مہمان نوازی

بارات آچکی تھی، نکاح ہوچکا تھا‘ اب ایک وسیع میدان میں کھانا کھلانے کی تیاریاں ہونے لگیں۔ لوگ کرسیوں پر بیٹھ رہے تھے کہ سڑک پر ایک یکہ آکر رُکا اور اس سے ایک بوڑھی سواری اُتری ۔اس کے پائوں میںپلاسٹک کی چپل تھی جس کے پٹے کئی جگہ سے موچی کی اعلیٰ کاری گری کا نمونہ ظاہر کر رہے تھے۔ چپل کے ساتھ ساتھ پیر بھی گرد سے اٹے ہوئے تھے۔ کمر پر پاجامہ لٹک رہا تھا مگر مَٹ میلے رنگ کا۔ یہ اس کا اپنا رنگ نہیں تھا بلکہ وقت کی تمازت سے اس کی جلد کی طرح اُس کے پاجامہ کا رنگ بھی بدل گیاتھا۔ بدن پر قمیص اور اس پر ایک سفید کھادی کی صدری تھی جو گرد کھاتے کھاتے سیاہ مائل ہوگئی تھی۔ بال کچھ سفید ، کچھ کالے مگر سوکھے، میلے اور آپس میں اُلجھے ہوئے تھے۔آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑے ہوئے تھے۔ دیدے اندر کی طرف دھنسے ہوئے تھے لیکن چہرے کی ہڈیاں اُبھری ہوئی تھیں۔ اُس کی نگاہیں کچھ تلاش کرتے ہوئے آگے بڑھیں۔

لالچ

اپنے پڑوس میں رہنے والے لوگوں کو دیکھ کر مجیب ہر وقت اپنی قسمت اور تقدیر کا رونا روتا تھا ۔ اس کے پڑوس میں سبھی لوگ اونچے محلوں میں رہتے تھے اور اعلی قسم کی گاڑیوں میں سفر کرتے ہوئے جب یہ لوگ مجیب کے سامنے سے گزرتے تھے تو خیریت پوچھنا تو دور کی بات تھی وہ اس سے بات کرنے سے بھی کتراتے تھے ۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا ، ہر روز نئے پکوان کھانا ، مہنگے کپڑے پہننا اور اعلی قسم کی آرام دہ گاڑیوں میں چھٹیوں کے دنوں اپنی فیملیوں سمیت باغوں اور دیگر صحت افزاء مقامات کی سیر پر جانا مجیب کو کافی ستاتا تھا ۔ ہر روز اس کے دماغ میں صرف یہ بات گردش کرتی تھی کہ کب اسے بھی یہ چیزیں میسر ہوجائیں اور اس کی زندگی بھی جینے کے قابل بن جائے ۔ اپنے ماں باپ اور دیگر یاروں دوستوں سے مشورہ کرنے کے بعد مجیب نے فیصلہ کیا کہ وہ دن دگنی اور رات چگنی محنت کرکے نوکری حاصل کرنے کے لیے مسابقتی امتحان پاس کر کے ہی دم لے گا

سانتا کلاز

بشیر صاحب گھر میں داخل ہوئے تو ان کو خالی ہاتھ دیکھ کر پانچ سالہ بیٹی حورعین نے شکایتی لہجے میں پوچھا۔ ”پاپا!... آج کچھ نہیں لایا؟‘‘ اس کی آواز میں ملال کی آمیزش سے بشیر صاحب کا دل بے چین ہو گیا۔ انہوں نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا۔ ”سوری بیٹا!...آج آفس میں دیر تک کام ہونے کی وجہ سے بھول گیا ...کوئی بات نہیں کل دو چیزیںلادونگا ۔‘‘ " آپ سے کٹی ... آپ اچھے پاپا نہیں ہیں... آپ سے اچھا تو وہ سانتا کلاز ہے جوٹی وی پر بچوں کو بہت سارے گفٹ بانٹتا ہے ۔"  حورعین نے ناراضی کا اظہار کیا۔  بشیر صاحب بیٹی کو چمکارتے ہوئے بولے ۔” بیٹا! سانتا کلاز تو سال میں ایک بار گفٹ لاتا ہے... تمہارے پاپا تو روزانہ تمہارے لئے سانتا کلاز بنتے ہیں... بس آج بھول گیا تو اتنی ناراضگی؟‘‘  اس بات پر حور عین ان کے

