افسانچے

احتجاج  ارے کیا ہوا! آپ اتنی جلدی واپس آگئے ۔آپ کیوں اداس ہیں کر ارے آپ کی آنکھوں میں آنسو ۔کیا بات ہے؟ کچھ تو بتائے؟ پیپلی نے اپنے جیون ساتھی کورو  سے پوچھا وہ کرونا کو پیار سے کورو کہتی تھی۔ کورو گم صم تھا اور پیپلی اصرار کئے جارہی تھی۔۔کورو نے آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوے کہا۔۔۔پیپلی تمہیں کیا معلوم  میرے دل پر کیا گزر رہی ہے۔ تم تو اس عورت کی بچہ دانی کے اندر عیش کر رہی ہو  اس عورت کو معلوم نہیں ہے کہ  پیپیلوما فیملی کا وائرس اس کی بچہ دانی کے اندر کینسر کی تیاری کر رہا ہے۔ اس لئے تم عیش کر رہی ہو اور میں در بدر بھٹک رہا ہوں۔ کوئی شکار نہیں مل رہا ہے۔ لوگ غائب ہیں اور میرے خلاف ہر تدبیر پر عمل کر تے ہیں ۔ میں چھپتے چھپاتے ایک گھر میں داخل ہوا  وہاں  ایک  بوڑھا آدمی  اپنا  سینہ زور زور سے مسل  رہا تھا۔ اس کی لاغر

افسانچے

’’کیا کیا نہ سہے سِتم۔۔۔!!!‘‘ بیوی نے ہمت بندھا کر اپنے میاں کو جوں توں کرکے اسپتال چلنے کے لئے آمادہ کردیا، جہاں اس کی بھانجی نے ایک ننھے سے میل بچے کو جنم دیا تھامیاں شعر وشاعری میں کمال دلچسپی رکھتے تھے اور ادبی دنیا میں اپنی اچھی خاصی چھاپ بھی چھوڑ چکے تھے۔بیوی اس لحاظ سے مطمئن تھی کہ ان کے میاںکی شاعری روز سوشل میڈیا پر آتی ہے لوگ روز ہی ان کی شاعری پڑھتے ہیں ۔ کسی کی کیا مجال کہ ہمیں اسپتال جانے سے روکے۔میا ں ڈریسنگ روم میں اپنے بال سنوارنے میں مصروف تھے کہ باہر سے عجلت بھرے لہجے میں آواز آئی۔ ’’ارے سنتے ہو ۔اب اور کتنی دیر لگائو گے۔‘‘ میاں ایک دم سے چونک اُٹھے ۔باہر جھانکا تو بیوی کو اضطراری حالت میںگھوم پھر تے ہوئے دیکھا،من ہی من میں سوچنے لگے۔ ’’کبھی نائو گاڈی پر تو کبھی گاڈی نائو پر۔آج اگلے پچھلے

عید

عید کی آمد آمد تھی اور لوگ باگ زور و شور سے عید کی تیاریوں میں مصروف تھے۔گھر کے کاموں سے فارغ ہو کر صبح صبح ہی ریشما نے بھی بازار کا رخ کیا۔ اس کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی دروازے پر دستک ہوئی ۔عرشی، جو گھر میں اب اکیلی تھی ،نے دروازہ کھولا توباہر موجودبرقعہ پوش خاتون نے اس کو بے ساختہ گلے لگایا،کئی بار اس کا ماتھا چوما اور چاولوں سے بھرا تھیلا، جو وہ ساتھ لائی تھی، اٹھا کر عرشی کے ساتھ ہی اندر داخل ہوگئی۔ ’’ بیٹی۔۔۔۔۔۔تمہاری امی کہاں ہے؟‘‘ ’’وہ بازار گئی ہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن آپ کون ہو؟‘‘ ’’تمہاری آنٹی ہوں نا، کئی بار جو یہاں آئی ہوں ۔۔۔۔۔۔‘‘۔ ’’ لیکن امی کہتی ہیں کہ میری کوئی آنٹی نہیں ہے ‘‘۔ عرشی نے اس کی بات کاٹ کر معصومانہ لہجے میں کہاتو وہ ہکا بکا ہو کر رہ

