خود کشی

 طارق شبنم  ’’بھابھی۔۔۔۔۔۔  اگر بھیا نے سلیم کے ساتھ میری شادی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو میں خود کشی کرکے اپنی جان دیدوں گی‘‘۔ رضیہ نے روتے ہوئے اپنی بھا بھی نگہت سے کہا ۔ ’’دیکھو رضیہ تمہارا بھیا تم سے بہت پیار کرتا ہے اور تمہاری ہی بھلائی چاہتا ہے۔ میری صلاح مانو تم سلیم کا خیال دل سے نکال دو کیوں کہ ایک تو وہ بیکار ہے اوپر سے اس کا چال چلن بھی ٹھیک نہیں ہے، تمہارے بھیا کہتے ہیں کہ وہ آوارہ لڑکا ہے اور شراب بھی پیتا ہے‘‘ ۔ نگہت نے اُسے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا۔ ’’نہیں بھا بھی ۔۔۔ کچھ بھی ہو آپ کو کسی بھی طرح سے بھیا کو اس شادی کیلئے راضی کرنا ہوگا‘‘۔ ’’دیکھورضیہ ۔۔۔۔۔۔ تم ابھی نادان ہو، لیکن میں ہرگز نہیں چاہوں گی کہ تمہاری زندگی بر باد ہو جائے اور نہ ہی تم

زِندگی

زندگی یوں تو اللہ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک حسین نعمت ہے اور یہ نعمت اور زیادہ حُسن تب اختیار کرتی ہے جب ساتھ چلنے والے مُنافق نہ ہوں ۔یعنی زندگی میں اگر صرف ایک ہی شخص ایسا ہو جو ہم سے بے لوث مُحبت کرے اور ہمارے دکھ میں دکھی اور خوشی میں خوش ہوجائے تو زندگی جیسی حسین نعمت واقعی اور زیادہ حسین بن جاتی ہے۔خورشید آج صبح سے ہی اپنی بہن سے زندگی سے ملنے والے دکھوں اور سکھوں کی باتیں کرر ہا تھا ۔زندگی کی اونچ نیچ، خوشی و غم ،نشیب و فراز،غرض یہ دونوں بھائی بہن آج زندگی کے ہر ایک پہلو  پر غور کر رہے تھے۔  ۔یوں تو خورشید نے زندگی میں کئی اونچ نیچ دیکھے تھے لیکن سب سے بڑا درد اُ سے تب ملا تھا جب وہ محض سولہ سال کا تھا اور ا س کی والدہ اس دنیا سے کوچ کر گئیں ۔اُس وقت خورشید کے اہلِ خانہ شادی کی تقریب میں جانے کے لیے تیار ہورہے تھے کہ اس کی والدہ کو بجلی کا کرنٹ لگ گیا اور

’’بھرم‘‘

 تین  بج رہے تھے رحمان صاحب ؔ پارک میں ایک درخت کے سائے میں بیٹھے کچھ سوچ رہے تھے کہ صحن کے صدر دروازے کا پٹ کھل گیا اور ان کاشاگرد عثمان ؔ تیز تیزڈگ بھرتے ہوئے اندر آیا۔قریب پہنچتے ہی سلام بجا لا کر نہایت عاجزانہ لہجے میں بولا۔ ’’سر میں نے سویرے فون کیا تھا۔کیا میں آ پ کی کار لے جا سکتا ہوں۔‘‘ رحمان صاحب کچھ دیر سوچنے کے بعد بولے ۔ ’’عثمانؔ میں نے آج تک کسی دوسرے کو اپنی کار ڈرائیونگ کے لئے نہیں دی ہے۔ یہ بہت قیمتی کار ہے ۔‘‘ ’’سر مجھے ڈرائیونگ میں کئی برسوں کا تجربہ ہے۔ یقین رکھئے میںبہت احتیاط کے ساتھ ڈرائیونگ کروں گا۔‘‘ رحمان صاحب سوچ ہی رہے تھے کہ بیگم صاحبہ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا۔ ’’اتنی عاجزی کر رہا ہے دیجئے نا۔چند ہی گھنٹوں کی تو بات ہے۔‘‘ رح