افسانے

چُبھن دو سال کے بعد دوبئی سےکمپنی والوں نے جواد کو کام پہ واپس بلایا۔ وہاں پہنچنے پر سب دوستوں نے اس کاخیر مقدم کیا۔ انہوں نے  شادی کی ویڈیو طلب کی۔  ایک دوست نے کہا تمہاری نئی زندگی کا آغاز کیسا رہا، واقعی خوبصورت رہا ہوگا اور دلکش وادی نے تمہاری شادی کی تقریب کو اور حسین بنایا ہوگا۔شاہنواز نے پوچھا یار تمہارا رنگ کیوں اُڑا ہوا ہے اور تم نے  تب سےرابطہ کیوں ترک کیا ۔ نہ فون اٹھاتے تھے اور نہ مسیج کا جواب دیتے تھے ۔  جواد نے کہا ’مجھے دم تو لینے دو سب کچھ بتادوں گا‘۔ وہ اپنے دل پر کئی من وزن کا بوجھ محسوس کر رہا تھا۔ پھر اس نے لمبی سانس لی اور بول پڑا: میں دسمبر کی ۱۸ تاریخ کو دلی پہنچ گیا۔ میرے گھر والے بھی میری شادی کیلئے مجھ سے ایک روز پہلے پہنچ گئے تھے کیونکہ شادی دلی میں ہی ہونی تھی۔ میری منگیتر لیلا کے گھر والےسردیوں میں دلی میں ہی قیا

پُکار۔۔۔عورت کی

بسنتی دھوپ آہستہ آہستہ سے دھندلکی ہورہی تھی ۔سائے طویل ہوتے جارہے تھے ۔ سورج کی تپش بے جان سی ہوگئی تھی۔ دن  اپنی رخصتی کا پیغام دے رہا تھا۔ نوری  ہانپتے ہانپتے ایک چٹیل میدان میں پہنچ گئی ۔ اُسکی گود میں اُس کی کم سن بچی اپنی ماں کے حال کا بڑی باریکی سے معائینہ کر رہی ہیں۔وہ اب اپنی بستی سے ایک ویرانے کی اورنکل آئے تھے جہاں پر آدم ذات کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ اس طویل سفر نے نوری کے ہوش و حواس میں سنسنی پھیلائی تھی۔ اُس کی سانسیں پھُول رہی تھیں۔ ٹانگیں لڑکھڑا رہی تھیں۔پاؤں میں سوجن آگئی تھی ۔ آنکھوں کے ستارے تھکان کی گھٹھائوں میں ڈوب چکے تھے۔نوری کی گود میں اُس ننھی سی جان کی تڑپ نے تو اُس کی کمر ہی توڑی تھی۔ وہ بھوک کے مارے موت اور زندگی کی کشمکش میں تڑپ رہی تھی۔اُس کی یہ تڑپ نوری کے کلیجے کو چیرتی ہوئی اُس کے روح کو کریدتی رہی۔ اُسے اپنی تھکان اور سختی بے اثر لگنے ل

تنہا پرندہ

مادھو ،سُکھ رام کا چھوٹا بھائی تھا ۔ابھی یہ دونوں بھائی کم سِن ہی تھے کہ ماں نے داغ مفارقت دے دیا تھا۔باپ نے دوسری شادی نہیں کی تھی ۔یہ سوچتے ہوئے کہ اگر یہ معصوم بچّے سوتیلی ماں کے پلّے پڑیں گے تو نہ جانے کتنا تڑپائے گی ۔سُکھ رام اور مادھو رام کی ماں کے مرنے کے پورے چالیس سال بعد اُن کا ادھیڑ عمر باپ بھی جوان بیوی کے غم میں اس دُنیا سے کوچ کرگیا۔مادھو اُس وقت صرف چھ سال کا تھااور سکھ رام اتنا بڑا ہوگیا تھا کہ اُس کی پڑھائی کی عمر نکل چکی تھی ۔بڑا بھائی ہونے کے ناطے سکھ رام نے اپنے چھوٹے بھائی مادھو کو اسکول میں داخل کروایا اور خود محنت مزدوری کرکے اُس کی اور اپنی ضروریات زندگی پوری کرتا رہا ۔سکھ رام کو وہ سب کچھ خود ہی کرنا پڑا جو ماں باپ نے ان دونوں بھائیوں کے لئے کرنا تھا۔وہ خود تو میلا موٹا پہنتا لیکن اپنے بھائی کو اچھے اچھے کپڑے پہناتا ۔اُس کے اسکول کی دردی دھوتا ،کھانا پکاتا ،اُس

