تازہ ترین

" بدنصیب ماں"

معمول کے برعکس صبح صبح نوکر نے میرے کمرے کے دروزے پہ دستک دی- میں نے آنکھیں نیم کھلی کرتے ہوئے آواز لگائی تو اس نے جواب دیا کہ" صاحب حفیظہ بیگم کا انتقال ہوا"۔  حفیظہ بیگم جوکہ ہمارے بغل والے مکان میں عرصہ دراز سے مقیم تھی۔ میں انہیں آنٹی جی کہہ کر پکارتا تھا ۔وہ تھی تو بہت ہی بہادر مگر پچھلے بیس برس سے وہ اندر ہی اندر پگھل کر رہ گئی تھی۔ گویا خزان کے پھول کی طرح جو حالات سے لڑنا تو چاہتا ہے مگر اندر کی نمی آہستہ آہستہ کم پڑ جاتی ہے اور چند ہفتوں میں وہ بکھر جاتا ہے۔ حفیظہ بیگم اس مکان میں اپنے ایک وفادار نوکر کے ساتھ رہ رہی تھی۔ بچپن میں مجھے یاد ہے کہ اس بغل والے مکان میں کافی چہل پہل رہتی تھی۔ حفیظہ بیگم کا شوہر نورمحمد، جسے میں انکل جی کہہ کر پکارتا تھا، مجھے اکثر جنرل نالیج کے سوالات پوچھتا رہتا تھا۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی ۔چھوٹا والا بیٹا مدثر

خار زارِ محبت

ہال میں ہنگامہ ہوا کچھ لوگ جذباتی ہوکر کرسیاں توڑنے لگے تو کچھ لوگ سٹیج کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔جبھی کسی نے آواز دی " ارے آگ لگا دو۔۔۔۔۔ آگ"۔  ایک ڈیڑھ گھنٹہ پہلے اس ہال میں لوگ ایک ایک، دو دو کر کے جمع ہورہے تھےاور یہ سب سٹیج ڈراما دیکھنے کے مشتاق تھے۔ انھیں اس بات کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ کچھ دھیر بعد یہ سب ہوگا۔  ڈیڑھ گھنٹہ پہلے  "حیرت کی بات ہے " "کیا ؟" "اور نہیں تو کیا، بالکل حیرت کی بات ہی تو ہے"۔ "آخر کیا بھلا؟" "ہم کتنی مدّت سے ساتھ ہیں؟"  "ہاں۔۔۔۔ ہیں تو " "پر ......... ’’پر کیا؟" "پر میں نے ابھی تک تمہارے کان نہیں دیکھے ہیں ۔" وہ حسبِ معمول یونانی وضع کا سکارف سر پر جمائے آئینے کے سامن

گم شدہ ماضی کا حال

آس پاس کی کہانیوں کو جمع کر کے اس نے ان تمام کہانیوں کونذر آتش کردیا۔اب جو کہانیاں دم توڑ چکی تھیں،انھیں آہستہ آہستہ دفن کیا جا رہا تھا۔کچھ زخمی کہانیاں بکھری پڑی تھیں۔ان زخمی کہانیوں کو نمائش گاہ میں رکھنے کی جب تجویز پیش کی گئی توکچھ عرصہ کے بعد ہی وقت  کے دیوتائوں نے ایک نمائش گاہ کی بنیاد ڈالی جس میں صرف زخمی کہانیوں کی نمائش ہوتی تھی۔میں نے ارادہ کر لیا کہ ضرور نمائش گاہ کی سیر کے لئے جائوں تاکہ مجھے بھی یہ پتہ چلے کہ میں کس زخمی کہانی کا کردار ہوں؟ موسم زمستان کی سردی نے ذرے ذرے کا وجود چیر کے رکھا تھا۔ہلکی ہلکی سی بارش نے سڑک کے آلودہ چہرے کو صاف شفاف کیا تھا۔تقریبا میں گیارہ بجے گھر سے نکلا۔جوں ہی میں نمائش گاہ کے دروازے پر پہنچ گیا تو دروازہ بند تھا۔میں نے دستک دی تو وہاں سے چوکی دار کی آواز آئی۔۔۔ ’’کون ہے؟میں نے کہاں۔۔ مہ، مہ، مہ۔۔ ایک رخمی کہ

یادوں کی بارات

ساون کی اندھیری  رات کو  وہ اپنے دالان میں بیٹھا کسی گہری سوچ میں گُم تھا۔رات کی تاریکی ،آندھی ،موسلادھار بارش اور بجلی کی گرج چمک تھمنے کا نام نہيں لے رہی تھی۔ جو اس کو اور زیادہ بے چین کر رہی تھی ۔ بچپن میں لاڑ و پیار سے پلا ساغر اب کتاب زندگی کے تیس سنہرے باب مکمل کر چکا تھا۔زندگی کے اس تیس سالہ سفر میں اُسے ہر موڑ پر کئ طرح کے تجربات حاصل ہوئے ،کئی طرح کے لوگوں سے پالا پڑا۔ لائق ،ہوشیار اور بلا کا ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اچھے اخلاق و کردار کا مالک بھی تھا۔اس کی زندگی کا ایک ہی مقصد تھا کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد غربا ،مساکین اور سماج کے گرے پڑے لوگوں کی خدمتِ کر سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ساغر نے دن رات مشقتیں اٹھائیں ،کئ طرح کے مصائب کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ،یہاں تک کہ اپنی آشنا 'نوری ' کی شادی کی پیشکش کو بھی یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ جب وہ کوئی اچ