رسوائی

"ارے،ارے،ارے، کہاں جا رہے ہو، تمہیں پتا نہیں باہر پولیس ہے اور گھر سے باہر نکلنا منع ہے۔ اگر پولیس نے دیکھا تو مار مار کر ہڈیاں توڑ ڈالیں گے۔ایک تو غریبی نے ہمارا چین و سکون چھین لیا ہے اور اوپر سے  اب اس نئی آفت نے پریشان کررکھا ہے۔"  چھوٹے بیٹے عامر کے قدم گھر سے باہر کی جانب بڑھتےہی شرافت بہن نےہانک لگائی۔  یہ سنتے ہی عامر اُداس ہو کر کمرے میں واپس چلا گیا اورزانوں پر سررکھ کر رونے لگا۔  پھرکچھ دیر تک اپنی قسمت کو کوستا ہوا بھوک سے نڈھال ہوکر ماں سے کہا: "مجھے کھانا دو...ماں۔۔۔بہت بھوک لگی ہے۔" شرافت بہن یہ سن کرآہ بھرتے ہوئے بولی: "کہاں سے لاؤں گی میں کھانا۔ تیرے ابو تو پچھلے دس دنوں سے گھر پر ہی ہیں۔جو کچھ بھی تھا وہ سب گزشتہ دس دنوں میں ختم ہوا۔ اللہ ہمارےحال پر رحم کرے ۔" لاک ڈاؤن کا دم

سزا

فقیروں کو پیسے دیتے ہوئے کلیم صاحب مسجد کی سیڑھیاں اُتر رہے تھے، کہ اچانک ایک فقیر کو دیکھتے ہی رک گئے… جس نے ایک گندھے پھٹے ہوئے کمبل میں منہ کو چھپاتے ہوئے کہا…ارے بابا اللہ کے نام پر کچھ دے دو … اللہ تمہارا بھلا کرے گا… کلیم صاحب کواس کی آواز کچھ جانی پہچانی سی لگی… انھوں نے فقیر سے پوچھا :  تم کون ہو؟ فقیر نے کمبل کی آڑ سے دیکھتے ہوئے کہا مجھ سے دور رہو۔ لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں… مجھے دھتکارتے ہیں۔  کلیم صاحب نے اسے ایک روپیہ دیا اور آگے بڑھ گئے۔ کچھ دوری پر کلیم صاحب کے دوست اشفاق یہ سب دیکھ رہے تھے۔ جیوں ہی کلیم صاحب اشفاق کے پاس پہنچے ، اشفاق نے کہا، ارے بھئی تم کہاں وہاں رک گئے تھے۔ اور اس فقیر سے کیا بات کر رہے تھے؟ کلیم صاحب مسجد کی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے کہا، میں اس آدمی کو جانتا ہوں۔ اشفاق کلیم صاحب کی ب

لومڑی اورمُرغا

 ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک مرغا تھا جو قصے کہانیاں سننے اور سنانے کا بہت شوقین تھا۔ جس وقت وہ مرغیوں ،چڑیوں اور کبوتروں کو دیکھتا تھا ان سے گذارش کرتا تھا کہ وہ سنی ہوئی یا دیکھی ہوئی سر گذشتیں بیان کریں اور وہ بھی، اگر ان کو کام بھی ہوتا تھا،مرغے کی دعوت کو قبول کرتے تھے۔ ایک دوسرے کے ارد گرد بیٹھتے تھے اور کہانیاں سناتے تھے، جو کچھ انہوں نے دیکھا ہوتا یا سنا ہوتا۔وہ حیلے اور بہانے جو گیدڑ اور لومڑی اور دوسرے شکاری مرغوں اور جانوروں کو پکڑنے کے لئے بناتے ہیں۔اور وہ مصیبتیں جو انکے یا انکے دوستوں پر گذری ہوتیں اس کے متعلق بات کرتے تھے اور اسطرح مرغے کو بہت سی خبریں فراہم ہو جاتی تھیں۔ ایک دن مرغا تنہا رہ گیا تھااور وہ جس باغیچہ میں زندگی گذارتا تھا اس کا دروازہ کھلا تھا۔مرغا کوچے میں آگیا اور چلتے چلتے کوچے سے صحرا  میںپہونچ گیا۔بہار کا موسم تھا اور صحرا سر سبز اور شاداب

