تازہ ترین

پندرہ،سولہ

سرسوتی مرکزی دانش گاہ کو شہر سے کافی دُور ایک ہموار میدانی علاقے میں قائم کئے ہوئے اکیس برس ہوچکے تھے ۔ شعبۂ حیوانات ونباتات ،ٹکنالوجی ، ریاضیات،اقتصادیات، معاشیات،سماجیات،نفسیات ،سیاسیات اور شعبہ ٔ  انگریزی کے علاوہ ہندی کا شعبہ بھی اس دانش گاہ میں شروع ہی سے قائم کیا گیا تھا ۔پروفیسر محمد اخلاق کو جب اس دانش گاہ کا کُلپتی بنایا گیا تو اُنھوں نے بڑی حکمت عملی ،محنت ،ایمان داری اور بہترین پلاننگ سے اس دانش گاہ کو چار چاند لگانے میں کوئی بھی کسر اُٹھائے نہیں رکھی ۔ سرکار نے ایک ضرورت کے طور پر اُنھیں کُلپتی کا عہدہ سونپا تھا کیونکہ اُن سے پہلے یہ دانش گاہ ایک طرح کی دُکان بن چکی تھی ۔اُنھوں نے قلمدان سنبھالتے ہی تمام تدریسی اور انتظامیہ ملازمین کے ساتھ ایک میٹنگ کی اور انھیں یہ تلقین کی کہ وہ ایمانداری ،خوف آخرت، محنت ولگن کے ساتھ کام کریں اور دانش گاہ کو اپنا گھر سمجھ کر اپنے فر

نیلم

واقعی تم آؤو گے نا؟ میرے لیے ۔! تمہیں ہو کیا گیا ہے؟کل سے تم صرف ان ہی الفاظ کی رٹ لگائے بیٹھی ہو۔ایسی اناپ شناپ باتیں منہ سے نہ نکالو ۔اٹھو اور مجھے چائے دو مجھے دیر ہو رہی ہے۔میں اتنی ضروری باتیں کر رہی ہوں اور آپ کو چائے کی پڑی ہے۔آخر نیلم تم مجھے کہاں آنے کے لیے کہہ رہی ہو ۔نیلم کا قہقہ اس قدر زور سے پڑا کہ اطہر کو کچھ دیر کے لیے لگا کہ جیسے کسی نے اس کے گھر میں بم داغا ہو۔میں مذاق کر رہی ہوں ،دیکھا کس طرح تمہارے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔تم بھی نا ۔۔۔۔کبھی نہیں سدھرو گی۔ آج میں کام سے تھوڑا Late   آؤں گا۔ میں ایک دوست کے یہاں اُ سے دیکھنے جا رہا ہوں۔تم کھانا کھا لینا میرا انتظار نہیں کرنا۔فیاض معمول سے آج کچھ زیادہ ہی پہلے نکل گیا ۔آفس پہنچ کر وہ اپنے کام میں مگن ہو گیا ۔اُس کے ذہن میں دوست کے یہاں جانے کی بات گونج ہی رہی تھی کہ گلزار اجازت لے کے اندر داخل ہوا۔سر

وہ لوٹ آیا۔۔۔مگر!

سارہ  اور ارسلان  شادی  کے بعد ہی عمان (Oman)جانے کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے ۔ دونوں کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ شادی کے ساتھ ہی ارسلان کو ایک فرم میں آرکیٹیکچرل انجینئر کی نوکری مل گئی تھی۔ اگلے کچھ دنوں میں نئی جگہ پر کام سنبھالنا تھا ۔ ارسلان کی پوسٹنگ عمان کے دارالحکومت مسقط سے ڈیڑھ دو سو کلو میٹرکی دوری پر بھلا Bhala نام کے قصبے  میں ہوئی تھی ۔  پہنچتے ہی اس نے جوائن کیا اور آفس کے آس پاس ہی گھر لےلیا۔ ارسلان نے کام شروع کیا ۔ اسے پرانے قلعے کو سنبھالنے کا کام سونپ دیا گیا تھا۔ کئی سو سال پرانا قلعہ اب تاریخی یاد گار بن چکا تھا۔وہاں کی حکومت قلعے کو اپنی  تاریخی شکل میں خوبصورت بنانے کی خواہاں تھی۔ جگہ کا معائینہ کرنے کے لئے خلیل نامی ایک مقامی شخص کو ارسلان کے ساتھ بھیج دیا گیا۔ خلیل کاقد کچھ زیادہ لمبا تھا۔ موٹے ہونٹ، سیاہ رنگ&n

زندگی کے رنگ

آسمان پر کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔موسم کے آثار بتا رہے تھے کہ آج جو بارش ہوگی تو جلدی رکنے والی نہیں ۔مجھے ابھی بوریولی سے چرچ گیٹ ٹرین  پکڑنی تھی اور ابھی بس سے بوریولی جانا تھا۔اسی بات کی ٹینشن میں چھوٹا بیٹا جو پیروں سے لپٹ رہا تھا اسے جھڑک دیا ۔بیوی، جو بجلی کے بل کی آخری تاریخ بتا رہی تھی،کو بھی دو باتیں سنا ئی تھیں اور قسمت کو کوستے ہوئے بس اسٹاپ پر پہنچا تھا کہ دیکھا ایک بیس اکیس سال کی ایک لڑکی تھی،بے حد خوبصورت اور معصوم۔اس کی آنکھیں نیلی اور گہری تھیں لیکن قسمت کی ستم ظریفی ان آنکھوں کے چراغوں میں روشنی نہیں تھی۔میں جو جلد سے جلد گھر پہنچنا چاہتا تھا۔اب بت بنا اس معصوم لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔ حالانکہ میری عادت دوسرے مردوں سے مختلف تھی اور میں راہ چلتی لڑکیوں کو دیکھنا معیوب سمجھتا تھا۔لیکن اس لڑکی سے نظر ہٹ نہیں رہی تھی اور اس کے لبوں پر پھیلی مسکراہٹ ایسی تھی جی