وَبا

دادا جی یہ وباء کیا ہوتی ہے۔ نمازیں مسجدوں میں نہ پڑھو، وہاں مت جائو۔ کچھ نہیں بیٹا حامد۔ یہ ایک بیماری ہے جو دنیا میں زوروں سے پھیل رہی ہے۔ آپ بھی کہیں نہیںجانا۔ نہیں دادا جی میں تو مسجد جائوں گا نماز پڑھنے، ورنہ اللہ ناراض ہوجائےگا۔ ارے حامد بیٹا، اللہ تو ناراض ہی ہے ہم سے، تبھی تو یہ حال ہے دنیا کا۔ دادا جان۔ کیا اللہ مجھ سے بھی ناراض ہے۔ میںتو نماز بھی پڑھتا ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور قرآن شریف کی تلاوت بھی کرتا ہوں۔ ہاں بیٹا حامد! مگر کچھ لوگوں کی وجہ سے ہم سب اس آفت میں مبتلا ہوگئے۔ اسی لئے یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم پر نازل ہورہاہے اور اللہ نے سب کو یاد دلایا کہ یہ دنیا فانی ہے۔ دنیا کے لوگ بھول چکے تھےکہ ایک دن مرنا ہے، وہ تو دولت، شہرت اور پیسہ کمانےمیں لگے ہیں۔ دادا جان کیا دولت، شہرت اور پیسہ کمانا گناہ ہے۔  نہیں بیٹا گناہ نہیں ہے م

تذبذب

شام ہونے کو ابھی کچھ وقت اور تھا ۔گھر میں افطار کی تیاریوں میں بچے بے چینی سے انتظار میں تھے۔ احمد نے پورے چالیس دنوں کے گھر قرنطین  (home quarantine)  کے بعد باہر کی ہوائوں اور ماہِ رمضان کی چہل پہل کا معائینہ کرنے کی خاطر بازار کا رخ کیا۔ چلتے چلتے احمد کو دھندلاہٹ سی محسوس ہونے لگی۔ خیالوں میں مگن احمد نے اپنی آنکھوں کو ہاتھوں سے مَلتے ہوئے من ہی من میں دھندلاہٹ کا سبب  ماہِ رمضان کے پہلے روزے کو ٹھہراتے ہوئے ہولے ہولے آگے بڑناشروع کیا۔۔۔۔(شائد اس کو یہ پتا بھی نہیںکہ یہ اثر بیچارے پر گھریلو قرنطینہ کی وجہ سے ہے۔) اپنے مُحلے کی گلیوں سے احمد کچھ اس طرح سے گذر رہا ہے گویا کہ کوئی اجنبی کسی انجان راستے پر بھٹک چکا ہو۔۔۔ اور ساتھ ہی  کسی چلنے کی بیماری میں بھی مبتلا ہو۔ آخر ایسی کیفیت کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔ بیچارے نے پورے چالیس دن کے بعد باہر کی روشنی جو دیکھی ہے۔۔۔

بھول کسی کی سزا کسی کو

میں نماز جمعہ کے لئے غسل کرنے کے لئے باتھ روم میں داخل ہوا ہی تھا کہ اتنے میں عرفان نے دروازہ پر دستک دی اور بولا’’دادو! وہاں میرا موبائل ہے وہ دیدینا۔ غسل کرنے کے بعد میں اُسے وہیں بھول گیا ہاں!ادھر ہی ہے ۔ میں فارغ ہوکر دوں گا۔ میں نے کہا تھوڑی دیر بعد فون کی گھنٹی بجی۔ یہ کال نجمہ نامی کسی لڑکی کی تھی۔ میں نے فون آف کردیا اور عرفان کی طرف سے واپس مسیج لکھا۔’’میں بات نہیں کرسکتا ۔ سب گھر والے ادھر ہی ہیں ۔گھنے بادل ہیں موسم خراب ہے۔‘‘ ’’آپ بھی مسیج ہی کرنا۔ کال نہ کرنا‘‘  ہم پڑھکر ڈیلیٹ کریں گے۔ ورنہ اگر کسی نے  مسیج پڑھا تو سب راز کھل جائے گا۔ اُدھر سے نجمہ کا مسیج آیا ’’میری دوسہیلیاں کسی کام سے امرتسر سے جموں آئی ہیں ۔ وہ آپ سے بھی ملناچاہتی ہیں کہ میری پسند کیسی