ریشِ ستم کیش

درگا رائوؔ کا قد درمیانہ سے ذرا لمبا، چہرہ نیم کتابی، آنکھیں کچھ غلافی، ناک قدرے گول او رٹھڈی مبہم سی تھی۔ وہ خوش لباس اور خوش مزاج تھے اور اپنی قابلیت کے سبب آرٹ کالج کے مقبول  ترین استاد بھی ۔ مخلوط تعلیمی اداروں میں اکثر اساتذہ کے ساتھ کوئی نہ کوئی کہانی وابستہ ہو جاتی ہے، مگر دُرگا رائو کے ساتھ کبھی کوئی خبر منسلک نہ ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ گھر والوں نے ان کی شادی ایک قبول صورت خاتون کے ساتھ کر دی ۔ دُرگا رائو کے روز و شب میں کوئی تبدیلی نہ آئی ۔ وہ پہلے کی طرح منضبط انداز میں کالج جاتے،  نئے نئے معرکے سر کرتے، اپنا کام لگن سے کرتے  رہے۔  درگا رائو کی بیوی کی بس ایک ہی مانگ تھی کی وہ داڑھی رکھ لیں ۔ مگر درگا رائو کہتے کہ اگروہ پہلے ان کی زندگی میں آئی ہوتی تو بات الگ تھی ۔ اب ا ن کے جوان نظر آنے والے چہرے پر سفید بال،  سیاہ سے زیادہ اگتے ہیں اور داڑھی

سوار

کیا آپ کہانی سننا پسند کریں گے ؟  کیا آپ کو کہانی سننے میں دلچسپی ہے؟  ویسے آپ کو سنتے پڑھتے دیکھ کر لگتا ہے  کہ آپ کو کہانیوں میں، داستانوں میں دلچسپی ضرور ہے۔  بھلا کیوں نہ ہوگی۔ کہانی ہماری تاریخ ہے، کہانی آج کی بات ہے، کہانی کل کی اُ مید ہے ۔  کہانی کل بھی  ہمیں رقم کر رہی تھی، کہانی آج بھی ہمیں لکھ رہی ہے اور کہانی کل بھی ہمیں سنائے گی۔  پر  پر جو کہانی میں آپ کو سناوں گا یا جو آپ پڑ ھیں گے اس پر آپ کو حیرت ضرور ہوگی  اس پر آپ کو یقین نہیں  ہوگابلکہ آپ پریشان بھی ہوسکتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے مجھ پر غصہ بھی ہوں۔۔۔۔پر۔۔۔۔ پر آپ کو یقین کرنا ہوگا، جی ہاں! یقین کرنا ہی ہوگا، بالکل اسی طرح جس طرح آپ کرتے آئے ہیں۔۔۔ہر بات پر۔۔۔۔ہر بات پر۔۔۔۔ بنا دیکھے، بنا جانے، بنا سمجھے۔۔۔۔بنا پرکھے ۔۔۔۔۔ہاں بالکل ویسے

افسانچے

موبائل نمبر9797711122 احساس  ہمارے گھر کے سامنے ایک  پرائیویٹ کلینک ہے جہاں روزانہ مریضوں کی اتنی بھیڑ رہتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب کھانا کھانا بھی بھول جاتے ہیں .کلینک کچھ روز سے بند پڑا ہے ۔آج ظہر کے وقت  میں نے ڈاکٹر صاحب کو مسجد کی طرف جاتے دیکھا تو میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔ "ڈاکٹر صاحب!!  آپ دن بھر بہت مصروف  رہتے ہو آج اچانک خدا کا گھر کیسے یاد آ گیا؟؟" میرا جملہ سن کر ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ " بھائی صاحب ایک ہفتے سے کافی بیمار ہوں۔ سوچا اپنا علاج اس حکیم سے کرالوں جو سب سے بڑا طبیب ہے. بیماری ایسی لگ گئی ہےکہ عمر بھر کی کمائی بھی خود کو بچانے کیلئے کم پڑ رہی ہے ۔"   امداد "ارے ماجد.! کمال ہے یار تم نے تو بہت ساری جگہوں پر غریبوں میں راشن تقسیم کیا ہے." "تمہیں کیسے پتہ چلا

