تازہ ترین

نظمیں

سُخن کا پمپوش نہیں مَیں بیٹھا کبھی جہان میں خاموش نہیں مَیں دیتا ہوں خود کو اس لئے ہی دوش نہیں مَیں کرنے کو یوں تو کر گیا کارِ حیات سب قلب حزیں کو دے سکا سنتوش نہیں مَیں پیتا ہوں روز عرق میں دیوانِ داغؔ کا لیکن ہنوز تشنہ ہوں، مدہوش نہیں مَیں رہتا ہوں غرق رات دن اپنے خیال میں میخوار گو ہوں رندِ بلا نوش نہیں مَیں ہنگامہ ہائے زیست کے آتش کدے میں دوست شعلوں سے ہم کنار ہوں روپوش نہیں مَیں یاں صحبتِ آزادؔ و عابدؔ ہوئی نصیب صد حیف مگر ان کا ابھی ہم دوش نہیں مَیں پھِر بھی کئے دیوان در دیوان مرتّب عُشاقؔ سُخن کا بھلے پمپوش نہیں مَیں   عشاق کشتواڑی کشتواڑ، حال (جموں)موبائل نمبر؛9697524469      اجنبی رات   رات پگھلتی رہی تيری آغوش ميں،  سرد آہوں ميں تُم ميرا  &nb