دوہری زندگی

"امی!امی!" رشنا روتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی اور سیدھی امی کے کمرے کیطرف بڑھی۔ امی اسکی آواز سن کر بوکھلائی ہوئی باہر نکلیں اور پوچھا۔ " کیا ہوا روشی؟ رو کیوں رہی ہو؟" " کیا بتاؤں امی میری تو قسمت ہی خراب ہے۔" اس نے زاروقطار روتے ہوئے کہا۔ " پر بیٹا پتہ تو لگے ہوا کیا ہے؟ " امی نے اسے صوفے پر بٹھاتے ہوئے کہا اور بہو کو آواز دی۔" خجستہ ذرا پانی کا ایک گلاس لانا روشی کیلئے۔" خجستہ پانی لیکر آئی تو روشی کو دیکھکر پریشان ہو گئی مگر کچھ کہا نہیں ۔ " خجستہ! تم ذرا روشی کا روم صاف کر دو اور کھانے میں اسکی پسند کا قیمہ مٹر اور گاجر کا حلوہ اور ریشمی کباب بنا لینا اور ساتھ میں رشین سیلڈ اور رائتہ ضرور بنا لینا۔" خجستہ نے یہ سنا اور جی کہہ کر کچن کا رخ کیا۔ روشی پانی پی چکی تو امی نے گلاس اس سے لیکر ٹیبل پ

دو مَرلے زمین

سنہری شام جھیل میں اُترنے کو تیار تھی۔ ملاح کشتیوں کو باندھ رہے تھے۔ بابا شُکر الدینؒ کی زیارت کے  گنبد پر کبوتر مناجات پڑھ رہے تھے۔ اسی دوران مسجد کے فلق بوس میناروں سے ’’اللہ اکبر‘‘ کی صدائیں گونج اُتھیں۔ چاروں اطراف ایک دِلُربا سکوت سا چھا گیا۔ اچانک میری نظر ایک جوان خوبصورت لڑکی پر پڑی جو جھیل کے کنارے بیٹھ کر پانی میں اپنے ٹوٹے ہوئے عکس کو سمیٹنے کی ناکام کو کوشش کررہی تھی۔ جونہی میں اُن کے قریب پہنچا میں چونک گیا۔ وہ رانی تھی۔ ’’رانی تُم!؟‘‘ میں نے تعجب سے پوچھا۔ ’’ہاں میں!‘‘ اُس نے تحمل سے جواب دیا۔ ’’تم یہاں اکیلی کیا کررہی ہو؟‘‘ میں نے حیرانگی میں پوچھا۔ ’’میں اس جھیل کو اپنی رودادِ غم سُنا رہی ہوں‘‘۔ رانی کی غزالی آنکھیں نم ہوئیں۔

یہ کیسی عید؟

ماہ رمضان کے متبرک مہینے کو الوداع کہتے ہوئے جہاں تو (بے روزہ) روزہ داروں کی آنکھیں پر نم ہوتی ہیں، وہیں کئی عقیدت مند تو اس کی جدائی کے غم سے نڈھال ہوتے ہیں اور کچھ تو اسکے جانے  سے بے دم ہوجاتے ہیں اور ’’دہلی کھاؤ ‘‘(بے روزہ)چین کی سانس لیتے ہیں۔ بہرحال یہ ایک قانون قدرت ہے، ہر چیز کا اپنا اپنا وقت مقرر ہوتاہے۔ انسان اپنے مقررہ وقت پر اس دنیا میں آتا ہے اور وقت مقررہ پر ہی یہ دنیا چھوڑ کر چلا جاتاہے۔ صبح کا چمکتا ہوا  سورج شام ہوتے ہی غروب ہوتاہے،  بہار کے موسم میں کھلے ہوئے پھول خزان میں مرجھا جاتے ہیں۔جو سر سبز چنار ہمیں چلچلاتی دھوپ میں چھایا دیتے ہیں وہی چنار پت جھڑ کے موسم میں الف ننگے ہوجاتے ہیں۔ یہ قدرت کا قانون ہے  جس میں آجتک کوئی ترمیم نہ ہوئی ہے اور نہ ہوگی۔ بہر حال ماہ رمضان کی آخری شب کو شوال کے چاند کا دیدار ہوتے ہی ب

