واپسی

’’ارے واااہ ۔۔۔ میری بلو رانی آج کل کیا پڑھ رہی ہے‘‘ ’’ تیرے کام کی چیز نہیں ہے دیدی ۔۔۔ رہنے دو ‘‘ ’’ پھر بھی تو دکھائو کیا ہے  ۔ ‘‘ بڑی بہن شفق نے کتاب ہاتھ سے چھین لی اور دیکھتے ہی نیچے پھینک دی ‘‘ ’’ ارے یہ۔۔۔ چھی چھی چھی۔۔ ۔پھر سعادت حسن منٹو۔۔۔یہ کیا پڑھتی ہو بلورین؟ ‘‘    ’’او ہو شفق دیدی ۔۔۔ بتایا تھا  نا  تیرے مزاج کی چیز نہیں ہے  ۔‘‘   ’’ کتنی بار کہا اسے مت پڑھا کر ۔ اس کو پھر پڑھا تو امی کو بتا دوں گی۔ ‘‘ بلورین اپنی معصوم بہن شفق کو یاد کرتے ہی رو پڑی ۔ شفق شادی کے بعد صرف  پندرہ دن زندہ رہی۔اس کی موت سے سارے علاقے میں  صف ماتم بچھ گئی تھی ۔

آخری سیلوٹ

پرتپال سنگھ ساٹھ کی دہلیز پر قدم رکھ چکا تھا۔عمر بھر اپنی پانچ ایکٹر زمین پر محنت مزدوری کر کے اپنے اکلوتے بیٹے جوگیندر سنگھ کی پرورش اور تربیت کر کے ماں باپ دونوں کی ذمہ داریاں نبھاتا رہا۔گرداسپور کا یہ کسان عام متوسط طبقے کے کسانوں کی طرح اپنی واحد اولاد کے مستقبل کو لیکر نہایت پُر امید اور آرزومند تھا۔عین جوانی میں جب اس کی بیوی کی وفات ہوئی تب جو گیندر بہت چھوٹا تھا ،دوست یاروں کے اصرار کے باوجود وہ کسی دوسری عورت کو بیاہ کر گھر لانے کو راضی نہیں ہوا۔ اُس کو یہ فکر لاحق تھی کہ سوتیلی ماں اس کے بیٹے کو وہ پیار نہیں دے پائیگی جس کا وہ مستحق ہے ۔اس لیے انھوں نے ساری زندگی بے زن گذاری۔ باپ بیٹے دونوں ایک دوسرے کیلئے کل کائنات تھے۔دوست ،محسن ،ہمسفر ،رہنما سب کچھ ۔جوگیندر  پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیتی میں بھی والد کا ہاتھ بٹاتا تھا ،البتہ پرتپال چاہتا تھاکہ اس کا بیٹا پڑھ لکھ کر کسی ا

تحفہ جنم دن کا

آج اِس کے والد کو فوت ہوئے پورے بیس برس ہوئے ہیں مرتضٰی تب صرف نو سال کا تھا جب نامعلوم افراد نے جلیل کاقتل دن کی کھلی روشنی میں شہر خاص میں کیا تھا ۔  جلیل پیشے سے ایک وکیل تھے معصوم مظلوموں کی رہبری کرکے ان کو جبر و استقلال سے بچانا اُن کا پیشہ بن چکا تھا ۔انہیں اپنے بچوں سے زیادہ دوسرے مظلوم بچوں کی فکر رہتی تھی ۔اُن کے انتقال سے نہ صرف ان کے اپنے بچے یتیم ہوگئے بلکہ سینکڑوں افراد بے یار و مددگار ہوکر رہ گئے۔ ۔۔ مرتضٰی بھی اب باقی مظلوم بچوں کی طرح خوف و دہشت میں جی رہا ہے ۔ والد کے انتقال نے سارے گھر کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ایک دو سال تک تو مرتضیٰ کی پڑھائی بھی انہی حالات کی نذر ہوگئی۔اُس کی ماں شمیمہ جہاں جاتی مرتضیٰ کو اپنے ساتھ لے جاتی ۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں مرتضیٰ بھی اُس سے دور نہ ہو جائے ۔۔۔ وقت گزرتا گیا ۔ حالات نے مرتضٰی کے دل کوسوالوں کے ایک سمندر میں تبدیل کرل