بکھرے رنگ

سیما گھر میں اکیلی تھی… گھر کے سبھی لوگ باہر گئے تھے … رات کا وقت تھا… موسم بہت خراب تھا… اندھیری رات میں بارش بہت تیزی سے ہو رہی تھی… سیما اپنی پڑھائی میں مصروف تھی… بادل زور سے گرجا …اور لائٹ کٹ گئی… ابھی وہ کتابوں کو سمیٹ رہی تھی کہ اچانک گھر کے پیچھے والے کمرے کی کھڑکی کے شیشے ٹوٹنے کی آواز آئی… سیما ڈر گئی… لیکن اس نے ہمت کی اور کانچ ٹوٹنے والے کمرے کی طرف دھیرے دھیرے ڈرتے ہوئے بڑھی… موم بتی کی ہلکی روشنی میں اسے زیادہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ لیکن وہ ہاتھ میں موم بتی لئے گھبرائی ہوئی کبھی کمرے کے اس طرف جاتی اور کبھی اس طرف۔ سیما کو تبھی کوئی آہٹ سنائی دی … اسے پورا یقین ہو چلا تھا کہ کمرے میں کوئی ہے…کہ اچانک اسے ایک کالا سایہ دکھائی دیا … اس سایئے نے کالے کپڑے پہنے ہوئے تھے &hel

عاشو

فجر کی نماز ادا کیے ہوئے ڈیڑھ گھنٹہ کے قریب وقت ہوچکا تھا ۔اماں کھانا پکانے میں مصروف تھی ۔ابا ہمیشہ کی طرح اخبار پڑھ رہے تھے اور عاشو روز کی طرح اسکول جانے کی تیاری میں مشغول ۔سردیوں کی چھٹیوں کو ختم ہوئے ابھی دس پندرہ دن ہی ہوئے  تھے۔ ابھی پوری طرح سے رونق اور چہل پہل کی فضا بھی لوٹ نہیں آئی تھی۔ بیٹھک میں اکھٹے بیٹھے ہم سب نمکین چائے پی رہے تھے کہ باہر سے اعلان شروع ہوا ۔عاشو نے چائے کی پیالی نیچے رکھتے ہوئے ـجلدی جلدی ٹی وی کی آواز کم کردی تاکہ لاوڈ سپیکر سے آنے والی بگڑتی ہوئی آواز ہمارے پردئہ سماعت تک پہنچ پائے۔ اعلان کچھ اس طرح ۔۔۔۔ ’’آج سے تمام ادارے بند کئے جاتے ہیں۔ کسی کو بھی باہر آنے کی اجازت نہیں ہوگی ــ‘‘ عاشو جلدی جلدی اوپر اپنے کمرے میں گئی اور اپنے اسکول بیگ سے کچھ نکالا اور اسے  اپنے واڑروب میں رکھ دیا ۔شاید اپنے دوس

میری مفلسی

"۔۔۔۔یہ لیجئے مہینے بھر کا راشن"،  عامر ایک غریب آدمی کو راشن دے کر کہنے لگا۔ "اللہ تم لوگوں کو خوش رکھے !  تمہارا دامن خوشیوں سے بھرے! "اس آدمی کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اور وہ پھر کہنے لگا،" بھائی جان میرا خاندان بھوکا ہے۔ آج وہ دو روز بعد کچھ کھائیں گے" "اچھا بھائی میں چلتا ہوں خدا حافظ "،عامر یہ کہہ کر دور بیٹھے اپنے دوست کے پاس چلا گیا جو ویڈیو ریکارڈنگ کر رہا تھا اور اسے کہنے لگا" عابد ویڈیو اچھی طرح شوٹ کیا؟" " کیوں نہ کرتا اسی لئے تو ہم نے یہ سب کچھ کیا ورنہ ہمیں اتنا پیسہ خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ بولو؟" عابد نے واپس کہا۔ "اب اس کو فیس بک پر پوسٹ کر دیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس یہ بھی لکھتے ہیں کہ اس کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں پھر دیکھتے ہیں مزہ !"، عامر نے اسے یہ کہہ کر اس ک

