سیاہ مچھلی اپنا بھاری منہ کھولے نمودار ہوتی ہے۔ س

دوسری بَلا

ہر طرف خوف و دہشت کا ماحول پھیلا ہوا تھا۔ایسا خوف و دہشت کہ شہر کے سارے لوگ اپنے اپنے گھروں میں قید ہوکر رہ گئے تھے۔ہر ایک کی زبان پر بس اللہ کا نام تھا۔حامدہ بی بی کے آنگن میں دو تین ننھے منے بچے کھیل رہے تھے۔اسی دوران حامدہ بی بی چھوٹے گیٹ سے آنگن میں خالی ہاتھوں داخل ہوگئی۔آبدیدہ نگاہوں سے بچوں کی طرف دیکھا اور انہیں  اندر لے کر چلی گئی۔انہیں کمرے میں بیٹھا کر سمجھانے لگی کہ:  ’’آج سے باہر نکلنا بالکل بند۔‘‘ بچے حیران ہوکر ایک ساتھ پوچھ بیٹھے: ’’کیوں اماں جان،ایسا کیوں۔ ‘‘ یہ سن کرحامدہ اپنے بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیراتے ہوئے بولی: ’’میرے پیارو ہم جس شہر میں رہتے ہیں۔ یہاں ہمیشہ سے انسان قیدیوں کی طرح  اپنی زندگی بسر کرتے آئے ہیں۔ یہاں صرف حیوانوں کا دور دورہ چل رہا ہے۔مگر آج  با

نسخہ ٔ کیمیا

’’وزیر خارجہ ۔۔۔۔۔۔۔پڑوسی سیارہ زمین کے باشندوں کے بارے میں کیا خبر ہے ؟ ہمارے سیارے پر ہوٹل اور شاپنگ مال تعمیر کرنے کے ان کے منصوبوںکا کیا ہوا؟‘‘ ملکہ نے اپنے تخت پر جلوہ افروز ہوتے ہی با رعوب آواز میں پوچھ لیا۔          ’’ملکہ کا اقبال بلند ہو ۔۔۔۔۔۔جان کی امان پائوں تو بتائوں‘‘ ۔ ’’ جلدی بتائو ۔۔۔۔۔۔‘‘۔ ’’دو مہینوں سے زیادہ وقت سے ہمارے چک پوائینٹ سے نظر آنے والی حدود ، جہاں سے روزانہ زمین والوں کے سینکڑوں جہاز گزرتے تھے، سے ایک بھی جہاز نہیں گزرا ہے ۔ہم نے اپنے جاسوس جہاز بھیج کر اس سیارے کا ایک خفیہ سروے بھی کرایا ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔؟  لیکن کیا ،وزیر خارجہ ؟کوئی خطرے کی بات تو نہیں ہے؟‘‘ ملکہ نے پریشان کن لہجے میں پوچھا

آخری نشانی

بہارکا موسم تھا ۔ہر طرف ندی، نالوں اور خوبصورت آبشاروںکا ملا جھلا شور سنائی دیے رہا تھا۔  مختلف اقسام کے پھول کھلے ہوئے تھے ۔بادِ نسیم ان گلوں میں رنگ بھر رہی تھی جو اس خطہِ عرضی کوایک پُر کیف رونق بخش رہے تھے۔ یہ خوبصورت مناظراپنی اور کھینچ رہے تھے۔ گویا کہ قدرت اپنی تمام رُعنائیوںکے ساتھ جلوہ افروز تھی۔یہی وہ قدرتی نظارے ہیں جن کے بدولت کشمیر کو جنتِ ارضی کہا گیاہے۔ ندی کے کنارے ایک چھوٹی سی پہاڑی کے دامن میں سر سبز سفیدوں اور بید کے درختوں کے درمیان ایک خستہ حال مکان زمانے کی کئی سرد و گرم ہوائوں کی داستانِ ستم سنا رہا تھا۔جہاں زینب دنیا سے بے نیاز اپنے کمسن بچوں کے ساتھ قید حیات کاٹ رہی تھی۔ زینب جس کی خوبصورتی کبھی ہر ایک کو پلٹ کر دیکھنے کے لئے مجبور کرتی تھی۔ جسم میں توازن ، قد فربہ ، گلابی رُخسار، جب ہنستی تو گالوں میں ڈمپل بن جاتے، موٹی گول سرمئی آنکھیں، مرجان 