مجبوری

موبائل ہاتھ میں لیے فیس بک پر ایک ویڈیو دیکھتے نہ جانے کب  وہ نیند کی آغوش میں چلاگیا۔موبائل بھی ہاتھ سے چھوٹ کر وہیں بستر پر گِر چکا تھا۔ بیگم صاحبہ کھانا بنانے میں مصروف تھیں اور بچے کمرے میں اپنی پڑھائی کر رہے تھے۔ "اجی سنتے ہو کیا......کوئی دستک دے رہا ہے، ذرا دیکھو تو کون ہے، اُٹھو بھی.... آپ بھی ناں... موبائل بھی آن ہے، سونا ہی تھا تو اسے بند کر دیتے "....بیگم صاحبہ نے اپنے خاوند اشرف کو سویا ہوا دیکھ کر کہا.....!! ارے بیگم!! پتا ہی نہیں چلا کب میری آنکھ لگ گئی۔ اچھا اچھا چھوڑو اب...... دیکھو باہر کون ہے، کب سے دستک دے رہا ہے۔ بیوی کے کہنے پراشرف میاں اُٹھے اور کمرے سے باہر نکل گئے۔ السلام علیکم......  دروازہ کھولتے ہی ایک بزرگ چچا نے سلام کیا۔ وعلیکم السلام چچا..... کہیے۔۔۔!!! کیا بات ہے؟  بیٹا! اللہ کے نام پر میری کچھ

آخری اُمید

میں وہ دن آج بھی نہیں بھولتا ،جب زندگی کو میں نے بہت قریب سے جانا ،سمجھا اور امیدوں کوپلک جھپکنے میں بکھرتے دیکھا تھا۔تقریباََ دو سال ہوگئے اس واقعہ کو ،لیکن آج بھی اُس نوجوان کی شکل مجھے بخوبی یاد  ہے جواس کہانی کا صرف ایک حصہ ہی نہیں بلکہ بجائے خود ایک کہانی تھا ۔ یہ کہانی شروع ہوتی ہے اسلم نامی ایک لڑکے سے جو کچھ سال پہلے ہمارے آفس کے ٹھیک سامنے ایک معمولی سا ہوٹل چلاتا تھا۔نہایت ہی شریف اور نیک ،اس لڑکے نے بڑی ہی قلیل مدت میں سب کے دل پر فتح پالی تھی۔بچپن میں ہی والد کا انتقال ہونے کی وجہ سے ساری ذمہ داریاں اس کے کاندھوں پر آن پڑی تھی۔ایک دن میں اُس کے ٹی سٹال میں چائے پینے گیااور باتوں ہی باتوں میں میںنے اُس سے اُس کی تعلیم کے بارے میں پوچھا ۔اُس نے لمبی آہ کھینچی اور پھر ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا’’بھائی جان میں ایم ۔اے پاس ہوں ‘‘۔اس کا یہ کہنا

آٹو اَپ ڈیٹ(Auto Update)

وقت وقت کی بات ہے ایک وقت تھا جب اسکول میں بچوں کو پیاسے کوے کی کہانی کو پڑھایا جاتا تھاکہ کس طرح اس کوے نے مٹکے میں کنکر ڈال کر پانی کی سطح کو اوپر کرکے اپنی پیاس بجھائی لیکن وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ ہر چیز میں تغیر و تبدیل رونما ہوتا ہے۔ اس کا احساس اس وقت ہوا جب ایک روز پانی کی پوری ٹینک بھر کے اگلے روز چہرہ دھونے کو ایک گلاس پانی تک نہ تھا۔ اپنی یاداشت پہ شک ہونے لگا کہ کیا واقعی ٹینکی میں پانی بھرا تھایا کہیں خواب میں پانی بھرنا دیکھا تھا۔ لیکن حیرت اس وقت ہوئی جب کچھ دن گزرنے کے بعد بالکونی پر لگے نل سے پانی ٹپکنے کی آواز آئی ، دیکھنے کے لیے جب اٹھا تو شیشے سے ایک عجب منظر دیکھنے کو ملا کہ پیاسے کوے کی نسل بھی اپڈیٹ ہوچکی ہے جو کنکر ڈالنے کے بجائے اب خود نل کو کھول کر پانی پینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے جاوید نے مختار سے فون کے وائی فائی کا پاس ورڈ شیئر کرکے اپنا فون اپڈی