افسانچے

’’ ایک بار پھر سہی‘‘   میٹنگ ہال میں غضب کی خاموشی تھی کوئی ہل ڈھل نہیں رہا تھا سب کے چہرے اترے ہوئے تھے پارٹی کے تمام وزراء وممبران سوچوں میںڈوبے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کو  ترچھی نظروں سے دیکھ کر من ہی من میں  اپنی غلطیاں گنوا رہے تھے۔ وزیر خارجہ۔۔’’اگر میں نے ہتھیاروں کی خرید و فروخت کے بجائے رعایا کی بہبودی اور بھلائی کے کام کئے ہوتے تو میرے ووٹروں میںاتنی کمی نہیں ہوجاتی۔ میں آنے والے الیکشن میں آ سانی سے جیت جاتا۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔افسوس۔۔۔!!! وزیر داخلہ۔۔’’اگر میں نے رعایامیں نفرت پھیلانے کے بجائے ان کو پیار ومحبت سے رہنے کا پیغام دیا ہوتاتو یہ درگت نہ ہوجاتی۔میںنے دنگے کراکے  خان ‘ دلت تو کبھی سوڈی کو پٹوایا۔ افسوس۔۔۔۔۔۔!!! وزیر خزانہ۔۔’’اگر میں نے غریب رعایا کا کچھ خیال کیا ہوتا

ناستک

’’ صاحب ۔۔۔۔۔۔ چائے لیجئے‘ ‘۔ چیما جوہری واش رو م سے نکل کر کرسی پر بیٹھا تو اس کا نوکر چائے لے کر اس کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔ ’’کیا کرتے ہو بہادر ۔۔۔۔۔۔کتنی بار بتایا تھوڑی دوری پر رہا کرو‘‘۔ چیما جوہری نے اُسے ٹوکتے ہوئے کہا تو وہ چائے کا ٹرے ہاتھ میں لئے چار قدم پیچھے ہٹ گیا ۔ ’’چائے بنانے سے پہلے ہاتھ سینیٹائیزر سے اچھی طرح دھوئے تھے ‘‘۔ ’’جی صاحب ‘‘۔ ’’ اچھا وہاں رکھو‘‘ ۔ جوہری نے تھوڑی دوری پر رکھی تپائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔بہادر چائے تپائی پر رکھ کر کمرے سے نکل گیا اور جوہری نے اٹھ کر خود ہی چائے اٹھائی اور کرسی پر بیٹھ کر کھلی کھڑکی سے باہر کی اور دیکھتے ہوئے چائے پینے لگا۔باہر خوف کا عالم تھا ،دکانیں بند ،گاڑیاں بند ،ہوٹل بند

لاک ڈائون

ایک تنگ بد بو دار گلی کے آخر میں ٹین سے بنی جھونپڑی سے حسب معمول وہ تلاش معاش کی خاطر نکل گیا۔ گلی سے گزرنے کے دوران  سر پیر بچاتے ہوئے جب وہ شاہراہ پر پہنچا تو حیران و پریشان چاروں سمت دیکھنے لگا۔ ہر سو سناٹا تھا۔ مصروف شاہراہ پر آج جیسے سکتہ طاری ہوگیا تھا۔ وہ شش و پنج میں مبتلا ہو گیا۔  "لگتا ہے قیامت آگئی ہے یا بھوت پریت نے شہر والوں کو محصور کر رکھا ہے، کہاں ہیں سب " وہ حیرانگی میں یہی سوچتا ہوا آگے بڑھ گیا۔  آگے بڑھتے ہر قدم کے ساتھ اسکے ذہن میں نئے نئے خیالات پنپتے رہے۔ یک لخت بچپن میں اماں سے سنی بھوت کہانیاں اسے یاد آنے لگیں۔ شاید شہر پر بھوتوں کا سایہ پڑ گیا ہے۔ یا شہر کے بڑے بڑے محل خانوں میں رہنے والے صاحبان نے آج اپنے آرام کیلئے چھٹی کا اعلان کیا ہے۔ یا پھر پچھلی بار کی طرح کسی کا خون ہوگیا ہو۔  وہ یہی باتیں سوچتے سوچتے آگ

