تازہ ترین

دیوتا

اپنی تمام لگن،ہمت اور بہادری کے ساتھ پہاڑ کی ایک ایک چوٹی سر کرتا ہوا  وہ آگے ہی آگے بڑھتا جا رہا تھا۔اُسکے ہاتھوں میں سات رنگوں کا ایک جھنڈا تھا۔یہ جھنڈا اسے پہاڑ کی سب  سے اونچی چوٹی پر گاڑھنا تھا۔راستہ طویل اور مشکل ہونے کے باوجود  ارادہ پختہ اور مضبوط تھا۔۔۔۔آہستہ سے قدم بہ قدم آگے بڑھتا رہا۔ اب اُسکے سامنے آخری پڑائو تھا ۔ آخری چوٹی تھی۔۔۔اس چوٹی پر جھنڈا گاڑھنے کے بعدہی ہر طرف سے لوگ آکر اُس کی عظمتوں کو سلام کریں گےاور وہ کہلائے گا ملنگ دیوتا۔۔۔اُسکی سانسوں میں کائنات کی سانس ہوگی۔اپنے آنسووُں سے لوگوں کے خشک خالی پیالے بھر لے گا۔اپنی جھولی میںچھپائے قرمزی پھولوں سے ننگی عصمتوں کو ڈھک لے گا۔ اپنے نورانی پرتو سے تاریک جھونپڑیوں میں روشن آفتاب اُگائے گا اور بھٹکی ہوئی آدم کی اولاد کو ایک نئی سکون بخش سوچ سے متعارف کرائے گا اور اسکی ایک دیرینہ خواہش

یہ کیسے رشتے۔ ۔ ۔ ؟

آج وہ اکہترسال کا ہوگیااور پچھلے ایک سال سے خود کو بہت کمزور اور لاغر محسوس کررہا ہے۔ ایک سال پہلے ایسی بات نہیں تھی۔ وہ نہ کمزورہی تھا اور نہ لاغر۔ ایک ہی سال میں ایساہوگیا ۔ ایک سال پہلے وہ علی الصبح جاگتا تھا اور غسل خانے سے فارغ ہوکر چہل قدمی کے لئے نکل پڑتا اور چہل قدمی کرتے کرتے اپنی کالونی کی پاس والی پارک میں پہنچ جاتا تھا۔ وہاں اُس کو ایک خوبصورت کتا ملتا ۔ وہ کتا اُس کو اپنا دوست بنانا چاہتا تھا لیکن اُس کو کتوں کے ساتھ سخت نفرت تھی، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ کتا سب سے وفادار جانور ہوتا ہے۔ کتوں سے اُس کی نفرت کی وجہ یہ تھی کہ بچپن میں ایک پاگل کتے نے اُسے کاٹا تھا اور اُسے چودہ انجکشن لگانے پڑے تھے ۔ وہ کافی دنوں تک بیمار رہاتھا۔ وہ واقعہ اُسے اب تک یاد ہے۔  وہ ہر دن پارک کے اردگرد چکر لگاتا تھا اور پھر وہاں پہ لگے ہوئے ایک بینچ پر بیٹھ جاتا۔کالونی میں چہل قدمی کرنے

افسانچے

 رئیس داماد  "۔۔۔ذرا میاں۔۔۔یہ۔۔۔ہاں یہی والا۔۔۔ادھر دکھایئے؟ کتنا حسین و جمیل ہے۔۔۔!"، اختر بیگم جو اپنی اکلوتی بیٹی کے لیے لڑکا پسند کر رہی تھیں، تصویر دیکھ کر بڑی خوش مزاجی سے بول پڑیں ،"رحمت میاں یہ لڑکا کرتا کیا ہے۔۔۔؟" ارے اختر صاحبہ یہ کوئی کوئی عام لڑکا نہیں ہے۔۔۔۔ یہ اپنے منسٹر صاحب کی بہن کا لڑکا ہے۔۔"، رحمت میاں، جو لڑکوں کی ایک لمبی فہرست لے کر اختر صاحبہ کے پاس آئے تھے ،بول پڑے۔ "اچھا ۔۔۔۔۔پھر تو یہ بڑا رئیس ہوگا۔۔۔ میری بیٹی ان کے یہاں ملکہ بن کر رہے گی۔۔۔۔" "سو تو ہے مگر۔۔۔" " مگر کیا میاں۔۔۔۔؟" "مگر یہ ڈرگس اور شراب نوشی کا عادی ہے۔۔۔ پانی ملے یا نہ ملے لیکن شراب کی بوتل چوبیس گھنٹے اس کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔۔۔۔" "اُف میاں! تم بھی کیا بےوقوفوں جیسی باتیں کرتےہو۔۔

کفن پوش اندھیرا

اپنے دیوتائوں کی آوازوں کو زندہ رکھنے کے لئے انہوںنے تمام پرانی آوازوں کوسولی پر چڑھادیا۔ اب پرانی آوازوں کا نام ونشان بھی کہیں سے نہیں ملے گا کیونکہ آنے والا وقت نئی آوازوں کا ہوگا۔ ’’اب دریچوں سے کوئی میٹھی آواز نہیں آئے گی‘‘ ’’اب ہر طرف سے اُداسی،بے سکونی اور اضطراب کی آوازیں پھیل گئی ہیں۔نئی آواز کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت ٹوٹ گئی۔‘‘ ’’اس نے کہا۔۔۔کیا آپ کو محسوس نہیں ہوتاہے کہ ہمیں اس آواز کے خلاق آواز اٹھانی چاہیے؟‘‘ ’’میں کون سنگیت کار ہوں کہ اس آواز کے خلاف نئے سر، تال تراش لوں ۔۔میں نے ارحان سے کہا۔۔۔‘‘ نئی آواز نے دریائوں،موسموں اور پھولوں سے تازگی نچورڑ کر انھیںآگ کے پنجرے میںقید کر کے رکھا۔پھر ایک موسم نے قیامت کو اپنی بے نور آنکھوں میں پناہ د

باسی روٹی کا ٹکڑا

برسات کی ایک شام جب آندھی اور اندھیرا دونوں اپنے شباب پر تھے تومنشی جی کچھ سودا سلف لانے کے لئے دکان پر گیا۔دکان کے قریب پہنچتے ہی اس کی نظر آوارہ کتوں کے ایک غول پر پڑ گئی۔جو آپس میں لڑتے جھگڑتے تھے۔منشی جی نے سوچا شاید  کچرا کھانے میں ایک دوسرے پر سبقت لینا چاہتے ہیں،اس لئے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔منشی جی کچھ دیر تک ان کتوں کو دیکھتا رہا۔اچانک اسے ان کتوں کے ساتھ ایک انسان نظر آیا،جو خود کو ان کتوں سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ آہستہ آہستہ منشی جی دکان کے نزدیک پہنچا اور دکان کے باہر لگا بلب روشن کیا۔روشنی جب دور تک پھیل گئی،تو اسے وہ بوڑھا شخص اچھی طرح نظر آیا جو کچرے کے ڈھیر میں کچھ تلاش کررہا تھا۔منشی جی کے ذہن میں خیال آیا شاید کوئی کھوئی ہوئی چیز ڈھونڈتا ہے۔ نزدیک آکر منشی جی نے بوڑھے سے پوچھا: "چاچا اس کچرے کے ڈھیر میں کیا ڈھونڈ رہے ہو۔بارش ہونے والی ہے