ایس او پی

آج اکرم بھائی کو کافی عرصہ بعد دیکھ کر رشید احمد نے اُس سے گلے مل کر کہا ،" کیوں اکرم بھائی،  آج کل نظر ہی نہیں آتے ہو "۔ "رشید بھائی دراصل میں مہلک وبا کا شکار ہو گیا تھا اور کل ہی مجھے قرنطینہ سے چھٹی ملی "۔ " چلو شکر ہے اللہ کا کہ تم ٹھیک ہو گئے ۔ کل ہمارے گھر پر دعوت کا اہتمام ہے۔ تم ضرور آئو گے" "جی ضرور آؤں گا، انشاءاللہ " دوسرے دن جب اکرم انکے گھر گیا تو دیکھا کہ مہمان ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملائے بیٹھے ہیں۔ نہ ماسک اور نہ کوئی احتیاط۔ یہاں تو ایس او پی کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ اکرم نے رشید سے کہا، " ارے رشید بھائی یہ کیا ؟ یہاں تو ایس او پی نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔۔۔۔۔!" "ارے اکرم بھائی،  ایس او پی صرف کاغذات میں اچھا لگتا ہے۔ حقیقی زندگی میں اسکو عمل میں لانا کافی مشکل ہے ۔ بازا

جُرمِ ضعیفی

تمام عالم کے ساتھ ساتھ گُنجان آبادی والے اس شہر کو بھی سُورج نے اپنی شُعاعوں سے مُنور تو کر دیا تھا لیکن یہاں کی تیز رفتار زندگی میں بسر اوقات کرنے والے ایک دُوسرے کو روند کر زندگی کی دوڑمیں آگے نکلنے کی تگ دو میں محو تھے ،ویسے بھی  آنکھ والے اندھوں کے لئے کیا اُجالا اور کیا اندھیرا ،ان کے ذہن و دل حرس و طمع کی چربی تلے دب چُکے تھے اور آنکھوں پر دولت کی دبیز پٹی بندھی ہوئی تھی ،جہاں کسی کو کسی کی جانب دیکھنے کی فرصت ہی نہیں ۔۔۔۔، نہ کسی سے ہمدردی ۔۔۔۔، نہ کسی کی فکر۔۔۔۔، مہر و محبت سے نا آشنا ۔۔۔۔، اخلاق سے بالکل عاری ۔۔۔، گویا کنکریٹ بُلند و بالا عمارتوں میں بسنے والے ان لوگوں کے دل بھی پتھر کے ہو چُکے تھے ، باکل بے حس ۔۔۔۔،نہ درد۔۔۔۔،نہ جزبہ۔۔۔۔،نہ احساس ۔۔۔۔! مادیت کے مکڑے نے اُنہیں بُری طرح جکڑ رکھا تھا،  بس صُبح بیگ اُٹھا کر دفاتر اور

افسانچہ

ہندوارہ کشمیر،موبائل نمبر؛7780912382   کتاب لاک ڈاون کے طویل گھٹن زدہ ماحول سے تنگ آکر میں اکثر غیر ضروری کاموں میں گھنٹوں بِتا کر دن کاٹنے کا عادی ہوچکا ہوں ۔ قرینے سے رکھی چیزوں کو نئی بلکہ غیر ضروری ترتیب دینا میرا معمول سا بن چکا ہے ۔ کبھی پرانا البم نکال کر تصویروں میں گم ہوجانا، کبھی  بغیچہ میں گھاس کے تنکے چننا ، کبھی مخصوص الماریوں کو کھنگال کر غیر متوقع چیزیں پانا، کبھی سوشل میڈیا پر وقت گزارنااور نہ جانے کیا کیا ۔  آج کمرے میں موجود پرانی بناوٹ کی کتب خانہ نما الماری کی باری آئی ۔کئی لمحوں تک ان پرانی کتابوں کو یونہی گھورتا ہی رہا کہ شاید ان میں سے کوئی کتاب میں نے خریدی ہو مگر مجھے سخت افسوس ہوا کہ یہ ساری کتابیں میرے والد صاحب نے خریدی تھیں اور پڑھنے کا شرف بھی فقط مرحوم کو حاصل ہوا تھا۔ کتب بینی کے معاملے پر ایسا اتفاق میرے ساتھ آج تک نہ