دو قدم آگے

پومپڑ پیازی لگ بھگ ستر برس کی عمر کا رہا ہوگا۔تانتیا سا لمبا اور پتلا۔ اْس کے سانولے چہرے پر جْھریوں کا اِک جال سا بْنا ہوا تھا۔سر پر  لمبے اور اْلجھے ہوے بے ترتیب بال، کچھ کچھ جھاڑیوں کے جھْنڈ جیسے، آدھے کالے تو آدھے سفید۔ پھٹی ہوئی قمیض شلوار اور اوپر سے کالے رنگ کا ایک لمبا سا کوٹ ڈالے وہ بڑا عجیب سا لگتا تھا۔ آگے کوئی۔۔۔۔ نہ پیچھے۔ کون تھا اور کہاں سے آیا تھا، یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔ لوگ اسے پومپڑ پیازی کے نام سے  جانتے تھے اور پیازی بابا کے نام سے پکادتے تھے۔ آوارہ قسم کا ایک دیوانہ شاعر تھا۔ دن بھر اْوٹ پٹانگ شاعری کرتا ہوا نارنگ چوک کے گردونواح میں پھرتا رہتا تھا۔ نارنگ چوک کے اگلے نْکڑ پر اس کا رین بسیرا تھا، جہاں وہ ایک گیراج کے کونے میں پڑی ہوئی ایک پرانی گاڑی کے ایک خالی پنجر میں پڑا رہتا تھا اور رات وہیں بسر کرتا  تھا۔یہی پنجر اْس کا گھر اور ٹھکانہ ت

طِلّےوالافرن

محبت کی کوئی منزل نہیں ہے محبت موج ہے ساحل نہیںہے میری افسردگی پہ ہنسنے والے تیرے پہلو میں شاید دل نہیں ہے یمبرزل وادی میں ان لوگوں کے لئے گزر بسر کرنا کتنا محال ہوجاتا ہے جو لوگ صرف بہار کے چند مہینوں کی کمائی پرسال بھر پر گذارہ کرتے ہیں۔ بہار کے آخری ایام میں ہی پوری وادی سخت سردی کی سنگین چادر کے اندر سمٹ کر سکڑجاتی ہے۔ ان سردیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے یہاں کے اکثر لوگ کانگڑیوں کا شکم کوئلوں سے بھر بھر کر زندگی کو کیا جیتے کہ دن گن گن کر وقت گزارتے ہیں۔ البتہ کہیں کچھ آسودہ حال لوگ مہنگی مہنگی گیس بخاریوں کا سہارا لیتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے گھروں کے اندر بنائے گئے حماموں کو گرم کر کے بیٹھ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ تو اپنے محل خانوں کو تالہ لگاکر اللہ کے سپرد کرکے وادی سے ہی نکل جاتے ہیں۔ کچھ بھی کرلے یہ بات طے ہے یہاں رہ کر یہاں کے لوگوں کو سخت سردی کو جھیلنا ہی پڑتا ہے۔ حسب