صنفِ افسانہ کے جوہرِ دلنشین

وادی کشمیر میں اردو زبان و ادب کو جن جواہرات نے‌اپنی چمک دمک سے آراستہ کیا ہے اُن جواہرات میں ایک نایاب جوہر ’’نذیر جوہر‘‘ بھی ہیں  ۔نذیر جوہر کا شمار ان فکشن نگاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے کشمیر میں اردو  فکشن کی آبیاری اپنے خون جگر  سے کی ہے۔ وادی لالوب کے ادبی جواہرت  میں ایک نام نذیر جوہر کا بھی ہے۔آپ کا اصلی نام نذیر احمد لون  ہیں۔9 مارچ1955  میں وادی لولاب کے ایک اہم زرخیز علاقے سوگام میں تولد ہوئے۔اپنے ہی علاقے میں میڑک کا امتحان  1972پاس کر کے 1976میں گورنمنٹ ڈگری کالج سوپور میں داخلہ لیا ۔گورنمنٹ ڈگری کالج سوپور سے بی اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد 1982  میں کشمیر یونیورسٹی سے اردو میں ایم ۔اے کیا ۔اس کے بعد محکمہ  سول سپلائیز میں ملازمت کی ۔محکمہ سول سپلائز میں مختلف عہدوں پر فائزہ رہ کر ڈائریکٹر سول سپلا

عیدی

عید کا مبارک دن تھا۔قہوے اور سیوئیوں کی خوشبو سے ساری کائنات معطر ہورہی تھی۔ بچے  اوربڑے عید کی تیاری میں سب مصروف تھے ۔ نئے ملبوسات، لوازمات اور بازاروں کی چہل پہل ہر سوں ماحول کی رونق میں مزید اضافہ کر رہےتھے۔ عورتوں اور بچوں کی تیاری خاصی دلچسپ اور قابل دید تھی۔ کوئی جوتوں کے تسمے ٹھیک کرتا تھا تو کوئی لباس درست کر رہا تھا۔ نکی نکی لڑکیاں  اپنے چھوٹے  چھوٹے ہاتھوں پہ لگی مہندی دیکھ کر خوش ہو رہیں تھیں۔ خوبصورت فضاء تھی  اور سورج بہت شاندار لگ رہا تھا۔ شاید اسلئے کہ رحمتوں اور برکتوں سے بھرا مہینہ رخصت ہوچکا تھا اورشکرگزاری کی رونق ہر سُو دیکھنے کو مل رہی تھی۔ سارے بچے خوش تھے۔ سب نےرمضان کے مہینے میں کبھی کبھی آدھے دن کاروزہ رکھا تھا لیکن  عید گاہ جانے کے لئے سارے بیتاب تھے۔بچوں   کو عیدی کیا مل گئی تھی۔ سارے بچے اپنی جیبوں میں بار بار ہاتھ ڈا