افسانچے

آن لائن اچانک فیس بک پر وہ دونوں ایک دوسرے کے گہرے دوست بن گیے۔۔۔وہ ہر رات ایک دوسرے کے ساتھ پیار کی باتیں کرتے تھے ۔انہوں نے خیالوں میں ‌کشمیر کے تمام صحت افزا مقامات کی سیر کرلی۔۔۔اب وہ ایک رات ایک ساتھ گزارنا چاہتے تھے۔۔ونود کمار نے تجویز پیش کی۔۔سونیا۔۔ اب ہم نے خیالوں میں بہت ماہ و سالِ گزارے۔ اب ہم ہوٹل آدم اینڑ ایو میں ایک یادگار رات منایں کے۔ مانو سہاگ رات منائیں گے۔ تم دلہن بن جانا اور میں  آکے تمہارا گھونگھٹ۔۔۔او کے۔۔تم کل وہاں آجانا میں تمہارا انتظار کروں گا ؛ دوسرے دن شام کے وقت ونود ہوٹل آدم اینڑ ایو کے سامنے ایک دکان کے پاس کھڑا سگریٹ خرید رہا تھا۔ کسی کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔۔ہیلو کیسے ہیں آپ۔۔واہ کیا لگ رہے ہیں، کسی خاص پارٹی میں جانا ہے کیا۔۔۔۔اس کے سامنے راکیش مسکرا رہا تھا۔ ارے جیجا صاحب آپ ۔۔۔ کیسے ہیں آپ اور ہماری بہنا کیس

’’ گھائو ‘‘

رضیہؔ کی سہیلی ایک اجنبی کواپنی طرف آتے ہوئے دیکھ کر چونک پڑی۔ وہ کبھی اجنبی کو تو کبھی رضیہؔ کو دیکھتی۔دونوں کے چہروں میں بڑی مماثلت تھی لگتا تھاکہ جیسے ایک ہی سانچے میں ڈھالے گئے ہوں۔اُس نے رضیہ سے کہا۔ ’’مردوں کے چہرے بھی عورتوں جیسے ہوتے ہیںوہ اجنبی تم سے کتنا ملتا جلتا ہے۔‘‘ رضیہؔ ، جو کالج کے لان میں اپنی دوسری سہیلیوں کے ساتھ گپیں اُڑانے میں مصروف تھی ، نے مڑ کرہنستے ہوئے اپنی سہیلی سے کہا۔ ’’ارے پاگل مردوں کے چہرے پر داڑھی مونچھ ہوتی ہے۔‘‘ دوسری سہیلیوں نے رضیہ ؔکی ہاں میں ہاں ملائی۔اُس نے پھر رضیہؔکو ہلا کر کہا۔ ’’اُدھر دیکھ۔وہ تمہارا بھوت ہماری طرف آرہا ہے کیا۔۔۔۔؟‘‘ رضیہؔنے نظریں آگے کی جانب دوڑائیںتو وہ بھونچکا رہ گئی۔ایک ادھیڑ عمر کاآدمی‘جس کا چہرہ ہوبہورضیہؔ کے چہرے س

خبر

ہرزاروں میل فضائی سفر طے کرنے کے باوجود بھی ابابیل اُس بجلی کے بوسیدہ کھمبے کو نہیں بھولی تھی جو کئی دہائیوں سے میرے آنگن میں استادہ ہے۔ اپنے آشیانے، جو میرے برآمدے کی چھت پر تھا، میں جانے سے قبل وہ ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لیتی تھی۔ اُس کا آشیانہ، جو برسوں پہلے اُس نے محنت اور لگن سے بنایا تھا، حسن کاریگری کا ایک اعلیٰ نمونہ تھا۔ ابابیل حُسن کی دلدادہ تھی۔ اُس کو میرے کچن گاڑن کا سبزہ زار، گملوں میں اُگائے گئے قسم قسم کے پھول، لہلہاتے کھیت، جھرنوں کی روانی، صبح سویرے پرندوں کا چہچہانا اور میرے گائوں کا نیلا آسماں پسند تھا۔ وہ پانچوں وقت ہماری مسجد کے مؤزن کی سُریلی آواز سننے کے لئے بے قرار رہتی تھی۔ ابابیل کو میرے گائوں کا چپہ چپہ راس آیا تھا۔ اُس کو میرے گائوں کے در و دیوار سے محبت تھی۔ اسی لئے وہ بے خوف نیلے آسماں پر دیر تک اُڑان بھرتی۔ ابابیل اکیلی آتی تھی اورواپسی پ