نالائق

 ’’ اے نالائق ۔۔۔ کیا لکھ دیا یہ ۔‘‘ امجد نے ارشدکی ہوم ورک کاپی ہاتھ سے چھین لی۔  ’’  نالایک ‘‘ ارشد کا معصوم سا جواب    ’’ اس طرح سے لکھا جاتا ہے ۔؟  تم واقعی نالائق ہو ۔یار ارشد کب سمجھے گا  تو ۔  صحیح لفظ لکھنا کب سیکھ جائے گا ۔‘‘   ’’ مجھ سے نہیں ہو پاتا امجد ڈئیر ۔ کیا کروں‘‘   ’’ دیکھ کیسے لکھا جاتا ہے ۔  ۔ اب سیکھ بھی لے۔ نہیں تو فیل ہوجائے گا ۔‘‘  امجد بہت دیر تک اپنے دوست ارشد کو مشکل الفاظ لکھنا سکھاتا رہا لیکن ارشد پھر بھی غلطی پر غلطی کرتا جا رہا تھا۔ ’’نالائق‘‘۔ امجد نے ارشد کے سر پر ہلکی سی چپت لگا کر کہا اور ارشد ہمیشہ کی طرح زور دار  قہقہہ لگا

یہ آنسو دل کی زبان ہے

میں نے زلیخا کو ایک ہی نظر دیکھا اور دیکھتا رہی رہ گیا ۔ وہ بلاکی خوب صورت تھی۔ حسن وشباب کا بہتا سمندر تھی۔ اس کی چال، اس کی زُلفیں ، اس کی سرمئی آنکھیں، اس کا گلابی چہرہ سب کچھ بے مثال تھا۔ میں اللہ تعالیٰ کی اس صناعی کو دیکھ کردنگ رہ گیا۔ میں ہروقت اس کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب رہتاتھا۔ اُس سے دوباتیں کرنے کی تمناتھی۔ وہ ہر وقت اپنی نظریں جھکائے اِدھر اُدھر کے ماحول سے لاتعلق رہتی تھی۔ میں جب بھی اس کے قریب جانے کی ناکام کوشش کرتا تو وہ چپکے سے وہاں سے کھِسک جاتی۔ اسکے اس برتاؤ سے مجھے بہت کوفت ہوتی تھی۔ میں ہر وقت اسی کے خیالوں میں ڈوبا رہتا ۔ نہ دِن کو چین اور نہ رات کوآرام۔ کئی بار تو یہ بھی خیال نہ رہتاکہ کیا کھارہاہوں۔ کبھی کبھی تو لقمہ منہ کے نزدیک لے جاتے جاتے ہاتھ وہیں رُک جاتا ۔ گھر والے کہتے بھئی!کس سوچ میں ڈوبے ہو۔ میں کوئی جواب نہ دیتا ۔ اِدھر اُدھر کی ک

آج میں کل تُو

’’میں نفیس احمد کی نافرمانی اور بے راہ روی کی وجہ سے تنگ آچکی ہوں ۔گریجویشن کرنے کے بعد بھی اُس کے دل میں نہ والدین کے لیے عزت واحترام ہے اور نہ ہی مجھے اُس میں کوئی اچھی عادت نظر آرہی ہے ۔پرسوں ہماری پڑوسن ثمرین میرے پاس آگئی اور آنسو بہاتے ہوئے کہنے لگی ’’آپا……!آپ کا بیٹا نفیس احمد میری بیٹی شاہدہ کو موبائل فون پہ ناشائستہ کمنٹس لکھتا ہے ۔وہ اُسے پریشان کررہا ہے ۔بیٹی نے شرم کے مارے باپ سے کوئی بھی شکایت نہیں کی لیکن مجھے بیٹی نے سب کچھ سُنایا،دکھایا ۔آپ اپنے بیٹے کو سمجھا لیجیے کہ انسانیت کے دائرے میں رہے ورنہ بہت بُرا ہوگا‘‘ فیروز عالم نے اپنی بیوی دلنشیں اختر کی باتیں سُنیں تو لمحہ پھر میں اُن کے چہرے کی رونق نہ جانے کہاں غائب ہوگئی ۔وہ اپنے گھر کے بر آمدے میں مشین پہ کسی کا زنانہ سُوٹ سی رہے تھے ۔اپنے بیٹے کی ناشائ