آواز کی کہانی

ریڈیو کے ایک پروگرام کے لئے میری کہانی کی ریکاڈنگ تھی اس لئے ریڈیواسٹیشن جانا پڑا اس کام سے فارغ ہونے کے بعدشاہد نے کنٹین میں گرم گرم چائے پینے کی دعوت دی میں انکار نہ کرسکا۔کنٹین جاتے جاتے کئی نئے پرانے چہرے دکھائی  دئیے۔ ’’یہ نازیہ ہے آپ کی فرمائش کا پروگرام پیش کرتی ہیں‘‘ ’’ ارے بھائی ان کی آواز سے کون واقف نہیں۔۔جادوئی آواز ہے ان کی۔۔۔ اور پھر ان کا انداز بیان ۔۔بہت خوب۔۔ بہت بہتر۔۔آ پ سے مل کر خوشی ہوئی۔‘‘ ’’شکریہ ۔۔جلدی میں ہوں اسٹوڈیو میں میرا انتظاہو رہا ہے‘‘ ابھی ہم دو ہی قدم آگے بڑھے تھے کہ ایک اور سندر سندر سا سراپا سامنے کھڑا ہوگیا ۔ ’’شاہد کیا حال ہے۔کنٹین جارے ہو۔‘‘ ’’ہاں ہاں آپ بھی چلئے نا۔۔یہ فلک ہے فلک ملک۔۔ان کی آواز سے بھ

جانے نہیں دونگی

بِلا ناغہ ہر صُبح نور کے تڑکے اپنی گہری مست و مُدھر نیند کو حرام کرتے ہوئے واک پر نکلنا یقینا" کمال کی بات ہوتی ہے ۔ کیونکر نہ ہو ؟ یہ اتنا آسان بھی نہیں  ہوتا ، کہ ہر کوئی ایرا گیرا نتھو خیرا صبح صبح گہری نیند سے جاگ جائے اور ٹھنڈی یا گرم ہواؤں کے سامنے سینہ سپر ہوتے ہوئے واک کےلیے اپنے لمبے لمبے  ڈگ بھر دے  ۔ بھلے ہی یہ سحری حُسن و جمال کے مزے لینے کی بات رہی ہو اور حفظانِ صحت کی قواعد میں شامل رہنے کا ذریعہ بھی، مگر گہری نیند سے جاگنا بڑا کٹھن ہوتا ہے اور کبھی کبھار لوگوں کو یہ نیند اپنی محبوبہ سے بھی زیادہ عزیز لگنے لگتی ہے ۔ اب اپنی اُفتاد طبع کا کیا کیجیے ۔ گھر اور گھر سے باہر لاکھ پند و نصایح و ملامت و کے متواتر دوار سے گزرنے کے بعد اور کلیجے پر پتھر رکھ کر جو ہم نےسگریٹ نوشی کی عادت ترک کر دی، تو اچانک جسم کا وزن بڑھنے لگا ۔ توند مائل بہ پیش قدمی نظر آنے