نوش لب

  میرے دوست راسخ تم کہاں ہو؟مجھے چھوڑ کر تم کہاں چلے گئے ؟۔تم نے بچپن سے  ہر قدم پر میرا ساتھ دیا ہے۔تم نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر تر کستان سے بیت الا امان  تک میرے لئے رختِ سفر باندھ لیااور مشکلات و مصایٔب کا سامناکیا۔اپنے عزیز و اقارب اور عیش و آرام کو چھوڑ کر کوہ و بیا بان دشت و  دریا پار کر کے میرے لئے تکالیف و رنج وغم کاسامنا کیا۔تیرے کھو جانے کے بعد اگر چہ مجھے اپنی محبوب  نوش لب کے ساتھ وصل نصیب ہوا۔لیکن وہ چند لمحوں کی ملاقات تھی۔مجھے راتوں رات جنت سے نکال کر اس جہنم میں ڈال دیا گیا۔آج تمھارا دوست عجب ملک ایک بار پھر بیکسی کی حالت میں بے آب وِگیا پہاڑوں کی آغوش میں پڑا ہے۔تمہارے دوست کو آج پھر تمہاری ضرورت ہے۔آجا۔آج پھر میری غمخواری کر ۔میری مدد کر۔میرا ہمسفر بن جا۔میری رہنمائی کر۔۔۔ ناز مست ! خواہر من یاد ہے جب تم کو ایک بیا بان میں عفریت نے قید

دھوکہ

"شاہینہ او شاہینہ۔۔۔۔" " ہاں آئی" "ارے بھائی میرا جُراب اور جوتا کدھر ہے۔۔۔۔؟ " "وہیں ہونگے۔ دیکھ لو۔۔" " ارے بابا دیکھ لیا نہیں ہے۔۔۔۔۔ تم ہی آ کر دیکھ لو نا !" "ٹھیک ہے آ رہی ہوں۔۔۔" شاہینہ اپنا کام کاج چھوڑ کر حسین کا جُراب اور جوتا ڈھونڈنے لگی۔ "یہ لیجئے آپ کا جُراب اور جوتا۔۔۔" حسین نے جوتا پہنا اور اپنے بیٹے محمود ، جو پڑھائی کی غرض سے شہر گیا ہوا تھا، کو دیکھنے کے لیے روانہ ہو گیا۔ حسین دن کے ایک بجے وہاں پہنچا۔ ڈیرے پر پہنچ کر دیکھا کہ دروازے پر تالا لگا ہے۔ حسین سمجھ گیا کہ وہ ٹیوشن کے لئے گیا ہوگا تو اس نے اس کی پڑھائی کا معائنہ کرنے کا یہ اچھا موقع سمجھ کر اس کے ٹیوشن سنٹر پر جانے کا فیصلہ کرلیا۔ ٹیوشن سینٹر پر کوآرڈینیٹر کے ساتھ بات چیت کے دوران اس کو معلوم ہوا کہ

بے وفائی

اپنے والد کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے بعد زاہد ہر گزرتے دن اپنے چھوٹے بھائیوں اور بہن کی فکر میں لگا رہتا تھا ۔  بھائیوں اور بہن کو کبھی بھی زاہد نے والد کی کمی محسوس  ہونے نہیں دی ۔ انکی تعلیم اور باقی ضرورتوں کو زاہد نے اپنے بچوں پر ہر وقت ترجیح دی ۔ ایک مخلص باپ کی طرح زاہد نے اپنے بھائیوں اور بہن کی کفالت کی ۔ اسکے تینوں بھائی اچھی تعلیم حاصل کرنے کے بعد برسرروزگار بھی ہوئے اور بہن کو بھی اعلی تعلیم دے کر اسکی شادی بھی ایک اچھے گھرانے میں کرائی۔۔۔۔۔ ہمسائیوں ، رشتےداروں اور دوستوں میں زاہد کی مثال دی جاتی تھی کہ کس طرح باپ کے انتقال کے بعد زاہد نے بھائیوں اور بہن کی پرورش ایک رفیق باپ کی طرح کی ۔ زاہد نے بھائیوں کو الگ گھر بسانے میں بھی اپنا بھر پور تعاون پیش رکھا۔۔۔۔ اب زاہد سے زیادہ اسکے بھائی ہی شاہانہ زندگی گزارتے ہیں کیونکہ انکے پاس آمدنی کے ٹھوس ذرائع موجود ہ

تہی دامن۔۔۔۔!!