افسانچے

ماسک   کرونا وائرس نامی وبا سے بچنے کے لئے میں نے بھی ہر عام آدمی کی طرح ماسک خرید لیے۔بلکہ میں نے تو بہت سارے خرید لیے۔سوچا جس دفتر میں ،میں بحیثیتِ چپراسی کام کر رہا ہوں وہاں اِنہیں فروخت کر کے چند پیسے میں بھی کما لوں گا۔ میں اِس میں کامیاب بھی ہوا لیکن جوں ہی صاحب کے کمرے میں چائے لے کر حاضر ہوااور صاحب کو ماسک خریدنے کی تجویز پیش کی تو دوسری جانب کرسی پر تشریف فرماں اُن کی اہلیہ، جن کو میں ایک عرصہ کے بعد دیکھ رہا تھا،مجھ سے مخاطب ہو کرجواباََ بولی’’تمہارے صاحب نے پہلے ہی بہت سارے ماسک پہن رکھے ہیں۔اِس لئے اُنہیں اب اِس ماسک کی ضرورت نہیں۔‘‘صاحب حیران و پریشان انداز میں بولے’’صمدو ! تو جا یہاں سے ۔ ۔ ۔ ‘‘پھر میری نظر سائیڈٹیبل پر پڑی اُن تصاویر پر گئی جن میں صاحب کے ساتھ کوئی دوسری عورت نظر آرہی تھی۔معاملہ گرم تھا ۔سو

دل کا درد اور دلوں کا مِلاپ

ڈاکٹر نوشاد جہازمیں داخل ہوکر اپنی سیٹ نمبر ائیر ہوسٹس سے معلوم کررہا تھاکہ ایک نوجوان نے اپنی سیٹ سے کھڑے ہوکر انہیں سلام کیا۔ دوسرا نوجوان اسی مقصد کیلئے کھڑے ہوکر نمستے کرنے لگا ۔ پچھلی قطارکی سیٹ سے ایک لڑکا اور لڑکی ان حضرت کو عزت دینے کے لئے آگے کی طرف آئے ۔  سارے مسافر حیران ہوئے کہ آخر یہ کون شخص ہے ؟ جس کواتنی عزت دی جارہی ہے۔  ان حضرت نے ان سبھوں کا کو ہاتھ کے شارے سے شکریہ کیا۔ یہ سب دیکھ کر ائیر ہوسٹس نفیسہ بھی حیران ہوئی۔ آخر یہ کون شخص ہے جس کی اتنی عزت کی جارہی ہے؟  نفیسہ نے دل ہی دل میں کہا جہاز روانہ ہونے کے قریباً ایک آدھ گھنٹہ بعد مسافروں میں سے ایک نے، جس کا بعد میں پتہ چلاکہ وہ ڈاکٹر الیاس ہے، نے بیل بجاکر کافی کاآرڈر دیا۔ جب نفیسہ نے کافی کا کپ ڈاکٹر الیاس کوپیش کیا تو اس نے یہ کپ ڈاکٹر نوشاد کو دیا۔ یہ دیکھ کر