علم،عمل اور عقل

  ایک دانا سے پوچھا گیا کہ شعور اور شور میں کیا فرق ہے؟ دانا نے کہا : صرف ’’ ع‘‘ کا۔ پھر پوچھا گیا: ’’ع‘‘ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ’’ ع‘‘ سے مراد علم ‘عمل اور عقل ہے۔ علم ‘عمل اور عقل سے بات کروگے تو شعور کہلائے گا‘ ورنہ صر ف شور۔    میں جب اس حکیمانہ قول پر غور کرتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ ہم میں سے کتنے لوگوں کی سوچ‘ تحریر اورتقریر فقط شور انگیز عمل کی ہی عکاسی کرتی ہے‘ ایسے لوگوں کا دماغ شور کا نقار خانہ(Kittle-drum) ہوتا ہے۔ یہ نقارچی (Drummer)زندگی کے ہر موڈ پر ڈھنڈورا پیٹ پیٹ کر اپنا ڈنکا بجانے کی فکر میں لگے رہتے ہیںاور شعوری و غیر شعوری طور پر ہمیشہ مرغوں کی طرح دوسروں کو چونچ مارنے کی کرتب بازی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔انہیں جب بھی کسی کے بارے میں

علی با با!

فاطمہ نماز فجر سے فارغ ہو کر تلاوت کلام پا ک میں مصروف تھی کہ دروازے پر دستک سن کر وہ گھبراسی گئی ۔ ’’ یا اللہ ۔۔۔۔۔۔ خیر کرنا۔۔۔۔۔۔ اتنی صبح صبح کون ہو سکتا ہے ؟‘‘ خود کلامی کرتے ہوئے وہ اٹھی اور دروازہ کھولا ،باہر محمد جلیل کا بیٹا شارق کھڑا تھا۔ ’’ فاطمہ آپا ۔۔۔۔۔۔ پا پا کی حالت بہت خراب ہے اور مرنے سے پہلے وہ ایک بار آپ سے ملنا چاھتا ہے‘‘ ۔ اس نے بغیر کسی تمہید کے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا ۔ ’’مرے اس کے دشمن ،تم کیوں اتنے گھبرائے ہوئے ،ہو ،اندر آکر چائے پی لو پھر جائیں گے‘‘۔ ’’نہیں آپا ۔۔۔۔۔۔ اتنا وقت نہیں ہے ۔ آپ جلدی چلیں تاکہ اس کی آخری تمنا پوری ہو جائے‘‘۔  کہتے ہوئے شارق کی آنکھیں نم ہوئیں۔ ’’ اچھا بیٹا ۔۔۔۔۔۔ تم دو منٹ رکو۔۔۔۔

نگاہِ مردِمؤمن

عمرہ کے دوران جب میں مقام ابراہیم پر دو رکعت واجب الطواف کی نماز پڑھ کر دعاؤں میں مشغول تھا تو میری دائیں طرف بیٹھی ایک خاتون نماز اور دعا سے فارغ ہوکر مجھ سے کہنے لگی ۔ بھائی جان! میرے لئے بھی دعاکریں۔ میں بہت پریشان ہوں۔ محترمہ! میں بھی آپ کی طرح بلکہ ہر ایک کی طرح اس درکا بھکاری ہوں۔ سامنے کعبۃ اللہ ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کون سی جگہ ہے جواس سے بڑھ کر قبولیت ِ دعا کی جگہ ہوسکتی ہے۔ نہ جانے اس کو مجھ میں کیا ایسا نظر آیا کہ وہ مجھے دعاکرنے کے لئے کہہ رہی تھی ۔ آپ بھی مانگو میں بھی مانگتا ہوں۔ اللہ سب کی سنتا ہے ۔ بس آپ نماز کی باقاعدگی رکھو اور صبر سے کام لو ۔ میں نے اس خاتون سے کہا  ویسے آپ کو کیا پریشانی ہے؟ اگر مناسب سمجھو تو بتا دو۔ ورنہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ خاتون انتیس ۔ تیس سالہ عمر کی ہے۔ اس کی جسامت اورشکل سے ہی پتہ چلتا تھا کہ

