تازہ ترین

افسانچے

اپنے  موم اب آپ بالکل صحت مند ہیں۔ اس عمر میں آپ نے وائرس کا مقابلہ کیا، کمال ہے! آپ کے گھر والوں کو اطلاع دی گئی ہے کہ کل صبح دس بجے  وہ آپ کو لینے  آئیں گے ۔ نرس نے پچاسی سالہ مریضہ شالینا سے کہا۔ تم نے اس علاج کے دوران میری اپنی بیٹی کی طرح خیال رکھا۔ میری کوئی بیٹی نہیں ہے۔ پانچ بیٹے ہیں سب کی شادی  ہوچکی ہے۔ میرے شوہر جنگ میں مارے گئے ۔ میں نے بیٹوںکو پڑھایا لکھایا اور سب کی شادی کروائی۔ ان کے بچے  مجھے گھیرے رہتے ہیں۔ سب مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔ میرے اپنے میرے بغیر  زندہ نہیں رہ سکتے ہیں۔ کل وہ آئیں گے اور مجھے لے جائیں گے۔۔۔۔۔بوڑھی عورت نے نرس سے کہا نرس  نے لائٹ آف کی اور شالینا نیند کی دیوی کی تلاش  میں بھٹکنے لگی۔  صبح ہوگئی نرس نے کھڑکی کھولی اور تازہ پھولوں کا گلدستہ  شالینا کو پیش کیا۔ جواب میں اس نے نرس

للکار

کبیر چاچا پاگل نہیں تھا۔ چالیس سال وہ آن بان اور شان کے ساتھ درس و تدریس کے کام میں محو رہا۔ اس دوران کبیر چاچا نے عزت کی بلندیوں کو چُھوا اور خوب داد و تحسین حاصل کی۔ وہ ایک مفکر، ایک فلسفی اور ایک عالم دین تھا۔ اُس میں جلال، جمال اور کمال یہ تینوں عناصر موجود تھے۔ وہ تب جلال کا مظاہرہ کرتا تھاجب کوئی ناگہانی آفت آن پڑتی تھی۔ پھر وہ جنون میں آکر لوگوں کو اپنے مخصوص انداز میں متنبہ کرتا تھا۔ جاہل لوگ دیوانہ کہکر کبیر چاچا کا مذاق اُڑاتے تھے۔ میں نے کبیر چاچا کو ہمیشہ سڑک پر گھومتے دیکھا ہے۔ اُس روز بھی کبیر چاچا سنسان شاہراہ پر چِلّا چِلّا کر لوگوں کو خبردار کرتا تھا۔ ’’لوگو! خالق اپنی مخلوق سے خفا ہے۔ اس لئے اُس نے اپنے گھر بیت اللہ سے لوگوں کو بھگا دیا۔ اپنے محبوبؐ کے روضہ مقدس کا دروازہ بھی بند کروایا۔ اب کہاں جائو گے؟ ابھی بھی وقت ہے اپنی ہستی کو مٹا کر اپنے گنا

آخری نیکی

نظام ا لدّین نے ناشتہ کرنے کے بعد اپنے گھر کے واش بیسن میں ہاتھ دھوئے ۔کُلی کرتے ہوئے اُنھیں سامنے دیوار پر لگے آئینے میں اپنا نُورانی چہرہ نظر آیا تو لمحہ بھر کے لیے اُسے دیکھتے ہی رہ گئے ۔پھر اچانک اُن کی نظر اپنی سیاہ ریشمی داڑھی میں مختلف مقامات پہ اُگے چند سفید بالوں پر پڑی تو اُنھیں دھچکا سا لگا ۔اُنھوں نے اپنی بیوی ضوفشاں سے کہا ’’ضوفشاں…!اری دیکھو میری داڑھی میں سفید بال اُگنے لگے ہیں ۔پہلی بار دیکھ رہاہوں ‘‘ ضوفشاں مُسکراتی ہوئی بولی ’’اب آپ بُزرگ ہونے کے ساتھ ساتھ بوڑھے ہورہے ہیں ‘‘ نظام الدّین تلملااُٹھے  ’’اری یہ تُم کیا کہہ رہی ہو ! میں تیس سال کانو جوان کیسے بوڑھا ہورہا ہوں ؟‘‘وہ اپنی داڑھی میں اُگے اُن چند سفید بالوں کو اُکھیڑنے لگے تو ضوفشاں نے منع کردیا بولی &

’ گنگ‘

’’باہر نظرماریئے محلہ کمیٹی والے شاید کوئی مدد کریں ‘‘ بیوی کا یہ جملہ سنتے ہی اس کی بے چینی میں مزید اضافہ ہو گیا۔   گلی سے ہوتے ہوئے شاہراہ اور شاہراہ سے واپس گھر کے کئی چکر لگانے پر بھی جب کوئی سبب نہ بنا تو گل محمد کی ہمت نے جواب دے دیا۔ اسی محلے کی ایک چھت سے توجہ کا مرکز بناگل محمد جب اب کی بار باہر نہ آیا  تو تھوڑی دیر بعد کچھ آدمی اس کے دروازے پر نمودار ہوئے اور راحت ر سانی کا کچھ سامان  دے کرواپس ہو لئے۔ گل محمد کی پریشانی حل ہو گئی مگر شام ہوتے ہوتے وہ جیسے بستر مرگ تک پہنچ گیا۔ '' کیا بات ہے؟.....  درد کہاں ہے؟۔۔۔۔۔ آپ کچھ بول کیوں نہیں رہے؟ ''  سوال تو وہ سنتا مگر جواب نہ دے سکا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کن الفاظ سے وہ اس کیفیت کو بیاں کرے کیونکہ تب تک سوشل سائٹس پر اس

شور

رات کا سیاہ اندھیرا  پورے شباب پر تھا۔دور دورتک سناٹا چھایا ہوا تھا۔ لیکن وحشی جانوروں کی آوازیں بلند تھیں۔کتے اوربھیڑیوں کی آوزیں دل کو دہلاجاتی تھیں۔انسانیت اپنے وجود کو چھپائے ہوئے،اپنے تھکے ہوئے اور مردہ جسموں کے ساتھ اپنے اپنے مسکنوںمیں پوشیدہ ہو گئی تھی،جیسے کسی نے اس کو اسیر کر لیا ہو۔ ایسے ماحول میں کون کس کی خبر لیتا۔نفسا نفسی کا عالم تھا۔میں نے دیکھاایک دوشیزہ، جس کی زلفیں بکھری ہوئیں تھیں، کو دیکھا جو نہ جانے کس فکر میں مبتلا تھی۔بیڑیوں میں جکڑی ہوئی تھی۔ایسا لگتا تھا کہ کسی کی غلامی سے بھاگ کرآئی ہے اورکسی پر سکون دنیا کی تلاش میں ہے۔ اس کی آغوش میںدو بچے تھے۔جس میں ایک بچے کی پیشانی پر ٹیکا اور دوسرے بچے کے سر پر ٹوپی تھی۔دوسری طرف مسلسل ایک بھیڑ تھی جس کے ہاتھوں میں ہتھیار اورمشعلیںتھیں۔چہرے ایسے جیسے جانور انسان کے قالب میںآگئے ہوں۔آنکھوں میں خون اترا ہوا

تازہ ترین