میرا پتہ

آج میں نے شہر میں اپنے گھر کے دروازے کا نمبر مٹا دیاہے۔ اب لوگ اپنے سوچ کے کینواس پر سے میری شیبہ کو مٹا دیں گے، پر میرے نقوشِ پا لوگوں کو میرے ہونے کا احساس تو ضرور دیں گے۔ ’’پھر تم کہاں ملو گے!؟‘‘ میرے دوست پروفیسر رمضان نے مُجھ سے تعجب کے ساتھ پوچھا۔ ’’مجھے پاکر تمہیںکیا ملے گا؟‘‘ ’’میرے من کا بوجھ ہلکا ہوگا‘‘ پروفیسر نے جواب دیا۔ ’’بھائی !کیسے؟‘‘ ’’اس لئے کہ جب میرا من کبھی غم سے بوجھل ہوجاتا تھا تو میں اپنے معمولات کو آپ کے ساتھ شیئر کرتا تھا۔ تب تم مجھے غم کو بُھلانے کا نسخہ بتاتے تھے اور میرا بوجھ خود بخود ہلکا ہوجاتا تھا! لیکن اب جب تم نے اپنے گھر کا نمبر ہی مٹا دیا ہے اور راہِ فرار اختیار کی ہے تو میرا غم مجھے اندر ہی اندر کالے سانپ کی طرح ڈس لے

بدلتے رنگ

چاچا جان نے رضیہ کے سر پر ہاتھ رکھ کرلڑکھڑاتی آواز میں کہا ۔۔۔۔ ب۔۔بہ۔۔۔بٹیا  : آج سے اس گھر کی دیکھ بال تمہارے ذمے ہے ۔۔۔۔  رو مت ۔۔دیکھو کیا حالت بنائی ہے اپنی ۔۔۔اوپر والا سب کچھ ٹھیک کردے گا۔۔۔۔ صبر کرو ۔۔۔۔۔۔نہ جانے اس گھر کو کس کی  نظر لگ گئی ۔۔۔۔۔نہیں تو کیا  !  اللہ میرے جوان بھائی کو یوں ہی ہم سے چھین لیتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رو مت بٹیا  ۔۔۔۔۔۔خالق کی جو مرضی تھی وہی ہوا ۔۔۔۔آخر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔۔۔۔۔اور آگے بھی وہی ہونا ہے  جو اس کو منظور ہوگا۔۔۔۔ ہمارے بس میں تو کچھ بھی نہیں  ۔۔۔موت تو اٹل ہے ۔۔۔۔اس لقمئہ اجل کا مزہ تو ہر جان کو چکھنا ہے۔ دنیا کی روایت یہی ہے کہ جو یہاں آیا اس کو ایک نہ ایک دن جانا ہی پڑتا ہے ۔۔۔۔   ہمارے رونے دھونے سے  وہ  واپس  تو نہیں آئیں گے۔۔ ۔۔زندگی کا تو یہی دستور ہے ۔۔

معاملہ!

ایک بوڑھا آدمی الیکٹرانک اسٹور میں گیا وہاں بیٹھے کاریگر کے پاس چلا گیا اور جیب سے اپنا موبائل فون نکالا اور کہنے لگا ،"السلام علیکم، جناب ذرا اس موبائل کودیکھئے، شاید خراب ہو گیا ہے۔ کاریگر نے سلام کا جواب دیا اور موبائل فون کو جانچ پرکھ کر کہا،" نہیں بابا جی ،یہ تو بالکل ٹھیک ہے، اس میں کوئی خرابی نہیں ہے"۔ "اچھا پھر مجھے بتائیے جب میں بچوں کا نمبر ڈائل کرتا ہوں تو یہ صحیح نہیں ہے( not valid )کیوں بتاتا ہے؟"- کاریگر سمجھ گیاکہ معاملہ کیا ہے اور وہ سوچنے لگا کہ دنیا میں ایسے بچے بھی ہیں جو اپنے والدین کے ساتھ ایسا سلوک کر تے ہیں، حالانکہ موبائل انہیں باپ نے ہی خرید کے دیا ہوت اہے۔   لوہند شوپیان طالب علم 10ویں جماعت موبائل نمبر؛9697402129  