”سائنس دانوں نے ہر چیز ایجاد کی ہے صرف ایک چیز نہیں!!!!!“ فاطمہ جھلائی ہوئی اسٹو صاف کررہی تھی جس پر شِیر خرما ابل کر پھیلا ہوا اس کی جھنجھلاہٹ پر تبسم بکھیر رہا تھا۔  عبداللہ بیوی کی جھلاہٹ سے محظوظ ہوتا ہواکچن میں داخل ہوا اور اس کی بکھری ہوئی زلفوں کو پیار سے نہارتا ہوا استفسار کیا۔”وہ کیا چیز ہے۔۔۔۔؟ “   ” دودھ اس وقت ہی کیوں ابلتا ہے ؟جب بندہ ایک سکنڈ کو اپنی نگاہ اوجھل کرلے یا کچھ کام سے رخ پھیر لے۔۔۔۔؟ “ یہ سن کرعبداللہ بے اختیار مسکرایا۔   ”آپ ہنس رہے ہیں۔۔۔۔؟ “ وہ غصے سے سرخ ہوتی ہوئی شوہر کو دیکھنے لگی۔عبداللہ پیار سے اس کی ناک کو چھوتا ہوا گویا ہوا۔’’ تمام سائنٹسٹ کورونا کی ریسرچ میں مصروف ہیں۔۔۔۔جب فارغ ہوجائیں گے تو تمہاری اس پروبلم پر ضرور غور فرمائیں گے۔“   ” ہممم

اَولاد

چند ماہ قبل ہی نثار کا تبادلہ اس بڑے شہر میں ہوا تھا لیکن جلد ہی اُس کا دل اس شہر سے اُکتا چُکا تھا ،یہاں مکان تو بڑے بڑے تھے لیکن اُن میں رہنے والوں کے دل مادیت کی ہوا سے سُکڑ کر رہ گئے  تھے ۔۔۔جس محلے میں وہ رہتا تھا وہاں ہر مکان کے ارد گرد اُونچی اُونچی دیواریں اس طرح کھڑی تھیں جیسے یہ مکان نہیں کوئی جیل ہو، کہاں اُس کا گاؤں ، تازہ ہوا ،شفاف پانی ، یہ کُھلے میدان ، وسیع و عریض کھیت ہرطرف پھیلے ہوئے۔ اس پار سے نظر ڈالتے تو اُس پار سے باہر ہوجاتی ۔۔نہ کوئی باڑ نہ ہی دیوار۔۔۔سانجھے دل، سانجھے آنگن ،سانجھے کھیت ، سانجھے رشتے اور سانجھے روایتی کھیل ۔۔ہر آنگن میں شور و غُل مچا ہوا ،کون سا بچہ کس کا ہے کوئی پہچان ہی نہیں پاتا جب تک نہ غور سے دیکھ لے ۔۔لیکن شہر میں بُلند و بالا عمارتیں ،کیا سڑکیں اور کیا فٹ پاتھ تمام جگہوں پر لوگوں کا ناجائز قبضہ ،کوئی پیڑ نہیں ،کوئی میدان نہیں