لمحہ لمحہ دہشت

اُس کربناک واقعہ کے بعد شازیہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹی۔ وہ دِن کےاُجالے میں اپنے گھر کے بند کمرے میں بیٹھی تھی اور رات شہر کے گلی کوچوں میں بسر کرتی تھی۔ اُس کو رات کا سکوت پسند تھا اور اُجالے کو کوستی تھی!  اُجالے میں اُس کے اکلوتے بیٹے کو اُس سے جبراً چھینا گیا تھا۔ شازیہ کو ایک مہینے کے بعد اپنے جوان بیٹے کی خون میں لت لت لاش ملی۔ اُس کا صرف اتنا قصور تھا کہ وہ اپنی دھرتی ماں کے ساتھ جنون کی حد تک محبت کرتا تھا۔۔۔۔۔۔!! آخری بار شازیہ نے اپنے جوان مرگ بیٹے کا چہرہ بھی نہیں دیکھا تھا۔! شہر میں یہ خبر گشت کر رہی تھی کہ نثار کی قبر کو کئی روز سے کھولنے کی کوشش ہورہی ہے۔ لوگ آپس میں طرح طرح کے خدشات ظاہر کرنے لگے۔ جتنے منہ اُتنی باتیں!! ’’کہیں اس میں چوکیدار کا ہاتھ تو نہیں ہے!؟‘‘ میں نے رؤف سے پوچھا۔ ’’بھلا! چوکیدار ایسا کی

بے موت مرگ

زندگی ایک ایسا سفر ہے جس کی اُلجھنیں سُلجھاتے سُلجھاتے انسان کی عمر گزر جاتی ہے مگر پھر بھی وہ اسے سُلجھا نہیں پاتا ،کچھ خواہشیں ،کچھ ارمان حسرت بن کے رہ جاتے ہیں ۔دراصل زندگی ایک بے مروت سفر ہے۔  اس سفر میں کوئی منزلِ مقصود تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو کوئی راستے کی بھول بھلیوں میں کھو کر رہ جاتا ہے، نتیجتاًاسے منزل ہی نہیں ملتی۔ ہر روز کی طرح آج جب میں آفس کی طرف روانہ ہوا تو میری ملاقات نیلو نامی ایک لڑکی سے ہوئی، جسے ہمارے آفس میں بطورِ چپراسی نوکری ملی تھی ۔نہایت کم عمر اس لڑکی کو دیکھ کر مجھے کافی افسوس ہوا ۔کیوں کہ نہ جانے اتنی سی عمر میں ایسی کون سی مشکل آن پڑی تھی جسے سنوارنے وہ خود میدان میں اُتری تھی۔اس لڑکی کی عمر سولہ سے اٹھارہ سال کے درمیان تھی مگر کام میں اس کی لگن بڑوں سے کم نہ تھی ۔وہ ہمیشہ خاموش رہا کرتی ،کسی سے کوئی بات چیت نہ کرتی اور اپنا کام ختم

آبِ رواں

 یوم خواتین کے تعلق سے شہر کی ایک مشہور این ۔جی ۔او نے لل دید حال میں ایک سمینار کا اہتمام کیا تھا ۔ میں اور میرا دوست بس اسٹاپ پر ساحرہ کا انتظار کر رہے تھے۔ دبلی پتلی اس خاتوں سے ہماری ملاقات اسی اسٹاپ پر ہوئی تھی۔ انہوں نے ہم سے اہسپتال کا ایڈریس پوچھ لیا ۔وہ کافی پریشان سی دکھائی  دے رہی تھی۔ ان کی بائیں جانب ایک نوجوان لڑکی تھی ۔اس کی طرف اشارہ کرکے انہوں  نے بتایا کہ اس بچی کا اہسپتال میں چیک اپ کروانا ہے۔اس کے دونوں گردے کام نہیں کر رہے۔ بے چاری کافی تکلیف میں ہے۔ ’’ہم نے اسے اہسپتال کا ایڈریس بتاتے ہوئے پوچھ لیا کہ اس لڑکی سے آپ کا کیا رشتہ ہے۔انھوں نے بتایا کہ یہ میری بیٹی ہے۔ لیکن یہ آپ کی بیٹی تو نہیں لگتی کیونکہ آپ کی اور اس کی عمر میں کوئی خاص فرق نہیں ہے‘‘  ہما ری اس بات کے جواب میں اس خاتوں، جنہوں نے اپنا نام شمع بتا

تازہ ترین