زنجیر

اْس کی سٹی گْم ہوگئی تھی۔ نہ وہ اپنی دْم ہلا رہا تھا اور نہ ہی اپنے خوب صورت عقابی دیدے گول گول گھما رہا تھا۔ بیزار تھا اور بیمار سا لگ رہا تھا۔ بد دل اور سہما سا۔۔۔۔۔ منہ بسورتا ہوا بڑا عجیب لگ رہا تھا۔ دراصل یہ ٹونی تھا، میرا جرمن شفرڈ  پالتو کْتا ، جسے چند برس قبل مانو  میں نے  گود لیا تھا۔ میرے ایک فوجی افسر دوست کرنل دیا رام نے مجھے تحفے میں دیا تھا اور میں اسے اپنی گاڑی میں بٹھا کر اپنے گھر لے کر آیا تھا۔ تب وہ صرف تین ماہ کا تھا اور اب ماشااللہ تین سال کا۔پچھلے ہفتے کی ہی بات ہے، اچھا خاصا تھا۔چْست درْست، چاق و چوبند اور جاذب نظر۔ پوری طرح سے نکھر آیا تھا اور میرے پائیں باغ کی زینت بنا ہوا تھا۔ اکثر میرے ہی قریب نظر آتا تھا اور میرے آگے پیچھے دُم ہلاتا ہوا پھرتا رہتا تھا ،تب تک جب تک کہ میں وہاں موجود رہتا۔ میں اکثر اسے اپنے گھر کے باہر  بھی لے جاتا تھا ا

افسانچے

احتجاج  ارے کیا ہوا! آپ اتنی جلدی واپس آگئے ۔آپ کیوں اداس ہیں کر ارے آپ کی آنکھوں میں آنسو ۔کیا بات ہے؟ کچھ تو بتائے؟ پیپلی نے اپنے جیون ساتھی کورو  سے پوچھا وہ کرونا کو پیار سے کورو کہتی تھی۔ کورو گم صم تھا اور پیپلی اصرار کئے جارہی تھی۔۔کورو نے آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوے کہا۔۔۔پیپلی تمہیں کیا معلوم  میرے دل پر کیا گزر رہی ہے۔ تم تو اس عورت کی بچہ دانی کے اندر عیش کر رہی ہو  اس عورت کو معلوم نہیں ہے کہ  پیپیلوما فیملی کا وائرس اس کی بچہ دانی کے اندر کینسر کی تیاری کر رہا ہے۔ اس لئے تم عیش کر رہی ہو اور میں در بدر بھٹک رہا ہوں۔ کوئی شکار نہیں مل رہا ہے۔ لوگ غائب ہیں اور میرے خلاف ہر تدبیر پر عمل کر تے ہیں ۔ میں چھپتے چھپاتے ایک گھر میں داخل ہوا  وہاں  ایک  بوڑھا آدمی  اپنا  سینہ زور زور سے مسل  رہا تھا۔ اس کی لاغر

افسانچے

’’کیا کیا نہ سہے سِتم۔۔۔!!!‘‘ بیوی نے ہمت بندھا کر اپنے میاں کو جوں توں کرکے اسپتال چلنے کے لئے آمادہ کردیا، جہاں اس کی بھانجی نے ایک ننھے سے میل بچے کو جنم دیا تھامیاں شعر وشاعری میں کمال دلچسپی رکھتے تھے اور ادبی دنیا میں اپنی اچھی خاصی چھاپ بھی چھوڑ چکے تھے۔بیوی اس لحاظ سے مطمئن تھی کہ ان کے میاںکی شاعری روز سوشل میڈیا پر آتی ہے لوگ روز ہی ان کی شاعری پڑھتے ہیں ۔ کسی کی کیا مجال کہ ہمیں اسپتال جانے سے روکے۔میا ں ڈریسنگ روم میں اپنے بال سنوارنے میں مصروف تھے کہ باہر سے عجلت بھرے لہجے میں آواز آئی۔ ’’ارے سنتے ہو ۔اب اور کتنی دیر لگائو گے۔‘‘ میاں ایک دم سے چونک اُٹھے ۔باہر جھانکا تو بیوی کو اضطراری حالت میںگھوم پھر تے ہوئے دیکھا،من ہی من میں سوچنے لگے۔ ’’کبھی نائو گاڈی پر تو کبھی گاڈی نائو پر۔آج اگلے پچھلے