کارِ بے کاراں

’’ہیلو!…ہیلو!آواز نہیں آرہی ہے ۔پتا نہیں نیٹ ورک کی پرابلم ہے یا میرے موبائل فون ہی میں کوئی گڑ بڑ ہے‘‘  سُخنور کمرے سے اُٹھ کر جھنجھلاتے ہوئے باہر لان میں آئے ۔بغیر نام کے کوئی اُن سے بار بار موبائل فون پر بات کرنے کی کوشش کررہا تھا مگر اُن کی سکرین پر نمبر تڑپتا ہوا غائب ہوجاتا اور وہ ہیلو ہیلو کرتے رہ جاتے ۔اُن کے ہاتھ سے موبائل سیٹ کئی بار نیچے گرجانے کی وجہ سے اُس کی سکرین مختلف جگہوں سے ٹوٹ چکی تھی۔اسی لیے وہ کسی کافون ریسیونہیں کرپاتے تھے۔اس صورت میں اُنھیں خود ہی اگلے کو فون کرنا پڑتا تھا ۔آج جب پھر کسی کا فون آیا تو وہ ہیلو ہیلو کرتے ہوئے ایک دو بار کمرے سے اُٹھ کر باہر چلے گئے لیکن اس کے باوجود وہ کال ریسیو نہیں کرپائے تو اُن کی بیوی مشرفہ بیگم کی پیشانی پر شکنیں سی اُبھر آئیں، پھر وہ بڑے تُرش لہجے میں کہنے لگی  ’&rsquo

امتحان

کبھی کبھی واقعی انسان وہ سب کچھ کرنا چاہتا ہے جس سے انسان کو دلی مسرت ہو ،اور آج کل کی مادہ پرست زندگی میں اس طرح کے بہت کم عوامل ہیںجس سے انسان کو دلی شادمانی حاصل ہو ۔ان ہی کاموں میں ایک خوش کرنے والا یا مسرت بخش کام بچوں کے ساتھ کھیلنا ہے اور ایسی ہی خوشی کا تجربہ کرنے کے لیے میں آفس سے معمول سے پہلے ہی واپس آگیا ۔جوں ہی میں گھر پہنچا میں نے اپنے صحن میں ان نونہالوں کو کھیل میں مست دیکھا ۔ان کو دیکھ کر مجھے اپنا بچپن یاد آیا اور میں نے ان ہی کے ساتھ شام تک کا وقت گزارنے کا تہیہ کر لیا ۔بچے واقعی بالکل سچے ہوتے ہیں ۔ان کا دل و دماغ یقیناََ ایک ہی ہوتا ہے مطلب یہ کہ ان کے دل میں جو ہو ان کی زبان پر بھی وہی قول ہوتا ہے۔خیر میں ان بچوں کے ساتھ کھیلتے کھیلتے اتنا مست ہو گیا کہ مجھے گھر جانے کا خیال ہی نہیں رہا ۔ویسے بھی گھر جانے پر وہی بیوی کی نوک جھونک شروع ہوجاتی ۔اس سے اچھا تھا کہ

پہلی برف

پہلی برف کی رتْ سوکھی زمین پہ کچھ لکھ رہی ہے۔۔۔جس کو پڑھنے کے لئے صبح و مسا جوان دلوں نے مکانوں کی کھڑکیاں کھولیں۔۔۔تو مرجھا?ئے چہروں پہ مسکراہٹ کی کرنیں جھلملانے لگیں۔۔۔زمین بانجھ ہونے والی تھی۔۔مگر اب اسکی جان میں جان آئ?ے گی۔۔۔ بلبل جوڑی کو دانے کی فکر نہیں۔۔برف تلے دب گیا تو کیا۔۔۔دینے والا کبھی بھوکا نہیں رکھتا۔۔۔یہ خوش ہیں کہ موسم بدلا ہے۔۔۔آج کی برف کل گرمیوں میں اُمید دے گی، آس دیگی۔۔۔ وادی سفید چادر اوڈھے کوئی مدھر گیت گا رہی ہے۔۔۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئ?ی خوبصورت دوشیزہ پشمینہ کا اُجلا شال اوڑھ کے ٹہلنے نکلی ہے۔۔۔ کتنا خوبصورت ہے میرا کشمیر۔۔زمیں پہ جنت۔۔۔یا جنت میں زمیں۔۔۔ چلئے آج ایسا کرتے ہیں۔۔۔زعفرانی قہوہ۔۔۔ہریسہ۔۔۔راجماش کی دال۔۔گوشت کا اہتمام کرتے ہیں۔۔۔۔ کرونا۔۔۔۔بے کاری۔۔۔۔بے روزگاری۔۔۔۔بیماری۔۔۔درد جدائی سب بھول جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ چل?ے قدرت کی