افسانچے

پرندے آزاد ہیں   "اپنے اپنے گھروں میں بیٹھیں باہر نکلنا منع ہے۔" پولیس کی یہ اطلاع علی الصبح جب راشد نے سنی تو اپنے بابا سے کہنے لگا۔" بابا آج کیا ہوا ہے، باہر نکلنا کیوں منع ہے؟" بابا نے ایک سرد آہ بھر کر بولا- "بیٹا سردیوں میں باہر کی ہوا۔۔۔۔۔۔۔ کچھ ٹھیک نہیں ہوتی۔" بابا کی بات سن کرراشدکچھ حیران سا ہو گیا۔اور اپنے بابا سے کہنے لگا "دادا اور دادی کہہ رہے ہیں کہ پوری دنیا پر خدا کا عذاب نازل ہوا اور اس عذاب میں تمام انسان قید ہیں اور پرندے آزاد۔۔۔۔۔۔۔"   نم آنکھیں "اسکول بند ہے لیکن امجد میاں کل سے آپ کے گوگل کلاسز ہوں گے"۔  "گوگل کلاسز سر ؟ " امجد متعجب ہو کر اپنے استاد کی طرف دیکھنے لگا۔ "ہاں"گوگل کلاسز بیٹا،، امجد نے جب اپنے استاد سے یہ الفاظ سنے تُو وہ اف

قدرت کا لاک ڈائون

   ہم تین دوست ایک ہی کمپنی میں کام کرتے ہیں اور کمپنی کے رہائشی فلیٹ میں ہی رہتے ہیں۔یہ تین منزلہ فلیٹ شہر کے نزدیک ایک صحت افزاء مقام پر واقع ہے۔میں پہلی منزل میں اور وہ دونوںباقی دو منزلوں میں رہتے ہیں۔اب تو کئی برس سے ایک ساتھ رہ کر دوستی کا بندھن اور بھی مضبوط ہوگیا ہے‘اس لئے  ہم ایک دوسرے کی سوچ‘ رہن سہن اور فکرو خیال سے بخوبی واقف ہیں ۔اتوار کو چونکہ چھٹی ہوتی ہے اس لئے دن کا زیادہ تر وقت فلیٹ کے سامنے والے خوبصورت لان میں بحث و تمحیص میں گزرجاتا ہے۔ موضوعِ بحث کی کوئی قید نہیں ہوتی ۔کبھی سیاست تو کبھی معشیت‘کبھی مذہب تو کبھی عالمی امن وامان اور خوف وہراس وغیرہ۔ لیکن اکثر مذہبی معاملات میں بحث طول پکڑتی ہے۔ویسے بھی ہم لوگ اگر کسی موضوع پر بات کرنا آسان سمجھتے ہیں تو وہ مذہب کا ہی موضوع ہوتا ہے‘ چاہئے کوئی ان پڑھ ہی کیوں نہ لیکن وہ بھی خود

افسانچے

آخری کوشش‘   ویران سڑکیں ‘دم توڑتی ہوئی زندگی۔ایک دہائی۔۔۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔ ایک دہائی سے وہ محبت کے بندھن میںبندھے ہوئے تھے ۔لاک ڈاون کے باوجود بھی وہ ملنے اور ایک ہوجانے کی کوشش کررہے تھے ۔ایک آخری کوشش۔۔۔۔۔! دور دورکھڑے محافظوں کی نظر سے بچتے بچاتے ہوئے وہ پارک میں پہنچ گئے۔ ’’جان اب تو سارے رشتہ دارہماری محبت کے دشمن ہوچکے ہیں یہ ہمیں ملنے نہیں دینگے‘‘ پائل نے چندر کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔’’دنیا بہ امید قائم ہے کوئی راستہ نکل آئے گا۔‘‘ ’’جان میں تمہارے  بغیر زندہ نہیںرہ سکتا ۔میں اب کوئی بھی رسک لینے کے لئے تیار ہوں ۔‘‘ ’’چندر اب کے ہمیں کوئی جدا نہیں کرسکتا ہے۔‘‘ اتنے میںپائل کی نظر اپنے بھائیوں پر پڑی جو ہاتھوں میں بندوق لہراتے

تازہ ترین