عید

عید کی آمد آمد تھی اور لوگ باگ زور و شور سے عید کی تیاریوں میں مصروف تھے۔گھر کے کاموں سے فارغ ہو کر صبح صبح ہی ریشما نے بھی بازار کا رخ کیا۔ اس کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی دروازے پر دستک ہوئی ۔عرشی، جو گھر میں اب اکیلی تھی ،نے دروازہ کھولا توباہر موجودبرقعہ پوش خاتون نے اس کو بے ساختہ گلے لگایا،کئی بار اس کا ماتھا چوما اور چاولوں سے بھرا تھیلا، جو وہ ساتھ لائی تھی، اٹھا کر عرشی کے ساتھ ہی اندر داخل ہوگئی۔ ’’ بیٹی۔۔۔۔۔۔تمہاری امی کہاں ہے؟‘‘ ’’وہ بازار گئی ہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن آپ کون ہو؟‘‘ ’’تمہاری آنٹی ہوں نا، کئی بار جو یہاں آئی ہوں ۔۔۔۔۔۔‘‘۔ ’’ لیکن امی کہتی ہیں کہ میری کوئی آنٹی نہیں ہے ‘‘۔ عرشی نے اس کی بات کاٹ کر معصومانہ لہجے میں کہاتو وہ ہکا بکا ہو کر رہ

وَبا

دادا جی یہ وباء کیا ہوتی ہے۔ نمازیں مسجدوں میں نہ پڑھو، وہاں مت جائو۔ کچھ نہیں بیٹا حامد۔ یہ ایک بیماری ہے جو دنیا میں زوروں سے پھیل رہی ہے۔ آپ بھی کہیں نہیںجانا۔ نہیں دادا جی میں تو مسجد جائوں گا نماز پڑھنے، ورنہ اللہ ناراض ہوجائےگا۔ ارے حامد بیٹا، اللہ تو ناراض ہی ہے ہم سے، تبھی تو یہ حال ہے دنیا کا۔ دادا جان۔ کیا اللہ مجھ سے بھی ناراض ہے۔ میںتو نماز بھی پڑھتا ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور قرآن شریف کی تلاوت بھی کرتا ہوں۔ ہاں بیٹا حامد! مگر کچھ لوگوں کی وجہ سے ہم سب اس آفت میں مبتلا ہوگئے۔ اسی لئے یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم پر نازل ہورہاہے اور اللہ نے سب کو یاد دلایا کہ یہ دنیا فانی ہے۔ دنیا کے لوگ بھول چکے تھےکہ ایک دن مرنا ہے، وہ تو دولت، شہرت اور پیسہ کمانےمیں لگے ہیں۔ دادا جان کیا دولت، شہرت اور پیسہ کمانا گناہ ہے۔  نہیں بیٹا گناہ نہیں ہے م