’’جگر چیر کر رکھدوں ‘‘

   یونیورسٹی کیمپس میرے تصور سے بڑا تھا،،  علم و دانش کے بڑے بڑے محل ، میں مرعوب بھی تھا ۔ میں نے کار پارک کی ، میم صاحب کے لئے دروازہ کھولا ، وہ باہر آئیں ، جیب میں ہاتھ ڈالا اور پانچ سو کے دو نوٹ میری ہتھیلی پر رکھ دئے اور مسکرا کر کہا ’’فنکشن دو گھنٹوں تک چلے گا، آرام سے کھانا پینا ، سامنے ہی کنٹین ہے ‘‘یہ کہتے ہوئے وہ چلی گئی۔ یہاں بڑے بڑے چناروں کے تناور درخت بھی تھے ، آج دھوپ میں تمازت بھی کچھ زیادہ ہی تھی یا میں کسی انجانی آنچ سے تپ رہا تھا ، میں نے اپنی کاپی اور پین گاڑی کے ڈیش بورڈ سے نکالا اور ایک چنار کی چھاؤں میں آرام سے بیٹھا ۔ کوئی ایسا افسانہ جس میں اپنا جگرچیر کر رکھدوں ، میں نے سوچا لیکن ذہن کے پردوں پر پتہ نہیں کیوں آج میرے ماضی کے ریلے مسلسل فلم کی طرح منعکس ہورہے تھے اور جانے کیوں ایک انجانہ سا کرب دل و دماغ پر محیط ہورہ

خواجہ صاحب

’’خواجہ صاحب ۔۔۔۔۔۔ چوک میں وہ ایک معذ ور ٹھیلہ لگا کر بیٹھتاہے ،اس کے لئے بھی کچھ دے دیں ،بے چا رے کا ایک بازو بے کار ہے‘‘ ۔ عنایت نے دھیمے لہجے میںخواجہ صاحب سے کہا لیکن اس نے عنایت کی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا ۔عید کی آمد آمد تھی اور خواجہ صاحب  صبح سے ہی غریبوں میں صدقہ زکوات بانٹ رہا تھا ۔ابھی بھی خواجہ صاحب کے سامنے چار پانچ خواتین بیٹھی تھیں اور خواجہ صاحب ان میں فی کس تین سو روپیہ بانٹ رہا تھا ۔ خواجہ صاحب کا شمار شہر کی معروف تجارتی شخصیات میں ہوتا تھا ۔اس کے پاس کافی سرمایہ بھی تھا ، وہ ہر سال عید کے موقعے پر غریبوں مسکینوں کی مدد کرتا تھا اور یہ بات مشہور تھی کہ خواجہ صاحب بڑا ہی دیالو اور دریا دل انسان ہے ۔خواجہ صاحب کا منشی عنایت ایک نیک دل انسان تھا ۔آتے جاتے اس معذور ٹھیلے والے کو دیکھ کر اس کو ترس آتا تھا جواپنا ایک بازو بے کار ہونے

افسانچے

 بیٹی رحیم خان جو پھیپڑوں کے کینسر میں کئی سالوں سے مبتلا تھا اور جس کو بیرون ملک بھی علاج و معالجہ کی غرض سے لے جایا گیا تھا، آخر کار زندگی کی جنگ ہار گیا۔ اس کے دو بیٹے اور ایک اکلوتی بیٹی تھی ۔ کفن اور غسل مکمل کرنے کے بعد اسے دفنانا باقی تھا ۔ مقامی قبرستان کی طرف اس کی میت کو لے جاتے ہوئے اچانک ایک شخص، جس کی لمبی داڑھی تھی اور خوبصورت کپڑوں میں ملبوس تھا، نے میت کو دفنانے نہیں دیا ۔۔۔۔ جب اسے وجہ پوچھی گئی تو معلوم ہوا کہ رحیم خان نے ایک سال قبل اُس سے بارہ ہزار روپے ادھار لئے تھے اور ابھی تک واپس نہیں کئے تھے ۔ جب اس نے رحیم خان کی موت کی خبر سنی تو اس نے وہاں آنے میں دیر نہیں لگائی ۔ جب رحیم خان کے دو بیٹوں کو مولوی صاحب نے کہا کہ اس شخص کو جلد از جلد بارہ ہزار روپے دیے جائیں تب ہی اس کا جنازہ پڑھایا جا سکتا ہے تو دونوں بھائیوں نے یہ کہہ کر صاف انکار کردیا کہ باپ