افسانچے

منتیں ’’نہیں نہیں مالک ایسا نہ کیجئے ۔۔۔معاف کر دیجئے ۔۔۔میں آپ کی منتیں کرتا ہوں ۔۔۔میں بوڑھا ہوچکا ہوں ۔۔۔اس لئے گلاس ٹوٹ کر گر ا ۔افسردہ اَحدجُو ہاتھ جوڑ کر باسط سے گزارش کر رہا تھا لیکن باسط یک دم بول پڑا ــ ’’تمہاری منتیں مجھ پر اثر نہیں کریں گی ۔ میرے یہاں کسی بھی غلطی کی گنجائش نہیں ۔ اپنا سامان سمیٹو اور چلتے بنو۔‘‘ بوڑھا اَحدجُو ابھی مڑا ہی تھا کہ فون کی آواز اُس کے کانوں میں گونج اُٹھی جو اسکے مالک سے قدرے دوری پر تھا۔ اس نے مناسب جانا کہ پہلے مالک کو فون لا کر دوں۔چناچہ اس نے ایسا ہی کیا اور باسط نے فون کا بٹن دبا کر کان پر لگا کر کہا’’ہیلوسر! کیسے ہے آپ۔۔‘‘ ’’میں تو ٹھیک ہوں باسط میاں لیکن اب تمہاری خیر نہیں ۔۔۔تم نے مجھے بنا بتائے کمپنی کے اکاونٹ سے ڈھائی لاکھ روپے نکالے اور تمہیں لگا کہ

تم میرے کون ہو؟

نہ جانے رجنی کی ماں کے ساتھ ایسا کون سا حادثہ پیش آیا تھا کہ اسے اپنی جو انی میں ہی ناکردہ گناہ کی پاداش میں بیوگی کا روگ جھیلنا پڑا اور رجنی کو اپنے باپ کا پیار نہ ملا۔ وہ کونسی مجبوری تھی ؟ کیا سبب تھا ؟ جس کی بنا پر وہ دور ایک ویران سی بستی میں جاکر رہنے پر مجبور ہوئی اور اب تک اس کی حقیقت بتانے میں کترتی رہی حالانکہ رجنی نے اسے کئی بار پوچھا بھی مگر وہ اپنی ضد پر اڑی رہی۔ ہر بار ٹال مٹول سے کام لیتی رہی ۔ ’’ شاید بعد میں اس کے سوالوں کا جواب دینے کا موقعہ ملے یا نہ ملے‘‘یہ سوچ کرایک دن بستر مرگ پر ماں نے رجنی کو اپنا دکھڑا سنایا، جسے سن کر اسے اپنے پائوں تلے سے زمین کھسکتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔ پہلے تو رجنی کو اس کی باتوں پر یقین نہیں آیا۔ تب اچانک اس کے دل میں خیال آیا کہ سوا ماں نے کبھی ابھی اُس سے جھوٹ نہیں بولا اور پھر آج ایسی نازک گھڑی میں کیسے ج

مرگِ مفاجات

اپنی خواہشوں کا بوجھ کاندھوں پر لیے وہ سرگرم ِ سفر شخص جب اچانک زمین پر منہ کے بل گر پڑا تو ایک  آسیب زدہ منظر اسکی آنکھوں پر چھانے لگا۔۔۔ کافی تگ و دو کے باوجود جب وہ اپنے پیروں پر  دوبارہ کھڑا نہ ہو سکا، تو اسے اِس بات کا بخوبی اندازہ ہوا کہ اُسکا جسم سر تا پا بے حس و حرکت ہو گیا  ہے۔ چنانچہ کئی سر توڑ کوششوں کے بعد جب دل شکن ہوکر اس نے اپنے اِ رد گرد نظر دوڑائی، تو اپنی  بالیں پہ ایک پرُ اسرار شخص کو دیکھ کر گریہ و زاری کرنے لگا اور ہیبت سے پیہم لرزنے لگا۔ کچھ لمحوں  کے لئے تو اسکا چہرہ موسمِ خزاں میں شاخ سے ٹوٹے ہوئے زرد پتے کی مانند لگنے لگا۔ چونکہ لمحۂ  ششدر میں اسے اس بات کا علم ہوگیا تھا کہ پرُاسرار شخص کوئی اور نہیں بلکہ موت کا فرشتہ ہے، مگر نہ  جانے کیوں اس کے لیے یہ بات غیر ممکن اور ناقابلِ اعتراف تھی! اسے قطعی منظور نہ تھا کہ زندگی کے&n

تازہ ترین