تذبذب

شام ہونے کو ابھی کچھ وقت اور تھا ۔گھر میں افطار کی تیاریوں میں بچے بے چینی سے انتظار میں تھے۔ احمد نے پورے چالیس دنوں کے گھر قرنطین  (home quarantine)  کے بعد باہر کی ہوائوں اور ماہِ رمضان کی چہل پہل کا معائینہ کرنے کی خاطر بازار کا رخ کیا۔ چلتے چلتے احمد کو دھندلاہٹ سی محسوس ہونے لگی۔ خیالوں میں مگن احمد نے اپنی آنکھوں کو ہاتھوں سے مَلتے ہوئے من ہی من میں دھندلاہٹ کا سبب  ماہِ رمضان کے پہلے روزے کو ٹھہراتے ہوئے ہولے ہولے آگے بڑناشروع کیا۔۔۔۔(شائد اس کو یہ پتا بھی نہیںکہ یہ اثر بیچارے پر گھریلو قرنطینہ کی وجہ سے ہے۔) اپنے مُحلے کی گلیوں سے احمد کچھ اس طرح سے گذر رہا ہے گویا کہ کوئی اجنبی کسی انجان راستے پر بھٹک چکا ہو۔۔۔ اور ساتھ ہی  کسی چلنے کی بیماری میں بھی مبتلا ہو۔ آخر ایسی کیفیت کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔ بیچارے نے پورے چالیس دن کے بعد باہر کی روشنی جو دیکھی ہے۔۔۔

بھول کسی کی سزا کسی کو

میں نماز جمعہ کے لئے غسل کرنے کے لئے باتھ روم میں داخل ہوا ہی تھا کہ اتنے میں عرفان نے دروازہ پر دستک دی اور بولا’’دادو! وہاں میرا موبائل ہے وہ دیدینا۔ غسل کرنے کے بعد میں اُسے وہیں بھول گیا ہاں!ادھر ہی ہے ۔ میں فارغ ہوکر دوں گا۔ میں نے کہا تھوڑی دیر بعد فون کی گھنٹی بجی۔ یہ کال نجمہ نامی کسی لڑکی کی تھی۔ میں نے فون آف کردیا اور عرفان کی طرف سے واپس مسیج لکھا۔’’میں بات نہیں کرسکتا ۔ سب گھر والے ادھر ہی ہیں ۔گھنے بادل ہیں موسم خراب ہے۔‘‘ ’’آپ بھی مسیج ہی کرنا۔ کال نہ کرنا‘‘  ہم پڑھکر ڈیلیٹ کریں گے۔ ورنہ اگر کسی نے  مسیج پڑھا تو سب راز کھل جائے گا۔ اُدھر سے نجمہ کا مسیج آیا ’’میری دوسہیلیاں کسی کام سے امرتسر سے جموں آئی ہیں ۔ وہ آپ سے بھی ملناچاہتی ہیں کہ میری پسند کیسی

بکھرے رنگ

سیما گھر میں اکیلی تھی… گھر کے سبھی لوگ باہر گئے تھے … رات کا وقت تھا… موسم بہت خراب تھا… اندھیری رات میں بارش بہت تیزی سے ہو رہی تھی… سیما اپنی پڑھائی میں مصروف تھی… بادل زور سے گرجا …اور لائٹ کٹ گئی… ابھی وہ کتابوں کو سمیٹ رہی تھی کہ اچانک گھر کے پیچھے والے کمرے کی کھڑکی کے شیشے ٹوٹنے کی آواز آئی… سیما ڈر گئی… لیکن اس نے ہمت کی اور کانچ ٹوٹنے والے کمرے کی طرف دھیرے دھیرے ڈرتے ہوئے بڑھی… موم بتی کی ہلکی روشنی میں اسے زیادہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ لیکن وہ ہاتھ میں موم بتی لئے گھبرائی ہوئی کبھی کمرے کے اس طرف جاتی اور کبھی اس طرف۔ سیما کو تبھی کوئی آہٹ سنائی دی … اسے پورا یقین ہو چلا تھا کہ کمرے میں کوئی ہے…کہ اچانک اسے ایک کالا سایہ دکھائی دیا … اس سایئے نے کالے کپڑے پہنے ہوئے تھے &hel