ماہِ مبارک کے احترام میں

میرے اس قصبے کی آبادی اب خاصی ہے اسی لحاظ سے نواحی بستیاں بھی بستی گئی ہیں اور مارکیٹ یعنی بازار بھی کافی وسعت پاچکے ہیں اور اب بھی اپنے بازو پھیلا رہے ہیں لیکن ایسا کہا جاتا ہے کہ اس بازار میں ہر چیز ذرا مہنگی ملتی ہے اس لئے کہ یہاں کے لوگوں کا معیارِ زندگی دوسروں سے اونچا ہے ۔ بہر حال مجھے ا ونچ نیچ سے کچھ لینا دینا نہیں ،میں نے مارکیٹ کی بات کی ہے کیونکہ میں بھی اسی مارکیٹ کا حصہ ہوں بلکہ یہ کہ میری دکان بھی یہاں کے مین مارکیٹ میں ہے ۔میں چونکہ اپنی مارکیٹ سے پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر رہتا ہوں اس لئے بہت سارے دکانداروں کی طرح میں کھانا کھانے دوپہر کو گھر نہیں جاسکتا ۔صبح اکثر میرا کھانا اس لئے تیار نہیں ہوتا کہ بیگم صاحبہ بچوں کو سکول جانے کیلئے تیار کرتی ہے پھر اکثر انہیں خود سکول تک بھی چھوڑ دیتی ہے ۔خود بھی اُسے اپنی ڈیوٹی پر جانے کی تیاری کرنی ہوتی ہے ۔میں اس سے پہلے ہی دکان کی

نقاب

اب وہ کسی سے بات نہیں کرتی ‘چڑچڑی سی رہتی  ۔ہر وقت غصہ اُس کی ناک پر رہتا ‘ہر ایک سے لڑتی پھرتی رہتی  ۔نادرہ کی نانی ‘پیر صاحب سے اُن کی پوتی کے بارے میں مخاطب ہوئی۔پیر صاحب نے اس بزرگ خاتون کی طرف دیکھ کر بس اتنا کہا :کوئی بات نہیں بی۔۔۔۔آپ کل اپنی پوتی کو ساتھ لایئے گا ۔یہ کہہ کر پیر صاحب اپنے باقی مریدوں کے ساتھ مصرو ف ہو گئے ۔کچھ دیر بعد وہ بڑی بی۔۔۔۔ وہاں سے چل دی ،میں بھی اپنا کام ختم کر کے وہاں سے چل دیا۔اگلے روز مجھے پھر پیر صاحب سے ملنے جانا تھا میں پیر صاحب کے گھر کی طرف روانہ ہوا تو راستے میں دیکھتا ہوں کہ یہ بڑی بی اور ان کی پوتی نادرہ سڑک کے بیچوں بیچ کسی بات پہ بحث کر رہے ہیں ۔بڑی بی۔۔۔۔۔ نے نادرہ کا ہاتھ پکڑا ہوا ہے اور وہ اسے زبر دستی کھینچ کر لے جانے کی کوشش کر رہی ہے ۔یہ دیکھ کر میں ان کے پاس گیا اور نادرہ سے پوچھا کیا بات ہے بیٹا؟تم کیوں

افسانچے

کشمکش جمال صاحب  نمار روزہ کے بڑے ہی پابند شخص ہیں۔دوران نماز اکثر ان سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔ ان دنوں میں ان میں ایک عجیب سے کیفیت کومحسوس کرنے لگاہوں۔ نمازسے فارغ ہوکر سارے نمازی مسجد سے نکل جاتے ہیں مگر وہ کافی دیر تک ہاتھ اٹھائے بڑی آہ وزادی کے عالم میں رب العزت سے گڑگڑاکر دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔  ایک دن مجھ سے رہانہیں گیا۔ جب وہ دعا سے فارغ ہوئے  تو میں نے ان سے پوچھا۔ "جمال صاحب , ان دنوں آپ کچھ پریشان سے لگ رہے ہیں۔ گھر میں سب خیریت تو ہیں نا؟ ویسے آپ کے پاس اللہ کادیابہت کچھ ہے۔"  انہوں نے میرے سوال پر ایک سرد آہ بھر کرکہا"الحمدللہ, اللہ کادیا سب کچھ ہے۔" "توپھرآپ کے چہرے پر یہ اُداسی کس بات کی؟" وہ درد بھرے لہجے میں کہنے لگے۔"اب اس سے بڑی فکر اور کیاہے بھائی کہ گھرمیں تین جوان بیٹیاں ہیں۔ چاروں ط

آخری نیکی

نظام ا لدّین نے ناشتہ کرنے کے بعد اپنے گھر کے واش بیسن میں ہاتھ دھوئے ۔کُلی کرتے ہوئے انہیں سامنے دیوار پر لگے آئینے میں اپنا نُورانی چہرہ نظر آیا تو لمحہ بھر کے لیے اُسے دیکھتے ہی رہ گئے ۔پھر اچانک اُن کی نظر اپنی سیاہ ریشمی داڑھی میں مختلف مقامات پہ اُگے چند سفید بالوں پر پڑی تو اُنھیں دھچکا سا لگا ۔انہیں نے اپنی بیوی ضوفشاں سے کہا ’’ضوفشاں…!اری دیکھو میری داڑھی میں سفید بال اُگنے لگے ہیں ۔پہلی بار دیکھ رہاہوں ‘‘ ضوفشاں مُسکراتی ہوئی بولی ’’اب آپ بُزرگ ہونے کے ساتھ ساتھ بوڑھے ہورہے ہیں ‘‘ نظام الدّین تلملا اُٹھے  ’’اری یہ تُم کیا کہہ رہی ہو ! میں تیس سال کانو جوان کیسے بوڑھا ہورہا ہوں ؟‘‘وہ اپنی داڑھی میں اُگے اُن چند سفید بالوں کو اُکھیڑنے لگے تو ضوفشاں نے منع کردیا بولی &r

احساسِ گناہ

کسی سے کتنی ہی اُلفت کیوں نہ ہو لیکن بغیر پیسوں کے خالی محبت کا انسان کیا کرے ‘یہ محبت بغیر پیسوں کے چینی کے بغیر چائے جیسی ہوتی ہے۔ نعیمہ نے پہلی بار اس طرح کی باتیں ہارون سے کہہ ڈالیں کہ وہ سکتے میں آگیا اور کچھ مدت بعد اُس نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے جواب دیا’’یہ بات کسی حد تک سچ ہے لیکن جو کسی سے سچی محبت کرتے ہیں اُنہیں اس بات سے قطعی فرق نہیں پڑتا کہ جس سے محبت ہو وہ دولتمند ہے یا فقیر ‘‘۔ ’’دیکھو اس طرح کی کڑواہٹ ٹھیک نہیں ۔‘‘کیسی کڑواہٹ ؟نعیمہ نے اپنے آپ پر الزام آتے فوراََ جواب دیا۔‘‘ میں وہی کہہ رہی ہوں جو سچ ہے ۔سچ My Foot   ہارون نے غصے سے لال ہو کر جواب دیا ۔دراصل تمہیں دوسروں پر اپنے فیصلے صادر کرنے کا شوق ہے، ہارون نے مزید کہا۔شاید سچ ہی کہا ہے کسی نے کہ بہن بھائی کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوج

آئینہ

راشد اور اس کی بیگم نے صبح صبح ہی شہرکے بڑے بازار کا رخ کیا اور ایک مشہور شاپنگ مال کے سامنے گاڑی پارک کرکے اندر جا کے خریداری کرنے میں مصروف ہو گئے ۔دوپہر کے وقت وہ ڈھیر سارے مہنگے کپڑوں ،جوتوں ،چپلوں ،پرفیوم اور گھر کی سجاوٹ کے قسم بہ قسم سامان کی خریداری کرنے کے بعد مال سے واپس نکلے اور سامان کو گاڑی میں رکھنے لگے لیکن سامان اتنا زیادہ تھا کہ گاڑی میں سما نہیں پا رہا تھا۔۔۔۔۔۔ ’’صاحب ۔۔۔۔۔۔ اللہ کے نام پر کچھ دے د و‘‘ ۔ ایک عمر رسیدہ خاتون نے راشد،جو سامان گاڑی میں رکھنے میں مصروف تھا ،کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا،لیکن اس نے خاتون کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔چند ساعتوں بعد خاتون نے پھر اپنا سوال دہرایا تو وہ غصے میں آکر جنگلی بِلے کی طرح غرّایا ۔   ’’نان سنس ۔۔۔۔۔۔ تمہیں دِکھ نہیں رہا ہے کہ میں کام کر رہا ہوں ،مفت کی روٹیاں توڑنے

تازہ ترین