عاشو

فجر کی نماز ادا کیے ہوئے ڈیڑھ گھنٹہ کے قریب وقت ہوچکا تھا ۔اماں کھانا پکانے میں مصروف تھی ۔ابا ہمیشہ کی طرح اخبار پڑھ رہے تھے اور عاشو روز کی طرح اسکول جانے کی تیاری میں مشغول ۔سردیوں کی چھٹیوں کو ختم ہوئے ابھی دس پندرہ دن ہی ہوئے  تھے۔ ابھی پوری طرح سے رونق اور چہل پہل کی فضا بھی لوٹ نہیں آئی تھی۔ بیٹھک میں اکھٹے بیٹھے ہم سب نمکین چائے پی رہے تھے کہ باہر سے اعلان شروع ہوا ۔عاشو نے چائے کی پیالی نیچے رکھتے ہوئے ـجلدی جلدی ٹی وی کی آواز کم کردی تاکہ لاوڈ سپیکر سے آنے والی بگڑتی ہوئی آواز ہمارے پردئہ سماعت تک پہنچ پائے۔ اعلان کچھ اس طرح ۔۔۔۔ ’’آج سے تمام ادارے بند کئے جاتے ہیں۔ کسی کو بھی باہر آنے کی اجازت نہیں ہوگی ــ‘‘ عاشو جلدی جلدی اوپر اپنے کمرے میں گئی اور اپنے اسکول بیگ سے کچھ نکالا اور اسے  اپنے واڑروب میں رکھ دیا ۔شاید اپنے دوس

میری مفلسی

"۔۔۔۔یہ لیجئے مہینے بھر کا راشن"،  عامر ایک غریب آدمی کو راشن دے کر کہنے لگا۔ "اللہ تم لوگوں کو خوش رکھے !  تمہارا دامن خوشیوں سے بھرے! "اس آدمی کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اور وہ پھر کہنے لگا،" بھائی جان میرا خاندان بھوکا ہے۔ آج وہ دو روز بعد کچھ کھائیں گے" "اچھا بھائی میں چلتا ہوں خدا حافظ "،عامر یہ کہہ کر دور بیٹھے اپنے دوست کے پاس چلا گیا جو ویڈیو ریکارڈنگ کر رہا تھا اور اسے کہنے لگا" عابد ویڈیو اچھی طرح شوٹ کیا؟" " کیوں نہ کرتا اسی لئے تو ہم نے یہ سب کچھ کیا ورنہ ہمیں اتنا پیسہ خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ بولو؟" عابد نے واپس کہا۔ "اب اس کو فیس بک پر پوسٹ کر دیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس یہ بھی لکھتے ہیں کہ اس کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں پھر دیکھتے ہیں مزہ !"، عامر نے اسے یہ کہہ کر اس ک

افسانچے

’’ ایک بار پھر سہی‘‘   میٹنگ ہال میں غضب کی خاموشی تھی کوئی ہل ڈھل نہیں رہا تھا سب کے چہرے اترے ہوئے تھے پارٹی کے تمام وزراء وممبران سوچوں میںڈوبے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کو  ترچھی نظروں سے دیکھ کر من ہی من میں  اپنی غلطیاں گنوا رہے تھے۔ وزیر خارجہ۔۔’’اگر میں نے ہتھیاروں کی خرید و فروخت کے بجائے رعایا کی بہبودی اور بھلائی کے کام کئے ہوتے تو میرے ووٹروں میںاتنی کمی نہیں ہوجاتی۔ میں آنے والے الیکشن میں آ سانی سے جیت جاتا۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔افسوس۔۔۔!!! وزیر داخلہ۔۔’’اگر میں نے رعایامیں نفرت پھیلانے کے بجائے ان کو پیار ومحبت سے رہنے کا پیغام دیا ہوتاتو یہ درگت نہ ہوجاتی۔میںنے دنگے کراکے  خان ‘ دلت تو کبھی سوڈی کو پٹوایا۔ افسوس۔۔۔۔۔۔!!! وزیر خزانہ۔۔’’اگر میں نے غریب رعایا کا کچھ خیال کیا ہوتا

تازہ ترین